Baaghi TV

Tag: پی سی بی

  • قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2026 سے نئے فریم ورک کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا مقصد میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر قومی کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سال 2026 سے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل پرانا ماڈل ختم کردیا جائے گا، جبکہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی، دستیابی اور مختلف فارمیٹس میں کردار کی بنیاد پر کی جائے گی۔

    نئے فریم ورک میں ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اس مقصد کے تحت ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ ترقیاتی راستہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے واضح، منظم اور قابلِ فہم ترقی کا راستہ متعارف کرایا جائے گا اس کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پر اضافی انعامات اور مراعات بھی دی جائیں گی تاکہ کھلاڑی بہتر نتائج دینے کے لیے مزید متحرک ہوں۔

    نئے فریم ورک کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جائے گی، جس کا مقصد قومی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

    پی سی بی نے مزید بتایا کہ نئے نظام میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے بھی الگ درجہ بندی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی درجہ بندی کے عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2026 کے سینٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت دیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ جدید فریم ورک قومی کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے بھی بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (Pathway format ) سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔

    اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

    مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔ تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے-

  • جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے،جبکہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے-

    ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے سلیکشن کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکے، جبکہ قریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

    چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جا رہی ہے جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 5 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کے لیے بھی ایک خصوصی کیٹیگری قائم کی جا رہی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس میں میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے کسی بھی کھلاڑی کو قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے تمام مراحل سے گزرنا ہوگا پیر کے روز تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس پورے عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں جبکہ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے 2 سال کے اندر سامنے آئیں گے اور یہ اقدامات پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے فیصلہ وہ خود نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے جبکہ شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے حوالے سےمیرے علم میں کوئی حتمی بات نہیں ہے سابق کپتان سرفراز احمد پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیاامید ہے کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی، ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پا کستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، لیکن اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے تاکہ قومی ٹیم بہتر نتائج دے سکے، خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ سوچ میں خرابی تھی، کیونکہ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا سکے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن سمیت دیگر کوچز بھی موجود تھے محسن نقوی نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

  • ایشین گیمز 2026: پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کا 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ایشین گیمز 2026: پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کا 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشین گیمز 2026 کے لیے پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا، جس کی قیادت صاحبزادہ فرحان کریں گے –

    پی سی بی کے مطابق ایشین گیمز جاپان کے شہر آئچی ناگویا میں 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک منعقد ہوں گے، مینز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایونٹ میں 10 ٹیمیں شرکت کریں گی، جبکہ مقابلے آئچی پریفیکچر کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں کھیلے جائیں گے کرکٹ ایونٹ کا آغاز 24 ستمبر سے ہوگا جب کہ میڈل میچز 3 اکتوبر کو ہوں گے، 30 سالہ صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کی جانب سے 46 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں 1305 رنز بنائے ہیں، جن میں دو سنچریاں اور 10 نصف سنچریاں شامل ہیں ،عبدالصمد کو ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    15 رکنی اسکواڈ میں عاقف جاوید، علی رضا، معاذ صداقت اور سعد مسعود ایسے کھلاڑی ہیں جو ابھی تک پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے، ایشین گیمز اسکواڈ میں شامل 15 میں سے 14 کھلاڑی نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے وائٹ بال کیمپ کا حصہ ہوں گے، جو 15 جون سے لاہور میں شر و ع ہوگا۔

    افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے،عاصم منیر

    پاکستان مینز ٹیم اسکواڈ میں صاحبزادہ فرحان (کپتان)، عبدالصمد (نائب کپتان)، ابرار احمد، احمد دانیال، عاقف جاوید، علی رضا، عرفات منہاس، حیدر علی، حسن نواز، معاذ صداقت، محمد سلمان مرزا، سعد مسعود، صائم ایوب، سفیان مقیم اور عثمان خان (وکٹ کیپر) شامل ہیں۔

    ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، بولنگ کوچ ایشلے نوفکے، فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرماٹ، فزیوتھراپسٹ محمد طاہر، ٹرینر عمران اللہ اور اینالسٹ و ٹیم آپریشنز کوآرڈینیٹر عثمان ہاشمی شامل ہیں۔

    حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

  • پی ایس ایل 11 کا فائنل  پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز مین  کے درمیان آج

    پی ایس ایل 11 کا فائنل پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان آج

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 میں آج پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان فائنل کھیلا جائے گا،جبکہ فائنل میچ براہ راست نشر کیا جائے گا۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آج پی ایس ایل 11 کا فائنل پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان کھیلا جائے گا، جس میں دونوں ٹیمیں ٹائٹل جیتنے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔

    فائنل میچ سے قبل رنگا رنگ اختتامی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس میں معروف گلوکار عاطف اسلم، علی عظمت، عارف لوہار، آئمہ بیگ اور صابری سسٹرز اپنی پرفارمنس پیش کریں گے۔

    پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہر کپتان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ٹرافی اپنے نام کرے اور وہ بھی اسی عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

    دوسری جانب حیدرآباد کنگز کے کپتان مارنش لبوشین نے کہا کہ ٹیم نے سخت مقابلے کھیل کر فائنل تک رسائی حاصل کی ہے اور فیصلہ کن میچ میں بھی بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں فائنل کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ہدایت کی گئی کہ شائقین کرکٹ کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور ایونٹ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جائےمحسن نقوی نے شائقین کو مشورہ دیا کہ اختتامی تقریب سے بھرپور لطف اندوز ہونے کے لیے شام 6 بجے تک اسٹیڈیم پہنچ جائیں۔

  • پی ایس ایل 11: فاتح اور رنر اپ ٹیم کو انعام میں  کتنی رقم ملے گی؟

    پی ایس ایل 11: فاتح اور رنر اپ ٹیم کو انعام میں کتنی رقم ملے گی؟

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیے انعامی رقم کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق فاتح ٹیم کے لیے انعامی رقم 5 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ رنر اپ ٹیم کو 2 لاکھ ڈالر دیے جائیں گےپی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی بار چیمپیئن ٹیم کو اضافی طور پر 5 لاکھ ڈالر کی خصوصی انعامی رقم بھی دی جائے گی رنر اپ ٹیم کو بھی 3 لاکھ ڈالر کی اضافی انعامی رقم فرا ہم کی جائے گی، جبکہ بہترین پلیئر ڈویلپمنٹ میں کردار ادا کرنے والی فرنچائز کو 2 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کا فائنل اتوار کے روز پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا فائنل کے لیے تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں، اتوار کو میچ سے قبل عظیم الشان تقریب منعقد کی جائےگی اختتامی تقریب میں معروف گلوکار عاطف اسلم، علی عظمت، عارف لوہار، آئمہ بیگ اور صابری سسٹرز اپنی شاندار پرفارمنس پیش کریں گے، جبکہ رنگا رنگ تقریب کے دوران آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔

  • پی ایس ایل 11:  بال ٹیمپرنگ کا الزام، فخر زمان پر سنگین چارج عائد

    پی ایس ایل 11: بال ٹیمپرنگ کا الزام، فخر زمان پر سنگین چارج عائد

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے چھٹے میچ میں کراچی کنگز کے خلاف بال سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر لاہور قلندرز کے فخر زمان کو لیول تھری افینس پر چارج کردیا گیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فخر زمان نے میچ ریفری روشن مہاناما کی زیر صدارت ہونے والی سماعت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے، آئندہ 48 گھنٹوں میں ایک اور سماعت ہوگی جس کے بعد میچ ریفری اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ اگر فخر زمان قصوروار پائے گئے تو لیول تھری جرم کے تحت کم از کم ایک میچ کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اتوار کے روز لاہور میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ 11 کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز کو کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے الزام پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا میچ کے آخری اوور سے قبل جب کراچی کنگز کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے، امپائرز نے قومی کرکٹر فخر زمان کو گیند کی حالت غیر منصفانہ طریقے سے تبدیل کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کراچی کنگز کو پانچ پنالٹی رنز دے دیے تھے تاہم فخر زمان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔

    پنالٹی رنز ملنے کے بعد کراچی کنگز کو جیت کے لیے صرف 9 رنز درکار رہ گئے تھے، جبکہ بیٹنگ سائیڈ کی درخواست پر گیند بھی تبدیل کی گئی تھی اس کے بعد کراچی کنگز نے تین گیندیں قبل ہی ہدف حاصل کرتے ہوئے میچ اپنے نام کرلیا تھا فخر زمان نے میچ کے فوری بعد ہونے والی سماعت میں بال ٹیمپر نگ کے الزامات کو مسترد کیا۔

    کرکٹ قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کو سوائے گیند چمکانے کے اُس کی حالت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، قانون 41.3.2 کے تحت کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے گیند کی حالت میں تبدیلی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

    پاکستان سپر لیگ کے قواعد کے مطابق امپائرز اس قسم کے واقعات کی رپورٹ میچ ریفری کو دیتے ہیں، جو متعلقہ کھلاڑیوں کے خلاف مناسب کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں میچ کے دوران کراچی کنگز کی قیادت آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر کر رہے تھے، جو 2018 میں آسٹریلیا کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے 12 ماہ کی پابندی کا سامنا کرچکے ہیں۔

    واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے لاہور قلندرز کے کپتان اور قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مکمل معلومات نہیں، اور ٹیم ویڈیو دیکھنے کے بعد اس پر بات کرے گی۔

    دوسری جانب پاکستان سپر لیگ اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس واقعے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا

  • پی ایس ایل 11 بغیر تماشائیوں کے کرانے اور  افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان

    پی ایس ایل 11 بغیر تماشائیوں کے کرانے اور افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 11 صرف کراچی اور لاہور میں بغیر تماشائیوں کے کرانے اور ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل 11 شیڈول کے مطابق 26 مارچ سے شروع ہوگا تاہم کفایت شعاری اقدامات کے تحت ٹورنامنٹ کو صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے، شائقین سے معذرت خواہ ہیں، ٹکٹ کے پیسے واپس کیے جائیں گے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے پش نظر وزیر اعظم نے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا تھا، ٹورنامنٹ کا نیا شیڈول دیں گے جس میں کھلاڑیوں کی موومنٹ کم سے کم رکھی جائےگی پی ایس ایل کا انعقاد لازمی ہوگا، فرنچائز کو گیٹ منی پی سی بی دے گا،ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے انٹر نیشنل پلئیر ایک دو روز میں آنا شروع ہوجائیں گے،جب تک کرائسز چل رہا اس وقت تک اسٹیڈیم میں کراؤڈ کو اجازت نہیں ہوگی، حالات نارمل ہوئے تو کراوڈ کو اسٹیڈیم میں آنے کی آجازت دے دی جائے گی، نہیں معلوم کہ موجودہ جنگ کب تک رہے گی،حکومت سبسڈی نہ دیتی تو ڈیزل 500 سے اوپر چلا جاتا۔

    بنگلہ دیش: ٹرین اور بس میں تصادم، 12 افراد جاں بحق

    شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا

    نگہبان رمضان پیکیج کے تحت عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ،مریم نواز

  • پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا

    پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے-

    پاکستان سپر لیگ کا یہ ایڈیشن اب روایتی وینیوز کراچی، لاہور، راولپنڈی کے بعد فیصل آباد اور پشاور کی میزبانی میں کھیلا جائے گا لیگ میں 26 مارچ سے 3 مئی تک 44 میچز کھیلے جائیں گے ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں 2 نئی ٹیموں کے شامل ہونے کے بعد کل 8 ٹیمیں مقابلہ کریں گی،2 نئی ٹیمیں حیدرآباد کنگز اور راولپنڈی بھی ٹائٹل کے حصول کے لیے پہلی بار میدان میں اتریں گی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے میچز 6 شہروں میں کھیلے جائیں گے فیصل آباد اور پشاور پہلی بار پی ایس ایل میچز کی میزبانی کریں گے ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، اور ہر ٹیم لیگ کے مرحلے میں 10 میچز کھیلے گی،پلے آف کا آغاز 28 اپریل سے ہوگا، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کل 11 میچز کھیلے جائیں گے، جن میں ایک کوالیفائر بھی شامل ہے۔

    sports

    توانائی بحران:ہفتے میں دفاتر کی 3 چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے میچز کے شیڈول کے مطابق قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کل 15 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فیصل آباد پہلی بار لیگ کے 7 میچز کی میزبانی کرے گاپشاور کا عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم بھی پہلی بار پی ایس ایل میچ کی میزبانی کرےگا جہاں ایک مقابلہ شیڈول ہے، اس کے علاوہ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں 4 میچز طے ہیں، جن میں ملتان سلطانز کی ٹیم ہر میچ میں حصہ لے گی، جبکہ کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں 6 میچز شیڈول ہیں۔

    پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کے دو جہاز پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچ گئے

  • سرفرازاحمدکو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ لگانےکا فیصلہ

    سرفرازاحمدکو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ لگانےکا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفرازاحمدکو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ لگانےکا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سرفراز احمد بنگلادیش کے خلاف شیڈول ٹیسٹ سیریز میں بطور ہیڈ کوچ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹیسٹ سیریز مئی میں شیڈول ہے سرفراز احمد کو موجودہ عبوری کوچ اظہر محمود کی مدتِ ملازمت ختم ہونے پر عہدہ دیا جارہا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ جلد ہی سرفراز احمد کی تقرری کا اعلان کردے گا۔

    واضح رہے کہ سرفراز احمد اس وقت قومی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ بطور مینجر اور مینٹور فرائض انجام دے رہے ہیں-

    پشاور: دو چیک پوسٹوں پر پولیس نے شدت پسندوں کاحملہ ناکام بنا دیا

    پشاور: دو چیک پوسٹوں پر پولیس نے شدت پسندوں کاحملہ ناکام بنا دیا

    امریکا میں مالیاتی اداروں کو سائبر حملوں کا خدشہ ،ہائی الرٹ

  • مائیکل ہیسن کی غیر معمولی مداخلت، علیم ڈارقومی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی

    مائیکل ہیسن کی غیر معمولی مداخلت، علیم ڈارقومی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی

    سابق بین الاقوامی امپائر علیم ڈار نے پاکستان کی قومی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    مستعفیٰ ہونے کے بعد علیم ڈار ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد مستعفی ہونے والے پہلے رکن بن گئے ہیں،ذرائع کے مطابق علیم ڈار نے قومی ٹیم کے گرتے ہوئے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ جمع کرادیا ہے،ان کی رخصتی کو سلیکشن سیٹ اپ میں پہلی بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق امپائر علیم ڈار سلیکشن کمیٹی میں کوچ مائیکل ہیسن کی غیر معمولی مداخلت اور سلیکشن کمیٹی کے بااثر رکن عاقب جاوید کی خاموشی پر مستعفی ہوئے ہیں علیم ڈار کا شکوہ ہے کہ سلیکٹرز پاکستان کے بہترین 20 کھلاڑیوں کا اعلان کرتے ہیں، پھر کپتان اور کوچ غلط 15 کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر پلیئنگ الیون میں بھی غلط سلیکشن ہو جاتی ہے، سلیکٹرز تو صرف تنقید کے لیے رہ جاتے ہیں۔

    برطانوی عدالت سے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا

    آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں علیم ڈار نے سابق کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شاداب خان کی بغیر پرفارمنس اسکواڈ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن کپتان سلمان علی آغا جن کی بطور کپتان علیم ڈار کی نظر میں اسکواڈ میں جگہ ہی نہیں بنتی، انہوں نے اور بالخصوص عاقب جاوید نے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی اور کوچ مائیک ہیسن نے کھلم کھلا سلیکشن کے معاملات میں صرف اپنی چلائی۔

    علیم ڈار نے وکٹ کیپر عثمان خان کی جگہ تجربے کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو نمبر 6 پر کھلانے کی تجویز پیش کی تھی، ان کا مؤقف تھا کہ اگر شاداب اور بابر بغیر کسی پرفارمنس ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں تو محمد رضوان کو بھی ایک اور موقع ملنا چاہیےموجودہ حالات میں علیم ڈار نے مستعفی ہونے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کرکٹ سے بہت عزت دی ہے، میں کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہتا، بہتر ہے کہ مستعفی ہو جاؤں۔

    آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ مہم ٹیم کی حکمتِ عملی، قیادت اور تیاری کے حوالے سے شدید تنقید کے ساتھ اختتام پذیر ہوچکی ہے،تاحال علیم ڈار کے متبادل یا کمیٹی میں مزید تبدیلیوں کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا،تاہم ان کے استعفے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں احتساب، سلیکشن پالیسی اور ٹیم کی آئندہ سمت کے حوالے سے وسیع تر بحث متوقع ہے۔

    خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان