Baaghi TV

Tag: پی آتی آئی

  • مذاکراتی کمیٹی کوعمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    مذاکراتی کمیٹی کوعمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    راولپنڈی: پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کا آج عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے مذاکراتی کمیٹی کا آج دن 2 بجے تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذکرات کے لیے یہ طے پایا تھا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو ہدایات لینے کے لیے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی تاہم تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ حکومت اپنی بات سے مکر گئی ہے اور عمران خان سے مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔

    مصر کے قدیم ترین دینی تعلیمی ادارے کا پاکستان میں اپنا کیمپس کھولنے کا اعلان

    چند روز قبل حکومتی مذاکراتی کمٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی ہمیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینی چاہیے، ہم اپنی شرائط پوری کریں گے تو مذاکرات کے دوران ہماری بات میں وزن ہو گا۔

    لاس اینجلس کی آگ تاحال بے قابو، متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار کے بعد کرفیو نافذ

  • عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں،مریم اورنگزیب

    عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کا نگران حکومت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب نہ کروانے کا الزام دفن ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کا نگران حکومت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب نہ کروانے کا الزام دفن ہوگیا ہے، یہ بڑی کامیابی ہے جس کا عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 میں این اے 193 میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی انتخابی امیدوار نہیں تھا، گزشتہ روزپہلی بار اس حلقے سے 53000 ووٹ لیے ہیں جس پر ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

    مریم اورنگزیب نےعمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا، گھڑی چور فتنے، جیت جائیں تو فتح کا جشن اور ہار جائیں تو الیکشن کمیشن کے باہردھرنا اور الزامات؟،عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ راجن پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے193 پر ضمنی انتخاب کے تمام 237 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمد محسن لغاری 90392 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ مسلم ليگ ن کے عمار احمد خان لغاری 55218 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے اختر حسن خان گورچانی 20 ہزار 74 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے محمود احمد 3 ہزار 961 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر رہے۔

    خیال رہے کہ این اے 193 کی نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے سردار جعفر لغاری کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

  • تحریک انصاف کے مزید9ممبران نے پارلیمنٹ  لاجز خالی کرادیئے

    تحریک انصاف کے مزید9ممبران نے پارلیمنٹ لاجز خالی کرادیئے

    پی ٹی آئی کے ڈی نوٹیفائی ہونے والے ممبران سے پارلیمنٹ لاجز خالی کرانے کا سلسلہ جاری ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے مزید 9 ممبران نے پارلیمنٹ لاجز خالی کرادیئے،شیخ راشد شفیق، ڈاکٹر نوشین حامد،تاشفین صفدرنے لاجز خالی کردیئے-

    جس نے جرائم کیے اسے حساب تو دینا پڑے گا،مریم نواز

    آفتاب صدیقی، عالمگیر خان اور راجہ خرم شہزاد نے بھئ لاجز بھی خالی کر دیئے،مجموعی طور پر خالی ہونے والے پارلیمنٹ لاجز کی تعداد 24 ہوگئی-

    قبل ازیں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پارلیمنٹ لاجز میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے کمرے خالی کرانے کے لیے آپریشن کیا،پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی فرخ حبیب، ظہور احمد قریشی، شاندانہ گلزار، شاہد احمد خٹک، گل داد خان اور ارباب عامر ایوب نے پالیمنٹ خالی کئے تھے-

    سابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، علی حیدر زیدی، علی امین خان گنڈا پور، ملیکہ علی بخاری اور فہیم خان نے رضاکارانہ طور پر اپنے کمرے خالی کردیے تھے۔

    ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا ہو گا جس سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہو،امیر مقام

    پی ٹی آئی کے 131 ارکان اسمبلی نے گزشتہ برس اپریل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیے تھے۔

    پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کو عالمی سازش کے ذریعے ہٹایا گیا تھا تاہم موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا آئینی اقدام ہے۔

    جن 131 ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائے تھے ان میں سے 120 کے قریب ارکان اسمبلی کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے منظور کر لیے قوانین کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کیےجانے کے بعد وہ پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کے حقدار نہیں ہیں۔

    ٹریک کو ٹھیک نہ کیا تو 2،4سال میں بند ہو جائیں گے،وزیر ریلوے