Baaghi TV

Tag: چنیوٹ

  • چنیوٹ:  گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    چنیوٹ: گندم کی کم قیمت پر خریداری اور کسانوں کے معاشی استحصال کے خلاف کاشتکار ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر سراپا احتجاج ہیں-

    باغی ٹی وی : احتجاج میں صدر بار ایسوسی ایشن فضل کالرو سمیت کسانوں نے شرکت کی،مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی ناقص حکمت عملی کے وجہ سے کسانوں کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے،ایک تو گندم کی قیمت کم کی گئی دوسرا حکومت کی جانب سے گندم خریداری کا ہدف بھی کم کر دیا گیا۔

    مظاہرین نے مزید کہا کہ اس وقت کسان سے 2800 سے لے 3300 روپے تک گندم خریدی جا رہی ہے جو سراسر ظلم ہےاگر ایسے ہی چلتا رہا تو کسان بددل ہو کر گندم کی بجاے دوسری فصلوں کی طرف توجہ کر لیں گے جس سے قحط سالی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کسان مہنگے داموں بجلی، ڈیزل کھاد سمیت دیگر چیزیں خرید کر فصل کاشت کرتے ہیں جس کا پورا معاوضہ بھی نہیں دیا جا رہا۔

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس : تفتیشی افسر سےعمران خان سمیت دیگر ملزمان کے موبائل …

    مظاہرین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ باردانہ ایپ غیر فعال ہونے کی وجہ اکثر کاشتکاروں کی درخواستیں رہ گئی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے تاکہ کسانوں کا معاشی استحصال بند ہو سکے،اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوے تو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گے۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں گندم کی فصل کٹ کر منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئی تاہم کم قیمت پر فروخت نے کسانوں کو پریشان کردیا ہے صوبائی حکومت کی طرف سے گندم کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ریٹ سے بھی کم قیمت پر گندم فروخت ہونے لگی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا

    اس ھوالےسے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گندم کی امپورٹ نگران حکومت کے دور میں ہوئی،اس پر وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا ہے،پنجاب حکومت کی جانب سے فی الفور گندم خریداری نہ کرنے کی وجہ نمی ہے، دوسری جانب قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کا گندم کی سپورٹ پرائس کم مقرر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    پشین حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی،گرفتار دہشتگرد کا انکشاف

  • 3 بار وزیر اعظم بننے والا کہتا ہے  چوتھا موقع دیں تو ،تعلیم، روزگار، علاج دوں گا.بلاول

    3 بار وزیر اعظم بننے والا کہتا ہے چوتھا موقع دیں تو ،تعلیم، روزگار، علاج دوں گا.بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے چنیوٹ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت جس مشکل میں ہے آپ سب کو علم ہے،مہنگائی، غربت، بیروزگاری بڑھ رہی ہے ایسا ماضی میں نہیں ہوا

    بلاول کا کہنا تھا کہ پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں،پرانے سیاستدانوں کی سیاست سے نقصان عوام اور معیشت کو ہورہا ہے،الیکشن اس لیے لڑرہا ہوں تقسیم، نفرت کی سیاست دفن کرنا چاہتا ہوں،سیاست میں سیاسی دشمنی نہیں، سیاسی اختلاف ہونا چاہیے،سیاست کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، پیپلزپارٹی نےکبھی انتقام کی سیاست نہیں کی،بینظیربھٹوجب وزیراعظم بنیں توکہاجمہوریت ہی بہترین انتقام ہے، پیپلزپارٹی کےکارکنوں نےضیاکادوردیکھاہے،بینظیربھٹوعوام کی خدمت کرناچاہتی تھیں،تاریخ میں 5سال پہلی بارحکومت چلی،ایک بھی سیاسی قیدی نہ تھا،ہم اپنے منشور اور نظریے پریقین رکھتےہیں،میری حکومت میں کوئی کارکن سیاسی قیدی نہیں ہوگا،ملک سے پرانے سیاست دانوں کا خاتمہ کرنا ہوگا پیپلز پارٹی اگلی حکومت بنائے گی،کسانوں کے حقوق کے لیے ہر جگہ پر آواز بلند کرتے رہیں گے ملک سے اشرفیہ کا خاتمہ کریں گے،مزدور کارڈ سے اپنے مزدوروں کو مدد پہنچائیں گے۔ خواتین اور طالب علموں کے لیے بینظر کارڈ متعارف کروائیں گے.بیٹیوں، بہنوں کو گرفتار کرنا نہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور نہ کبھی میری سیاست کا حصہ ہوگا،میری حکومت میں سیاست عوام کی خدمت ہو گی، کوئی سیاسی انتقام نہیں ہو گا۔3 بار وزیر اعظم بننے والا کہتا ہے چوتھا موقع دیں تو ،تعلیم، روزگار، علاج دوں گا.میں کام کرنا چاہتا ہوں، خدمت کرنا چاہتا ہوں، نفرت اور تقسیم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں، چار نہیں، مجھے بس ایک موقع دیں ۔ہمیں ایک نئی سوچ اور نئی سیاست لے کر آنا پڑے گی جہاں سیاست میں اختلاف رائے تو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی دشمنی نہیں ہو سکتی۔پی ٹی آئی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ مشکلات ختم ہوگئی ہیں لیکن اگر میاں صاحب چوتھی بار بنا تو جو وہ انتقام لے گا آپ لوگوں کو اندازہ نہیں ہے ان کی سیاست ہی یہ ہی ہے

  • بھائی نے بہن کا گلہ دبا کر لاش نہر میں ڈال دی

    بھائی نے بہن کا گلہ دبا کر لاش نہر میں ڈال دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر بھائی نے اپنی بہن کا گلہ دبا کر اسے قتل کرنے کے بعد لاش نہر میں ڈال دی

    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بھائی اور دیگر شریک ملزمان کو گرفتار کر لیا ، واقعہ پنجاب کے شہر چنیوٹ میں پیش آیا، ڈی پی او چنیوٹ وسیم ریاض خان نے اس حوالہ سے پریس کانفرنس کی ہے اور کہا ہے کہ چند روز قبل تھانہ محمد والا پولیس کو سیم نہر سے نعش کی اطلاع ملی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس افسران, تھانہ محمد والا پولیس موقع پر پہنچ گئی خاتون کی نعش کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا تھانہ محمد والا پولیس نے جدید ٹیکنالوجی, ہیومن انٹیلیجنس, جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اندھا قتل ٹریس کر لیا ،مسماۃ نازیہ بی بی دختر محمد صادق کو غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا مقتولہ کو اسکے سگے بھائی نے دیگر ملزمان کے ہمراہ مل کر قتل کیا ملزمان نے نعش کو سیم نہر میں پھینک کر ثبوت مٹا دیے تھے ملزمان مدثر, احمد شیر, مقصود, ارشد, عبدالرحیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    بین الاضلاعی 7 ڈکیت گینگز کے 30 سے زائد کارندے گرفتار
    دوسری جانب پولیس نے ڈکیتی ، راہزنی، چوری اور دیگر مختلف 60 مقدمات میں مطلوب ملزمان کو گرفتار کر لیا ،گرفتار ملزمان کے قبضہ سے ساڑھے تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا،تھانہ سٹی پولیس نے اڑھائی کروڑ سے زائد مالیت کا مال مسروقہ، طلائی زیورات ، نقدی ،مویشی ، موٹر کار، موٹر سائیکلیں برآمد کیے ،تھانہ کانڈیوال پولیس نے 66 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ، کار، مویشی، نقدی اور دیگر سامان برآمد کیا ، تھانہ محمد والا پولیس نے 19 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ ،مویشی ، موٹر سائیکل اور نقدی برآمد کی ، تھانہ چناب نگر پولیس نے 10 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ طلائی زیورات، نقدی، موٹر سائیکل اور قیمتی موبائل فونز برآمد کیے ،تھانہ صدر پولیس نے 9 لاکھ سے زائد مالیت کا مال مسروقہ، مویشی موٹر سائیکل، نقدی اور دیگر سامان برآمد کیا، تھانہ لالیاں اور تھانہ کوٹ وساوا پولیس نے 5 لاکھ سے زائد مالیت کا مال مسروقہ، مویشی،نقدی، موٹر سائیکل اور قیمتی موبائل فونز برآمد کیے گرفتار ملزمان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں وارداتوں میں زیر استعمال غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

    خواتین اور بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی،گھریلو تشدد اور انسانی سوداگری کے واقعات میں اضافہ ہوا،رپورٹ کے مطابق خواتین و بچوں پرتشدد،اغواء اور بچوں کی سوداگری کے سب سے زیادہ کیسز کراچی سے رپورٹ ہوئے جنسی زیادتی اور گھریلو تشدد میں سب سے زیادہ کیسیز حیدرآباد میں رپورٹ ہوئے غیرت کے نام پرقتل کے سب سے زیادہ کیسیز لاڑکانہ میں رپورٹ ہوئے

    کوثر عباس ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ سندھ بھرمیں 10 ماہ کے دوران 1865 خواتین کواغواء کیا گیا ،142 خواتین کوجنسی تشدد کانشانہ بنایا گیا،گھریلو تشدد کے 139 کیسیز رپورٹ کئے گئے سندھ میں 10ماہ کے دوران 114 خواتین کو قتل کیا گیا 10ماہ کے دوران 71 بچوں سے زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئیے ڈیٹاجمع کرنے کا مقصد خواتین و بچوں کیخلاف جرائم کے ہارٹ اسپارٹ کی نشاندہی کرنا ہے ڈیٹا سے پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز اسکو استعمال کرسکیں حکومت کو چاہیئے اس حوالے سے آگاہی اور اقدامات کرے

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • کشمور: دو قبائل میں خونریز تصادم:4 افراد ہلاک

    کشمور: دو قبائل میں خونریز تصادم:4 افراد ہلاک

    کشمور: صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں دو گروپوں کے درمیان ہونے والی خونریز تصادم کے نتیجے میں چار افراد ہوگئے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کشمور میں کچے کے علاقے گیہلپور میں خاندانی تنازعے پر دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم ہوا، تصادم کے دوران دونوں جانب سے مورچہ بند ہوکر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق ہلاک افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے، واقعے کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے تاہم پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔پولیس نے ہلاک افراد کی لاشوں کو اپنی تحویل میں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جہاں ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ کشمور کندھ کوٹ کا سب خطرناک علاقہ ہے یہ کچا دیہی اور جنگلات کا مشکل ترین علاقہ ہے اس تھانے کی حدود میں پولیس کی جانب سے متعدد مرتبہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن بھی کئے جاتے رہے ہیں۔

     

    ادھرچنیوٹ میں دوستوں نے مل کر دوست کو سونے کے لالچ کی خاطر قتل کر دیا۔

    ڈی ایس پی سٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ سٹی پولیس نے کاررواٸی کرتے ہوئے اندھے قتل میں ملوث 4 ملزمان ملزمان کو گرفتار کر کیا ہے، انیل نامی نوجوان کو دوستوں نے قتل کر کے بوری بند لاش قبرستان کے باہر پھینک دی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نے سونے کی انگوٹھی اور سونے کی چین کی خاطر لالچ میں آ کر اپنے دوست کو قتل کیا، ملزمان نے لاش کو 28 سے 30 گھنٹے چھپائے رکھا، ملزمان نے دوران تفتیش قتل کر اعتراف کر لیا۔