Baaghi TV

Tag: پی ایم ڈی سی

  • اساتذہ کی کمی، میڈیکل / ڈینٹل کالجوں اور نشتوں میں اضافے پرپابندی

    اساتذہ کی کمی، میڈیکل / ڈینٹل کالجوں اور نشتوں میں اضافے پرپابندی

    کراچی: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے فیکلٹی کی شدید کمی کے باعث نئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے قیام اور طلباء کی نشستیں بڑھانے پر 3 سے 5 سال کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ایم ڈی سی کونسل کے حالیہ اجلاس میں منظور کیا گیا یہ فیصلہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تعلیم یافتہ فیکلٹی کی دستیابی پر خدشات کو اجاگر کرتا ہے، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 187 کالجوں کو 26,018 فیکلٹی ممبران کی ضرورت ہے، لیکن صرف 22,146 دستیاب ہیں، جو تعلیم کے معیار، طبی تربیت، اور تحقیق کو متاثر کرتے ہیں۔

    پی ایم ڈی سی نے نیشنل ہیلتھ سروسز پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کریں، ریگولیٹری تعمیل کو یقینی بنائیں اور پاکستان کے طبی تعلیمی نظام کو مضبوط کریں، PMDC کے رجسٹرار کی طرف سے اس نازک مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک رسمی خط بھیجا گیا ہے۔

    رمضان پیکیج مستحق افراد میں نقد کی صورت میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

    اجلاس میں کہا گیا کہ یہ تعداد فیکلٹی کی شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے اور اس کی وجہ سے تعلیمی قابلیت، طبی تربیت، تحقیق، اور تعلیمی فضیلت میں کمی آئی ہے، نتیجتاً، مریضوں کی دیکھ بھال اور بڑے پیمانے پر عوام کو متاثر کیا ہے۔

    کینیڈاکا ٹرمپ پر جوابی وار،امریکی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار کی جانب سے خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی ،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2024ء تک قابل قبول ہے پٹیشنر لائبہ رؤف نے نومبر 2022ء میں ایم ڈی کیٹ پاس کیا جب ایم ڈی کیٹ پٹیشنر نے پاس کیا اس وقت قانون کے مطابق رزلٹ 2 سال کے لیے موزوں تھا، پٹیشنر نے پی ایم ڈی سی کے 14 جولائی 2023ء کا پبلک نوٹس چیلنج کیا پی ایم ڈی سی نے نوٹس میں کہا تھا 2022ء کے پاس کردہ ایم ڈی کیٹ پر 2023ء میں داخلہ نہیں ملے گا، 2021ء کی ریگولیشنز کے مطابق نومبر 2022ء کے ایم ڈی کیٹ نتائج 2 سال کے لیے موزوں ہیں، بعد میں کیے جانے والے ایڈمنسٹریٹو فیصلے سے پٹیشنر سے یہ حق واپس نہیں لیا جا سکتا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پٹیشنر کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2022ء سے نومبر 2024ء تک موزوں ہو گا، پٹیشنرکا کیس میں جو خرچ آیا وہ بھی پی ایم ڈی سی ادا کرے گی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ٹیسٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس عبدلشکور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی ،ایڈووکیٹ جنرل اور پی ایم ڈی سی وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 6 ہفتوں میں ٹیسٹ دوبارہ ہوگا، سرکاری وکیل نے کہا کہ پی ایم ڈی سے 6 ہفتوں میں ٹیسٹ کیلئے تاریخ دیگا، پی ایم ڈی سی وکیل نے کہا کہ کونسل کی اپرول سے سال میں صرف ایک بار ٹیسٹ ہوگا،جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پی ایم ڈی سی نے خود سے انکوائری نہیں کی، پی ایم ڈی سی اگر ذمہ دار ہے تو اتنے بڑے واقعہ پر نوٹس کیوں نہیں لیا، پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے، آج بھی پی ایم ڈی سی کا کوئی بندہ پیش نہیں ہوا، اب آگے دیکھتے ہیں پی ایم ڈی سی کتنا سنجیدہ ہے،

    وکیل نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ ٹاپر نے کوہاٹ بورڈ بھی ٹاپ کیا، پہلے کبھی نقل پکڑنے سے پورا امتحان کینسل نہیں ہوا، ذہین طلباء نے رات بھر پڑھ پڑھ کر ٹیسٹ پاس کیا، ٹیسٹ کینسل کرنا ان ذہین طلبہ کے ساتھ نا انصافی ہوگی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ری کنڈکٹ سے ذہین طلبہ پھر نمبر لے لینگے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ دو دن قبل پیپر آوٹ ہوا تھا، ایم ڈی کیٹ ری کنڈکٹ ہونا چاہیئے،عدالت نے تمام وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ایم ڈی سی کے میڈیکل کالجز میں داخلہ کے قواعد و ضوابط پر عدالت کا اہم حکم

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

  • سینیٹ میں پی ایم ڈی سی کی تشکیل نو کا بل کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ میں پی ایم ڈی سی کی تشکیل نو کا بل کثرت رائے سے منظور

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنیٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو دوبارہ تشکیل دینے کا بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد بل پیش کئے گئے،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ایمپلائز ایکٹ ترمیمی بل سینیٹر سرفراز بگٹی نے پیش کیا جو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا سینیٹ میں قومی کمیشن برائے حقوق طفل ترمیمی بل 2022 بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے4 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کرلی

    اس کے علاوہ سینیٹ اجلاس میں فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوٹ ایکٹ 2021 کی تنسیخ کے بل کی منظوری کی گئی جو سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیش کیا تھا بل کا مقصد پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزسے ایم ٹی آئی ایکٹ کا خاتمہ ہے۔

    بل کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تشکیل دی جائےگی، کونسل میں وزیر اعظم کے نامزد کردہ تین سول سوسائٹی کے ممبران شامل ہوں گےایک فلاحی سرگرمیوں سےوابستہ شخصیت ، قانونی پروفیشنل اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ شامل ہوں گے جب کہ 5 میڈیکل پروفیشنل کونسل میں شامل ہوں گے۔

    بل کے مطابق کونسل میں صوبوں کے نامزد کردہ سرکاری اورنجی میڈیکل یونیورسٹیوں اورکالجز کےوی سی یا پرنسل شامل ہوں گے، وفاق کے نامزد کردہ میڈیکل یا ڈینٹل یونیورسٹیز یا کالجز کے وی سی یا پرنسپل بھی کونسل میں شامل ہوں گے، اس کے علاوہ سرجن جنرل آف آرمڈ فورسز میڈیکل سروس سے ایک رکن شامل ہوں گے، وزیر اعظم ممبران میں سے کونسل کا صدر مقرر کریں گا۔

    نیپرا اورکےالیکٹرک کی نااہلی کی سزاعوام کوبھگتنا پڑتی ہے،جماعت اسلامی کراچی

    بل کے تحت قومی میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ میں چیئرمین ایچ ای سی، صدر کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان شامل ہوں گے، کونسل کی منظور کردہ تاریخوں پر داخلے کے لیے میڈیکل اینڈ ڈیٹنل کالج ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ ہوگاداخلےکے لیے ایم ڈی کیٹ پاس نہ کرنے پر میڈیکل یا ڈینٹل کالج کی ڈگری نہیں دی جائےگی۔

    بل میں کہا گیا ہےکہ وفاقی حکومت ہاؤس جاب یا انٹرن شپ کے لیے اسپتال یا اداروں کو توثیق دےگی، وفاقی حکومت اسپیشلسٹ بورڈز کی بھی توثیق کرےگی، اگرکوئی ادارہ قانون کی خلاف ورزی کرےگا تو اس کی توثیق واپس لےلی جائےگی، توثیق کے بغیر ادارہ چلانے پرپانچ سال تک قید بامشقت اور 10 ملین روپے تک جرمانہ ہوگا، جعلی رجسٹریشن پر خود کو ڈاکٹر لکھنے والے کو 6 ماہ قید اور 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

    آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میدان جنگ بن گئی، حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا

    اسی طرح یوان میں توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن بل 2022ء بھی پیش کیا گیا جسے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے پیش کیا اسے بھی چئیرمین نے متعلقہ کمیٹی کو بھی دیا۔ سینیٹر رانا مقبول احمد کی جانب سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹیری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022ء ایوان میں پیش کیا گیا اور اسے بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

    سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری کی جانب سے آئین کی دفعہ 215, 218, 228 میں مزید ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا گیا جسے صادق سنجرانی نے دفعات میں ترامیم سے متعلقہ بل کمیٹی کو ارسال کردیا۔