Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی احتجاج

  • لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 300 سے زائد گرفتار

    لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 300 سے زائد گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 5 اگست کے مجوزہ احتجاج سے قبل لاہور پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 300 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے قومی اسمبلی اراکین اور سینیٹرز کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کو روکنے کے لیے چھاپے اور گرفتاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں، ٹکٹ ہولڈرز اور اہم شخصیات کے گھروں پر چھاپے مارے، جبکہ مختلف علاقوں سے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کو شورٹی بانڈز پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم "ڈور ناکنگ” کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی لاہور کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب حکومت فسطائیت کی انتہا پر پہنچ چکی ہے، لیکن ظلم و جبر کے باوجود کارکن کل لاہور بھر سے پرامن احتجاج کے لیے باہر نکلیں گے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرے کو حتمی شکل دے دی ہے، اور قیادت کی جانب سے تمام تنظیمی و پارلیمانی نمائندوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    یومِ آزادی کو بھارت کے خلاف جشن کے طور پر منایا جائے، بلاول بھٹو

    اڈیالہ جیل کے باہر ممکنہ احتجاج پر سپرنٹنڈنٹ نے اضافی نفری مانگ لی

    گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 4 ارب روپے امداد کا اعلان

  • پی ٹی آئی احتجاج کے نام پرانتشار پھیلا رہی ہے،بیرسٹرعقیل ملک

    پی ٹی آئی احتجاج کے نام پرانتشار پھیلا رہی ہے،بیرسٹرعقیل ملک

    مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی آج کی پریس کانفرنس مضحکہ خیز ہے، 10نکاتی ایجنڈےسے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو ریلیف ملے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آئین اور قانون سے ہٹ کر کوئی ریلیف نہیں ملے گا،پی ٹی آئی اجازت کے بغیر احتجاج کرتی ہے،دفعہ144عوام کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے نافذ کی جاتی ہے۔پی ٹی آئی احتجاج کے نام پرانتشار پھیلاتی ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ احتجاج کے دوران قانون کو ہاتھ میں لیا،جب آپ قانون توڑیں گے تو قانون حرکت میں آئے گا،اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔آپ کہہ رہے ہیں یہ سیاسی نوعیت کے کیسز ہیں،یہ سیاسی نوعیت کے کیسز نہیں ،آپ کے لوگوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا تو قانون حرکت میں آیا،آپ کی سیاسی نہیں انتشاری سوچ ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آپ نے سیاسی سوچ کا لبادہ ضرور اوڑھا ہوا ہے،آپ انتشاری سوچ رکھتے ہیں اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،آپ نے 9مئی کو انتشار پھیلایا،بارہا دفعہ اسلام آباد آکر انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔آپ سپریم کورٹ سے مداخلت کاکہہ رہے ہیں،سپریم کورٹ کیوں مداخلت کرے گی،عدالتوں کا کام آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے۔ہماری تمام لیڈرشپ پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد کیسز بنائے گئے،ہم نے آپ کے جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا ہے،آپ سپریم کورٹ کو مداخلت کا مت کہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    نرگس فخری کی بوائے فرینڈ کیساتھ خاموشی سے شادی ؟تصاویر وائرل

    آسٹریلوی کپتان نے پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف کر دی

    54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

    نیپال کے نائب وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ،بھارتی شہری گرفتار

  • پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    راولپنڈی: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اٹک ڈاکٹر غیاث گل نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے،برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پاکستان میں موجود ہی نہیں، وہ انہوں نے درآمد کئے،اٹک میں مظاہرین کا ایک شخص بھی زخمی نہیں ہوا، 26 نومبر کی رات کو پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن ہم نے جانفشانی سے معاملے کو سنبھالا۔

    ڈی پی او نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں، مظاہرین کے ہینڈلرز پولیس کی وائرلیس فریکوئینسی متاثر کرتے رہے پتلون کے ساتھ تصویر بنا کر شہد ااور غازیوں کی تذلیل کی جارہی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔

    ڈی چوک احتجاج، عمران ، بشری کے وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کہاکہ گرفتار مظاہرین عسکری ونگ کے کارندے ہیں، ان لوگوں نے پولیس پر فائرنگ کی، گرفتار افراد میں سے 89 لوگ ایسے ہیں جن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ ہی نہیں، مظاہرین کی گاڑیوں میں موجود کین میں کیمیکل موجود تھا، اندازاً 8 فیصد لوگ مظاہرین میں ایسے تھے جو مظاہرین پر حملوں میں ملوث تھے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین میں شامل عسکری سکواڈ کے نمائندے 500،500 کی ٹولیوں میں چل رہے تھے یہ لوگ 3 سے 4 منٹ میں پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھےغازی بروتھا کے مقام پر جیٹ انجن کے ذریعے پولیس پر آنسو گیس چلائی گئی، پولیس مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی پی ٹی آئی 3 بار احتجاج کرتے ہوئے اٹک میں آئی ہے اور 250 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، ان اہلکاروں کی فیملیز ہیں، ہم کس کس کو جواب دیں گے۔

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

  • پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے معاملے پر رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کی آڈیو لیک ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق علی محمد خان نے رابطہ کرنے پر آڈیو اپنی ہونے کی تصدیق کی ہے۔لیک آڈیو میں علی محمد خان کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے، احتجاج کا اعلان علیمہ خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو کرنا چاہیے تھا۔ عمران خان نے تو کہا کہ تھا ہماری پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں ہے، علیمہ خان نے خود کیوں احتجاج کی کال دی؟ واضح رہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں رہنماؤں نے عمران خان کے حکم پر سنگجانی جانے کے بجائے ڈی چوک جانے پر سوالات اٹھائے۔ علی محمد خان کے مطابق میں نے بانی چیئرمین سے بھی شکایت کی کہ اعلانات پارٹی کی طرف سے ہونے چاہئیں اور انہوں نے بھی کہا کہ آئندہ کال پارٹی لیڈر شپ دے گی۔بانی چیئرمین نے ڈی چوک آنے کا کہا ہی نہیں تھا، بانی چیئرمین نے صرف اسلام آباد آنےکا کہا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں کارکنان کی آمد کے بعد جگہ بتائی جائےگی، جب بانی چیئرمین نے سنگجانی کا کہا تھا تو پھر کس کے کہنے پر ڈی چوک گئے؟علی محمد خان کے مطابق بانی چیئرمین نے بیرسٹر گوہر، فیصل چوہدری اور دیگر کے سامنےکہا تھا۔ ہمارا مقصد احتجاج کے ذریعے مذاکرات کرنا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں الگ الگ احتجاج کرنے کی بھی بانی چیئرمین نے مخالفت کی تھی۔ بانی چیئرمین نے سنگجانی میں بیٹھنےکا کہا تھا اور مذاکرات کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی احتجاج میں شمولیت کا بھی بانی چیئرمین کو نہیں پتا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے بانی چیئرمین کو بتایا کہ بشریٰ بی بی احتجاج میں آئی ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو سنگجانی میں بیٹھنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی سنگجانی پر متفق ہوگئے تھے۔ جب بانی چیئرمین نے سنگجانی بیٹھنےکا کہا تو پھر آگے سب کیوں گئے؟علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر کے حکم پر عمل کرنا چاہیے تھا، ہمیں سنگجانی میں رکنا چاہیے تھا۔ بشریٰ بی بی سمیت کسی کے پاس حق نہیں ہے کہ بانی چیئرمین کےفیصلے کے اوپر فیصلہ دے۔ بیرسٹر سیف نے جب بانی چیئرمین کا پیغام پہنچایا تو اس پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

    شہید کیپٹن ذوہیب ،شہید سپاہی افتخار کی نماز جنازہ ادا، وزیر اعظم، اعلی عسکری قیادت شریک

    صرف200 کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    بچی سے زیادتی کی کوشش، مجرم کو 12 سال قید

  • شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ مسلح افغان شہریوں اور شرپسند عناصر کی قیادت کرنے والا مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاتارڑ نے بتایا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، وہ نہ صرف اس احتجاج میں شریک تھے بلکہ انہوں نے تربیت یافتہ جھتے بھیجے تھے جن کو مظاہرے کے دوران لاشیں گرانے کی احکامات دیئے گئے تھے۔یہ کس طرح کی سیاست ہے، مراد سعید یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، ریڈ زون میں جانے کا مقصد ریاستی رٹ کو ختم کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلحہ انتشاریوں کے پاس تھا، بین الاقوامی میڈیا پر بھی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فائرنگ کی ایک ویڈیو نہیں آئی، لاشوں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، پمز اور پولی کلینک ہسپتال نے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاکت نہیں ہوئی۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کی گئی تو وہ احتجاجی مظاہرین میں سے کی گئی، کرم میں کہرام مچا ہوا ہے مگر تمام تر توجہ سیاست کے اوپر ہے، اگر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو پھر موقعے سے بھاگے کیوں؟ مظاہروں کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ کال مسترد کی اور ان کے پاس آخر میں تقریباً 2 ہزار لوگ رہ گئے، خیبرپختونخوا کی عوام تعلیم اور صحت مانگتے ہیں، وہاں کی عوام انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کو اصل مایوسی سیاسی طور پر لاشیں گرانے میں ناکامی پر ہورہی ہے، ان کے پاس براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ مراد سعید اس سازش میں شامل تھے، جتنے لوگ فرنٹ لائن سے پکڑے گئے ایک سازش کے تحت لائے گئے تھے، سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ چلے گا نہیں، یہ ایک غیر قانونی پرتشدد احتجاج تھا، اس میں غیر قانونی طور پر اسلحہ لایا گیا تھا اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا چینلز پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے ،پاکستانی عوام کے سامنے تمام تر حقائق رکھنا ضروری ہیں۔کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مظاہروں میں تربیت یافتہ جرائم پیشہ اور افغانی موجود تھے، تمام لوگ اسلحہ بخوبی چلانا جانتے تھے لیکن اس دفعہ کے احتجاج میں آخری کال کے نام سے سنسنی پھیلائی گئی۔ یہ سارے احتجاج غیر ملکی مہمان کی آمد کے موقع پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں، ریاست گھٹنے نہیں ٹیکتی، ریاست کا کام رٹ کو بحال کرنا اور امن و امان، شہریوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس دی تھی کہ فائنل کال میں کوشش کی جائے گی کہ خون بہایا جائے اور لاشیں گرائی جائیں، ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اگر کسی بھی صوبائی حکومت کو وسائل دیئے جاتے ہیں تو اس کامقصد غیر قانونی احتجاج پر کڑوڑوں روپے خرچ کرنا نہیں ہوتا۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کا کہنا تھا کہ ان سے کہا درخواست دیں کہ کہاں جلسہ کرنا ہے لیکن نہیں دی، غیرملکی وفد کی آمد پر ہمیں سیکیورٹی پلان تشکیل دینا پڑا، سیکیورٹی اداروں نے بہت ہمت دکھائی اور صابر رہے، انہوں نے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے کارکنان نے ہر قسم کا ہتھیار استعمال کیا اور تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا،فوج کو صرف ریڈ زون میں تعینات کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران احتجاج سے حراست میں لیے گئے ملزمان کی ویڈیو اور ان کے اعترافی بیان بھی دکھائے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران بلا اشتعال فائرنگ کے ثبوت دکھائیں گئے ہیں، کسی ایک اہلکار کی جانب سے فائرنگ کا ثبوت نہیں، اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا اپنی موت مرے گا، اب خیبرپختونخوا کی عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہے، احتجاج سے گرفتار ملزمان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاست دان یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا ایکشن ہو جس سے لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو، ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے فیک خبروں کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جھوٹ ہر طرف سے آئے گا تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک ٹاس فورس بنائی جاتے اور اس کے تحت جو جھوٹا الزام لگائے اس کو اسے ثابت کرنے کے لیے بلایا جائے، ریاست کمزور نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہیں۔

    سابق ایم این اے علی حسن گیلانی حادثے میں جاں بحق

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    مریم نواز نےسندھی ثقافت کی تعریف کر دی

  • فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    وزارتِ داخلہ کی جناب سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا، پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پرآئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔ منتشرکرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔پولیس اور رینجرزنے اس پرتشدد ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا۔ مظاہرین کےعلاقے سے فرارکے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے۔ پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی۔ من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے غیرملکی میڈیا کے بعض عناصربھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں .اعلامیے کے مطابق پولیس آفیشلز اورکمشنر اسلام آباد نے باربار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اعلامیے میں کہا کہ اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔جیل وینزکو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سیکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔پاکستان بشمول خیبر پختونخوا کے قابل فخرعوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

  • اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا،پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔

    مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا،مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا۔پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھےیہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کے ماتحت سرگرم تھےجو خود بھی ہمراہ تھااس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

    اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر شہید کیا گیا پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا شر پسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا

    پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا پولیس اور رینجرز نے اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا –

    واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی منتشر کرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

    مظاہرین کے علاقے سے فرار کے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے،پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے بد قسمتی سے غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔

    وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا، پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں،جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔

    ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں۔۔۔پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے لئے اپنے اداروں کیساتھ یکجا کھڑی ہے۔

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں سے زبردستی نعرے لگوانے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہیں، جس پر سیاسی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں اپنے احتجاج کے دوران پولیس کے جوانوں سے "عمران خان زندہ باد” جیسے نعرے لگوائے۔ پی ٹی آئی شرپسندوں نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا اور ان سے نعرے بھئ لگوائے یہ نعرے پولیس کے اہلکاروں سے نہ صرف زبردستی بلکہ توہین آمیز انداز میں لگوائے گئے تھے۔سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ بعض افراد نے پی ٹی آئی شرپسندوں کے اس اقدام کو بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے لوگوں کی حرکتوں سے مشابہ قرار دیا، جہاں مسلم مخالف نعرے لگانے کے لیے مسلمانوں کو زبردستی دباؤ میں لایا جاتا ہے۔ ایک طبقے نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے اس حرکت کے ذریعے پولیس کو نہ صرف بدنام کیا بلکہ ان کے جذبات کو بھی مجروح کیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی رسمی وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن سوشل میڈیا پر شہریوں نے پی ٹی آئی کے اس عمل کو غیر مناسب اور بدتمیزی قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی متشدد جماعت بن چکی ہے اور اسکے کارکن شرپسندوں کے بھیس میں مسلح ہو کر اسلام آباد آئے تھے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں کو گرفتار بھی کیا ہے جنہوں نے دوران تحقیقات انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے پیسے دے کر انہیں بھیجا تھا.ضرورت اس امر کی یے کہ پولیس اہلکاروں سے زبردستی نعرے لگوانے والے شرپسندوں کے خلاف کڑی کاروائی کی جائے ۔ ایسے افراد کے لئے کسی قسم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہئے.

  • کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والے شر پسند طاہر عباس سے متعلق پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو کے ذریعے پی ٹی آئی نے بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا،ویڈیو میں ایک شخص کو کنٹینر سے گرتا دیکھا جا سکتا ہے بعدازاں ویڈیو کو بنیاد بنا کرشرپسند شخص کی موت کا جعلی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،سیکیورٹی ذرائع کےمطابق مذکورہ شخص زندہ ہے جبکہ موت سے متعلق حقائق اس کے برعکس ہیں،کنٹینر سے گرنے والے شخص کی شناخت طاہر عباس کے نام سے کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 38 سالہ ٰطاہر عباس ولد فیض احمد تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا رہائشی ہے,طاہر عباس کے رشتہ داروں کےمطابق وہ زخمی ہے اور ہسپتال سے ابتدائی علاج کے بعد راولپنڈی میں بہنوئی کے گھرپرہےتکنیکی تحقیقات کے مطابق”طاہر عباس نے اپنا فون بند کر رکھا تھا اور اپنے موبائل فون میں کسی اور کا نمبر استعمال کر رہا تھا،موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کو ٹریس کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس وقت راولپنڈی میں ہے ۔طاہر عباس کاشتکار ی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے بطور ایجنٹ کام کرتا ہے طاہر عباس ویزوں کی غرض سے 21نومبر 2024 کو اسلام آباد آیا،مذکورہ شخص بعدازاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہو گیا.تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ” مذکورہ شخص پی ٹی آئی کا کارکن اور پی پی 41سے پی ٹی آئی کی ایم پی اے بسمہ ریاض چوہدری سے وابستہ ہے۔طاہر عباس پہلے پیپلز پارٹی کا ورکر تھا لیکن بعد میں پی ٹی آئی کا حمایتی بن گیا۔طاہر عباس اس وقت راولپنڈی میں اپنے بہنوئی کے ساتھ رہائش پزیر ہے جس بارے میں پتہ چلایا جا رہا ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طاہر عباس کی ماں کا کہنا تھا کہ بیٹے کو اسلام آباد جانے سے منع کیا لیکن وہ ضروری کام کا اصرار کرے چلا گیا جس کے بعد ایک دفعہ فون کرکے بتایا کہ میں خیریت سےہوں تھوڑی چوٹ لگی ہے جلدی ٹھیک ہو جاوں گا .

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل