Baaghi TV

Tag: پیکا ایکٹ

  • پیکا قانون پر نمائندہ میڈیا تنظیموں سے مشاورت کی جائے،سعد رفیق

    پیکا قانون پر نمائندہ میڈیا تنظیموں سے مشاورت کی جائے،سعد رفیق

    لاہور: سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی ’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) قانون کے خلاف آواز اٹھادی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سعد رفیق نے کہا کہ بے شک فیک نیوز ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن کسی حکومت کے پاس شہریوں پر شکنجہ کسنے کے لامحدود نہیں ہونے چاہئیں، پیکا قانون پر نمائندہ میڈیا تنظیموں سے مشاورت کی جائے۔

    سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت بنائے جانے والے ٹربیونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ہائیکورٹس کو دیا جائے، بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پیکا قانون میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ضروری ترامیم لائی جائیں یاد رہے قوانین کی چھڑی ہمیشہ وقت بدلنے کے ساتھ اسے بنانے والوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔

    مشترکہ کوششوں کی بدولت ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہے،شہباز شریف

    واضح رہے کہ 29 جنوری کو صدر مملکت آصف زرداری نے پیکا ترمیمی بل 2025 پر دستخط کردیئے تھے، جس کے بعد پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قانون بن گیا ہے 23 جنوری کو قومی اسمبلی نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا تھا، جبکہ یہ بل سینیٹ سے 28 جنوری کو منظور ہوا تھاصحافتی تنظمیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل مسترد کردیا تھا اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اساتذہ کی کمی، میڈیکل / ڈینٹل کالجوں اور نشتوں میں اضافے پرپابندی

    صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی سے مشاورت کے بغیر متنازع بل منظور کروا کر ‏وعدہ خلافی کی مرتکب ہوئی ہے، اس بل کا محور صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ اس کا ہدف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ہیں جس کا مقصد اختلاف رائے کو جرم بنا دینا ہے۔

    رمضان پیکیج مستحق افراد میں نقد کی صورت میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

  • پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہےکہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو پیکا ایکٹ پر دستخط نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اگلے ہی روز دستخط کر دیئے، پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنا دیا گیا ہے۔

    حافظ حمداللہ نے سوال کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیا ایک اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت کا یہ رویہ مناسب ہے؟ آج کی حکومتی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں پیکا قانون کو سیاہ قانون کہا کرتی تھیں، کیا یہ کھلا تضاد دوغلاپن اور رنگ برنگی نہیں ہے؟

    اسرائیل کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا قتل عام

    دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتےہوئے بات چیت پر رضا مندی ظاہر کی ہے،ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ مانتے ہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی، پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہو سکتی، اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیے تھی جو قانون مشاور ت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولزبننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہےمشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شِق متنازع ہے ہم اس پربات کرنے کو تیار ہیں سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے۔

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ

  • لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے فوری طور پر پیکا ترمیمی آرڈیننس کی مختلف شقوں پر عملدرآمدروکنے کی استدعا مسترد کر دی، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ پہلے فریقین کا موقف آ جائے پھر فیصلہ کریں گے ،جسٹس فاروق حیدر نے تین ہفتوں میں تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،جسٹس فاروق حیدر نے صحافی جعفر بن یار کی درخواست پر سماعت کی

    عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی ،عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ پیکا بل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر لایا گیا ،پیکا ترمیمی بل کی منظوری سے آئین میں دی گئی آزادی اظہار شدید متاثر ہوگی،پیکا ترمیمی ایکٹ غیر آئینی اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے تحفظ سے متصادم ہے،عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے،عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کرے

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    سیالکوٹ:اسمارٹ پولیسنگ،سنیپ چیکنگ کے لیے جدید ٹیمیں تشکیل

  • پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جوکسی صورت قبول نہیں ،بیرسٹر گوہر

    پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جوکسی صورت قبول نہیں ،بیرسٹر گوہر

    ایبٹ آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے خاتمے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا-

    باغی ٹی وی: ایبٹ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے ہم نے نہیں حکومت نے بند کیے، حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہی نہیں تھی، عمران خان نے پہل کی اورکہا اپنے لیے ڈیل نہیں جمہور یت اور ملک کے لیے موقع دے رہا ہوں اور ہمارے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کمیشن کا قیام پر مشتمل صرف دو مطالبات تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ مذاکرات ہوئے کوئی حل نہیں نکلا، حکومت نے جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ ہمارے ساتھ شیئر کرتے پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کرتے، مذاکرات کے دروازے ان لوگوں نے بند کیے جوسیاسی حل نہیں چاہتے تھے، 8 فرو ری کو مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے خلاف صوابی میں تاریخی جلسہ ہو گا۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

    علی امین گنڈاپور کو پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹانے کے بعد زیرگردش خبروں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے،علی امین پر مکمل اعتماد ہے سینیٹ میں صوبے کی نمائندگی نہیں، فوری مخصوص نشستیں دے کر سینیٹ کا الیکشن کرایا جائے اورہم سب اپوزیشن جماعتوں سے ملیں گے۔

    ٹرمپ کی وفاقی ملازمین کو آٹھ ماہ کی تنخواہ کے ساتھ استعفیٰ دینے کی پیشکش

  • پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: درخواست ممبر لاہور پریس کلب جعفر بن یار نے اپنے وکیل کے ذریعے دائر کی، جس میں الیکشن کمیشن، پی ٹی اے سمیت دیگر فریقین کو شامل کیا گیا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی نے پیکا ترمیمی بل کو منظور کیا، اور اسمبلی نے اپنے رولز معطل کرکے اس بل کو فاسٹ ٹریک کے ذریعے منظور کیا، درخواست گزار نے کہا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت فیک انفارمیشن پر تین برس قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے، جو آزادی اظہار کے حق کے خلاف ہے۔

    سانحہ 9 مئی کیسز:13 مقدمات میں مکمل چالان پیش کرنے کا حکم

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ ماضی میں پیکا کو ایک خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، اور اس بل کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا،پیکا ترمیمی ایکٹ آئین میں دی گئی آزادی اظہار کی ضمانت کے خلاف ہے اور اس کی منظوری سے یہ آزادی شدید متاثر ہو گی۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا-

    لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر انتقال کر گئے

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیمی بل کو منظور کرلیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت میں ہوا، جس میں اس ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔

    اجلاس کے دوران صحافتی تنظیموں نے بل پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں جو صحافت کی آزادی کو محدود کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ بل میں ’فیک نیوز‘ کی تعریف مبہم ہے اور اس سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ بل پر نظرثانی کی جائے اور اسے دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے صحافتی تنظیموں کی طرف سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنی سفارشات تحریری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھیں تاکہ کمیٹی ان پر غور کرتی۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اجلاس میں حصہ لیا اور کہا کہ اس ملک میں کسی کو گرفتار کرنے کے لیے کسی خاص قانون کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ خود کرایہ داری کے قانون کے تحت گرفتار ہو چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات میں بعض ترامیم پر اتفاق ہوا تھا، اور وزارت داخلہ کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں نئی ترامیم کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    اینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ترمیمی بل پر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ انہیں بل پر اپنی تجاویز دینے کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فیک نیوز کے قانون کے حامی ہیں، مگر موجودہ بل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر کامران مرتضی، سینیٹر پلوشہ خان اور سینیٹر میر دوستین حسن ڈومکی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے اس بل کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون صرف قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔

    یہ بل صحافتی آزادی، انٹرنیٹ کے استعمال، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے حوالے سے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس پر مزید بحث اور نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

  • ترمیمی ایکٹ سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا متاثر نہیں ہوگا، عطااللہ تارڑ

    اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے پیکا ایکٹ میں ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے متعلق قواعد و ضوابط موجود ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں قواعد وقت کی ضرورت ہیں۔

    باغی ٹی وی: عطااللہ تارڑنے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ترمیمی بل صحافیوں کے تحفظ کی جانب اہم قدم ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے متعلق قواعد و ضوابط موجود ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں قواعد وقت کی ضرورت ہیں، ڈ یجیٹل میڈیا پر کوئی کچھ بھی کہہ دیتا ہے، ڈیجیٹل میڈیا پر صحافت کے نام پر الزام تراشی کی جاتی ہے، پیکا ترمیمی بل ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ہے، ڈیجیٹل میڈیا پر جھوٹ اور پروپیگنڈے کی کوئی جواب دہی نہیں ہے۔

    ژوب میں دراندازی کی کوشش کرنے والے 6 خوارج ہلاک

    ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی ایکٹ میں سوشل میڈیا کی تعریف وضع کی گئی ہے، پیکا ترمیمی ایکٹ کا دائرہ کار ڈیجیٹل میڈیا تک محدود ہے، ترمیمی ایکٹ سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا متاثر نہیں ہوگا،قانون سازی سے ورکنگ جرنلسٹس کو تحفظ ملے گا، صحافتی تنظیموں سے مشاورت پر یقین رکھتے ہیں، پی آر اے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی، پی بی اے اور اے پی این ایس سمیت سب کو دعوت ہے کہ وہ آئیں اس پر بات کریں۔

    بلوچستان پاکستان کے لئے جانیں دینے والے شہداء کی سرزمین ہے،مریم نواز شریف

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے لاکھوں کمانے والے ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ کیا وجہ ہے جو انتہاپسندانہ نکتہ نظر جو کہیں بیان نہیں ہو سکتا وہ سوشل میڈیا پر زیادہ وائرل ہوتا ہےڈیجیٹل میڈیا پر الزام تراشی اور کردار کشی ہوتی ہے لیکن کوئی نوٹس نہیں ہوتا، ترمیمی بل سے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ ملے گا، ورکنگ جرنلسٹس کو موقع ملے گا کہ وہ اپنا روزگار محفوظ کر سکے سوشل میڈیا پر خود ساختہ صحافی نفرت پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔

    قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

  • پی ایف یوجےکی پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کی مذمت

    پی ایف یوجےکی پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کی مذمت

    اسلام آباد: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ( پیکا) ترمیمی بل کو دھوکا قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں پی ایف یوجےکی جانب سے پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کی مذمت کی گئی ہےپی ایف یو جےکا کہنا ہےکہ پیکا ایکٹ میں یہ ترامیم وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کی جانب سےدھوکا ہےپیکا ایکٹ میں ترامیم غیر ضروری اور آئین کی روح کے خلاف ہیں، یہ ترامیم ملک میں میڈیا، سوشل میڈیا اور صحافتی برادری کو دبانےکی دانستہ کوشش ہیں۔

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے پیکا ایکٹ ترمیمی بل2025 میں کہا گیا ہے کہ نئی شق 1 اے کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہوگی اوراتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد، صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاترہوں گے۔

    چیمپیئنزٹرافی:پنجاب پولیس کی ٹیموں کی سیکیورٹی تیاری

    حکومت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے، پانچ اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ ویئر انجنینئر بھی شامل ہوں گے، اس کے علاوہ اتھارٹی میں ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔

    خواجہ آصف نے جوڈیشل کمیشن سے متعلق بڑی پیشکش کردی

  • حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے،وزیر قانون

    حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے،وزیر قانون

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا –

    باغی ٹی وی : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا۔

    اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہونے پر نتائج ہوں گے، ٹرائل کورٹ کو مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ سے ایک سال میں کرنا ہو گا، ماڈرن ڈیوائسز کو قانون شہادت میں شامل کرنے کی ترامیم بھی شامل ہیں، عوام کو نظام انصاف سے متعلق دشواریاں درپیش ہیں، عوام اس ایوان سے ان کے حل کی توقع رکھتی ہے، نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ کسی پر کچھ ثابت ہی نہیں ہوتا۔

    حکومت کا پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم کا فیصلہ،’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف شامل

    ان کا کہنا تھا مجرموں کو سزا دینے کی شرح بہت کم ہے، دیگر ممالک میں سزا دینے کی شرح 80 فیصد ہے، اس نظام کی بہتری کے لیے ترامیم لا رہے ہیں، اپویشن کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ صرف یہاں آ کر لابی میں کھانے کھاتے ہیں، ایک شخص کی رہائی کے نعرے لگاتے ہیں اور بار بار صرف کورم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے لیگی رہنما عادل بازئی سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا

    ذرائع کے مطابق وفاقی پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے، ترمیمی بل میں فیک نیوز سے متعلق ترامیم میں سزاؤں اور جرمانے کا تعین بھی شامل ہو گا، فیک نیوز سے متعلق ترامیم میں سزا 5 سال تک دینے کی تجویز شامل ہو گی۔

    راولپنڈی: سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کا دورہ چیمبر آف کامرس، تجارتی مواقع پر بریفنگ

  • حکومت کا پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم کا فیصلہ،’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف شامل

    حکومت کا پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم کا فیصلہ،’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف شامل

    اسلام آباد: حکومت نے پیکا (دی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ) میں مزید ترامیم کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک اور بڑی قانون سازی کی تیاری شروع کردی، حکومت نے پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے سوشل میڈیا سمیت فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کی جائے گی جسے جلد منظوری کے لیے پار لیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

    وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز پیکا ایکٹ 2016 کو وزارت آی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ وزارت داخلہ کو منتقلی کے لیے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔

    ڈیرہ غازی خان: تجاوزات کے خاتمے کے لیے مہم کا آغاز، تاجر برادری کو وارننگ جاری

    مجوزہ ترامیم میں ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے، مجوزہ تعریف میں سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز اور سافٹ ویئر کا اضافہ کردیا گیا۔ پیکا ایکٹ کے سیکشن 2 میں ایک نئی شق کی تجویز شامل ہے۔ مجوزہ ترمیم میں قانون میں بیان کردہ اصطلاحات کی تعریف شامل ہے۔ ’سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت دینے والے نظام کو چلانے والا کوئی بھی شخص‘ کو بھی نئی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔

    مجوزہ ترمیم میں کی گئی تعریف میں ’ویب سائٹ‘، ’ایپلی کیشن‘ یا ’مواصلاتی چینل‘ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، مجوزہ ترمیم کے تحت حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرے گی،اتھارٹی وفاقی اور صوبائی حکومت کو ’ڈیجیٹل اخلاقیات سمیت متعلقہ شعبوں‘ میں تجاویز دے گی، یہ اتھارٹی تعلیم، تحقیق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرے گی، اتھارٹی صارفین کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

    2005کے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور فنڈز کے آڈٹ کی رپورٹ طلب

    ڈی آر پی اے سوشل میڈیا مواد کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا اختیار ہوگا، اتھارٹی پیکا ایکٹ کے تحت شکایات کی تحقیقات اور مواد تک رسائی کو ’بلاک‘ یا محدود کرنے کی مجاز ہوگی، اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے اپنے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ٹائم فریم کا تعین کرے گی۔ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے پاکستان میں دفاتر یا نمائندے رکھنے کے لیے سہولت فراہم کرے گی۔

    یہ اتھارٹی چیئرپرسن سمیت دیگر 6 ممبران پر مشتمل ہوگی، وفاقی حکومت 3 سال کے لیے چیئرپرسن اور 3 اراکین کا تقرر کرے گی۔ سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین پی ٹی آئی اتھارٹی کے ممبران ہوں گے۔اتھارٹی میں تمام فیصلے اکثریتی اراکین کی رضامندی سے کیے جائیں گے، چیئرپرسن کو کسی بھی غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کرنے کا خصوصی اختیار ہوگا، چیئرپرسن کے فیصلے کی اتھارٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر ’توثیق‘ کرنا ہوگی۔

    کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والے ملزمان کی بریت کا آغاز

    تجویز کردہ ترامیم کے مطابق اتھارٹی کے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قواعد کی پاسداری کے لیے ’رجسٹرڈ‘ کرنے اور ان کے لیے شرائط طے کرنے کا اختیار ہوگا، اتھارٹی کے پاس حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک یا ہٹانے کا حکم دینے کا اختیار ہوگا۔

    مجوزہ ترمیم میں غیر قانونی مواد کی تعریف میں توسیع کردی گئی ہے، پیکا ایکٹ کے سیکشن 37 میں موجودہ ’غیر قانونی آن لائن مواد‘ کی تعریف میں اسلام مخالف، پاکستان کی سلامتی یا دفاع کے خلاف مواد شامل ہیں۔

    عازمین حج کی تربیت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا

    غیر قانونی مواد کی تعریف میں امن عامہ، غیر شائستگی، غیر اخلاقی مواد، توہین عدالت یا اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کے لیے اکسانا شامل ہیں، پیکا ایکٹ میں مجوزہ ترمیم میں غیر قانونی مواد کے16 اقسام کے مواد کی فہرست دی گئی۔ غیر قانونی مواد میں گستاخانہ مواد، تشدد، فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینا شامل ہیں۔

    غیر قانونی مواد میں فحش مواد، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، جرائم یا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی شامل ہیں، غیر قانونی مواد میں جعلی یا جھوٹی رپورٹس، آئینی اداروں اور ان کے افسران بشمول عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف ’الزام تراشی‘، بلیک میلنگ اور ہتک عزت شامل ہیں۔

    جنگ بندی معاہدے کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیل کا فوجی آپریشن،9 فلسطینی شہید 40 زخمی

    مجوزہ ترامیم میں بتایا گیا ہے کہ جھوٹی خبر پھیلانے پر تین سال قید 20لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کیا جائے گا، وفاقی حکومت تین سال کیلئے ٹربیونل ممبران تعینات کرے گی، سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل 90روز میں کیس نمٹانے کے پابند ہوں گے۔

    مسودے کے مطابق ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جاسکے گی، ٹربیونل فیصلے کو 60 روز کے اندر اپیل سپریم کورٹ میں دائر کرنے کا اختیار ہوگا، ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، این سی سی آئی اے سائبر کرائم سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کرے گی۔

    جنگ بندی معاہدے کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیل کا فوجی آپریشن،9 فلسطینی شہید 40 زخمی

    وفاقی حکومت تین سال کیلئے ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کا تقرر کرے گی، ڈی جی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی آئی جی پولیس کے عہدے کے برابر ہوگا، نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی قیام کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم کے تمام دفاتر اور مقدمات ایجنسی کو منتقل ہوجائیں گے۔

    مجوزہ ترامیم کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایف آئی اے سائبر کرائم کے تمام اثاثے، بجٹ، این سی سی آئی اے کو منتقل ہوجائیں گے، اس کے متبادل کے طور پر قائم اتھارٹی 8 ممبران پر مشتمل ہوگی، 5ممبران کا تقرری وفاقی حکومت کرے گی۔

    میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے،دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے،جسٹس مسرت ہلالی