Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی ارکان

  • علی امین گنڈاپور  کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    علی امین گنڈاپور کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    خیبر پختونخوا کے وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر اور علی امین گنڈاپور کی فروری 2023 کی آڈیو منظر عام پر آ گئی.

    وائرل آڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبائی عہدے دار سے پیسے وصول کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ وہ اُس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے – علی امین گنڈاپور نے افسر سے کہا کہ سولہ کروڑ آپ کے اکیلے کے ہیں – سولہ کروڑلڑکے کے ہاتھ میرے گھر بھجوا دو اور باقی 25 کروڑ کا بھی جلدی کچھ کرو، ٹھیک ہے دوسرامیں نے کہا ایک اور کیس ہمارا گیا ہوا ہے فنانس ڈپارٹمنٹ 25 کروڑ میرا ہے 25 کروڑ CM (محمود خان) صاحب کا ہے۔ فنانس میں اس نے بلایا ہے اس سے جا کہ مل لینا۔ اس میں یہ تھا کہ یہ پیسے پڑے تھے ریلیف والے کہ یہ ڈی جی کے اکاونٹ میں ہیں۔ اس کو ریلیف سے کلوز کرو اپنے اکاونٹ میں لاو فنانس میں۔

    جواب میں افسر کا کہنا تھا کہ کہا کہ اصل میں آجکل وہ فائنانس والے ہماری بات ہی نہیں مان رہے۔ کل سے ہم لگے ہوئے ہیں ان پی ایم ڈی والوں کے ساتھ آج بھی ان کی میٹنگ تھی نئے CM (اعظم خان) کے ساتھ۔ تو میں انشاللہ آپکا یہ کیس پوچھتا ہوں کہ کیا پوزیشن ہے اور 16 کروڑ اپکو بھجواتا ہوں ابھی لڑکوں سے کہتا ہوں۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ علی امین صاحب اگر صوبائی اسمبلی سے باہر رہ کے اگر اتنا کما سکتے ہیں تو بحثیت وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہوں گے جب صوبے کی ساری دولت ان کے ہاتھ سے گزرتی ہے-دوسروں پر چوری کے الزام اور گالم گلوچ کرنے والے خود ہی چور نکل رہے ہیں اسی وجہ سے 15 سال سے صوبے کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے.پی ٹی آئی کی کرپشن کا اپنا ہی لیول ہے عوام کو احتجاج پر لگا کے خود موجیں کر رہے ہیں –

    کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق، 10 زخمی

    غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

  • پرویزالہٰی سے پی ٹی آئی ارکان پنجاب  اسمبلی کے وفد کی ملاقات

    پرویزالہٰی سے پی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کے وفد کی ملاقات

    اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی سے وکلا کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ملکی سیاسی معاملات ،پنجاب کے آئینی اور سیاسی بحران پر بات چیت کی گئی،چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ اراکین پنجاب اسمبلی پر پولیس کے تشدد پر ایکشن لیں گے ،اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں آئی جی اور چیف سیکریٹری کو بلا کر سزا دیں گے اس سارے معاملہ میں اصل سرغنہ آئی جی اور چیف سیکریٹری ہیں ، حکمران عمران خان کو گرفتار کریں گے تو یہ اپنی سیاسی قبرخود کھودیں گے یورپی یونین اور کامن ویلتھ ممالک اس پر قرارداد لے کر آرہے ہیں تحریک عدم اعتماد آگئی تو حمزہ شہباز فارغ ہیں پنجاب میں بحران تب ختم ہوگا جب حمزہ شہباز گھر جائے گا، حکومتی وزیروں کی کوئی اوقات ہے نہ کوئی سوچ اور ویژن ہے،وزیراعلیٰ سے حلف گورنر لیتا ہے اسپیکر قومی اسمبلی کیسے لے سکتا ہے؟

    قبل ازیں اسپیکرپرویزالہٰی سےپی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کے وفد نے ملاقات کی-ملاقات کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے کہا کہ ملک کی سیاست اہم موڑ پر ہے،حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، عمران خان نے حکومت کو کچھ دن کی مہلت دی ہے-

    پاکستان ترک سرمایہ کاروں کا دوسرا گھر ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہٰی نے کہا کہ جلد از جلد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں،حکمران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کرداروں کو سزا دی ہوتی تو آج یہ واقعہ نہ ہوتا-

    پرویز الہی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوامی فلاحی منصوبے شروع کیے لانگ مارچ کے دوران بچوں، بزرگوں اور خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا-

    قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار کرنے کی صورت میں حکومت کو سنگین نتیجے سے خبردار کیا تھا پرویز الٰہی نےکہا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرکے حکومت اپنی قبر خود کھودے گی اور اپنی موت کو دعوت دے گی۔

    معروف بزنس مین میاں منشاء کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    انہوں نے کہا تھا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کے خلاف کارروائی ہوگی کیونکہ لانگ مارچ کے شرکا پر فائرنگ پولیس نے کی ہے، خواتین پنجاب اسمبلی نے مشترکہ طور پر استحقاق کمیٹی میں یہ معاملہ لے کر جانے کا فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلی حدود میں بغیر اسپیکر کی اجازت کے پولیس نے پکڑ دھکڑ کی ہے۔

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فوادچودھری نے کہا کہ پنجاب بغیر حکومت کے چل رہاہے ،حمزہ شہباز غیر قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ بنے ہیں،حمزہ شہبازکامقدمہ روزانہ کی بنیادپرچلناچاہیے،اسپیکر ری الیکشن کا آرڈر کریں،سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعد حمزہ وزیراعلیٰ نہیں رہے،حمزہ کے پاس اب اکثریت نہیں رہی –

    اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    فواد چودھری نے کہا کہ پنجاب کے لوگوں کو آئینی حق سے محروم نہ کیاجائے ،کوئی عزت دارشخص موجودہ سسٹم کے ذریعے عہدہ قبول نہیں کرے گا، الیکشن نے آئین کے آرٹیکل 224 کو معطل کر دیا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ بات چیت نہ کریں،آپ پہلے الیکشن کا شیڈول دیں،ہم مذاکرات کے ذریعے ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم بات چیت کریں گے، الیکشن کی ٹرمز اور فریم کے لیے بیٹھیں گے،اب ا سپیکر کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ ہمیں بلا کے ہماری رائے لیں، جب ا سپیکر کے پاس رائے لینے کا اختیار ہی نہیں تو اراکین کیوں جائیں-

    وزیراعظم شہباز شریف کی ترک وزیرخارجہ سے ملاقات، وزیرخارجہ بلاول بھٹو بھی شریک

  • پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    اسلام آباد:پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نااہل ہونے سے بچ گئے،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کو نا اہل کرنے سے متعلق ریفرنس مسترد کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق قائم مقام سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکین قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، الیکشن کمیشن نے راجہ ریاض، نورعالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین، عاصم نذیر،نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ ہونے سے بچ گئے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان کے وکیل بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا تھا نہ پی ٹی آئی چھوڑی ہے اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی، بعد میں پارٹی نے کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹ نہیں دینا جو ثابت کرتا ہے کہ پارٹی نے تسلیم کیا نور عالم ان کا رکن ہے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ نور عالم نے 3 اپریل کو اجلاس میں شرکت کی، پی ٹی آئی نے کہا تھا اجلاس میں شرکت کریں، پارٹی نے دوبارہ کوئی ہدایت نہیں کی آپ اجلاس میں شرکت نہ کریں، نور عالم نے کسی اور پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے پوچھا کیا نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر ان کے وکیل نے کہا تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا، یہ کہتے ہیں بچوں کی شادی نہیں ہو گی، یہ ہمارے بچوں کے لیے اتنی فکر مند کیوں ہیں۔

    ممبر کمیشن ناصر درانی نے پوچھا کہ کیسے نتیجہ نکالا الیکشن کمیشن کا 5 رکنی بینچ ہی فیصلہ سنا سکتا ہے؟ جس پر گوہر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ دے چکا ہے۔