Baaghi TV

Tag: چاند

  • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    محرم الحرام 1448 کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔

    وزارت مذہبی امور کے مطابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس آج شام بادشاہی مسجد لاہور میں ہوگا اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھی آج شام کو اجلاس ہوگاجب کہ یکم محرم الحرام کو غلافِ کعبہ بھی تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں غلافِ کعبہ ماہ ذوالحج میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) اور محکمہ موسمیات نے محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں جاری کر دی ہیں دونوں اداروں کے مطابق 15 جون کو محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث یکم محرم الحرام 1448 ہجری بدھ 17 جون کو ہونے کی توقع ہے۔

    ‎اسپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئے چاند کی پیدائش 15 جون کو صبح 7 بج کر 54 منٹ پر متوقع ہے ماہرین کے مطابق اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 50 منٹ ہوگی، جو رویت کے لیے مطلوبہ معیار سے کم سمجھی جا رہی ہے ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان تقریباً 40 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، تاہم چاند کی کم عمر اور دیگر فلکیاتی عوامل کے باعث اس کی رویت کے امکانات بہت محدود ہیں۔

    ‎جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جون، جو 29 ذوالحج کے مساوی ہوگی، ملک بھر میں چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس روز پاکستان کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، تاہم فلکیاتی صورتحال چاند کی رویت کے حق میں نہیں ہے۔

    ‎اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں چاند رات 7 بج کر 59 منٹ پر غروب ہوگا، سندھ میں رات 8 بج کر 5 منٹ، آزاد کشمیر میں رات 8 بج کر 7 منٹ، گلگت بلتستان میں رات 8 بج کر 12 منٹ، خیبر پختونخوا میں رات 8 بج کر 23 منٹ جبکہ بلوچستان میں رات 8 بج کر 34 منٹ پر غروب ہونے کی توقع ہے۔

    ‎رویت ہلال ریسرچ کونسل نے بھی اپنی پیش گوئی میں کہا ہے کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث نئے اسلامی سال کا آغاز 17 جون سے ہونے کا امکان زیادہ ہے-

  • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 15 جون بروز پیر طلب کر لیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے اجلاس بادشاہی مسجد لاہور کے اقبال ہال میں منعقد ہوگا، جہاں ملک بھر سے موصول ہونے والی چاند کی رویت سے متعلق شہادتوں کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ زونل رویت ہلال کمیٹی اسلام آباد کا اجلاس بھی اسی وقت کوہسار بلاک اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی بیک وقت ہوں گے۔

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک بھر سے موصول ہونے والی اطلاعات اور محکمہ موسمیات کی رپورٹس کی روشنی میں محرم الحرام کے چاند کی رویت کے بارے میں حتمی اعلان کرے گی۔

    دوسری جانب پیشگوئی کی گئی ہے کہ 15 جون بروز پیر کو چاند نظر آنے کا امکان کم ہے، چاند 16 جون بروز منگل کو نظر آنے کا امکان ہے اس طرح یکم محرم الحرام 17 جون کو ہو سکتا ہے چاند کی رویت سے متعلق حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔

  • انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے چین کا مشن کامیابی سے روانہ

    انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے چین کا مشن کامیابی سے روانہ

    چین نے ‘شینژو-23’ مشن کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے، جو 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے چینی عزم کی جانب ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے۔

    چین کے شمال مغربی صحرائے گوبی میں واقع جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ‘لانگ مارچ 2-ایف’ راکٹ کے ذریعے روانہ ہونے والا یہ خلائی جہاز کامیابی سے مدار میں داخل ہوچکا ہے اور چینی خلائی ایجنسی نے تمام خلابازوں کی خیریت اور مشن کی مکمل کامیابی کی تصدیق کی ہے۔

    اس مشن کے تحت تاریخ میں پہلی بار کوئی چینی خلاباز خلائی مدار میں پورا ایک سال قیام کرے گا تاکہ مائیکرو گریویٹی کے انسانی جسم، ہڈیوں اور پٹھوں پر پڑ نے والے طویل مدتی اثرات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جاسکے، جو مستقبل میں چاند اور مریخ پر بھیجے جانے والے طویل مشنز کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    اس خلائی سفر کی ایک اور بڑی خصوصیت 43 سالہ لائی کا یِنگ کی شمولیت ہے جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی تاریخ کی پہلی خلاباز بن گئی ہیں اور وہ ماضی میں ہانگ کانگ پولیس کا حصہ رہ چکی ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خلائی انجینیئر ژو یانگ ژو اور سابق ایئر فورس پائلٹ ژانگ ژی یوآن بھی اس سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔

    چین رواں سال کے آخر تک اپنے ‘تیانگونگ’ خلائی اسٹیشن پر جس پہلے غیر ملکی خلاباز کا استقبال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کا تعلق پاکستان سے ہے چین اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دیتے ہوئے 2026 میں ہی اپنے نئے خلائی جہاز ‘مینگ ژو’ کا تجرباتی فلائٹ ٹیسٹ بھی کرنے جارہا ہے جو مستقبل میں خلابازوں کو چاند پر لے جانے کا فریضہ انجام دے گا۔

  • زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

    ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھاماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہےتاہم یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

  • یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذیقعد کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کی،مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذیقعد کا چاند نظر آچکا ہے۔ یکم ذیقعد 1447 ہجری کل، یعنی 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی اس موقع پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ نے ماہِ ذوالقعد 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی تھی اسپارکو نے بتایا تھا کہ پاکستان میں ذوالقعد کا چاند 18 اپریل کی شام ملک بھر میں نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔

  • آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔

    ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے،مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گےخلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔

    اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا، اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں-

    یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہےمشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

  • چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-

    ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

    مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔

    ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی لکھا کہ ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔

    ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-

    ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔

    nasa

    ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    nasa

    ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

    nasa

    اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔

    earth

    مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔

    اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔

    کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔

    ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-

    اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔

    ’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

  • عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    اسلام آباد:عید کے چاند سے متعلق شہری اپنی درخواست لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔

    عید کا چاند دیکھنے کے بعد جلدی اعلان کا حکم دینے کے لیے ہائیکورٹ میں دائر شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرلی،سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ چاند نظر آئے گا تو ہی اعلان کیا جائے گا، پہلے چاند کی شہاد تیں چاروں صوبوں سے اکٹھی کی جاتی ہیں، پھر میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی لیے وقت لگ جاتا ہے، چاند نظر آئے بغیر اعلان نہیں کیا جا سکتا ، چلیں رپورٹ طلب کر لیتے ہیں۔

    ایران کے اسرائیل پر 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    سماعت کے دوارن درخواست گزار شہری عبد اللہ شفیق ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے درخواست گزار نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو حکم دیا جائے کہ چاند کا اعلان جلدی کیا جائے، کیونکہ اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں اور رات گئے اعلان ہونے سے مارکیٹس میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے، انتظامیہ کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے بچانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی جائے اور عید شاپنگ کی دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹس بند ر کھنے کا حکم دیا جائے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    انہوں نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھ کر فوری اعلان کرنے کا پابند بنایا جائے، عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرتے ہو ئے سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ نہیں دی۔

  • محکمہ موسمیات کی عید کے چاند  کے حوالے سے نئی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی عید کے چاند کے حوالے سے نئی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے عید کے چاند کی پیدائش کے حوالے سے نئی پیشگوئی کردی۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسی روز چاند نظر آنا ممکن نہیں چاند 19 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا، جبکہ غروب آفتاب تک چاند کی عمر صرف 12 گھنٹے کے قریب ہوگی۔

    انہوں نے بتایا کہ عام طور پر چاند ٹیلی اسکوپ کے ذریعے تب نظر آتا ہے جب اس کی عمر 14 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو، اس لیے 12 گھنٹے عمر والے چاند کو دیکھنا سائنس کے مطابق ممکن نہیں، حتیٰ کہ ٹیلی اسکوپ کے ذریعے بھی دیکھنا مشکل ہے اور عام آنکھ سے تو بالکل ناممکن ہے، اس سال رمضان کے مکمل 30 روزے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور پہلی شوال یعنی عید ممکنہ طور پر 21 مارچ بروز ہفتہ کو ہوگی، تاہم اس کا حتمی اعلان صرف رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔

    پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے،محمد اورنگزیب

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے عیدالفطر پر 4 چھٹیاں دینے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی حکومت کی جانب سے عیدالفطر پر جمعہ ،ہفتہ ،اتواراورپیر کو چھٹی ہوگی۔

    امریکی سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ میں حملہ

  • ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر انسانوں کے بھیجنے کا منصوبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے-

    ناسا کی جانب سے آرٹیمیس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہےاس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجے جانا تھاپہلے اس مشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ طے کی گئی تھی مگر پھر اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا،اب ایک بار پھر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فروری کے شروع میں آرٹیمس 2 کو راکٹ سسٹم کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے باعث ملتوی کیا گیا تھااب ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک بار پھر راکٹ سسٹم میں مسائل کو دریافت کیا گیا ہےناسا کی جانب سے 6 مارچک و یہ مشن روانہ کیے جانا تھا مگر راکٹ کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل کو دریافت کیا گیا ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین اس نئی دریافت کے باعث مارچ میں آرٹیمس 2 مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔

    سرحد پار دہشتگردی اب برداشت کی حد سے تجاوز کر چکی ہے،صدر مملکت

    واضح رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں ،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

    پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف پریس کانفرنس ،ہڑتال کی وارننگ

    یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گاآرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گےآرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گااس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا ،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔