Baaghi TV

Tag: چلی

  • چلی سےچارسدہ آنیوالی خاتون نے اسلام قبول کرکے پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی

    چلی سےچارسدہ آنیوالی خاتون نے اسلام قبول کرکے پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی

    بھارت اور چین سے سوشل میڈیا پر دوستی اور محبت کے بعد ساؤتھ امریکا کے ملک چلی سے پاکستان کے شہر چارسدہ آنے والی خاتون نے اسلام قبول کرکے پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی۔

    باغی ٹی وی: 36 سالہ نیکولی آنار اگلسالوس اسپینش نزاد امریکن نیشنلٹی ہولڈر ہیں، مذکورہ خاتون کا تعلق چلی سے ہے اور ان کی شہریت امریکی ہے، خاتون ایپل کمپنی میں مینیجر کے عہدے پر ہیں نے نے اسلام قبول کرنے کے بعد چارسدہ کے رہائشی اکرام اللہ سے شادی کرلی ہے قبول اسلام کے بعد نیکولی کا نیا نام نورین رکھا گیا ہے، جبکہ 27 سالہ اکرام اللہ عمر میں اپنی اہلیہ سے 9 سال چھوٹے ہیں-

    بھارت کے بعد چینی لڑکی شادی کیلئے لوئر دیر پہنچ گئی

    اکرام اللہ نے کہا ہماری دوستی سوشل میڈیا پر رابطے کے دوران ہوئی تھی، میں ٹک ٹاک بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتا تھا، نورین اسپینش زبان بولتی ہے اور مجھے اپنے ساتھ امریکا لے کرجانا چاہتی ہے نورین کہتی ہےکہ اگر تم ساتھ نہیں جاؤگے تو میں یہاں رکتی ہوں ہم دونوں کو ایک دوسرے کی زبان سمجھ نہیں آتی، ہم گوگل ٹرانسلیٹ سے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں نورین دو ماہ کے ویزہ پر پاکستان کے شہر چارسدہ میں اپنے سسرال میں مقیم ہیں، جس کےبعد وہ اکرام اللہ خان کو اپنےساتھ امریکا لے جانا چاہتی ہیں نورین اسلام قبول کرنے اور اکرام اللہ خان کے ساتھ شادی کے بعد اب باقاعدہ پشتو ثقافت کے مطابق برقہ پہنتی ہیں۔

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

  • چلی : ہیٹ ویو کے باعث متعدد مقامات پرلگی جنگلات کی آگ بے قابو، 23 افراد ہلاک اور 979 زخمی

    چلی : ہیٹ ویو کے باعث متعدد مقامات پرلگی جنگلات کی آگ بے قابو، 23 افراد ہلاک اور 979 زخمی

    چلی کے جنوب وسطی حصے میں ہیٹ ویو کے باعث متعدد مقامات پرلگی جنگلات کی آگ مزید پھیل گئی-

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق خوفناک آگ نےامریکی شہر فلاڈیلفیا کے بھی بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، مختلف حادثات میں 23 افراد ہلاک اور 979 افراد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ رہائشی علاقوں سے 1100 افراد کا انخلاکرایا گیا ہے-

    حکام کے مطابق جنگلات کی آگ کے باعث متاثرہ حصوں میں 88 گھرتباہ اور ایک لاکھ 16 ہزارایکڑ اراضی جل کرراکھ ہوگئی ہے۔

    وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے کے باعث مزید 76 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے اور شدید گرمی کی وجہ سے آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے جو پھیل رہی ہے اور ہنگامی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومت نے آفت زدہ صورتحال کا دائرہ کار جنوبی ریجن تک بڑھا دیا ہے،کیونکہ جنوبی نصف کرہ کے موسم گرما میں مقامی درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ (40 سیلسیس) سے تجاوز کر گیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے بعد حکام نے ریڈ الرٹ جاری کردیا تھا اور آگ چلان نامی علاقے میں لگی تھی حکام کے مطابق آگ ارجنٹائن سے آنے والی خشک اور گرم ہواؤں کی وجہ سے لگی حکام کے مطابق خطرے کے پیش نظر جنوبی علاقوں میں سات پارکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔

  • 11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    سینٹیاگو: یورپین سدرن آبزرویٹری نے 11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری کردی جس میں چمکتی دمکتی گیس کے بے تحاشہ نقوش دکھائے گئے ہیں جو سپرنووا کے دوران خلا میں پھٹ گئے تھے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ویلا سُپر نووا کے نام سے جانے جانے والے اس شدید وقوعہ اور اس کے بعد کے اثرات کی تصویر چلی میں نصب پیرانل آبزرویٹری میں لگی ویری لارج ٹیلی اسکوپ نے لی تصویر کا ڈیٹا 2013 سے 2016 تک جمع کیا گیا تھا۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    اپنی زندگی کے چکر کے اختتام پر پھٹنے سے پہلے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ستارے کا کم از کم ہمارے سورج سے آٹھ گنا زیادہ وزن تھا۔ یہ ہماری کہکشاں میں زمین سے تقریباً 800 نوری سال کے فاصلے پر برج ویلا کی سمت میں واقع تھا نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)۔

    سُپر نووا کے دوران ارتعاشی لہریں وجود میں آئیں جو اطراف میں موجود گیس سے ہوکر گزریں ان لہروں نے گیس کو دبایا او الجھے ہوئے دھاگوں کے مشابہ پیچیدہ نقوش بنائے گیس کی ان لپٹوں کو دھماکے سے خارج ہونے والی شدید توانائی نے گرمایا جس کی وجہ سے وہ روشن ہوئیں۔

    تصویر گیس کے بادلوں کودیکھا جا سکتا ہے جو ماہرین فلکیات کے استعمال کردہ فلٹرز میں گلابی اور نارنجی ٹینڈرلز کی طرح نظر آتے ہیں، جو ہمارے نظام شمسی سے تقریباً 600 گنا وسیع ہیں-

    یورپی سدرن آبزرویٹری (ESO) سے وابستہ ماہر فلکیات برونو لیبنڈگٹ نے کہا کہ فلمینٹری ڈھانچہ وہ گیس ہے جو سپرنووا کے دھماکے سے نکلی تھی، جس نے یہ نیبولا بنایا۔ ہم ستارے کے اندر کا مواد دیکھتے ہیں جب یہ خلا میں پھیلتا ہے۔جب گھنے پرزے ہوتے ہیں تو کچھ سپرنووا مادّہ آس پاس کی گیس کے ساتھ جھٹکا لگاتا ہے اور کچھ فلیمینٹری ڈھانچہ بناتا ہے یہ تصویر دھماکے کے 11,000 سال بعد سپرنووا کی باقیات کو دکھاتی ہے۔

    لیبنڈگٹ نےمزید کہا کہ زیادہ تر مواد جوچمکتا ہےوہ ہائیڈروجن ایٹموں کی وجہ سےہےجو پرجوش ہیں۔ اس طرح کی تصاویرکی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم براہ راست دیکھ سکتے ہیں کہ ستارے کے اندر کون سا مواد تھا، کئی ملین سالوں میں تعمیر ہونے والا مواد اب بے نقاب ہو گیا ہے اور لاکھوں سالوں میں ٹھنڈا ہو جائے گا جب تک کہ یہ بالآخر نئے ستاروں کی شکل اختیار کر لے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ سپرنووا بہت سے عناصر پیدا کرتے ہیں – کیلشیم یا آئرن – جسے ہم اپنے جسم میں لے جاتے ہیں۔ یہ ستاروں کے ارتقاء میں راستے کا ایک شاندار حصہ ہے۔

    ستارہ خود سپرنووا کے نتیجے میں ایک ناقابل یقین حد تک گھنے گھومنے والی چیز تک کم ہو گیا ہے جسے پلسر کہتے ہیں۔ پلسر ایک قسم کا نیوٹران ستارہ ہے – جو کہ سب سے زیادہ کمپیکٹ آسمانی اشیاء میں سے ایک ہے جو کہ موجود ہے۔ یہ ایک سیکنڈ میں 10 بار گھومتا ہے۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    امریکی خلائی ادارہ ناسا ویلا سُپر نووا کی باقیات کو ’ایک بڑے ستارے کے اختتامی دھماکے سے پھیلنے والے ملبے کے بادل‘ کے طور پر بیان کرتا ہے سُپر نووا تب وقوع پزیر ہوتا ہے جب ایک ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر پھٹتا ہے اور ملبہ اور ذرات خلاء میں پھیلا دیتا ہے۔

    جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے تو باہر کی جانب نکلتی دباؤ کی طاقت کم ہوتی جاتی ہے۔ جب یہ دباؤ انتہائی کم ہوجاتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس ستارے کی کششِ ثقل اپنا قبضہ جماتی ہے اور سیکنڈوں میں ستارہ پھٹ جاتا ہے۔

    ستارے کی بیرونی جانب موجود ہر ذرہ لاکھوں ڈگری پر تپ رہا ہوتا ہے اور وہ اطراف میں موجود گیس میں خارج ہوجاتا ہے جس سے قبلِ دید لپٹیں وجود میں آتی ہیں۔

    ویلا سُپر نووا کی یہ باقیات زمین سے 800 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں اور ان کو زمین کے قریب ترین سُپر نووا باقیات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

  • "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ’پڑ دادا‘ کے نام سے جانا جانے والے قدیم الیئرس کا درخت 5000 سال سے زیادہ پُرانا ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5484 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

    سائنس دانوں کی جانب سے درخت کے تنے مین موجود چھلوں کا معائنہ کر کے درخت کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکا کیوں اس کے تنے کے غیر معمولی جسامت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک نتیجہ جو وہ اخذ کر سکے وہ یہ کہ یہ درخت دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔

    عام طور سے درخت کے تنے میں موجود چھلوں کو گننے کے لیے ایک میٹر لکڑی کا سلینڈر تنے سے نکالا جاتا ہے لیکن اس قدیم درخت کے تنے کا قطر چار میٹر کا ہے ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ سائنس دان جونیتھن بیرِیچِیوچ کا کہنا تھا کہ درخت سے حاصل کیے گئے نمونے اور عمر کا تعین کرنے والے دیگر طریقہ کار یہ بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5 ہزار 484 برس تک ہے اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ نمو کے تمام ممکنہ اطوار کے 80 فی صد امکانات یہی بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5000 ہزار سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فی صد امکانات یہ ہیں کہ درخت اس سے کم عمر کا ہے۔

    اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020 کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھےعموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

    جونیتھن نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں، اس کی جڑوں پر پیر رکھتے ہیں اور تنے کی چھالیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چڑیا گھر میں جانور ناقابلِ برداشت حالات میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہو۔

    ان کو امید ہے کہ لوگ ضرور اس متعلق سوچیں گے کہ 5000 ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، اس جگہ اپنی زندگیوں کو رکھیں گے اور موسمیاتی تغیر کے نکتہ نظر سے سوچیں گے۔

    Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔

  • 10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    چلی میں حکومتی اقدامات کے خلاف 10 لاکھ سے زائد افراد کے شدید احتجاج کے بعد صدر سباسٹین پنیرا نے اہم اقدامات کرتے ہوئے کابینہ کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا۔رپورٹ کے مطابق چلی کے صدر سباسٹین پنیرا نے کابینہ کی برطرفی کا اعلان گزشتہ روز لاکھوں افراد کے پرامن احتجاج کے بعد کیا ہے جن کا مطالبہ تھا کہ ملک کے معاشی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔

    چلی کے صدر نے کہا کہ ‘تمام وزرا کو نوٹس بھیج دیا ہے کہ کابینہ کو ازسرنو ترتیب دیا جائے تاکہ نئے مطالبات کو پورا کیا جائے’۔جنوبی امریکی ملک میں حکومت کے عدم مساوات کے نظام کے خلاف احتجاج ایک ہفتے سے جاری ہے جو کرایوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آئے جس کے نتیجے میں کم ازکم 17 افراد ہلاک جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد کر گرفتار کیا گیا اور ملک کے کاروبار میں 14 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان بھی ہوا۔

    چلی کے صدر نے ہفتے کے آغاز میں ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اور اہم شہروں میں سیکیورٹی کے لیے فوج تعینات کردیا تھا،مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک اس وقت ‘وحشیوں کے خلاف حالت جنگ میں ہے’۔صدر کے ان الفاظ کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور شہریوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ان یہ الفاظ اور کارروائیوں نے ڈکٹیٹر آگسٹو پنوشے کے فوجی حکمرانی کے دور کی طرف دھکیل دیا ہے۔