Baaghi TV

Tag: پی پی

  • سینیٹ اجلاس: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور،اپوزیشن ہار گئی ،حکومت جیت گئی

    سینیٹ اجلاس: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور،اپوزیشن ہار گئی ،حکومت جیت گئی

    اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ ترمیمی بل کیلئے گنتی میں حکومت نے 44 اور اپوزیشن کے 43 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہرا دیں، چیئرمین کے ڈائس کا گھیراؤ کیا۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل سینیٹ میں منظور کرلیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک ترمیمی بل وزیرخزانہ شوکت ترین نےایوان میں پیش کیا ۔ترمیمی بل کے حق میں 44 اور مخالفت میں 43ووٹ آئے، چیئرمین سینیٹ کے ووٹ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    اس سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان نے کہا کہ بل پیش کیا جائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ حکومت نے بل موخر کرنےکی درخواست کی ہے، اگر کسی نے صدارتی خطاب پربات کرنی ہےتو کریں۔

    چیئرمین سینیٹ کی رولنگ پر اپوزیشن ارکان نے اپنے بینچز پر کھڑے ہو کر بل لانے کا مطالبہ کیا، اس موقع پر چند اراکین چئیرمین ڈائس کے سامنے آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا

    اس سے قبل چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ اجلاس ہوا۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ بل ایجنڈے میں شامل ہے، حکومت پیش نہیں کر رہی، بل پیش کرنے کی جلدی تھی، اب کوئی بات نہیں کر رہا۔ اپوزیشن ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں شور شرابہ کیا اور نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔

    ادھر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے بل پاس کیا، آدھی رات کو جاری ایجنڈا حکومتی مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت خود مختار فیصلوں کی صلاحیت بھی چھیننا چاہتی ہے۔

    نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے اسٹیٹ بینک بل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹ اجلاس کے لئے آدھی رات کو جاری شدہ ایجنڈا حکومت کے چھپے مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق بل پاس کیا ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی بحران کے وقت پاکستان کے خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بھی چھیننا چاہتی ہے، حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری متعلق بل کو بلڈوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں خود مختار ضمانتیں دینے کی حکومتی صلاحیت کا کیا ہوگا ؟ یہ ہنگامی واجبات کے طور پر درج ہیں، لہذا آئی ایم ایف اب ان پر بھی کنٹرول کر سکتا ہے، اپوزیشن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہے، آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے مرکزی بینک پاکستان کو کسی بھی بحران میں پیسے نہیں دے گا،

    سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ یہ قانون مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، بل منظور ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک پاکستان نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی کام کرے گا، وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے کی لئے آئی ایم ایف کی منظوری چاہیے ہوگی، شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ وزیر خزانہ خود ایسی تنبیہ کر رہے ہو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

  • پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    کراچی:پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاج میں ایک اور پارٹی نے کودنے کا فیصلہ کر لیا۔ اے این پی نے احتجاجی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت سندھ کی بڑی جماعتوں نے احتجاجی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، 20 روز سے زائد عرصے سے جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنا دیا ہوا ہے، گزشتہ روز ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جس کے باعث پولیس نے لاٹھی چارج کیا ، اس کی زد میں آ کر ایک ایم کیو ایم کا کارکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

    دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اے این پی نے کراچی میں احتجاجی سیاست، رابطہ عوامی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پیپلزپارٹی کی ہم خیال عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سندھ کے ترمیمی بلدیاتی قانون کی مخالفت کردی۔

    اے این پی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، پی پی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی قانون کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔اے این پی رہنما بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے میں آج شریک ہونگے۔

  • پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ

    پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ

    کراچی:پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پی کی بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر طاقت کا استعمال کیا گیا حالات خراب کرانے کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ کی انکوائری کمیٹی خود کو بچانے کے لئے بنائی ہے فوری طور پر آئی جی سندھ کو ہٹایا جائے

    ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا پیپلزپارٹی اب وہ پارٹی نہیں جو شہید محترمہ بینظیر اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی تھی اس وقت پیپلزپارٹی ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہےسندھ اسمبلی میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہے سندھ اسمبلی فلور پر کسی اپوزیشن کے ارکان کو بولنے نہیں دیا جاتا قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کوئی نمائندہ نہیں مقرر کیا گیا ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے پی پی قیادت کے جابرانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ سندھ اسمبلی میں ناظم جوکھیو ، فہمیدا سیال اجئے لالوانی کے قاتل بیٹھے ہیں سندھ میں سویلین مارشلاء لگ چکی ہے پیپلزپارٹی کا سندھ پولیس کیڈر بنانا بھی اس طرح کی سیاسی پولیس بنانا تھا جو ان کی غلامی کرے کل ایک پلان کے تحت خواتین کو نشانہ بنایا گیا اگر کالے قانون پر سندھ اسمبلی میں بات کرتے تو آج ایسا نہیں ہوتا کل دنیا نے دیکھا ایک ایم پی اے کو ڈنڈے مارے گئے احتجاج میں اٹر کینن بھی نظر نہیں آیا ڈائریکٹ ڈنڈے اور شیلنگ کی گئی تین جنوری 2018 کو ہم نے بھی کسان ریلی نکالی تھی سی ایم ہائوس کے سامنے ہم پر تشدد کیا گیا تھا کل سی ایم ہائوس میں کوئی ٹیم نہیں تھی مراد علی شاہ نے پی ایس ایل کے خلاف سازش کی وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کل کے واقعے کے ذمہ دار ہی۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا ہم نے تمام جماعتوں کے ہمراہ متحدہ اپوزیشن کی صورت مین فوارہ چوک پر لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی اس روز کوئی حملہ نہیں ہوا ہم سمجھ رہے تھے کہ ان کو احساس ہوگا اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے گا لیکن ایسا نیں ہوا۔ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف پوری سندھ جمع ہوئی تھی دوسری جانب کئی دنوں سے جماعت اسلامی بھی احتجاج کر رہی ہے بلدیاتی ایکٹ کے جاری احتجاج میں ہم تمام پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں اگر ایم کیو نے چیف منسٹر ہائوس کے سامنے پرامن احتجاج کیا تو کچھ غلط نہیں کیا جب سندھ اسمبلی کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا جاسکتا ہے تو وزیر اعلیٰ ہائوس کوئی مقدس جگہ نہیں ہے پر امن مظاہرین سے بات چیت کے ذریعے بات کی جاتی پارلیامینٹرین اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی سخت مذمت کرتے ہیں ایک سازش کے تحت پیپلزپارٹی نے معاملے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی ہے پی ایس ایل خراب کرنے میں مراد علی شاہ کی سازش ہے پرامن مظارین پر تشدد کے معاملے پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے جلد کارروائی بھی عمل میں آئے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے بنائی گئی ہے وزیر اعظم اپنے ذرائع سے انکوائری کریں گے اور ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ پولیس کے افسران سیاسی غلام میں مصروف ہیں۔ کل کے واقعے میں سندھ کے پارلینینٹرین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا جس پر آئی جی سندھ خود ساختہ استعفیٰ دینا چاہیے تھا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ منشی ہیں بلاول ہائوس جائیں کرپشن کردہ نوٹوں کی گنتیاں کریں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ اسمبلی نے پاکستان کی پہلی قرارداد پیش کی تھی لیکن آج اسی اسمبلی میں بیٹھ کر کچھ لوگ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلدیاتی قانون آئین کے آرٹیکل 140a کے خلاف ہے بلدیاتی ایکٹ 2013 میں متعدد شقیں آئین کے خلاف ہیں ہم سڑکوں پر اس کالے قانون کے خلاف آئے ہیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں 21 شقیں آئین کے خلاف ہیں اگر سندھ میں عوام کے احتجاج کو نہیں سنا جائے گا تو عوام کہاں جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کو معلوم ہے کہ ان کی کارکردگی زیرو ہے اس لئے سندھ کارڈ کھیل کر سازش کر رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں ایک بار پھر پیپلزپارٹی سازش کر رہی ہے جس طرف آگ سلگ رہی ہے کوئی ایک واقعہ بھی سینکڑوں حلاکتوں کا باعث بن سکتا ہے لسانی فسادات کرانا پ پ کا پرانہ انداز ہے ان سے تو آج تک بینظیر کے قاتل نہیں پکڑے گئے ٹنڈو الہیار میں دو گروپوں کا جھگڑا تھا لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہم کہتے جو ملزمان ہیں ان کو گرفتار کیا جائے جو قانون ہاتھ میں لے اس کو سزا ملنی چاہیے لیکن اس کی آڑ میں گھروں میں گھس کر خواتین پر تشدد غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ کل پر امن احتجاج میں خواتین پر تشدد کیا گیا پ پ پئٹرول پر آگ چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے مزید کہا چاروں صوبوں کی زنجیر پ پ آج چار ڈویزن تک پہنچی ہے کراچی نہیں لاڑکانہ دادو تھرپارکر بھی تباہ کر دیا ہے ایم کیو ایم سے بھی کہتا ہوں احتیاط کریں پ پ لسانیت پھیلانا چاہتی ہے اسے روکنا ہوگا اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بتانا چاہتا ہوں ہم سب ایک ہیں پاکستان میں تمام ثقافتوں کی عزت کرنی چاہیے ہمارے جھنڈے میں بھی منارٹی کو عزت دی گئی ہے چند سیٹوں کی خاطر گند پھیلایا جارہا ہے پی ٹی آئی لسانی بنیاد پر کوئی بھی تقسیم نہیں چاہتی اگر اس بیچ کو کنٹرول نہیں کیا گیا بڑے تصادم کا خدشہ ہے اس وقت پئٹرول کی جگہ پانی کی ضرورت ہے۔

  • کراچی: مظاہرین پرلاٹھی چارج، ایک کارکن جاں بحق، متحدہ کا یوم سیاہ کا اعلان:شیخ رشید نے نوٹس لے لیا

    کراچی: مظاہرین پرلاٹھی چارج، ایک کارکن جاں بحق، متحدہ کا یوم سیاہ کا اعلان:شیخ رشید نے نوٹس لے لیا

    کراچی: مظاہرین پرلاٹھی چارج، ایک کارکن جاں بحق، متحدہ کا یوم سیاہ کا اعلان:شیخ رشید نے نوٹس لے لیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان کے کارکنوں پر پولیس کے لاٹھی چارج کا نوٹس لے لیا۔

    اب وزیر داخلہ شیخ رشید نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر پولیس کے لاٹھی چارج کا نوٹس لتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    ادھرکراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دھرنے کے بعد پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔ جبکہ ایک کارکن زندگی کی بازی ہار گیا۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور اسی دوران دھرنا دیا۔ دھرنے کے باعث مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

     

     

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ کے اطراف میں مرکزی شاہرواں پر آمد ورفت متاثر ہوئی تو گرو مندر، گولیمار اورلسبیلہ کی سڑکوں پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

    دھرنے کے باعث پولیس اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جس کے باعث متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔

    پولیس نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر سے پیچھے دھکیل دیا اور پولیس مظاہرین کو جگہ سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد خواتین اور رکن صوبائی اسمبلی صداقت حسین بھی زخمی ہوئے، انہیں زخمی حالت میں بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    ترجمان ایم کیو ایم کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پولیس کی لاٹھی چارج اور شیلنگ سے زخمی ہونے والے جوائنٹ آرگنائزر اسلم جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسلم کو زخمی حالت میں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج انتقال کرگئے۔ جوائنٹ آرگنائزر اسلم بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج میں پولیس کی لاٹھی چارج اور شیلنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔

     

     

    ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اسلم بھائی آج کے مظاہرے میں پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے زخمی ہوئے تھے جناح ہسپتال میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

     

    دوسری طرف ایم کیو ایم نے کارکن کی ہلاکت کے بعد دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ دھرنا جوائنٹ آرگنائزر اسلم کی نماز جنازہ کے بعد دیا جائے گا۔

  • بلاول بھٹو پتہ چل گیا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے: خرم شیر زمان

    بلاول بھٹو پتہ چل گیا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے: خرم شیر زمان

    کراچی:پیپلز پارٹی کو آج کے عوامی ردعمل کے بعد احساس ہوچکا ہوگا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے:،اطلاعات کے مطابق خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ کا کام زرداری کیلئے مال اکھٹا کرنا ہے، آج کا واقعہ پیپلز پارٹی کی گھبراہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جو ہوا وہ پوری قیادت کیلئے شرمناک بات ہے ، پیپلزپارٹی اپنی ناکامیوں کو چھپانہ چاہتی ہے، پورے پاکستان نے دیکھا ہے کہ رکن اسمبلی اور خواتین پر لاٹھیاں ماری گئی۔

    خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ رکن اسمبلی صداقت حسین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بلاول اگر زرا بھی شرم ہے تو صوبے کے لوگوں کو دیکھو، مراد علی شاہ کا کام زرداری کیلئے مال اکھٹا کرنا ہے، آج کا واقعہ پیپلز پارٹی کی گھبراہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت سے پی ڈی ایم کی تحریک ناکام ہوئی، سندھ کابینہ میں بیٹھے لوگ زرداری کیلئے تماشہ لگاتے ہیں، ہم ایم کیو ایم کے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے۔

  • جمہوریت کے نام پرلسانی حکومت نے عوام کے بنیادی حقوق پرڈاکہ ڈالا:احتجاج کریں گے:سید مصطفیٰ‌ کمال

    جمہوریت کے نام پرلسانی حکومت نے عوام کے بنیادی حقوق پرڈاکہ ڈالا:احتجاج کریں گے:سید مصطفیٰ‌ کمال

    کراچی :پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ اہلیان کراچی جمہوریت کے پردے میں بدترین لسانی حکومت کے خلاف 30 جنوری کو فوارہ چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کریں گے تاکہ ہم اپنے ساتھ اپنے سندھی بھائیوں کو بھی پیپلز پارٹی کے ظلم سے نجات دلاسکیں۔ بدکار و ظالم حکمران 30 جنوری کو جان جائیں گے کہ جب باکردار اور قابل قیادت سامنے کھڑی ہوجائے تو ظالم کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے ظلم کا وقت اب ختم ہوتا ہے۔ بس اب اس شہر کا ہر آدمی باہر نکلے چاہے وہ پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، مہاجر ہوں سب کو نکلنا ہوگا،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاوس میں مرکزی شعبہ جات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت کی بنیاد پر نئے بلدیاتی ترمیمی قانون کے زریعے اپنا الیکشن کمیشن بنا رکھا ہے جو کہ آرٹیکل 140(2)A کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل 2013 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے لفظ پاکستان ہٹا دیا تھا اور آج پیپلز پارٹی نے 2021 کے ترمیمی ایکٹ سے پورا الیکشن کمیشن کا لفظ ہی نکال دیا ہے جبکہ نئے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی قانون کو پیپلز پارٹی اسمبلی میں پیش کیے بغیر محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لوکل گورنمنٹ قانون میں مزید تبدیلی کرسکے گی جو اس آئین پاکستان کیساتھ بھونڈا مذاق ہے جو خود پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا۔

    سید مصطفیٰ‌ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبائی وزارتوں کے ساتھ ساتھ اب شہری حکومت کے اوپر بھی قبضہ کر رہی ہے۔2001 میں بلدیاتی حکومت کے اختیار میں 47 محکمے تھے لیکن اب صرف 21 رہ گئے ہیں۔ ایک ایک کرکے سارے محکمے سندھ حکومت قبضہ کر چکی اور ان تمام محکموں کو کرپشن کا گڑھ بنا دیا ہے۔ سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جو کئی ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہیں، پیپلز پارٹی نے صرف تعلیم کی مد میں 2300 ارب روپے خرچ کیے، آج سندھ میں ہزاروں گھوسٹ اسکولز اور لاکھوں گھوسٹ ٹیچرز ہیں جسے تمام بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا۔

    نئے تعلیمی ادارے کھلنے کے بجائے سرکاری اسکولوں کو بند کیا جارہا، سندھ میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو فلاحی اداروں کو ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔ سندھ میں ایک نئی لائن پینے کے پانی کی نہیں ڈالی گئی، کراچی کے شہری سے لیکر تھر پارکر کے دیہی علاقوں تک لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے، پاک سر زمین پارٹی پاکستان کو بچانے کی خاطر جہاد کررہی ہے اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک گرائے گی۔

  • جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟

    جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟

    کراچی : جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟،اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کی رہنما و سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ شہلا رضا نے جماعت اسلامی کے بلدیاتی ایکٹ کے ‏خلاف احتجاج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج مہنگائی سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا جا ‏رہا ہے۔

    اپنے ردعمل میں شہلارضا نے کہا کہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر جماعت اسلامی کوشرم آنی ‏چاہیے جماعت اسلامی پٹرولیم ، بجلی، گیس کی قیمتوں پر آواز بلند کرے۔

    شہلارضا نے کہا کہ عوام پر 350 ارب روپےکے ٹیکس لاد دئیے گئے لیکن جماعت اسلامی کو عام ‏آدمی کےمسائل سےکوئی واسطہ نہیں اگر جماعت اسلامی کو بلدیاتی قانون سےکوئی مسئلہ ہوتا ‏تو ترمیم دیتی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ان کے نمائندے اپنی ترمیم پیش کرتے جماعت اسلامی کی ‏دھرنا سیاست کو باشعور شہریوں نے مسترد کر دیا ہے مہنگائی کے خلاف بیدار عوام کو گمراہ ‏کرنے کیلئے بلدیاتی نظام کا شور ڈالا گیا کراچی پر غیرمقامیوں کے قبضےکی بات جماعت کی ‏منافقت کا اظہار ہے۔

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب ‏میں کہا ہے کہ میٹروپول سے وزیر اعلیٰ ہاؤس قریب ہے ان شاء اللہ وہاں بھی دھرنا دیں گے سندھ ‏اسمبلی کو خالی نہیں کریں گے یہ ہمارا احتجاجی مرکز ہے اہل کراچی کو حق نہ دیا گیا تو شہر ‏کی تمام شاہراؤں اور سڑکوں پر دھرنے اور مارچ ہوں گے ایک ہفتے میں پورے شہر میں دوہزار ‏کارنر میٹنگز کریں گے۔

  • کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی:شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار،اطلاعات کے مطابق شارع فیصل پر کارساز کے قریب جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اور ریلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔اورمراد علی شاہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں

    پولیس حکام کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفری تعینات کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے شرکاء پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، ریلی شارع فیصل عوامی مرکز سے کراچی سندھ اسمبلی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی۔

    شارع فیصل پر کارساز روڈ، بلوچ کالونی پل، نرسری اور گورا قبرستان تک کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حفاظتی انتظامات میں معاون کے طور پر رینجرز کو بھی متحرک رکھا گیا ہے۔

    کارساز سے روانہ ہونے کے بعد شارہ فیصل کے دو مقامات پر قائدین ریلی کے شرکاء خطاب کریں گے۔

    صدر سے ائیرپورٹ جانے والے ٹریفک شارع فیصل پر بحال رکھا گیا ہے جبکہ کارساز پل سے پہلے ٹریفک کو کارساز روڈ پر موڑا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جب ریلی بلوچ کالونی پل عبور کر جائے گی تو ٹریفک کو بلوچ کالونی پل تک کھول دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حکومت سندھ سخت دباو کا شکار ہے لیکن حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے دباو میں نہیں آئے گی

  • ندیم افضل چن نے ایک اور”چن چڑھا دیا”کیا کہتے ہیں سُننا نہ بھولیئے

    ندیم افضل چن نے ایک اور”چن چڑھا دیا”کیا کہتے ہیں سُننا نہ بھولیئے

    لاہور:ندیم افضل چن نے ایک اور”چن چڑھا دیا”کیا کہتے ہیں سُننا نہ بھولیئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ندیم افضل چن بھی بول پڑے اور بڑے سکینڈل کی نشاندہی کردی۔

    ندیم افضل چن نے سالم سرگودھا رنگ روڈ کو راولپنڈی رنگ روڈ ٹو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹس اور مخصوص ہاوسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے روٹ تبدیل کیا گیا۔

     

    اس حوالے سے ملیحہ ہاشمی نے ندیم افضل چن کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات ندیم افضل چن کی ہی زبانی سب کو سُنا دیئے ، ملیحہ کہتی ہیں کہ ندیم افضل چن تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ !

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب انکوائری کروائیں اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران بھی انہیں اس حوالے سے آگاہ کیا تھا،اب ایک نیا روٹ بنا لیا گیا جس کے لیے ہمیں آن بورڈ بھی نہیں لیا گیا۔

    ندیم افضل چن کاکہنا تھا کہ میری گزارش ہے جنہوں نے یہ روٹ تبدیل کیا ان کے خلاف انکوائری ہونی چاہئیے۔اس میں بڑے بڑے ٹائیکون،بیوروکریٹس، بیورکریٹس کے رشتے دار ملوث ہیں جنہوں نے نئی سڑک پر زمینیں خرید رکھی ہیں۔

  • پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی ایم پی اے کی گوجرانوالہ امد

    پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی ایم پی اے کی گوجرانوالہ امد

    پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی ایم پی اے کی گوجرانوالہ امد پر پیپلزپارٹی ضلع گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری چوھدری ارشاد اللہ سندھو کی قیادت میں پیپلزپارٹی ضلع گوجرانوالہ کے کے عھدیداران و کارکنان نے جی ٹی روڈ گھکھڑ منڈی پر بھرپور استقبال کیا

    گوجرانوالہ سے ذرائع کے مطابق اس موقع پر انھیں پھولوں کے ھار پہناہے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں گی استقبال کرنے والوں میں پیپلزپارٹی ضلع گوجرانوالہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مظہر ریاض چیمہ ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات محمد فاروق ملک پیپلز پارٹی تحصیل وزیرآباد کے سنیر ناہب صدر سزفراز احمد ساہی ناہب صدر احمد علی چیمہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری منشا چیمہ سیکرٹری اطلاعات نعیم گوندل شامل تھے

    مزید شامل ہونے والوں میں پیپلزپارٹی گھکھڑ منڈی کے سابق صدر میاں سعید طفیل پیپلز یوتھ سٹی گوجرانوالہ کے صدر رزاقت وڑائچ پیپلز لیبر بیورو ضلع گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری یونس قیصر کھوکھر امیدوار قومی اسمبلی حکیم ارشد پیپلز پارٹی خواتین ونگ ضلع گوجرانوالہ کی صدر ریحانہ بٹ محمد رضوان ماسٹر محمد جاوید رانا جاوید شیر پنجاب سمیت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی