Baaghi TV

Tag: پی آئی اے نجکاری

  • پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی-

    ایڈووکیٹ نبیل کاہلوں کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں 8 جنوری کو ہوگی،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی فروخت غیر آئینی اورقانونی طور پرمنسوخ قرار دی جا ئے۔

    درخواست گزارنے موقف اختیارکیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں پی آئی اے کی اصل مالیت کونظراندازکرتے ہوئے اربوں روپے کی کم قیمت لگائی گئی، جوقومی مفاد کے منافی ہےپی آئی اے کے طیاروں اوراثاثوں کی مجموعی مالیت 460 ارب روپے سے زائد ہے، جسے نجکاری کے دوران مناسب قیمت پرنہیں رکھا گیا۔

    پی کے 79 ضمنی الیکشن میں ن لیگ امیدوار کی کامیابی درست قرار

    درخواست میں عدالت سے ی استدعا کی گئی ہے کہ نجکاری کے فیصلے کو معطل کیا جائے تاکہ قومی مفاد اور قانونی تقاضوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے دوسری جانب عدالت کے آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم نامہ جاری کیا جائے گا، جس سے پی آئی اے کی مستقبل کی نجکاری کے عمل پراثر پڑسکتا ہے۔

    ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے چند ادویات کی فروخت روک دی

  • تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, وزیراعظم

    تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کے حوالے سے کامیاب بڈنگ کے انعقاد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے قوم کو مبارکباد دی کہا کہ الحمدللہ بولی کا عمل انتہائی شفاف رہا۔

    اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے پر قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے, پی آئی اے کی نجکاری کا یہ عمل اس حوالے سے انتہائی اہم سنگ میل ہے، الحمدللہ بولی کا عمل انتہائی شفاف رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو مزید مستحکم کرنے میں پی آئی اے اور دیگر ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری اہم کردار ادا کرے گی، ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے, پی آئی اے کی نجکاری اس بات کا ثبوت ہے، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    پی آئی اے کی 135 ارب میں فروخت ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے،خواجہ آصف

    وزیراعظم نے کہا کہ تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف مشیر برائے نجکاری محمد علی، نجکاری کمیشن اور دیگر متعلقہ افراد کی کوششیں لائق تحسین ہیں، نجی شعبے کے اشتراک سے ملک کی ترقی و خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے پرعزم ہیں۔

    فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری مل گئی

  • پی آئی اے نجکاری،  پھر درخواستیں طلب کرنے کا فیصلہ

    پی آئی اے نجکاری، پھر درخواستیں طلب کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری کے لیے ایک بار پھر درخواستیں 24 اپریل کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کم از کم ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پری کوالیفکیشن کے معیار سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ صرف سنجیدہ سرمایہ کار ہی اہل ہوں۔حکام کے مطابق پری کوالیفکیشن میں سرمایہ کار کمپنیوں کو ملٹی ایئر ریونیو کی شرط پوری کرنا ہوگی، یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد پی آئی اے سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن چکی ہے اور خلیجی ریاستوں اور ترک ایئر لائن سمیت متعدد اداروں کی جانب سے دلچسپی متوقع ہے۔

    انہوں نے کہاکہ اس بار کلین پی آئی اے کا ماڈل اپنایا گیا ہے اور حکومت پہلے ہی پی آئی اے کا قرضہ اپنے ذمہ لے چکی ہے، وفاقی کابینہ نج کاری کمیشن کی سفارش پر نج کاری کی منظوری دے چکی ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ اس عمل میں صرف سنجیدہ سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کے لیے پری کوالیفکیشن کے معیار سخت کر دیے گئے ہیں۔

    مزید کہا گیا کہ نج کاری کے لیے پی آئی اے کے 51 فیصد سے 10 فیصد تک شیئرز فروخت کیے جائیں گے، نج کاری کے عمل میں ملازمین کا تحفظ اور سروس اسٹرکچر برقرار رکھا جائے گا۔اس ضمن میں کہا گیا کہ پی آئی اے کے اثاثوں اور مالی حیثیت کا جائزہ جولائی تک مکمل کرلیا جائے گا، درخواستوں کی جانچ پڑتال ستمبر 2025 تک اور نج کاری کا عمل دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    پی ایس ایل 10، ملتان کا لاہور کو جیت کیلئے 229رنز کا ہدف

    کراچی کے تاجروں کی 26 اپریل کو ہڑتال کی حمایت

  • قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی

    قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی

    پاکستانی قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی، قبل ازیں نجکاری کی پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے بتایا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر کو لگائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ بولی اب 31 اکتوبر کو ہو گی اور اس تاریخ کی وزارت نے منظوری دے دی ہے۔وزارت کے دو عہدیداروں نے بتایا ہے کہ پراسیس میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ بولی لگانے والوں نے نیلامی کے لیے شرائط و ضوابط کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔بولی کے لیے چھ کمپنیاں پری کوالیفائی کر چکی ہیں۔ ان میں فلائی جناح، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھنول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم، وائے بی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہیں۔

    ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    یاد رہے کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے تحت خسارے میں جانے والی ایئر لائن کے 51 فیصد سے زائد حصص فروخت کرے گا۔

    پاکستان کی ایوی ایشن مارکیٹ میں پی آئی اے کا حصہ

    نجکاری پینل کے مطابق پاکستان کی ایوی ایشن مارکیٹ میں پی آئی اے کا حصہ 23 فیصد ہے، جو اس وقت بھی کسی ایئرلائن کا سب سے بڑا حصہ ہے اور اس کے مزید ترقی کر کے 30 فیصد تک پہنچنے کے روشن امکانات ہیں۔پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کے پاس 34 طیارے ہیں، جن میں 17 ایئربس، 12 بوئنگ B777 اور پانچ ATR شامل ہیں۔تاہم مشرق وسطیٰ کے مختلف شہروں تک اس ایئر لائن کی براہ راست پروازوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے، مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز اس مارکیٹ پر 60 فیصد شیئرز کے ساتھ غلبہ حاصل کی ہوئی ہیں۔

    پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا ہوا

    پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 713 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ اس میں سے 285 ارب روپے کے قرضوں کی براہ راست ضمانت وفاقی حکومت نے دے رکھی۔اس میں وہ رقوم شامل نہیں ہیں، جو پی آئی اے کے ذیلی اداروں نے بطور قرض لے رکھی ہیں۔چند ماہ قبل پی آئی اے کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو سن 2030 تک اس کا سالانہ خسارہ بڑھ کر 259 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ کمرشل بینک، خسارے سے دوچار پی آئی اے کو نئے قرض فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

    کراچی میں طیارہ حادثے کے بعد پاکستان میں پائلٹوں کے لائسینسوں کا اسکینڈل بھی منظر عام پر آیا تھا، جس کے بعد یورپ اور برطانیہ نے اس ایئرلائن کے سب سے منافع بخش روٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔