Baaghi TV

Tag: چئیرمین نیب

  • چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) چیئرمین کے اختیارات میں نئے قانون کے تحت اضافہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: نئے قانون کے تحت چیئرمین کے اختیارات میں اضافہ ہوگیا ترمیمی ایکٹ 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے بعد نیا قانون نافذ العمل ہو گیا-

    82 سالہ اداکار کی 29 سالہ ساتھی کے ہاں بچے کی ولادت متوقع

    جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چئیرمین نیب کیسز اور انویسٹی گیشنز بند کرسکیں گے،نیب کے سیکشن5 کے برعکس بننے والے تمام کرپشن کیسز بند کر دئیے جائیں گے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق چیئرمین نیب کرپشن کیسز کی انکوائریز، انویسٹی گیشن بند کرنے اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھجوا سکیں گے، چیئر مین نیب کی عدم دستیابی کی صورت میں ڈپٹی چیئرمین کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔

    نیب ایک خودمختار اور آئینی طور پر قائم کردہ وفاقی ادارہ ہے جو بدعنوانی کے خلاف کوششیں کرنے اور حکومت پاکستان کے لیے معاشی دہشت گردی کے خلاف قومی اقتصادی انٹیلی جنس کے اہم جائزے تیار کرنے کا ذمہ دار ہے موجودہ سربراہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ ہیں ۔

    امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

    نیب کو معاشی دہشت گردی اور مالیاتی جرائم کے خلاف اپنی کارروائیوں کو نافذ کرنےکےعلاوہ ہر طرح سے ضروری روک تھام اور آگاہی فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہےچونکہ یہ 16 نومبر 1999 کو پرویز مشرف کی طرف سے قائم کیا گیا تھا، اس کے دائرہ کار میں توسیع اور توسیع کی گئی ہے۔ آئین تحقیقات شروع کرنے، انکوائری کرنے، اور مالی بدانتظامی ، اقتصادی دہشت گردی ، بدعنوانی (تمام نجی شعبے ، ریاستی شعبے ، دفاعی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر میں)، اور مقدمات کی ہدایت کرنے والے افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    سیف سٹی لاہور کا انفراسٹرکچر دنیا کے بہترین سسٹمز میں سے ہے،چئیرمین آئی سی سی

    احتساب عدالتوں میں اسے آرڈیننس نمبر XIX کے ذریعے قائم کیا گیا، اس کے اختیارات کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 270AA کے ذریعے اعلیٰ سطح پر انکوائری کرنے کے لیے توسیع دیا گیا ہے اسلام آباد میں واقع اس کے صدر دفتر کے ساتھ، اس کے چار علاقائی دفاتر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہیں۔

    امریکا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

    بیورو کے دو پرنسپل افسران ہیں: چیئرمین؛ اور پاکستان میں احتساب کے پراسیکیوٹر جنرل۔ چیئرمین تحقیقات کا سربراہ ہوتا ہے، اور اس کی مدت چار سال ہوتی ہے لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد بیورو کے پہلے چیئرمین تھے پراسیکیوٹر جنرل استغاثہ کا سربراہ ہےاور تین سال کی مدت پوری کرتا ہےایک ریٹائرڈ جسٹس اصغر حیدرقومی احتساب بیورو(نیب) کےموجودہ پراسیکیوٹر جنرل ہیں۔

  • لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کوچیئرمین نیب تعینات کر دیا

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کوچیئرمین نیب تعینات کر دیا

    اسلام آباد: لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کو چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) تعینات کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیب کی تقرری کی منظوری دے دی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان اتفاق رائے کے بعد چیئرمین نیب کی تعیناتی کی گئی وفاقی کابینہ نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی بطور چیئرمین تعیناتی 3 سال کے لیے ہو گی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا کہا تھا کہ میں نے کچھ دن پہلے استعفیٰ دیا تھا اور مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیاجو مجھے قبول نہیں تھیں میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، میری بھی ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔

  • ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں ، چئیرمین نیب آفتاب سلطان کا الوداعی خطاب

    ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں ، چئیرمین نیب آفتاب سلطان کا الوداعی خطاب

    مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا کہنا ہے کہ ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں-

    باغی ٹی وی : نیب ہیڈکوارٹرز میں مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے الوداعی خطاب میں کہا کہ نیب افسران غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات نہ مانیں ،نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا،میں نہ کچھ لے کر آیا تھا نہ ہی کچھ لے کر جا رہا ہوں، نیب افسران صرف قانون کی سنیں اور کسی کی مداخلت برداشت نہ کر دیں-

    مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ نیب افسران ڈٹ کر آزادی سے کام کریں ، نیب کو ایمانداری سے چلایا ،کسی کی مداخلت قبول نہیں کی ،نیب کے99 فیصد لوگ اچھے ہیں ،ایک فیصد میں مسئلہ ہے ،مجھے کہا گیا کہ فلاں بھائی کوچھوڑ دو، اس کے پاس ایک پلاٹ ہے، اپنی اربوں روپےکی پراپرٹی اور ایک پلاٹ والے کو پکڑلوں؟ ملک کے دو صوبوں میں آئین کے مطابق انتخابات کرائیں،آنے والی نئی حکومتوں کو تسلیم کریں-

    واضح رہے کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے استعفیٰ دے دیا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا، جس کے بعد ان کا استعفی وزیراعظم نے منظور کر لیا ہے۔

    سابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ میں نے کچھ دن پہلے استعفا دیا تھا اور مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیا جو مجھے قبول نہیں تھیں میں نے بتایا کہ میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، میری بھی ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان قانون کے مطابق چیزوں کو کرنے کے حق میں تھے اور ان پر گرفتاریوں کے لیے دباؤ تھا آفتاب سلطان نے کسی کی خواہش پر کام کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ نہیں چاہتے تھےکہ وہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی طرح کا کردار ادا کریں۔

    آفتاب سلطان کا تعلق پولیس سروس پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 22 کے آفیسر ہیں، آفتاب سلطان ڈی جی آئی بی سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے آفتاب سلطان نے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد جولائی 2022 کو نیب کی سربراہی سنبھالی تھی۔