Baaghi TV

Tag: پی ٹی ایم

  • رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی

    عدالت نے علی وزیر کو 4 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ علی وزیر کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے، جس پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر اشتعال انگیز تقاریر کا الزام ہے ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے دو مہینے فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد علی وزیر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا اور ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی

    زرداری کے بعد فریال تالپور گرفتار،بزدلوں کی حکومت ہے، بلاول کا رد عمل

    زرداری کے پروڈکشن آرڈرکے مطالبہ پر فواد چودھری خاموش نہ رہ سکے

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    علی وزیر پر پی ٹی ایم کے پروگرام کے کراچی میں پروگرام کے بعد سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر ، پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت سمیت کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد علی وزیر کی گرفتاری کی کوشش کی مگر خیبرپختونخواہ میں موجودگی کی وجہ یہ ممکن نہ ہوسکا جس کے بعد پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ نے خیبرپختونخواہ حکومت سے گرفتاری اور حوالگی میں مدد طلب کی اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا،علی وزیر جیل میں ہیں، آج سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • شمالی وزیرستان پاک فوج پر حملہ ، پی ٹی ایم نے ذمہ داری قبول کرلی

    شمالی وزیرستان پاک فوج پر حملہ ، پی ٹی ایم نے ذمہ داری قبول کرلی

    اباخیل : شمالی وزیرستان ابا خیل کے علاقے میں پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردانہ حملہ پاکستان دشمن ، بھارت اور افغانستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم پی ٹی ایم نے کیا ، شمالی وزیرستان: شمالی وزیرستان کے علاقہ اباخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید اور ایک زخمی، جوابی کاروائی کے دوران پی ٹی ایم کے دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں،

    باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ رات شمالی وزیرستان میں اباخیل اور سپین وام میں پاک فوج کی پٹرولنگ پارٹی معمول کے گشت پر تھی،پارٹی جب ابا خیل کے قریب پہنچی تو ان پر گھات لگائے پی ٹی ایم کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آوار ہلاک اور ایک سپاہی اختر شہید ہوگیا، جبکہ ایک سپاہی زخمی بھی ہوا ہے۔

    https://twitter.com/PaasoonOfficial/status/1172823816944402432

    شمالی وزیرستان سے باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی معلومات کےمطابق پی ٹی ایم کی طرف سے اس حملے کے دوران فوجیوں نے چیخ چیخ کا بتایا بھی کہ ہم فوجی ہیں آپ لوگ کون ہیں اور کیوں فائرنگ کر رہے ہیں؟ لیکن فائرنگ جاری رہی،فوج نے جوابی فائرنگ کی تو ان کے دو بندے ہلاک ہوئے۔فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا لیکن گاؤں کے اندر نہیں گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی ایم نے شہید ہونے والی فوجی کی لاش کی خوب بے حرمتی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی،ہلاک ہونے والے پی ٹی ایم کے سرگرم کارکن بتائے جاتے ہیں اور پاک فوج اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔واقعہ ہوتے ہی پی ٹی ایم کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاک فوج کو ٹارگٹ کلرزقرار دے کر ڈھنڈورا شروع کر دیا گیا۔

    دوسری طرف علاقہ عمائدین کا کہنا ہے کہ پاک فوج ہماری حفاظت کیلئے رات کو گشت کرتی ہے، پی ٹی ایم نے کس بنیاد پر فوجیوں پر حملہ کیا،یاد رہے باقاعدہ طور پر پی ٹی ایم نے پہلی بار اس حملےکی ذمہ داری قبول کی ہے اور فخر سے شہید ہونے والی فوجی کی تصاویر شیر کر کے بتا رہی ہے کہ باقیوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    کچھ دنوں سے مختلف ممالک( امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا) میں احتجاج ہو رہا ہے۔ جن میں خڑ کمر، وزیرستان میں فوج اور پی ٹی ایم کے جوانوں کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے ‘معصوم افراد’ کیلئے انصاف کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اسلحہ تک اٹھانے کی طیش دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ‘لر او بر یو افغان’ کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں کثیر تعداد افغانستان کے پشتونوں کی ہوتی ہیں۔ جو کہ ان کہ بولنے کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ فوجی جوان بھی اس واقعے میں رحلت کر گئے ہیں وہ کسی کے دم کرنے سے، کوئی جادوئی کلمات پڑھنے سے یا صرف ‘معصوم افراد’ کی لعن طعن والی احتجاج سے اپنی سانسوں پر قابو نہ رکھ پائے۔ کیا مومن، شہریت اور انسانی حقوق کے اعلی درجوں پر صرف ‘معصوم لوگ’ ہی فائز تھےکہ صرف ان کے لیے احتجاج جائز ہے؟ کیا اس دوران ‘معصوم افراد’ کی معصومانہ ذہنیت کو تشدد کی ترغیب کی بجائے کتاب یا سپارہ کی تلقین نہیں کی جاسکتی تھی؟
    سچائی کے حوالے سے لفظ ‘معصوم’ کی تعریف ‘مخلص’ بنتی ہیں کہ جس نے اپنے اندر کے ڈوئلٹی کو روک رکھا ہو، اسے ختم کر دیا ہو، اندر کے ہر باطل کو مٹا دیا ہو، اندر کا ہر پوشیدہ منکشف کر دیا ہو، ہر باطن ظاہر کر دیا ہو اور اپنے اندر کے ہر پر تشدد اجتماع کو روک رکھا ہو۔
    اج کل پشتون پیشہ ور سیاسی لیڈران نوجوان نسل کو تاریخ دیکھنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے اور بیانیہ ہوتا ہے کہ پشتون کو فلاں جگہ استعمال کیا گیا، فلاں جگہ پشتون کے حقوق چھینے گئے۔ فلاں سن میں پشتونوں کو مذہب اور بہادری کے نام پر استعمال کیا گیا۔ پھر جب نوجوان پشتون نسل نے تاریخ دیکھنا شروع کی تو ان کو پتہ چلا 1979 سے آگے کی بھی تاریخ خصوصا پاکستان اور افغانستان کی۔ پاکستان میں "پختونستان” کے علمبرداروں میں ایک ریڈیکل نیشنلسٹ محمود خان اچکزئی آج تک "پختونستان” کے خدوحال اور مستقبل بیان نہیں کر سکا کہ پختونستان کا تصور ایک الگ صوبہ کا ہے یا ایک الگ خودمختار ریاست کا۔ محمود خان خود پانچ ہزار سال سے پشتون ہیں انہوں نے ان پشتونوں کیلئے جو بھارت اور بخارا سمرقند میں رہائش پزیر ہیں، کیا اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پشتون جو محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے دنیا میں پھیلے ہیں ان کے حقوق کیلئے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کیں ہیں؟
    افغانستان، پاکستان تعلقات پر از سر نو نظر ثانی کی جائے تو علاوہ طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے، باوجود دو مسلمان پڑوسی ہونے کے، دونوں ریاستوں کے معاملات کھبی صحیح موڑ پر نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طور پر ستر سال سے افغانستان حکمران کے ذہنیت پر اہمیت کے حامل دو وہم سوار ہو چکے ہیں۔
    پہلا یہ کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہیں، جو کھبی مستحکم نہیں ہو سکتی، آج یا کل ٹوٹنے والی ہیں۔ افغان حکمران اس وہم کو سچ سمجھتے آرہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے سے پہلے افغانستان کو کچھ متعین کردہ علاقوں پر دھاوا بول کر اس پر ایک عوامی رائے ہموار کرنی چاہیے۔ تاکہ بوقت توڑ پھوڑ ان علاقوں پر قابض ہوا جاسکے۔ اسی وہمی سوچ کے تحت ایک تصوراتی نام "پختونستان” تشکیل دیا گیا۔ اس پلان کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ثبوت 1947 سے 1979 کی تاریخ کے اوراق پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ کنگ محمد ظاہر شاہ سے لے کر خفیط اللہ آمین تک سب پختونستان کی سیاست کرکے افغانستان پر حکمران رہے ہیں اور ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کی بھی یہی وجہ بتاتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فورم پر افغانستان حکمرانوں کو اس مسئلے پر مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو افغان حکومت نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا ہے۔
    دوسرا یہ کہ برصغیر کی تقیسیم کے دوران جو دو ریاستیں واقع پزیر ہوئیں دونوں کے سیاسی نظام کی بنیاد عوامی جمہوریت کو رکھا گیا۔ افغانستان کے سیاسی خدوخال اس کے بالکل برعکس تھے۔ اس وقت افغانستان میں آٹوکریسی(autocracy) تھی۔افغانستان کے ہر اس دور کے آٹوکریٹ کی ذاتی فوج ہوتی تھی ۔وار لاڈزم کا بول بالا ہوتا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور چلی آ رہی تھی۔ ان خاندانوں کی اکثریت پشتون نسل میں ہی رہی ہے۔ لہذا افغانستان نے، جو کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی برطانوی ایمپائر کی امداد پر چل رہا تھا، پاکستان کے قیام کو اپنے لیے مسائل میں اضافہ تصور کیا۔ کیونکہ افغانستان میں پشتون حکمران کے لیے جمہوری نظام کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔
    عین اس وقت جب مسائل اپنی شدت کے باوجود ایک موڑ لے رہے تھے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات تعلیم، صحت اور رہائش کی بحالی کا کام جاری تھا ایک علاقائی لسانی گروپ نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور بنا کسی معاش کے، بنا کسی سوچ و بچار کے معجزاتی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جی ہاں انہوں نے اپنا نام پشتون تحفظ تحریک رکھ دیا، اور کہا گیا کہ یہ پشتونوں کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون استعمال ہوئے یہ ان کا حق ریاست سے مانگتے ہیں لیکن ریاست کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کے لیے اپنا اصولی موقف واضح نہیں اور جبر یہ کہ نعرے بازی فوج، اس کے ‘موجودہ’ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف کرتے ہیں۔ خود کو غیر سیاسی تنظیم بتایا کرتے ہیں لیکن کثیر اوقات کی ملاقاتیں، تعلقات اور لوبنگ بہادر راؤ انوار کے ابو کے اصلی بیٹے، ‘جاگ پنجابی جاگ’ کی چہیتی اور ‘لر و بر’ کے ہیروز کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہیں کہ افغانستان کے تعلیم یافتہ پشتون بیرون ممالک میں اس تحریک کے حق میں پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے جبکہ اپنے اصل قابض دشمنوں کے سامنے چپ سادھ لی۔ ایسا کیوں ہوتا ہیں کہ اگر کوئی پشتون فوجی افغان بارڈر پر مارا جاتا ہیں تو ان کے حق کے لیے افغانستان ریاست یا ان کی فوج کے خلاف کسی بھی ملک میں کوئی پشتون ان کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتا۔ افغان حکومت نے آج تک کتنے پشتونوں کو قتل کیا ہے، اغواء کیا ہیں کوئی پشتون تحریک کا راہنما یا خود افغانستان کے پشتون اپنی حکومت وقت سے سوال کرکے ان کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے؟
    ان سوالوں کے جوابات انتہائی سادہ اور آسان ہیں جوکہ اس تحریک کے ‘پاکستانی رہنماؤں’ کو اس وطن کے باقی پشتونوں کو دینے میں دیر ہو رہی ہے۔

  • پی ٹی ایم  تحریک طالبان پاکستان کے طرز عمل پر… غنی محمود

    پی ٹی ایم تحریک طالبان پاکستان کے طرز عمل پر… غنی محمود

    پشتون تحفظ موومنٹ PTM کی بنیاد 2014 میں تحریک طالبان پاکستان TTP کی ناکامی کے بعد رکھی گئی جو کہ درحقیقت TTP کا سیاسی ونگ ہے اس تنظیم کا لیڈر منظور محسود جو کہ اب منظور پشتین کے نام سے مشہور ہے TTP کے ٹاپ کمانڈر قاری محسن محسود کا سگا بھائی ہے اور خود بھی TTP کا سر گرم کارکن رہ چکا ہے اس تنظیم کی مشہوری جنوری 2018 میں بدنام زمانہ سندھ پولیس کے ایس ایس پی راءو انوار کے ہاتھوں بیگناہ نقیب اللہ معسود کی ماورائے آئین و عدالت شہادت سے ہوئی اس سے پہلے لوگ اس تنظیم سے اتنے زیادہ واقف نا تھے یوں تو اس ٹولے کا ایجنڈہ لاپتہ افراد کی بازیابی شمالی وزیرستان سے فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے مگر آہستہ آہستہ ان کے منشور میں شامل پاکستان مخالف ایجنڈہ بھی سامنے آنے لگا جس میں کئی بار ان کے کارکنان ناجائز اسلحہ،منشیات اسمگلنگ اور افغانی خود کش بمباروں کی معاونت میں پکڑے گئے اور یوں ان پر ریاست پاکستان کے ساتھ غداری کے جرم میں مقدمات بھی بنتے رہے ان کا پاک فوج کے خلاف نعرہ ،یہ میجر ،کرنل ،جنرل سب بیغیرت بھی شدت اختیار کرتا چلا گیا جسے پاک فوج کے جوان اور افسران برداشت کرتے چلے گئے ایسے ہی مقدمات میں ملوث کارکنان کو چھروانے کی خاطر اور لوگوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے 26 مئی 2019 صبح تقریبا 10 سے گیارہ بجے کے درمیان پشتون تحفظ موومنٹ کے شدت پسند جھتے جس کی قیادت محسن داور ایم این اے NA 48 اور علی وزیر ایم این اے NA 50 لیڈران تنظیم ہذہ کر رہے تھے اور اس جتھے میں بیسیوں کارکنان ساتھ تھے ان لوگوں نے خر کام چیک پوسٹ بویا شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی کی اور پوسٹ پر موجود اہلکاروں سے بدتمیزی بھی کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صبر کا مظاہرہ کیا گیا ان کے کارکنان نے فوج کے جوانوں کو ویڈیو بنانے سے روکا اور مذید اشتعال انگیز نعرے بازی کی اور خار دار تار پار کرکے جوانوں سے ہاتھا پائی بھی کی ہاتھا پائی کے دوران علی وزیر اور محسن داور کے گارڈز نے چیک پوسٹ کی جانب سیدھی فائرنگ کی جس سے 5 فوجی جوان زخمی ہو گئے بعد میں فوج نے دفاعی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 کارکن جانبحق جبکہ 8 زخمی ہوئے جنہیں علی وزیر اور محسن داور چھوڑ کر بھاگ نکلے تاہم فوری پیچھا کرتے ہوئے فوج نے 8 کارکنان سمیت علی وزیر کو گرفتار کر لیا اور انہی کے زخمی کارکنان کو فوری سی ایم ایچ پشاور علاج کیلئے پہچایا گیا جہاں 2 فوجی جوان شہید ہو گئے اسی فوج کہ جن کو یہ ناپاک اور مرتد فوج کہتے ہیں نے انہی دہشتگردوں کا علاج معالجہ شروع کیا اب سوچنے کی بات ہے ہے کارکنان اور فوج کے درمیان فساد برپا کروا کر یہ دونوں لیڈر کیوں بھاگے ؟ صرف اس لئے کہ فوج اور کارکنان کے تصادم کو بنیاد بنا کر دنیا میں فوج کا امیج خراب کیا جائے مگر یہ لوگ بھول گئے کہ ناں تو یہ بنگال ہے اور ناں ہی 1971 ان شاءاللہ پوری قوم بشمول غیور پشتونوں کے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ان شاءاللہ انڈین لے پالک TTP کی طرح یہ ناکام ہوچکے ہیں اور ان کے ارادے مذید خاک آلود ہونگے ان شاءاللہ

  • وزیرستان، تاریخ کے جھروکوں میں ۔۔۔ زین خٹک

    وزیرستان، تاریخ کے جھروکوں میں ۔۔۔ زین خٹک

    سر زمین وزیرستان کی بدقسمتی کہیے کہ یہ خطہ گذشتہ صدی سے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔1884 میں تخت برطانیہ کے قبضے میں آنے کے بعد جرمن حکومت نے مقامی لوگوں کی مدد شروع کی۔ اور تخت برطانیہ کے خلاف تحریک مجاہدین کی بنیاد رکھی ۔ پروپیگنڈہ کرنے کے لیے یہاں ریڈیو اسٹیشن قائم کیے گئے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی وزیرستان میدان جنگ بنا رہا۔ مقامی لوگوں اور تخت برطانیہ کی کاروائیاں جاری رہیں۔ 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد تحریک مجاہدین نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ افغانستان کی مدد سے پاکستان کے خلاف کارروائی بھی شروع کی۔ تحریک مجاہدین کے امیر فقیر ایپی وزیر کی وفات 1960 تک وزیرستان میں بے چینی رہی۔ 1970 کے دہائی میں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے آنے کے بعد وزیرستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ افغان جہاد میں وزیرستان اسامہ بن لادن اور دیگر بین الاقوامی جنگجوؤں کا ہیڈ کوارٹر مانا جاتا تھا۔ ان جنگجوؤں میں زیادہ تر نے’انصار اور مہاجرین کی تاریخی مثالیں دہراتے ہوۓ مقامی لوگوں سے شادی بیاہ جیسے رشتے استوار کیے۔ اور یہاں سکونت اختیار کی۔ افغان جنگ کے بعد تحریک طالبان کے دور میں ممتاز تحریکی لیڈرشپ نے وزیرستان میں سکونت اختیار کی جن میں حقانی نیٹ ورک کے جلال الدین حقانی سرفہرست ہیں ۔1997 میں امریکہ نے پہلی بار نوازشریف کے دور حکومت میں وزیرستان میں مجاہدین کے کیمپوں پر میزائل داغے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد وزیرستان مسلسل آپریشنز اور جنگو ں کی زد میں رہا۔ پاکستان آرمی نے جانی قربانیاں دے کر وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک صاف کیا۔ لیکن ابھی ایک نئے فتنے پی ٹی ایم نے جنم لیا ہے۔ اور وزیرستان کو دوبارہ تباہی، دہشتگردی ،بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس بارے آئندہ ایک تحریر میں مفصل بات ہو گی۔

  • پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    میسور کی سلطنت انگریزوں سے محو جنگ ہے۔ سلطان ٹیپو سرنگا پٹم میں موجود ہیں۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔انگریز فوج سرنگا پٹم کے راستے میں آنے والے دریا کے دوسرے پار موجود ہے.

    سلطان ٹیپو اپنے محل میں موجود ہیں اور سرنگا پٹم یا یوں کہیے ہند کے مسلمانوں کے اوپر منڈلاتے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلطان معظم کا ہر سپاہی ایمان کے جذبے سے سرشار ہے۔ سلطان کے سامنے صرف ایک قوت ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا دو قوتوں سے ہے۔ ایک قوت وہ جو مغرب سے مشرق میں لوٹ مار کرنے کے لیے آئی ہے اور دوسری وہ جو صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کو تو پہلے ہی بیچ چکی تھی اب اہنے دین و ایمان کو بیچ رہی ہے۔ وقت کی اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ یہ قوت بھی مسلمانوں کی قوت ہے۔

    ذرا تصور کیجیے کہ چشم ِفلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف لڑ رہا ہو اور جس کی خوشنودی کیلیے لڑ رہا ہے وہ کافر ہے…. !
    سلطان معظم بذات خود ایک نڈر حکمران تھے۔ وہ صرف ایک ذات سے ڈرتے تھے…. اللہ کی ذات سے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ سلطان معظم کی ریاست کے سپاہی بھی ہمت، غیرت اور جرات کی اعلیٰ مثال تھے۔ سلطان ٹیپو کے سپاہیوں میں محمد بن قاسم کے لشکر کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ سپاہی تھے جو کئی محاذوں پر کفر کو شکست دے چکے تھے۔ یہ اپنے لیے شہادت اور اسلام کے لیے فتح سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے. لیکن اس بار محمد بن قاسم کا یہ لشکر جنگ میں تنہا نہیں بلکہ سرنگا پٹم کے عوام بھی اپنے جان و مال ہتھیلی پر رکھ کر ان کے ساتھ اور انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔

    انگریز یہ امر بخوبی جانتے تھے کہ سلطان معظم کو شکست دینا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے سرنگا پٹم میں ملت فروشوں کو تلاشنا شروع کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ میر معین الدین، میر قمر الدین میر صادق اور پورنیا کی صورت انہیں ابن الوقت مل چکے تھے۔

    انہوں نے چال ایسی چلی کہ سلطان معظم کے شیر دل کمانڈر غازی خان کو شہید کروا دیا۔ اب سلطان کے پاس ایک ہی محبِ وطن اور وفادار سالار رہ گیا جس کا نام سید غفار تھا۔

    ۴ مئی کے طلوع آفتاب کے ساتھ سرنگا پٹم کی عزت کا آخری سورج طلوع ہوا۔ غداروں کی غداری کی وجہ سے سرنگا پٹم کی حفاظتی دیوار کے ایک حصے کی طرف انگریزوں نے پیش قدمی شروع کی۔ سید غفار بھی اسی حصے پر انگریزوں کی توپ کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ اب فیصلہ کن جنگ یک طرفہ تھی۔

    چشم فلک نے ایک اور منظر دیکھا جب ایک حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا ۔سلطان ٹیپو میدان جنگ میں موجود تھے۔ انہیں ایک گولی لگی مگر وہ لڑتے رہے۔ انہیں دوسری گولی لگی مگر وہ پھر بھی لڑتے رہے جبکہ تیسری مرتبہ جب ان کی کنپٹی پر انگریز نے گولی ماری تو وہ شہادت پا گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی آذادی کا سورج غروب ہوا۔

    یہ وہ مناظر ہیں جو میں کل کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے چشم تصور میں دکھلاتی ہیں۔ میں آج کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے میسور جیسی ایک اور ریاست دکھاتی ہیں…. جسے دنیا پاکستان کہتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی تھی اسی طرح یہ ریاست انہیں کھٹکتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے لوگ تھے اسی طرح اس ریاست میں محب وطن لوگ ہیں۔ جس طرح میسور کی ریاست ہندوستان کے مسلمانوں کی محافظ تھی اسی طرح یہ ریاست پورے عالم اسلام کی محافظ ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے سپاہی ایمان کی قوت سے مالا مال تھے اسی طرح اس ریاست کے سپاہیوں کے دل بھی ایمان کے نور سے فروزاں ہیں۔
    لیکن کتنے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح میسور کی ریاست کے اندر غدار تھے اسی طرح اس ریاست کے اندر بھی غدار پائے جاتے ہیں۔

    26 مئی 2019 کو ہونے والا واقع اس ریاست کے باسیوں کیلیے ایک سبق ہے۔ پی-ٹی-ایم کے ممبر قومی اسمبلی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چوکی پر حملہ ان کی غداری کا منہ بولتا ثبوت ہے.

    یہ اللّٰہ کا اس ریاست کے باسیوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر غدار ظاہر کر دیے۔ ورنہ یہ ریاست اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردی اور کرپٹ مافیا کے خلاف محو جنگ ہیں۔ ایسے میں غدار اس ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں ۔ افواج پاکستان پر پی ٹی ایم کا یہ پہلا حملہ نہیں، البتہ پی-ٹی-ایم کے رہنماؤں کا از خود فعلی حملہ ہے۔میں ان سب کو میر صادق،میر معین الدین، میر قمر الدین اور پورنیا سے تشبیہ دینا غلط خیال نہیں کرتا۔

    اے اہل پاکستان!

    اپنے وطن کے غداروں کو پہچان! اس سے پہلے کہ یہ اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ ان غداروں کو عبرتناک سزائیں دو تاکہ آئندہ کوئی تمہارے ساتھ غداری کا سوچ نہ سکے۔ یہ وقت سب پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے اکٹھا ہونے کا ہے۔ اپنے منہج اور اقبال کے وژن پر واپس آجاؤ۔ پی-ٹی-ایم کو اس ارض پاک سے مٹا دو۔ ان کو آن کے انجام تک پہنچاؤ۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد۔

  • بس اب اور نہیں!!! بلال شوکت آزاد

    اگر فوج کو گالیاں بکنا, ان کا راستہ روکنا, ان پر مسلح حملہ کرنا, پاکستان کو گالی بکنا, محمد علی جناح و علامہ اقبال پر تبرہ کرنا, پاک فوج کو دہشتگرد کہنا, اسرائیل آرمی زندہ آباد کہنا, پاکستان کے علاقے کو مقبوضہ کہہ کر عامیوں کو گمراہ کرنا اور نو گو ایریا بنانا اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر آئین کی دھجیاں ہر ہر منٹ پر اڑانا جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے, ناراضی کا اظہار اور حقوق کی جنگ ہے (اور ہماری ریاست برداشت کا مظاہرہ کرنا ترک نہیں کرتی) تو اللہ کی قسم (سب نہیں کہ اصلی نسلی پختون خود ہم سے زیادہ پاکستانی اور محب وطن ہیں) میں یہ کیمپین لانچ کروانے اور اس پر عمل کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا کہ جہاں پشتینی ٹوپی پہنے ہوئے یا یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” وغیرہ وغیرہ, ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی محب وطن کسی پشتینی (تھرڈ کلاس سے لیکر ہائی کلاس) کو دیکھے تو بغیر حال چال دریافت کیئے اور بغیر وارننگ دیئے ٹھڈوں, مکوں اور تھپڑوں پر رکھ لے اور جب تک وہ پشتینی خود ٹوپی اتار کر اس پر پاؤں نہیں پھیرتا اور تھوکتا نہیں یہ کہہ کر کہ "ہاں میں بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان زندہ آباد”, تب تک خواہ پیٹنے والا کوئی بھی محب وطن مہاجر, بلوچ, سندھی, پشتون, کشمیری, بلتی, سرائیکی, مکرانی اور پنجابی ہو وہ سانس نہ لے اور نہ اس کو سانس لینے دے۔

    ان کی ٹووووووں ٹووووووووووں بیپ بیپ اور انکی تحریک بشمول ان کے مبینہ نام نہاد حقوق اور انصاف کے نعروں کے ایسی کی تیسی۔

    اب یہ سیاست, آزادی اظہار رائے اور دو نمبر صحافت کے نام پر پاکستانی عوام, ریاست اور ریاستی اداروں کی اور تذلیل اور تضحیک بلکہ ان پر جانی و مالی حملہ بلکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر کوئی ہمیں یہاں بیٹھ کر پاکستانیت اور اخلاقیات کے پاٹھ نہ پڑھائے کہ الحمداللہ ہم خود اس میں خود کفیل ہیں اور بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح سے ڈیل کرنا ہے ایسوں کو سوشل میڈیا اور گراؤنڈ پر۔

    واللہ ان الفاظ کو مذاق مت سمجھا جائے کہ اللہ کی قدرت اور مہربانی سے میں اور میرے سبھی ساتھی یہ سکت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ پشتینیوں کا جینا دوبھر کردیں پورے ملک میں لیکن چونکہ ہماری تربیت اور مزاج ان نسلی ٹٹوؤں جیسا نہیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات ہمارے ایسے اقدامات کے آڑے آتی ہیں بالکل فوج کی طرح لہذا لفاظی کا سہارا لیکر ادھر ہی کاؤنٹر کرنے اور راہ راست پر لانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    پر میں واضح کردوں سبھی پی ٹی ایم کے ٹٹ پونجیوں اور ان کے حامیان کو کہ ہماری برداشت اور صبر کا اتنا ہی امتحان لینا جتنا بعد میں خود بھگت سکو کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور نہ ہی ہم لولے لنگڑے ہیں کہ تمہیں ہم سے ایک آنچ آنے کا بھی خطرہ نہیں۔

    جس دن ریاستی اداروں نے ہمیں ہلکا سا بھی اشارہ دے دیا (جو وہ کبھی نہیں دیں گے کہ ان کی روایت نہیں لیکن پھر بھی ہم تیار ہیں) کہ قوم ان کا علاج خود کرے تو تمہیں پورے پاکستان تو کیا قبائلی علاقہ جات میں بھی جائے امان نہیں ملنی۔

    جس وجہ سے ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ اور منہ بند ہیں اسی وجہ سے محب وطن پشتون جو تمہارے ارد گرد ہی رہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ اور منہ بند ہیں لیکن یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے جس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں۔

    اپنی اصلاح کر لو اور غیروں کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جاؤ اور آئینی و قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طریقے سے اپنا مقدمہ لڑو اور حقوق کی بات کرو تو واللہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو تم سے پہلے تمہارا مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنے آگے کھڑے ہوں گے اور مقتدر حلقوں تک تمہاری آواز پہنچائیں گے لیکن جو تم کر رہے یہ قطعاً مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    نوٹ: بھاشن نہیں سنائے کوئی ادھر, تیسرا سال چل رہا ہے کہ ہم برداشت کرتے رہے ریاست کے ساتھ ساتھ پر اب اور خاموشی اور نظر اندازی سراسر منافقت اور بزدلی میں شمار ہوگی۔

  • بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
    بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
    کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
    لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
    خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔