Baaghi TV

Tag: پی سی بی

  • پی سی بی نے امام الحق اور محمد رضوان کا موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا

    پی سی بی نے امام الحق اور محمد رضوان کا موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا

    زلندن:لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی نے لندن میں دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران دونوں کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے رابطوں اور مختلف افراد سے روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی 194رنز سے شکست کے بعد ہوٹل واپسی پر ٹیم کے سیکیورٹی آفیسر نے امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔

    ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کے فون کئی گھنٹے تحویل میں رہے، اس دوران ان کا ڈیٹا کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا، جس کے بعد موبائل فونز انہیں واپس کردیے گئے تحقیقات میں اگر دونوں کھلاڑیوں کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں تو انہیں بھاری جرمانے یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مستقبل میں قومی ٹیم میں ان کی شمولیت متاثر ہونے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ موبائل ڈیٹا اور تحقیقات سے متعلق مذکورہ تفصیلات ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ پی سی بی کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • پی سی بی کا سلیکشن کمیٹی کے رکن کو شوکاز نوٹس، محمد رضوان اور امام الحق کی سلیکشن پر جواب طلب

    پی سی بی کا سلیکشن کمیٹی کے رکن کو شوکاز نوٹس، محمد رضوان اور امام الحق کی سلیکشن پر جواب طلب

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے محمد رضوان اور امام الحق کی ٹیسٹ اسکواڈ میں سلیکشن پر وضاحت طلب کرلی۔

    ذرائع کے مطابق ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی سے کھلاڑیوں کے انتخاب کی وجوہات، معیار اور کارکردگی سے متعلق تحریری وضاحت مانگ لی ہے،سلیکشن کمیٹی کے رکن کو ہدایت کی گئی ہے کہ شوکاز نوٹس موصول ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر جواب جمع کرایا جائے۔

    پی سی بی نے معاملے کو انتہائی اہم اور ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کی ہے، شوکاز نوٹس چیف آپریٹنگ آفیسر سمیع احمد سید کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    دوسری جانب سابق کپتان مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے ذرائع کے مطابق انہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل کھلاڑیوں کی سلیکشن کے معاملے پر اختلافات کے بعد عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ بھیجے جانے والے کھلاڑیوں کے حوالے سے مصباح الحق سے مشاورت نہیں کی گئی، جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھجوایا۔

    مصباح الحق اس سے قبل قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں اور حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کے انتخاب کے عمل کا حصہ تھے۔

  • مصباح الحق  پی سی بی سیلیکشن کمیٹی سے مستعفیٰ

    مصباح الحق پی سی بی سیلیکشن کمیٹی سے مستعفیٰ

    سابق کپتان مصباح الحق نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا چناؤ کرنے کی ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق انہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل کھلاڑیوں کی سلیکشن کے معاملے پر اختلافات کے بعد عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا،ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ بھیجے جانے والے کھلاڑیوں کے حوالے سے مصباح الحق سے مشاورت نہیں کی گئی، جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا انہوں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھجوایا۔

    مصباح الحق اس سے قبل قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں اور حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کے انتخاب کے عمل کا حصہ تھے۔

  • پی سی بی کا پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان

    پی سی بی کا پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے-

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلامیے کے مطابق سری لنکا کی ٹیم 4 اکتوبر کو پاکستان پہنچے گی اور 9 سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی میں 3 میچز پر مشتمل ٹی20 سیریز کھیلے گی، سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز کا پہلا میچ 9 اکتوبر، دوسرا 11 اکتوبر جب کہ تیسرا 13 اکتوبر کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    ٹی 20 سیریز کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان پہنچے گی، جہاں انگلینڈ، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز کھیلی جائے گی جب کہ ٹرائی سیریز کے میچز 18 سے 31 اکتوبر تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

    sports

    ٹرائی سیریز کا پہلا میچ 18 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا جب کہ 20 اکتوبر کو پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں اسی میدان میں مدمقابل ہوں گی۔ 22 اکتوبر کو سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا میچ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    اس کے بعد تینوں ٹیمیں لاہور منتقل ہوں گی، جہاں 25 اکتوبر کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھا میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، 27 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پانچواں میچ جب کہ 29 اکتوبر کو سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان چھٹا میچ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اسی طرح ٹرائی سیریز کا فائنل 31 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔

    ٹرائی سیریز کے اختتام پر سری لنکا کی ٹیم اسلام آباد میں 4 سے 6 نومبر تک 3 روزہ میچ کھیلے گی اس کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز ہوگی، جو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہوگی،پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جب کہ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    sports

    موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں یہ پاکستان میں ہونے والی دوسری ٹیسٹ سیریز ہوگی، اس سے قبل جنوبی افریقا نے گزشتہ سال اکتوبر میں پا کستان کا دورہ کرتے ہوئے 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی تھی،پاکستان میں ہونے والی آئندہ ون ڈے ٹرائی سیریز اس فارمیٹ میں ملک میں مسلسل دو سر ے سال کھیلی جانے والی ٹرائی سیریز ہوگی گزشتہ سال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے قبل پاکستان نے فروری میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے سا تھ ون ڈے ٹرائی سیریز کی میزبانی کی تھی۔

  • بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر

    بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتانبابر اعظم انگلینڈ کے خلاف بدھ سے ہیڈنگلے، لیڈز میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر ہوگئے ہیں ان کی جگہ سلمان علی آغا قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

    پاکستان کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے پری میچ پریس کانفرنس میں بابر اعظم کی عدم دستیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بابر اعظم کے ہاتھ میں درد ہے اور میڈیکل ٹیم ان کا معائنہ کر رہی ہے،امید ہے کہ بابر اعظم دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے-

    بابر اعظم کو گزشتہ ہفتے بیکنہم میں پروفیشنل کاؤنٹی کلب سلیکٹ الیون کے خلاف پاکستان کے تین روزہ پریکٹس میچ کے دوران انگلی پر گیند لگی تھی، واقعہ 39ویں اوور کی آخری گیند پر پیش آیا، جب فاسٹ باؤلر مینی لمسڈن کی تیز گیند بابر کے ہاتھ پر لگی،چوٹ لگنے کے فوراً بعد بابر اعظم نے بیٹ چھوڑ دیا اور میڈیکل اسٹاف نے انہیں طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد وہ میدان سے باہر چلے گئے، وہ 17 گیندوں پر 5 رنز بنا سکے تھے۔

    یہ ایک ماہ کے دوران دوسری مرتبہ ہے کہ بابر اعظم کے ہاتھ پر گیند لگی ہے، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی انہیں ہاتھ پر گیند لگی تھی،پاکستان کرکٹ بورڈ نے بعد ازاں احتیاطی تدبیر کے طور پر بابر اعظم کو پریکٹس میچ کا باقی حصہ نہ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا۔

    انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ کل 19 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں شروع ہوگا، جس میں بابر اعظم کی غیر موجودگی میں سلمان علی آغا قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

  • بابر اعظم دوبارہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مقرر

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا، بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا گیا۔

    لاہور میں سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کیا پاکستان کی 16 رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم کپتا ن، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس ، عبداللہ فضل، سلمان علی آغا، غازی غوری اور محمد رضوان شامل ہوں گے،اسکواڈ میں ساجد خان، علی عثمان، عامر جما ل، محمد علی، محمد عباس، عبید شاہ، اویس ظفر اور خرم شہزاد بھی شامل ہیں، سعود شکیل کو انگلینڈ کیخلاف اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا لیکن ان کی شمولیت فٹنس کلیئرنس سے مشروط ہوگی، شاہین شاہ آفریدی اورنعمان علی کوٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا،فاسٹ بولر حسن علی کو بھی ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا-

    اس موقع پر عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ 16رکنی اسکواڈ ویسٹ انڈیز جائے گا،سعود شکیل کی فٹنس بہتر ہونے میں کچھ وقت لگے گا مصباح الحق کو سلیکشن کمیٹی میں ابھی 6ماہ بھی نہیں ہوئے ،سرفراز احمد کو بھی سلیکشن کمیٹی میں آئے 6ماہ ہوئےہیں،ٹیم کی تیاری کافی بہترہے، اب کوشش کی ہے کہ تبدیلی لائی جا ئے تاکہ ٹیم کے نتائج اچھے ہوں۔

    پاکستان ٹیم دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچز سے کرے گی، قومی ٹیم 18 جولائی کو ٹراوبا میں وارم میچ کھیلے گی پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ 25 سے 29 جولائی تک ٹراوبا میں کھیلا جائے گا۔

  • پی سی بی کا ایبٹ آباد میں کرکٹ گراؤنڈ بنانے کا معاہدہ

    پی سی بی کا ایبٹ آباد میں کرکٹ گراؤنڈ بنانے کا معاہدہ

    پی سی بی نے ایبٹ آباد شہر میں کرکٹ گراؤنڈ بنانے کا معاہدہ کر لیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان ہائی پرفارمنس کرکٹ سنٹر کے قیام کے لیے 25 سالہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے۔

    معاہدے کے مطابق ایبٹ آباد یونیورسٹی اپنے کیمپس میں کرکٹ گراؤنڈ کے لیے زمین فراہم کرے گی جبکہ پی سی بی جدید معیار کے مطابق کرکٹ گراؤنڈ تعمیر کرے گا گراؤنڈ میں اعلیٰ معیار کی میچ اور پریکٹس پچز، پویلین، جدید مشینری اور ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    یونیورسٹی کھلاڑیوں اور کوچز کی رہائش کے لیے اپنے ہوسٹل اور میس کی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرے گی جبکہ پی سی بی اس گراؤنڈ کو سال بھر ریجنل ٹریننگ کیمپوں اور ریجنل اکیڈمی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے گا اس منصوبے سے ایبٹ ریجن کے انڈر 15، اسکول، فرسٹ کلاس اور دیگر سطحوں کے کرکٹرز کو جدید تربیتی سہولیات میسر آئیں گی، جس سے خطے میں کرکٹ کے فروغ کو نئی تقویت ملے گی۔

    مفاہمتی یادداشت پر پی سی بی کے سینئر جنرل مینیجر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز اسامہ شارون اور ایبٹ آباد یونیورسٹی کے حکام نے دستخط کیے اس موقع پر اسامہ شارون نے کہا کہ یہ منصوبہ ایبٹ ریجن کے کھلاڑیوں کے لیے خوش آئند اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو مقامی ٹیلنٹ کو نکھارنے اور قومی سطح پر آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • پی سی بی نے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں بڑھا دی

    پی سی بی نے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں بڑھا دی

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافے کی منظوری دے دی۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں مالی سال 27 -2026 کے سرپلس بجٹ کی متفقہ منظوری دی گئی اجلاس میں پی ایس ایل کے 12 ویں ایڈیشن کے بجٹ کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ لیگ کو انتظامی اور مالیاتی طور پر خود مختار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا بجٹ 3 ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    چیئرمین پی سی بی نے اجلاس میں نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے فارمیٹ اور ادائیگی کے طریقہ کار اور قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے میچ فیس میں اضافے کی منظوری بھی دی پی سی بی بورڈ آف گورنرز نے قائداعظم ٹرافی کے کھلاڑیوں کی میچ فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے جبکہ ریزرو پلیئرز کی میچ فیس 15 ہزار روپے سے 50 ہزار روپے کرنے کی بھی منظوری دی۔

    علاوہ ازیں ویمنز ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کے انعقاد اور اس ضمن میں فنڈز مختص کرنے کی منظوری بھی دی جبکہ ریجنل گراؤنڈ اسٹاف کی کم از کم تنخواہ 42 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس کے دوران 12 نئے گراؤنڈز کو آپریشنل کرنے اور نیشنل اسٹیڈیم سمیت مختلف کرکٹ سہولیات کی بہتری کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں جدید بائیو میکینکس مشین نصب کرنے کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔

  • قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2026 سے نئے فریم ورک کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا مقصد میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر قومی کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سال 2026 سے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل پرانا ماڈل ختم کردیا جائے گا، جبکہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی، دستیابی اور مختلف فارمیٹس میں کردار کی بنیاد پر کی جائے گی۔

    نئے فریم ورک میں ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اس مقصد کے تحت ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ ترقیاتی راستہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے واضح، منظم اور قابلِ فہم ترقی کا راستہ متعارف کرایا جائے گا اس کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پر اضافی انعامات اور مراعات بھی دی جائیں گی تاکہ کھلاڑی بہتر نتائج دینے کے لیے مزید متحرک ہوں۔

    نئے فریم ورک کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جائے گی، جس کا مقصد قومی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

    پی سی بی نے مزید بتایا کہ نئے نظام میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے بھی الگ درجہ بندی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی درجہ بندی کے عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2026 کے سینٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت دیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ جدید فریم ورک قومی کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے بھی بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (Pathway format ) سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔

    اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

    مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔ تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے-

  • جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے،جبکہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے-

    ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے سلیکشن کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکے، جبکہ قریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

    چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جا رہی ہے جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 5 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کے لیے بھی ایک خصوصی کیٹیگری قائم کی جا رہی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس میں میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے کسی بھی کھلاڑی کو قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے تمام مراحل سے گزرنا ہوگا پیر کے روز تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس پورے عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں جبکہ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے 2 سال کے اندر سامنے آئیں گے اور یہ اقدامات پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے فیصلہ وہ خود نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے جبکہ شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے حوالے سےمیرے علم میں کوئی حتمی بات نہیں ہے سابق کپتان سرفراز احمد پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیاامید ہے کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی، ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پا کستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، لیکن اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے تاکہ قومی ٹیم بہتر نتائج دے سکے، خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ سوچ میں خرابی تھی، کیونکہ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا سکے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن سمیت دیگر کوچز بھی موجود تھے محسن نقوی نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔