مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذیقعد کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کی،مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذیقعد کا چاند نظر آچکا ہے۔ یکم ذیقعد 1447 ہجری کل، یعنی 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی اس موقع پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
اس سے قبل پاکستان کے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ نے ماہِ ذوالقعد 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی تھی اسپارکو نے بتایا تھا کہ پاکستان میں ذوالقعد کا چاند 18 اپریل کی شام ملک بھر میں نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔
ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے،مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گےخلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔
اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا، اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں-
یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہےمشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-
ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔
ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-
ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔
ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔
earth
مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔
اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔
کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔
ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-
اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔
’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
اسلام آباد:عید کے چاند سے متعلق شہری اپنی درخواست لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔
عید کا چاند دیکھنے کے بعد جلدی اعلان کا حکم دینے کے لیے ہائیکورٹ میں دائر شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرلی،سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ چاند نظر آئے گا تو ہی اعلان کیا جائے گا، پہلے چاند کی شہاد تیں چاروں صوبوں سے اکٹھی کی جاتی ہیں، پھر میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی لیے وقت لگ جاتا ہے، چاند نظر آئے بغیر اعلان نہیں کیا جا سکتا ، چلیں رپورٹ طلب کر لیتے ہیں۔
سماعت کے دوارن درخواست گزار شہری عبد اللہ شفیق ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے درخواست گزار نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو حکم دیا جائے کہ چاند کا اعلان جلدی کیا جائے، کیونکہ اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں اور رات گئے اعلان ہونے سے مارکیٹس میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے، انتظامیہ کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے بچانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی جائے اور عید شاپنگ کی دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹس بند ر کھنے کا حکم دیا جائے۔
انہوں نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھ کر فوری اعلان کرنے کا پابند بنایا جائے، عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرتے ہو ئے سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ نہیں دی۔
محکمہ موسمیات نے عید کے چاند کی پیدائش کے حوالے سے نئی پیشگوئی کردی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسی روز چاند نظر آنا ممکن نہیں چاند 19 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا، جبکہ غروب آفتاب تک چاند کی عمر صرف 12 گھنٹے کے قریب ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر چاند ٹیلی اسکوپ کے ذریعے تب نظر آتا ہے جب اس کی عمر 14 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو، اس لیے 12 گھنٹے عمر والے چاند کو دیکھنا سائنس کے مطابق ممکن نہیں، حتیٰ کہ ٹیلی اسکوپ کے ذریعے بھی دیکھنا مشکل ہے اور عام آنکھ سے تو بالکل ناممکن ہے، اس سال رمضان کے مکمل 30 روزے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور پہلی شوال یعنی عید ممکنہ طور پر 21 مارچ بروز ہفتہ کو ہوگی، تاہم اس کا حتمی اعلان صرف رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر انسانوں کے بھیجنے کا منصوبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے-
ناسا کی جانب سے آرٹیمیس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہےاس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجے جانا تھاپہلے اس مشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ طے کی گئی تھی مگر پھر اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا،اب ایک بار پھر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل فروری کے شروع میں آرٹیمس 2 کو راکٹ سسٹم کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے باعث ملتوی کیا گیا تھااب ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک بار پھر راکٹ سسٹم میں مسائل کو دریافت کیا گیا ہےناسا کی جانب سے 6 مارچک و یہ مشن روانہ کیے جانا تھا مگر راکٹ کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل کو دریافت کیا گیا ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین اس نئی دریافت کے باعث مارچ میں آرٹیمس 2 مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
واضح رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں ،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گاآرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گےآرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گااس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا ،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔
رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پشاور میں شروع ہوگیا، جس کی صدارت چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کررہے ہیں۔
مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق زونل رویت ہلال کمیٹیاں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد میں الگ الگ اجلاس منعقد کریں گی، انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں رمضان کا آغاز ایک ہی دن ہوتا رہا ہے، اور انشااللہ اس بار بھی یہی صورت حال متوقع ہے،وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ موسمیات اور سپارکو بھی رویت ہلال کمیٹی کا حصہ ہیں اور چاند دیکھنے میں معاونت فراہم کریں گے۔
سپارکو کے مطابق رمضان المبارک کا چاند آج نظر آنے کا قوی امکان ہے، جس کے باعث 19 فروری کو پاکستان میں پہلا روزہ ہونے کا امکان ہےغروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر قریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہوگی ساحلی علاقوں میں سورج غروب ہونے اور چاند غروب ہونے کے درمیان قریباً 59 منٹ کا فرق ہوگا، جس سے آنکھ سے چاند دیکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔‘
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے مملکت بھر کے مسلمانوں سے منگل کی شام رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عدالت نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی شخص رمضان کا ہلال چاند دیکھے، خواہ ننگی آنکھ سے یا دوربین کی مدد سے، وہ قریبی عدالت میں اپنی شہادت درج کرائے یا رہنمائی کے لیے متعلقہ مرکز سے رابطہ کرے تاکہ گواہی بروقت ریکارڈ کی جا سکے۔
سپریم کورٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو افراد چاند دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں قائم کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچ سکے،منگل کا دن 29 شعبان کے مطابق ہے اگر منگل کی شام چاند نظر آ گیا تو یکم رمضان بدھ سے ہوگا، بصورتِ دیگر جمعرات سے رمضان المبارک کا آغاز ہوگا اور شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔.
پاکستان میں 18 فروری کو رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔
رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو ہوگا ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ 29 شعبان 1447 ہجری کو چاند دکھائی دے سکتا ہے، 17 فروری شام 5 بجکر 1 منٹ پر چاند کی پیدائش ہوگی،محکمہ موسمیات نے بھی رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا امکان ظاہر کیا ہے،پاکستان میں رمضان المبارک کے چاند کے بارے میں حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی 18 فروری کو چاند کی رویت کی شہادتوں کے بعد کرے گی۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزاد خان کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ پہلا روزہ 19 فروری کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں اس روز موسم جزوی ابر آلود یا صاف رہنے کی توقع ہے جو چاند دیکھنے کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے مختلف صوبوں کے لیے چاند دیکھنے کے آخری اوقات بھی جاری کر دیے ہیں جاری تفصیلات کے مطابق سندھ میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 24 منٹ ہوگا، پنجاب میں چاند دیکھنے کا وقت شام 7 بج کر 8 منٹ تک ہوگا جبکہ بلوچستان میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 47 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔
رمضان المبارک کے چاند سے متعلق محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلا روزہ 19 فروری 2026 کو ہونے کی توقع ہے چاند کی پیدائش 17 فروری کو شام پانچ بج کر ایک منٹ پر ہو گی، 18 فروری کو رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں 18 فروری کو چاند کی عمر تقریباً 26 گھنٹے ہو گی، کراچی میں سورج غروب ہونے کا وقت 6 بج کر 25 منٹ جبکہ چاند غروب ہونے کا وقت 7 بج کر 24 منٹ ہے،اس لئے 18 فروری کو چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے اور یکم رمضان المبارک 19 فروری بروز جمعرات کو ہونے کا امکان ہے۔