Baaghi TV

Tag: پی این ایس سی

  • پی این ایس سی کے بیڑے میں آئل ٹینکر کا اضافہ

    پی این ایس سی کے بیڑے میں آئل ٹینکر کا اضافہ

    کراچی: پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بیڑے میں آئل ٹینکر کا اضافہ ہوگیا۔

    آئل ٹینکر ایم ٹی کراچی پہلا کارگو لے کر کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگیاایم ٹی کراچی نیشنل ریفائنری کے لیے خلیجی ملک سے خام تیل لے کر کراچی پہنچا، بیڑے میں شمولیت کے بعد پاکستان پہلی آمد ہے، آئل ٹینکر 74 ملین ڈالر میں خریدا گیا پی این ایس سی کے بیڑے میں شامل بحری جہازوں کی تعداد 13 ہوگئی۔

    واضح رہے کہ آئندہ ماہ مزید 2 بحری جہاز پی این ایس سی کے بیڑے میں شامل ہوں گے۔

  • پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    کراچی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ( پی این ایس سی) کے بھارتی کارگو کا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    ذرائع کے مطابق ملائیشیا کی بنٹولو پورٹ سے 3 مئی کو بھارت کی کانڈلہ پورٹ کے لیے روانہ ہونے والے پی این ایس سی کے بھارتی کارگوکا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے گریز

    اس حوالے سے پی این ایس سی ذرائع کا بتانا ہے کہ کارگو جہاز میں بھارت کے لیے لکڑیاں موجود ہیں، جہاز میں موجود کارگو ایک سے دو دن میں اتارے جانےکاامکان ہے پی این ایس سی کی شپنگ اسٹیٹس رپورٹ میں کارگوکےسنگاپور میں اتارنےجانےکاذکرموجود ہے جب کہ کارگو کو کانڈلہ پورٹ سے قریب ترین کولمبو یا سوہار اتارنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا پاکستانی درآمدات پر پابندی اور پرچم بردار بحری جہازوں کے بعد ٹرانزٹ کارگو والے جہازوں کو بھی لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    تیسرے ملک کے لیے کارگو لے جانے والی شپنگ کمپنی آئی ای ایکس کے کنٹینرز بردار بحری جہاز کو برتھ فراہم کرنے سے انکار کردیا ذرائع شپنگ انڈسٹری نے کہا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارگو لانے والے کسی جہاز کو بھارت کی بندرگاہ پر برتھ نہیں دی جائیگی۔

    ماہرین کے مطابق بھارتی اقدامات سے خطے کی لاجسٹکس کے علاؤہ بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہوگی، پاکستانی کارگو لے جانے والے جہازوں کو خصوصی سروس چلانا پڑے گی پاکستان کو ایسی شپنگ سروسز سے ایکسپورٹ امپورٹ کرنا ہوگی کو بھارت کی بندرگاہ استعمال نہیں کرتے۔

    ایک طرف بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا واویلا مچایا ہوا ہے، تو دوسری جانب خود بھارتی ادارے اعتراف کر رہے ہیں کہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی پاکستانی اشیاء خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سنگاپور اور سری لنکا جیسے ملکوں کے ذریعے بھارت میں داخل ہو رہی ہیں۔

    بھارتی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ بھارتی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی اشیاء، جن میں خشک میوہ جات، کیمیکل، چمڑا، ٹیکسٹائل اور سیمنٹ شامل ہیں، ان ممالک کے ذریعے بھارت پہنچ رہی ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی اشیاء کو ری لیبل اور ری پیک کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں بھارتی مارکیٹ میں ”تیسرے‘ ملک کی مصنوعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے یا تباہی،بلاول

    رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے راستے کیمیکل بھارت میں داخل کیے جا رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے ذریعے پاکستانی سیمنٹ اور ٹیکسٹائل را مٹیریل بھارتی صنعتوں تک پہنچ رہا ہے۔اسی طرح سری لنکا کے راستے خشک میوہ جات، نمک اور چمڑے کی اشیاء بھارت منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    بھارتی عہدیدار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اب پاکستانی اشیاء پر براہ راست ہی نہیں بلکہ بالواسطہ (indirect) تجارت پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے اس ”جامع پابندی“ کے ذریعے بھارت کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی مال کو دوسرے ملکوں کے لیبل میں بھی داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

  • میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد  ایک اور بڑا اسکینڈل

    میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد ایک اور بڑا اسکینڈل

    کراچی: میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد چلتے جہاز فروخت کرنے کا اسکینڈل سامنے آگیا، پی این ایس سی کی جانب سے 2 آپریشنل تیل کے جہاز فروخت کر دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی جانب سے 2 آپریشنل جہاز فروخت کردیئے گئے، جہاز ‘لاہور’ کیپ ون کٹیگری کا تھا جو یومیہ 27 ہزار 500 ڈالرز پر عراقی بندرگاہ پر ٹھیکے پر آمدن کما رہا تھا، جہاز ‘کوئٹہ’ پاکستانی ریفائنریز کے طویل مدتی ٹھیکے پر تقریباً 12 ہزار ڈالر یومیہ کمارہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق پی این ایس سی نے ریفائنریز کے لیے باہر سے چارٹر جہاز ‘سوین لیک’8 لاکھ ڈالر ماہانہ پر لیا جس سے تقریبا 2 لاکھ ڈالر نقصان ہوا، جہاز آپریشنل اور منافع بخش تھے، اسکریپ کے بجائے شپنگ کمپنیز کی جانب سے خریدے گئے، دونوں جہازوں کی موجودہ فریٹ مارکیٹ کم از کم 40 ہزار ڈالرز یومیہ ہے،پی این ایس سی کیلئے 5 جہازوں کی خریداری کا معاملہ پی پی آر اے میں زیر التوا ہے۔

    لیگل معاملات کیلئے بانی پی ٹی آئی نے سلمان اکرم راجا اور سلمان صفدر کی ذمہ داری لگا دی

    ترجمان پی این ایس سی کے مطابق دو جہازوں کی فروخت کا عمل جاری ہے، بورڈ کی منظوری سے فروخت کا فیصلہ ہوا، جہاز فائدہ مند نہیں تھے، اجازت ملتے ہی نئے جہاز خریدیں گے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں سینئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کراچی پورٹ کی 40 ارب کی سرکاری قیمت کی زمین 5 ارب روپے میں دے گئی، فیصل واوڈا نے کہا کہ کراچی پورٹ کی 40 ارب کی سرکاری قیمت کی زمین 5 ارب روپے میں دے گئی اور کراچی پورٹ کی 500 ایکڑ کی زمین کی مارکیٹ ویلیو 60 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

    سفاک خاتون نے اپناراستہ کاٹنے والی بلی کو زندہ جلا دیا