Baaghi TV

Tag: چونیاں قتل کیس

  • چونیاں:ملزم کا ڈی این اے ایک بچے سے میچ کرگیا،باقی کو کس نے قتل کیا؟اہم خبر

    چونیاں:ملزم کا ڈی این اے ایک بچے سے میچ کرگیا،باقی کو کس نے قتل کیا؟اہم خبر

    لاہور: چونیاں زیادتی اور بعد ازاں قتل کیس ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، اطلاعات کے مطابق پولیس نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ملزم سے باقی قتل کیے جانے والے بچوں کی تفتیش کے لیے ملزم کا مزید ریمانڈ چاہتی ہے ، جس کے بعد عدالت نے یہ استدعا قبول کرتے ہوئے مبینہ شخص کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    ڈینگی ابھی زندہ ہے، مزیدمریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچادیا

    تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج عبدالقیوم خان نے چونیاں کیس کی سماعت کی، پولیس نے ملزم سہیل شہزاد کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔استدعا میں عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم پر 9 سالہ حسنین، 8 سالہ سلمان اکرم اور بارہ سالہ محمد عمران کو اغوا کے بعد بدفعلی اور قتل کرنے کا الزام ہے۔

    سرفراز احمد کے پنجاب اسمبلی میں‌تذکرے،ن لیگ دشمن بن گئی

    پولیس افسر نے عدالت کوبتایا کہ ملزم کا ڈی این اے ایک مقتول بچے فیضان سے میچ کرگیا، سہیل نے فیضان کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ تین دیگر مقدمات میں ملزم کو مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے

    چلو!جان چھوٹ گئی ، ٹیچراب نہیں لکھیں‌گے ڈائری،

    دوسری طرف پولیس کی استدعا سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ ملزم نے باقی جرائم قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے پولیس اس سے زبردستی کوئی نہ کوئی بیان لینا چاہتی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پولیس ابھی تک ایک بچے کے قتل کے حوالے سے تو کہہ رہی ہے کہ سہیل شہزاد کی طرف سے مبینہ طور پراقرار کا دعویٰ کرتی ہے اگر ایسا ہے تو پھر باقی قتل کس نے کیا ، یہ معمہ ابھی باقی ہے

  • چونیاں :  ایک اور بچہ قتل ، تعداد 5 ہو گئی ، علاقے میں خوف وہراس

    چونیاں : ایک اور بچہ قتل ، تعداد 5 ہو گئی ، علاقے میں خوف وہراس

    چونیاں : دنیا میں علم ، ثقافت اور سیاست کی کی وجہ سے مشہور ضلع قصور اب بدنامی ، قتل اور جنسی زیادتیوں کی وجہ سے بہت ہی مشہور ہوچکا ہے، اس کی اچھائیاں اور خوبیاں دفن ہوکر رہ گئی ہیں ، اطلاعات کے مطابق چونیاں سے ایک اور بچے کی باقیات ملی ہیں جس کے بعد علاقے میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔جس کے بعد علاقے سے ملنے والی بچوں کی لاشوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

    سیاحت فروغ پانے لگی ، پاکستان میں 2018 میں 66 لاکھ افراد نے سیاحتی نظارے کیے

    چونیاں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچے کی باقیات جس جگہ سے ملی ہے وہ اس مقام سے قریب ہی ہے جہاں سے پہلے زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 4 بچوں کی لاشیں اور باقیات ملی تھی۔ پولیس نے لاش کی باقیات کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ جنسی زیادتی کے علاوہ اور بھی رنگ اختیار کرسکتا ہے

    بریکنگ : ترکی نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ڈرون مار گرایا

    دنیا جانتی ہے کہ 2 ہفتے قبل چونیاں سے 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن میں 2 کی شناخت فیضان اور عمران کے نام سے ہوئی تھی تاہم پولیس اب تک اس کیس میں کوئی بھی پیش رفت نہیں کر سکی، پولیس نے مبینہ مجرم تو گرفتار کرلیا لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ کیا وہ واقعی مجرم ہے یا پھر اسے قربانی کا بکرا بنایا جائے گا

     

    بڑی تعداد میں سعودی فوجی گرفتار ، حوثیوں نے دعویٰ کردیا ، تین بریگیڈز بھی شامل ہیں

  • چونیاں اور قصور سے اغواہونے والے بچوں کو قتل کرنے والا مبینہ ملزم گرفتار کرلیا گیا

    چونیاں اور قصور سے اغواہونے والے بچوں کو قتل کرنے والا مبینہ ملزم گرفتار کرلیا گیا

    رحیم یار خان :رحیم یار خان پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے چونیاں اور قصور سے اغواء ہونے والے بچوں کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو مقامی زمیندار کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ملزم سجاد احمد کی گرفتاری کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے

    تفصیل کے مطابق گزشتہ شب خفیہ اطلاع پر اے ایس پی صدر سرکل سید سلیم شاہ اور اے ایس پی صادق آباد سرکل ڈاکٹر حفیظ الرحمن بگٹی نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ تھانہ کوٹ سمابہ کی حدود امین آباد کے علاقہ میں مقامی زمیندار محمد حنیف کے گھر پر کامیاب چھاپہ مار کر چونیاں اور قصور سے کمسن بچوں کو اغواء کر کے قتل کرنے والا مرکزی مبینہ ملزم سجاد احمد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جبکہ مقامی زمیندار محمد حنیف کو حراست میں لیکر تھانہ منتقل کرتے ہوئے مکمل طورپر تھانے کو سیل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ ملزم سجاد احمد کو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ قصور منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مبینہ ملزم کی گرفتاری کے لیے لاہور سے بھی ٹیمیں بھیجی گئی تھیں ، پولیس حکام کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ مبینہ ملزم سجاد گھر سے غائب ہے اور امکان ہے کہ یہ اس واقعہ میں ملوث ہو ، بعد ازاں تحقیقات کرنے پر شک یقین میں بدلنے لگا جس پر اس کی گرفتاری عمل میں‌لائی گئی