Baaghi TV

Tag: چولستان

  • چولستان کینال منصوبہ  چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کینال منصوبہ چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کے دل میں ایک خواب بسا ہوا ہے، ایک ایسا عہد جو اس خشک صحراء میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے کا ہے۔ لیکن چولستان کینال منصوبہ، جو تبدیلی کی ایک بڑی امید بن کر ابھرا ہے، اب ایک تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس منصوبے سے کم دریا کے علاقے (لوئر ریپیئرین) کے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی؟ لیکن کیا اس خواب کو شک و شبہات کی نظر ہو کر روکا جا سکتا ہے؟

    چولستان کینال منصوبہ دریائے ستلج سے پانی موڑ کر چولستان کے 452,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ لاگت 211 ارب روپے ہے اور یہ چولستان کی مزید ترقی کے لیے ایک عظیم تر منصوبے "گریٹر چولستان اسکیم” کا سنگ بنیاد بھی ہے، جس کے تحت اگلے مرحلے میں تقریباً دوگنا رقبہ سیراب کیا جائے گا۔پاکستان کا 1991 کا واٹر اپورٹمنٹ ایکورڈ صوبوں کو اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدت اختیار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر سال ہمارے دریاؤں میں اوسطاً 141 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی بہتا ہے، لیکن اس میں سے 26 ملین ایکڑ فٹ (MAF) — جو کہ چار دیمیر بھاشا ڈیموں کو بھرنے کے لیے کافی ہے، ہر سال سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ساحلی علاقوں کو نمکین پانی کے داخلے سے بچانے کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔

    چولستان کینال منصوبہ سندھ اور پنجاب میں سرپلس پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے زیر استعمال پانی کو زمین کی پیداوار بڑھانے کے لیے موڑ کر چولستان کی سرزمین کو زرخیز بنانے کی کوشش کرے گا۔ سیلابی موسم میں سندھ کو 45% اور پنجاب کو 12% اضافی پانی ملتا ہے۔ یہ صورتحال سندھ میں پانی کے ضیاع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ سندھ میں ہر سال 18 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔

    پنجاب کے پاس 47 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی ہے، جو 8 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے، جبکہ سندھ میں 40 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی 3.21 ملین ایکڑ اراضی تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ چولستان کینال، جو صرف 0.59 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی پنجاب کے حصے سے لے گا، اس توازن کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ کم استعمال ہونے والے پانی کو پیداواری اراضی میں تبدیل کرے گا۔

    گرین پاکستان انیشیٹیو چولستان کینال منصوبے کا تکمیل کار ہے، جو بنجر زمینوں کو زرخیز کھیتوں میں تبدیل کرنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے۔ زمین کے متنوع ماڈلز اور کسانوں کے لیے تخصیص شدہ ایگری مالز کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو درکار وسائل اور مدد مل سکے۔

    چولستان کینال اور گرین پاکستان انیشیٹیو کا مجموعہ ایک خوبصورت اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تخلیق کرے گا، جو خشک صحراء کو سرسبز و شاداب زمینوں میں تبدیل کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔چولستان کینال منصوبہ نہ صرف چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا بلکہ پورے پاکستان کے زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی بہتر تقسیم، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جو ایک خوشحال اور پائیدار پاکستان کی طرف ایک قدم اور بڑھائے گا۔

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    صحرائے چولستان میں انڈس تہذیب کا قدیم شہر دریافت

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    وطن پرجان قربان کرنےوالوں کواہل وطن کی جانیں عزیز: چولستان میں فری میڈیکل کیمپ ، خدمت انسانیت جاری

  • پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    چولستان کینال،گرین پاکستان انیشیٹو کا ایک اہم ترین حصہ ہے جس سے چولستان کے 25,000 sq km پر پھیلے صحرا کو آباد کرنے کا شاندار منصوبہ ہے۔ اس پراجیکٹ سے پنجاب کی لاکھوں ایکڑ بنجر غیر آباد اراضی کو سیراب کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ چولستان صحرا میں پانی کی قلت کے مسائل کو حل کرے گا جو ہر قسم کی زندگی کو محفوظ بنانے کی ضامن بنے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ صلاحیت سے زیادہ اضافی پانی دستیاب ہوگا جو چولستان کینال میں استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز یکجا ہوکر قومی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پانی ہے تو زندگی ہے

    پاکستان میں چولستان نہر کی تعمیر کے حوالے سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے درمیان تعلقات اس منصوبے کے باعث کشیدہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جسے مفاد پرست گروہ اور پاکستان کے استحکام کے مخالف عناصر پھیلا رہے ہیں۔ اس مسئلے کو عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے معاشی وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکیں۔ ان دعووں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ چولستان نہر کے حوالے سے جو چند اہم نکات ہیں وہ درج ذیل ہیں:

    پاکستان کی زرعی معیشت: پاکستان کی معیشت کی بنیاد زرعی شعبے پر ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ سکڑ چکا ہے اور اب ملک کے کل 79.6 ملین ہیکٹر اراضی میں سے صرف 22 ملین ہیکٹر اراضی پر زراعت کی جا رہی ہے۔

    زرعی پیداوار میں کمی: پاکستان دنیا کا 15 واں بڑا زرعی پیدا کنندہ ہے اور گندم کا 8 واں بڑا پیدا کنندہ ہے، لیکن پھر بھی پیداوار اور مانگ میں فرق درپیش ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کی سالانہ گندم کی ضروریات 30.8 ملین میٹرک ٹن ہیں، جب کہ اس کی کمی 4 ملین میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث مہنگی درآمدات کرنا پڑتی ہیں۔

    حکومت نے گرین پاکستان منصوبے کے تحت بنجر زمینوں کی زراعت کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں تاکہ ملک بھر میں زرعی پیداوار بڑھ سکے۔

    چولستان نہر کا منصوبہ: حکومت نے چولستان، تھل اور تھر کے بیابان علاقوں کی آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھ اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جن میں چولستان نہر بھی شامل ہے۔

    چولستان کا جغرافیہ: چولستان صحرا کا رقبہ 26,300 مربع کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں واقع ہے۔ یہ صحرا بھارت کے راجستھان صحرا سے مشرق میں اور تھرپارکر سے جنوب میں ملتا ہے۔ یہاں کی معیشت زیادہ تر مویشیوں کی پرورش پر منحصر ہے۔

    چولستان نہر کی تعمیر کا مقصد: چولستان نہر کا مقصد دریائے ستلج کے سلیمانکی بیراج سے 4,120 کیوسک پانی کو 176 کلومیٹر کے فاصلے پر فورٹ عباس تک منتقل کرنا ہے، تاکہ 452,000 ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے۔

    چولستان نہر کی تکمیل: چولستان نہر کا یہ منصوبہ 225 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ اس کے ذریعے چولستان کے بیابان علاقے میں 1.2 ملین ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔

    صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم: پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991 کے واٹر اپورٹیمنٹ ایکورڈ کے تحت حل کیا گیا ہے، جس میں پنجاب کو 48 فیصد، سندھ کو 42 فیصد، خیبر پختونخواہ کو 7 فیصد اور بلوچستان کو 3 فیصد پانی کی فراہمی کا حق دیا گیا ہے۔

    چولستان نہر پر سیاسی پروپیگنڈا: کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ چولستان نہر سندھ کی زرعی زمینوں اور پانی کی فراہمی کو متاثر کرے گی۔ تاہم، اس منصوبے کو پنجاب کے پانی کے جائز حصے میں شامل کیا گیا ہے اور یہ 0.58 MAF پانی کا استعمال کرے گا، جو کہ سندھ کے پانی کے حصے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا۔

    آبی وسائل کے نظم و ضبط کے اقدامات: اس منصوبے کے تحت ایک جدید ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے جس کی قیمت 25 ارب روپے ہے۔ یہ سسٹم پانی کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کرے گا اور کسی بھی قسم کی دھاندلی یا بدعنوانی کو روکنے میں مدد دے گا۔

    چولستان نہر کا منصوبہ پاکستان کی زرعی پیداوار کو بڑھانے، بیابان زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کو سیاسی یا صوبائی مسائل کا شکار نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اسے اس کے اصل مقصد کے تحت دیکھا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اس کا مثبت کردار ادا کیا جا سکے

  • 18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی کے شیڈول کا اعلان

    18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی کے شیڈول کا اعلان

    18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی کے شیڈول کا اعلان

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے سیکرٹری انفارمیشن علی نواز ملک، سیکرٹری سیاحت احسان بھٹہ، کمشنر بہاولپور راجہ جہانگیر انور اور ایم ڈی ٹی ڈی سی پی آغا عباس کے ہمراہ ڈی جی پی آر آفس میں انٹرنیشنل ڈیزرٹ ریلی کے انعقاد سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ سیاحت پنجاب کے زیر اہتمام 18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی کا انعقاد 07 سے 12 فروری 2023کو چولستان صحرا میں قلعہ دراوڑ میں ہو گا۔ ریلی کا فاصلہ 500کلو میٹر پر محیط ہو گا جس میں 150سے زیادہ تجربہ کار پروفیشنل ڈرائیورز ریلی میں اپنی مہارت آزمائیں گے۔

    عامر میر نے کہا کہ ریلی کی نو کیٹگریز ہوں گی جن میں سے آٹھ سٹاک،پریپیڈ گاڑیوں کی جبکہ نویں کیٹگری خواتین کی ہو گی۔ ریلی کی کل انعامی رقم 50لاکھ روپے سے زیادہ ہو گی جو کہ نو کیٹگریز میں جیتنے والوں میں تقسیم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین ڈرائیورز اور بین الاقوامی ڈرائیورز بھی ریلی کا حصہ ہوں گے جبکہ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع ریلی کے روٹ میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کے علاوہ کلچر نائٹ، آتش بازی، ٹینٹ ویلج، اونٹ ریس، کبڈی اور نیزہ بازی کے مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے جبکہ چولستان ڈیزرٹ ریلی میں پیرا گلائیڈرز کی ٹیم بھی حصہ لے گی۔

     معروف اداکار فیروز خان نے پندرہویں چولستان جیپ ریلی میں شرکت کی

    16ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی، کون رہا فاتح

     پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی طور پر کام کر رہے ہیں

    انہوں نے کہا کہ ریلی سے قلعہ دراوڑ اور چولستان میں ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ سیکرٹری سیاحت نے کہا کہ ریلی کے انعقاد کا بنیادی مقصد قلعہ دراوڑ اور چولستان کے رہن سہن کو سیاحوں کی نظروں میں اجاگر کرنا ہے۔ ریلی سے جنوبی پنجاب کو موسم سرما کے ریزارٹ کے طور پر سیاحوں میں متعارف کروایا جائے گا۔ انہوں نے کہا انٹر نیشنل ڈیزرٹ ریلی پاکستان کا سب سے بڑا موٹر سپورٹس ایونٹ بن چکا ہے۔ کمشنر بہاولپور ڈویژن راجہ جہانگیر انور نے کہا کہ آرمی، رینجرز اور پولیس سکیورٹی فراہم کریں گے جبکہ تمام متعلقہ محکموں جن میں ریسکیو1122، محکمہ صحت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 5 لاکھ لوگ ریلی دیکھنے آئیں گے جبکہ 3 ہزار سے زیادہ پولیس فورس سکیورٹی فراہم کرے گی۔

  • بہاولپور :18ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی6 سے12فروری تک منعقد ہوگی-ڈپٹی کمشنر

    بہاولپور :18ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی6 سے12فروری تک منعقد ہوگی-ڈپٹی کمشنر

    بپاولپور(باغی ٹی وی )ڈپٹی کمشنر زاہد پرویز وڑائچ کی زیر صدارت دفتر کے کمیٹی روم میں اجلاس منعقد ہوا جس میں 18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی کے انعقاد کے سلسلہ میں قائم مختلف کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اعتزاز انجم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نعیم صادق چیمہ، اسسٹنٹ کمشنرسٹی ڈاکٹر انعم فاطمہ، اسسٹنٹ کمشنر بہاول پور صدر فیصل احمد، فوروہیل کلب سے چوہدری محمود مجید، ریجنل منیجر ٹی ڈی سی پی طارق ربانی، صدر چیمبر آف کامرس چوہدری ذوالفقار احمد مان، صدر ا نجمن تاجران حافظ محمد یونس، میر جمال، چیف آفیسر ضلع کونسل میاں اظہر جاوید، ڈائریکٹر آرٹ کونسل محمد سجاد، ایس ڈی او چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی امتیاز لاشاری، ڈویژنل سپورٹس آفیسر عامر حمید، ڈائریکٹر لائیو سٹاک سبطین بخاری، انچارج سکیورٹی برانچ محسن سردار، ڈی ایس پی ٹریفک اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور ویڈیو لنک کے ذریعہ اسسٹنٹ کمشنر احمد پورشرقیہ اوراسسٹنٹ کمشنر یزمان موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ چولستان ڈیزرٹ ریلی کے تمام انتظامات شاندار انداز میں مکمل کیے جائیں او ر تمام ایونٹ مقررہ تاریخ اور اوقات میں منعقد کیے جائیں۔ اجلاس میں مینجمنٹ کمیٹی، ایونٹ کمیٹی، ٹائم مینجمنٹ کمیٹی، رجسٹریشن وہیکل کمیٹی، میڈیکل ایمرجنسی کمیٹی، پارکنگ کمیٹی، وہیکل ریکوری کمیٹی، روٹ فارمیشن کمیٹی، فوڈ سٹریٹ کمیٹی، روٹ میپ کمیٹی اور سپورٹس کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ چولستان ڈیزرٹ ریلی کے لیے قائم کی گئی کمیٹیوں کے ارکان فعال انداز میں کام کریں اور تمام امور بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور ڈیزرٹ ریلی کے موقع پرٹریفک مینجمنٹ اور پارکنگ کے بہتر انتظامات کیے جائیں تاکہ ڈیرزٹ ریلی میں آنے والے افراد کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنانہ ہو۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ18 ویں انٹرنیشنل چولستان ڈیزرٹ ریلی 6 فروری سے12فروری تک منعقد ہوگی۔ ڈیزرٹ ریلی کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پربتایا گیا کہ اسلامیہ یونیورسٹی، چیمبر آف کامرس اور آرٹس کونسل کی جانب سے ہینڈی کرافٹ بازار اور دیگر سٹالز لگائے جائیں گے اور چولستان کے ساتھ ساتھ اندرون فرید گیٹ، بہاول پور بکنیری فوڈ سٹریٹ قائم کی جائے گی۔ اسی طرح مختلف سپورٹس سرگرمیاں منعقد ہوں گی جن میں کرکٹ، ہاکی،والی بال، کبڈی، تیکوانڈو، پیراگلائیڈنگ اور دیگر سپورٹس شامل ہیں۔

  • چولستان کی اراضی مقامی بے زمین افراد کو جلد الاٹ کرنے پر غور

    چولستان کی اراضی مقامی بے زمین افراد کو جلد الاٹ کرنے پر غور

    چولستان کی اراضی مقامی بے زمین افراد کو جلد الاٹ کرنے پر غور
    چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی گورننگ باڈی کا اجلاس آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ چیئرمین اتھارٹی صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے صدارت کی۔ سی ڈی اے کے ارکان ایم پی اے ڈاکٹر محمد افضل، احسان الحق اور فوزیہ عباس بھی موجود تھے جبکہ کمشنر بہاولپور راجہ جہانگیر انور نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چولستان کا سرکاری رقبہ مقامی بے زمین افراد کو الاٹ کرنے کی سکیم پر غور سمیت متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ الاٹمنٹ کیلئے 64 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں سے جانچ پڑتال کے بعد 18 ہزار افراد اہل قرار پائے ہیں۔ کمشنر بہاولپور نے بتایا کہ پی آئی ٹی بی 27 ہزار 661 لاٹس کی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کریگا۔

    بیوی کی سفاکی، شوہر کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کروا کر سر اور ہاتھ بدن سے الگ کر لئے

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    بچوں کے ساتھ بدفعلی، بنائی جاتی تھیں ویڈیو، خواتین بھی تھیں گھناؤنے کام میں شامل

    چیئرمین سی ڈی اے محمد بشارت راجہ نے کہا کہ سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت چولستان کے تمام بے زمین خاندانوں کو اراضی فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس زمین پر سب سے زیادہ حق مقامی افراد کا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کیٹیگری بی اور سی اراضی کے امیدواروں کو پہلے الاٹمنٹ کی جائے۔ اضافی عملہ لگا کر ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹ کا کام مکمل کیا جائے۔ گورننگ باڈی نے چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں خالی اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی۔ سی ڈی اے میں آنے والے کالونلائزیشن آفیسرز کو ایگزیکٹو الاؤنس دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس نے سی ڈی اے میں تعینات 338 کنٹریکٹ ایس این ایز کو ریگولر کرنے کی منظوری دی جبکہ اتھارٹی کے ملازمین کو 25 فیصد اضافی الاؤنس دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

  • آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر بہاولپور کور نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر چولستان کے خشک سالی سے متاثرہ افراد کو طبی اور امدادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ بہاولپور کور کی جانب سے چنن پیر میں 42 بستروں کی گنجائش والے ہیٹ اسٹروک سنٹر کو مربوط کرتے ہوئے مفت طبی اور خشک سالی سے نجات کا کیمپ لگایا گیا ہے۔

    سول ملٹری انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے، ہیٹ اسٹروک کے علاج کی سہولیات اور واٹر باؤزر سے لیس 3x موبائل ہیلتھ ٹیمیں صحرائے چولستان میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے بنائے گئے 10x دور دراز کے کیمپوں کا دورہ کر رہی ہیں تاکہ آبادی اور جانوروں کو علاج اور پانی کی فراہمی ہو سکے۔ مقامی طور پر بنائے گئے آبی ذخائر کو بھرنے کے ساتھ 70x دیہاتوں کو 300,000 لیٹر سے زیادہ پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا ہے۔ 5000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور انہیں مفت ادویات فراہم کی گئیں۔

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1530082252553609216

    مزید یہ کہ چولستان کے دور دراز علاقوں میں مفت راشن پیک اور پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ بیس کیمپ کی جگہوں پر مویشیوں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیاء نے چنن پیر میں فری میڈیکل اینڈ ڈراؤٹ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا جہاں آرمی افسران اور کمشنر بہاولپور کی جانب سے امدادی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے چولستان میں حالات کو معمول پر لانے تک مقامی آبادی کو پاک فوج کی جانب سے ہر ممکن تعاون/مدد کی یقین دہانی کرائی۔ پاک فوج کی جانب سے یہ امدادی سرگرمیاں پورے موسم گرما میں جاری رہیں گی۔

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    وادی تیراہ میں ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی اشتراک سے "باغ امن میلہ” کا انعقاد

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ ٹولز بنے یوٹیوبرز کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

  • چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    لاہور: امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے چولستان کی صورت حال پرپریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے،سعد رضوی نے کہا ہے کہ چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت دھرتی پر بسنے والے انسانوں سے مدد کی طلبگار ہے،حکومت کسی بڑے سانحے کا انتظار کررہی ہے بروقت درست اقدامات نہ کر کے چولستانیوں پر ظلم کیا جارہا ہے،انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہےکہ مویشیوں کی ہلاکتوں کی میڈیا پرنشاندہی پر بھی انتظامیہ نہ جاگی،چولستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومت پی ٹی آئی، (ق) لیگ اور پیپلزپارٹی سب ہیں، حکومت نے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی بجائے روایاتی طرز عمل اپناتے ہوئے محض کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی اکتفا کیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں خشک سالی کوئی ناگہانی آفت نہیں بلکہ سو فیصد حکومت کی بدانتظامی و نااہلی ہے،حکومت کا یہی حال رہا تو خدشہ ہے کہ حکمران لاہور، کراچی، فیصل آباد کو بھی چولستان بنادیں گے، ٹی ایل پی شعبہ سوشل ویلفیئر کی ریلیف سرگرمیاں قابل ستائش ہیں جنہوں نے فوری ریلیف آپریشن شروع کیا,

  • چولستان کی پکار  ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پنجاب کے ضلع بہاولپور کے جنوب میں 30 کلومیٹر دوری پر واقع 66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ طول اور 32 سے 480 کلومیٹر عرض والے صحرائی رقبے کو چولستان کہا جاتا ہے جو کہ دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے-

    اسی روہی بھی کہا جاتا ہے یہ صحرا جنوب مشرق میں انڈین راجھستان سے جا ملتا ہےاسی لئے اس علاقے میں سرائیکی زبان کیساتھ زیادہ تر راجھستانی زبان بھی بولی جاتی ہے-

    یہاں کے مقامی لوگ خانہ بدوش ہیں اور یہ لوگ بہت زیادہ غریب ہیں اور ان کا گزر بسر بھیڑ بکریاں و اونٹ پال کر ہوتا ہے کیونکہ اس ریت والے علاقے میں فی الحال اور کچھ ممکن ہی نہیں-

    اس صحرا میں پانی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں زندگی کی بہت بڑی ضرروت پانی کا بہت بڑا حصول بارشوں کے ذریعہ سے ممکن ہے-

    بارشوں کا پانی ٹوبھوں ( تالاب نما) میں جمع رہتا ہے جہاں سے مقامی باشندے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں اور جانور بھی انہیں ٹوبھوں سے پانی پیتے ہیں غربت کے باعث یہ لوگ کنویں وغیرہ نہیں بنوا پاتے اس لئے بارشیں ہی ان کیلئے پانی کا سب سے بڑا حصول ہیں-

    رواں سال پوری دنیا میں گرمی کی شدت ہے پاکستان میں بھی اس وقت شدید ترین گرمی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 1961 کے بعد پہلی بار اتنی گرمی پڑے گی –

    چولستان کا ٹمپریچر 50 درجہ سینٹی گریڈ سے اوپر کو جا رہا ہے اور گزشتہ 3 ماہ سے اس علاقے میںبارشیں بھی نہیں ہوئیں جس کےباعث یہاں کا سب سے بڑا پانی کا ذریعہ ٹوبھے خشک ہو گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق 3 ہزار کے قریب ٹوبھے خشک ہو چکے ہیں جس کے باعث 200 سے اوپر جانور مر چکے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مجبوراً نقل مکانی شروع کر دی ہے-

    ہر روز بے چین کرنے والی نئی خبر مل رہی ہے حتیٰ کہ کل سے بلوچستان سے بھی خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث لوگوں و جانوروں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں-

    الحمدللہ پاکستانی ایک غیرت مند اور درد دل رکھنے والی قوم ہے جس نے زلزلہ،سیلاب،طوفان میں اپنے ملک کے علاوہ بیرون ممالک کے لوگوں کی بھی خدمات کی ہیں-

    اب ایک بار پھر پاکستانیوں تمہیں چولستان پکار رہا ہے آگے بڑھیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کیلئے درختوں و کنوؤں کا انتظام کیجئے اور ان کی پیاس ختم کیجیئے یقین کریں آپ کی یہ کاوش اللہ تعالی بہت پسند کرے گا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے-

    وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

    ترجمہ : اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے-

    پاکستان بھر میں بہت سے لوگ اور تنظیمیں اس وقت چولستان کیلئے کام کر رہی ہیں آپ بھی ساتھ دیجئے چولستانیوں کی پیاس بجھانے کا ان شاءاللہ پیاسوں کی پیاس کو بجھانے کے عیوض اللہ تعالی روز محشر جام کوثر نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ جلدی کیجئے نیکی کے کاموں میں جلدی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے-

  • چولستان میں پانی کی قلت ، مویشی مرنے لگے ،مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت

    چولستان میں پانی کی قلت ، مویشی مرنے لگے ،مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت

    چولستان کے صحرا میں شدید گرمی، پانی کی قلت، جانور مرنے لگے، حالات انتہائی خراب، حکومت کام کر رہی لیکن مزید توجہ کی ضرورت ہے

    چولستان میں گرمی اور پانی کی قلت کی وجہ سے مویشیوں کی موت نے چرواہوں کو پریشان کر دیا ہے، پانی کی کمی اور شدید گرمی کی وجہ سے ٹوبہ سالم سر اور ٹوبہ نواں کھوہ میں زیادہ اموات ہوئی ہیں، پانی کی قلت کی وجہ سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جانوروں کی زندگیاں بچانا چرواہوں کے لئے مشکل ہو چکا ہے،

    ترجمان چولستان لائیو اسٹاک کے مطابق ٹوبہ سالم سر اور ٹوبہ نواں کھوہ زیادہ متاثرہ علاقے ہیں جہاں پانی کی کمی سے 50 بھیڑ ہلاک ہوئے جب کہ متاثرہ علاقوں سے مزید اعدادو شمار جمع کیے جارہے ہیں چولستان کے مختلف علاقوں میں 12 نٹیمیں موجود ہیں دوسری جانب متاثرہ علا قوں کے مقامی افراد کا کہنا ہےکہ تالاب خشک ہونے اور شدیدگرمی سے 125 بھیڑیں ہلاک ہوئی ہیں

    کمشنر بہاول پور نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایت کے مطابق 11مقامات پربیس کیمپ میں میڈیکل و ویٹرنری اور زراعت سے متعلق سہولیات کو ہنگامی بنیاد پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔کمشنر بہاولپور نےچولستان کے علاقہ چنڑ پیر میں قائم میڈیکل و ویٹرنری کیمپ کا معائنہ کیا چولستان میں مزید9میڈیکل و ویٹرنری کیمپ کل تک فعال کردیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل کیمپس میں ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ موبائل ایمبولینس کی24 گھنٹے فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ریسکیو1122 کی ایمبولینسز بھی کیمپ میں موجود ہیں۔

    جام یاسر نجیب الدین نے کہا کہ بارشیں نہ ہونے پر چولستان میں ٹوبے خشک جانور مرنے لگے نہروں میں فوری پانی چھوڑا جائے ورنہ سرائیکی پارٹی احتجاج کرے گی-ان خیالات کا اظہار سرائیکی پارٹی بہاولپور کےرہنماوں جام یاسر ایڈووکیٹ ضلعی صدر نجیب الدین ہاشمی سینئیر نائب صدر اشفاق احمد ڈاہر ایڈووکیٹ نے ہیڈ راجکاں چولستان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا-

    انہوں نے کہا کہ چولستان کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور چولستان کی چاروں نہروں میں فوری پانی چھوڑا جائے حکومت فوری طور پر پانی پہنچانے میں ناکام رہی تو سرائیکی پارٹی ڈی سی بہاولپور کے آفس کے باہر احتجاج کرے گی اس موقع پر جام حفیظ جام محمد ابراہیم ناصر الحسن موجود تھے-

    دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان


    دوسری جانب پی ایس پی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس پی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے کہا کہ صوبے کے قیام میں تاخیر سے عوام بالخصوص کسانوں کو ان کے جائز حصے کے پانی سے محروم کردیا گیا ہے۔

    انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے سرائیکی صوبہ بنانے کے نام پر عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا اور سرائیکی عوام کو مایوس کیا۔

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ صوبائی حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ میں سرائیکی عوام کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا جبکہ سرائیکی خطہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ کا ڈھیلا ڈھالا اور بے اختیار ڈھانچہ مضحکہ خیز ہے۔

    ڈاکٹر نخبہ نے کہا کہ کور کمیٹی نے ملک کی سیاسی صورتحال اور صوبہ سرائیکی پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے موجودہ پارلیمنٹ میں مذاکرات کے ذریعے سرائیکی صوبے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کریں۔

    کور کمیٹی کا اجلاس مرکزی صدر اللہ نواز وینس کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے وائس چیئرمین ممتاز خان ڈاہر ایڈیشنل سیکرٹری جنرل شبیر لکشیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک جاوید چندر ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے چار سالہ دور حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

    کراچی کےعلاوہ ملک کے مختلف حصے ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں،محکمہ موسمیات

    کور کمیٹی نے متنبہ کیا کہ اگر تینوں جماعتیں سرائیکی صوبے پر مبنی انتخابی مہم کے لیے خطے میں آئیں تو ان کے رہنماؤں کا سیاہ جھنڈوں سے استقبال کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی موقف کو بہتر بنانے کے لیے سرائیکی صوبے کے حوالے سے پیش رفت کریں اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے، شرکاء نے مزید کہا کہ چولستان اور تھل میں پانی کی عدم دستیابی ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہونے جا رہا ہے۔انہوں نے حکمرانوں سے چولستان اور تھل میں ترجیحی بنیادوں پر پانی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پاکستان بھر میں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کار مسائل کا سامنا کررہے ہیں:بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ پاکستان شدید ترین موسمی تغیرات کا شکار ہونےلگاہے پانی کی قلت اور گرمی کی شدت کے باعث چولستان میں رہنے والوں کےلیےزندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہےجس کےسبب ایک بڑی آبادی صحرا کو چھوڑکرآبادیوں کی طرف نقل مکانی کررہی ہے چولستانیوں کی ساری متاع ہی ان کے جانور ہیں جن پر ان کی زندگی کا انحصار ہے چولستانی لوگوں کو برسوں سے ہر سال موسم گرما میں شدید گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتاہے لیکن کسی حکومت نے آج تک ان کی مشکلات دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    اس سال بھی موسم گرما کی شدت اور پانی کی کمی کے باعث خشک حالی کا شکار صحرائے چولستان میں ہیٹ سٹروک کے باعث مویشی مرنے لگے کچھ عرصے سے خشک حالی کا شکار صحرائے چولستان کو ہیٹ اسٹروک کا سامنا ہے بارشیں نہ ہونے کے سبب چولستان کے ٹوبے اورجوہڑ خشک ہیں جس کی وجہ سے چولستانی آبادکار شہروں کا رخ کر رہے ہیں تا کہ نہروں سے اپنی اور اپنے جانوروں کی پیاس بھجا سکیں۔ نہریں بھی خشک پڑ ی ہیں، جس کے باعث انسانوں اور مویشیوں کی زندگیاں دائو پر لگ چکی ہیں۔

    حکمہ لائیو سٹاک کےمطابق چولستان میں پانی کی قلت اورہیٹ سٹروک سے 200سے زائد بھیڑیں اورمویشی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ بارشیں نہ ہونے سے تالاب مکمل طور پر خشک ہوگئے ہیں، جس کے باعث مقامی افراد پینے کے پانی سے بھی محروم ہورہے ہیں۔

    چولستان کے مکینوں کا کہنا تھا کہ یہ تالاب ہی ان کے لئے پانی کا ذخیرہ ہیں تاہم طویل عرصے سے تالابوں کی صفائی نہ ہونے سے بارش کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور نتیجے کے طور پر خشک سالی کا سامنا ہے۔دوسری جانب پانی کی کمی کے باعث ریگستان کا جہاز اونٹ بھی سست اور بیمار پڑنے لگا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ چولستان کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے وہاں ریلیف کے اقدامات کیے جائیں اور فوری طور پر چولستان میں پانی فراہم کرنے والی واٹر پائپ لائنوں کو چلایا جائے تا کہ چولستان میں انسانوں اور ان کے جانوروں کو بچایا جا سکے۔

    صحرائے چولستان میں شدید گرمی،تالاب خشک ہوگئے،پینے کا پانی نایاب،درجنوں بھیڑیں مر…