Baaghi TV

Tag: چناب

  • سیلابی صورتحال، جنوبی پنجاب شدید خطرے سے دوچار

    سیلابی صورتحال، جنوبی پنجاب شدید خطرے سے دوچار

    دریائے چناب، راوی اور ستلج کے سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں، ملتان، مظفر گڑھ، لیاقت پور اور رحیم یار خان کی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

    ملتان کی تحصیل جلالپور میں پانی کا دباؤ بڑھنے سے حفاظتی بند کے ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، متعدد متاثرین اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاجروں نے اپنی دکانوں کے سامنے مٹی ڈال کر عارضی دیواریں بنالی ہیں۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں عظمت پور بند ٹوٹنے کے باعث کئی بستیاں زیر آب آگئیں۔نارووال، شیخوپورہ، لاہور اور ننکانہ صاحب میں پانی کا بہاؤ کم ہونے لگا ہے جبکہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیرآباد، حافظ آباد اور چنیوٹ میں بھی پانی اترنے لگا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا دسواں اسپیل مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ ہفتے پنجاب میں بڑی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    ادھر جلالپور پیر والا میں کشتی مالکان کی جانب سے سیلاب متاثرین سے زائد کرایہ وصول کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جہاں ایک چکر کے لیے 30 سے 50 ہزار روپے تک لیے جارہے ہیں۔ لودھراں میں شکایات پر ڈپٹی کمشنر نے نجی کشتیاں تحویل میں لے کر انہیں سرکاری ریسکیو آپریشن کا حصہ بنانے کی ہدایت کردی۔

    ورلڈ کپ کوالیفائرز: پرتگال کی فتح، رونالڈو کا نیا عالمی ریکارڈ

    عمران خان کی پھر سینیٹ کمیٹیوں سے استعفوں کی ہدایت

    شنگھائی الیکٹرک نے کے الیکٹرک خریدنے کی پیشکش واپس لے لی

  • چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے چناب میں شیر شاہ کے مقام پر پانی انتہائی خطرے کی سطح سے اوپر آ گیا جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کینال میں شگاف پڑنے سے بڑی آبادی زیر آب آ گئی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سدھنائی کینال میں گنجائش سے 4 گنا زیادہ پانی آ چکا ہے، سدھنائی کینال کے شگاف کو پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،دریائے راوی کا پانی نہروں میں داخل ہونے سے ملتان روڈ پر رانگو نہر میں دو مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ رانگو نہر کے شگاف سے درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے۔

    اس کے علاوہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کہروڑ پکا میں میٹاں والا بند ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں پانی نے درجنوں آبادیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ علاقوں سے انخلاء کا عمل جاری ہے ، تقریباً 70 فیصد لوگ محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنی ٹیلی کام سائٹس متاثر ہوئیں،اعدادوشمارجاری

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے ملتان کے لیے انتہائی اہم ہیں ، ملتان میں شیر شاہ برج متاثر ہوا ، تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال کی وجہ سے 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب ہے، برج کو بریچ کرنا آسان نہیں ہوتا، بہت کچھ دیکھ کر فیصلہ لیا جاتا ہے۔

    خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سسٹم کے تحت کراچی میں بارشیں ہونے یا نہ ہونے سے متعلق پیش گوئی کر دی گئی،محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوا کا کم دباؤ اس وقت بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے قریب ہے۔

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    حالیہ سسٹم مغرب اور شمال مغرب کی جانب حرکت کر رہا ہے جو 6 یا 7 ستمبر کو بھارتی راجستھان اور گجرات کے قریب پہنچ جائے گا،مون سون سسٹم کے زیر اثر جنوب مشرقی سندھ میں 7 ستمبر سے بارش کا امکان ہے جبکہ گرج چمک کے تیز بارش ہو سکتی ہےسسٹم کے قریب آنے پر کراچی میں بارش کے حوالے سے حتمی پیشگوئی کی جا سکے گی۔

  • بھارتی آبی جارحیت:دریائے چناب میں غیر معمولی سیلاب کا 11 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    بھارتی آبی جارحیت:دریائے چناب میں غیر معمولی سیلاب کا 11 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    بھارتی آبی جارحیت کے باعث اونچے درجے کا سیلاب،دریائے چناب میں غیر معمولی سیلاب کا 11 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    ایکسپوٹینشلی ہائی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 لاکھ کیوسک پانی کی آمد ہوئی، دریائے چناب میں پانی کی سطح 6 لاکھ 96 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی،ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد سے 6 لاکھ 96 ہزار 534 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا اخراج 6 لاکھ 90 ہزار34 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا،دریائے چناب میں ہیڈخانکی کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ خانکی بیراج کے مقام پر پانی کی آمد3 لاکھ 8 ہزار18 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 7 ہزار 736 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    بھارت کی طرف سےاچانک دریائے راوی میں پانی چھوڑا گیا،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے آبی دہشتگردی کے باعث دریائے روای، چناب اور ستلج میں سیلابی صورت حال کے جس کے باعث پنجاب کے متعدد دیہات ڈوب گئے ہیں ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں بارشوں کا 49 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، جس کے باعث کئی علاقے ڈوب گئے ہیں، اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وزرا کو ہدایت کی ہے وہ اپنے اپنے علاقوں میں خود ریسکیو آپریشن کی نگرانی کریں۔

    انڈیا کی جانب سے تقریباً 9 لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات ہیں،نثار کھوڑو

  • دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون بارشوں سے دریاؤں میں سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی، دریائے ستلج ،سندھ اور چناب میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے دریاؤں کے کنارے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،بہاولنگر میں دریائے ستلج کا ریلہ سڑک کا ایک حصہ بہا کر لے گیا

    بارشوں کے باعث دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے مسلسل پانی چھوڑا جانے لگا، جس کے باعث کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مویشیوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سندھ کے بیراجوں پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے سندھ کے بیراجوں سے گزرنے لگے ہیں دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب آنے سے گھوٹکے کے کچے کے مزید 20 دیہات زیر آب آگئے-

    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

    جبکہ بلوچستان کےعلاقے ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر ہونے والے بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی جانب سے بارش متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے ،محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان ،گلگت بلتستان ، کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے،کرم وزیرستان بنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں گرک چک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا

    زشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش خان پور 28، بہاولنگر ، ملتان (سٹی 4)، نارووال 3،چکوال، کوٹ ادو2، جیکب آباد 25، لاڑکانہ 2، بنوں 14، پاراچنار، کالام 3،میر کھانی 2،دروش ،بالاکوٹ، ڈی آئی خان (ائیر پورٹ اور سٹی ایک)، بابو سر 18،استور 8، بگروٹ 2،بونجی ایک جیوانی 5 اور بار کھان میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اتوار کو ریکارڈکیےگئےزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اوردالبندین میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات

  • دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے، راوی میں بھی مزید پانی چھوڑے جانے کے امکانات ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارت نے ہریکے کے مقام سے 70614 کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑا ہے، جو آج ضلع قصور میں گنڈا سنگھ کے مقام سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گا پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ڈپٹی کمشنر قصور، اوکاڑہ، وہاڑی اور پاکپتن کے ڈپٹی کمشنرز کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پنجاب میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

    بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں سے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں مختلف مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، اب تک درجنوں دیہات زیرِ آب آچکے ہیں انتظامیہ کی طرف سے فلڈ ریلیف کیمپ لگا دیئے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ دیہاتیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔

    قصور میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دریا سے ملحقہ علاقوں میں کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں راجن پور میں دریائے سندھ میں اس وقت بہاؤ ایک لاکھ 86 ہزار کیوسک ہے، جہاں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ ہے۔

    بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے …

    شکر گڑھ میں دریائے راوی کا پانی نالہ بین میں داخل ہونے سے مزید درجنوں دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، شکر گڑھ میں نہر کا پانی روکنے کیلئے بنایا گیا حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    چنیوٹ میں دریائے چناب میں اس وقت 90 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے چناب سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قریبی علاقوں میں متعلقہ اداروں نے ہائی الرٹ کردیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر چنیوٹ آصف رضا کی جانب سے تمام اداروں کے ذمہ داران کو دریا کنارے ڈیوٹیاں دینے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، اور اس حوالے سے ریسکیو کی جانب سے 9 فلڈ ریلیف کیمپ ضلع بھر کے اہم پوائنٹس پر لگا دیئے گئے ہیں۔

    ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریائے چناب کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کنٹرول روم بھی بنا دیا گیا ہے دو لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرنے سے دریائے چناب کے قریبی دیہاتوں میں پانی داخل ہوجائے گا اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے اعلانات کرائے گئے ہے کہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ دریائے چناب کی حدود سے نکال لیں اور 24 گھنٹے کے لئے اونچے مقام پر چلے جائیں۔

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں کے موسم کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں دن بھر موسم گرم اور مرطوب رہے گا جب کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے بلوچستان کےبیشتر اضلاع میں موسم گرم و مرطوب رہنے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سندھ کے اکثر مقامات پر آج موسم گرم اور مرطوب رہے گا سوات، کو ہستان، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، شانگلہ کے علاوہ مری،گلیات اور گردونواح میں بارش متوقع ہے جب کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بارشوں سے جانی و مالی نقصان کی رپورٹ جاری کردی ہے،ملک بھر میں سیلاب کے باعث گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، سندھ اور پنجاب میں 3، 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 9 افراد زخمی ہیں 25 جون سے اب تک 86 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں مرنے والوں میں 37 بچے، 33 مرد اور 16 خواتین شامل ہیں سب سے زیادہ 52 اموات پنجاب میں ہوئیں، خیبرپختونخوا میں 20، بلوچستان میں 6، سندھ میں 5 اور آزاد کشمیر میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

    پاکستان پہلی بار اولمپک ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ کی میزبانی کرے گا

  • راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    وزیراعظم آفس کی جانب سے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آج اور کل (11 جولائی) کو شدید بارشوں کی توقع ہے جبکہ دریائے چناب اور راوی میں طغیانی کا خدشہ ہے کیونکہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کے بروقت انخلا اورمدد پررینجرز اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ممکنہ طور پرمتاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت وبا حفاظت انخلا کی تیاریوں کی بھی ہدایت کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ رینجرز اور ریسکیو کی بروقت امدادی کارروائی سے خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی جان بچائی گئی۔ پاکستان کے فرض شناس سپوتوں کو مجھ سمیت قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی۔ شہباز شریف نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت و با حفاظت انخلاکی تیاریوں کی بھی ہدایت کر دی۔

    اس سے قبل دریائے راوی کے بعد بھارت نے دريائے چناب اور ستلج میں بھی پانی چھوڑ دیا۔ دو لاکھ 33 ہزار کیوسک پانی کی آمد سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ پرپانی کی آمد ایک لاکھ چھیترہزار 940 کیوسک اور ہیڈ خانکی پرچورانوے ہزار 364 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق دريائے راوی میں جسڑکرتار پور پر پانی کا بہاؤ 30 ہزارکیوسک تک بڑھ گیا۔ سیلابی ریلا شاہدرہ کی طرف بڑھنے لگا۔ دريا کے اندرآباد بستيوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے این ای او سی کی مون سون اپڈیٹ جاری کی گئی جس کے مطابق موسمیاتی ماڈلز کے مطابق دریائے چناب،راوی ستلج اور منسلک نالوں بھمبر،ایک،دیگ،بین پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے تاہم پانی ندی/نالوں تک محدود رہنے کا امکان ہےجس کا ممکنہ اثر صرف دریا کنارے سے ملحق نشیبی علاقوں پر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم کے مطابق میونسپل علاقوں لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ میں بارشوں اوراربن فلڈنگ جبکہ بلوچستان، کے پی، پنجاب، جی بی اور اے جے کے کےپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خدشہ ہے۔ اسی طرح کراچی،تھرپارکر،سکھر،لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین شہید بینظیر آباد میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ہو سکتی ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان (سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ) میں گرج چمک کیساتھ درمیانی تا شدید بارش متوقع ہے۔علاوہ ازیں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں گرج چمک کے ساتھ/درمیانے سے شدید درجے بارش متوقع ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ موسمی صورتحال کے پیش نظرضروری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے ، شہری و ضلعی انتظامیہ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں ایمرجنسی عملہ و مشینری بشمول ڈی واٹرنگ پمپس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انتظامیہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے انڈر پاس اور نشیبی سڑکوں سے نکاسی آب آپریشن کے دوران متبادل ٹریفک پلان کو یقینی بنائے۔ متعلقہ انتظامیہ سٹاک ٹیکنگ کی تکمیل یقینی بنائے، بارش کے خطرے سے دوچار علاقوں کی انتظامیہ 20 جولائی تک سیلاب کے امکانات کے حوالے سے حساس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس،تریموں بیراج اور دریائے راوی میں جیسز کے مقام پر متوقع پانی کے بہاؤ پر مانیٹرنگ جاری رکھیں۔

    این ای او سی کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب ،دریائے چناب، راوی، ستلج اور منسلک نالوں کے گرد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو بروقت اطلاع دیتے ہوئے انخلا کو یقینی بنائے۔ ریسکیو سروسز پاک افواج ،این جی اوز خطرے سے دوچار علاقوں میں ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کیلئے انتظامات مکمل رکھیں۔ متعلقہ ادارے پانی کے زیادہ بہاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے مروجہ ضابطے کے تحت ہنگامی پروٹوکول کو نافذ کریں تاکہ پانی رابطہ نہروں میں جائے۔تمام متعلقہ انتظامیہ و ادارے فعال ہم آہنگی و رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے لہٰذا وہ چوکس اور تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بارشوں سے جو لوگ متاثر ہو سکتے ہیں ان کا تخمینہ 9 لاکھ لگایا گیا ہے۔ شیری رحمٰن نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہروں لاہور، نارووال اور سیالکوٹ میں ہوگی، دوسرے صوبوں کو بھی موسلادھار سے درمیانے درجے کی بارش کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے، جن شہروں اور میونسپل علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، وہاں سیلاب کے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مربوط تیاری اور فعال ردعمل سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور تمام رسپانس ٹیموں کو چوکس رہنے کی تاکید کی۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطۂ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 8 اور 9 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، بہاول نگر اور اوکاڑہ) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح زیریں سندھ (ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، نگرپارکر، اسلام کوٹ، مِٹھی، پڈعیدن، چھور، حید رآباد، جامشورو اور کراچی) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ بارشوں کے باعث مری، گلیات، کشمی، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلادھاربارش کے باعث کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں اور ملحق برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، شمالی بلوچستان، زیریں سندھ، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah