Baaghi TV

Tag: چوہدری نثار

  • وزیر اعظم کی چوہدری نثار کے گھر آمد

    وزیر اعظم کی چوہدری نثار کے گھر آمد

    وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینئر رہنما چوہدری نثار کے گھر پہنچ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم سہہ پہر سوا تین بجے کے قریب سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی رہائش گاہ پر پہنچے ،ذرائع نے اس ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم نے چوہدری نثار سے ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں ن لیگ میں واپسی کی دعوت بھی دی وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چوہدری صاحب آپ تو ہمیں بھول ہی گئے۔ اس پر چوہدری نثار نے جواب دیا نہیں نہیں میاں صاحب، بس طبیعت ٹھیک نہیں رہتی-

    چوہدری نثار نے ن لیگ میں واپسی کی پیشکش کا فوری جواب دینے کے بعد بجائے صحت ٹھیک ہونے اور رفقا سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا کہاچوہدری نثار علی خان نے اپنی رہائشگاہ آمد کے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیابعد ازاں وزیراعظم وہاں سے روانہ ہو گئے، ملاقا ت انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی، دونوں رہنماؤں نے ماضی کی یادیں تازہ کیں۔

    اس سے قبل ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف چوہدری نثار کو منانے کی کوشش کریں گے، واضح رہے کہ پارٹی سےناراض چوہدری نثار طویل عرصے سے سیاست سے کنارہ کش ہیں۔

    شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی 8 برس کے دوران یہ دوسری ملاقات ہے، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی گزشتہ برس 7 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی تھی، شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔

    رپورٹس کے مطابق چوہدری نثار علی خان جو کبھی مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما تھے، 34 سال سے زائد عرصے تک پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد 2018 میں جماعت سے الگ ہوگئے تھے اس وقت چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق کیا، میں طویل عرصے سے مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہوں، میں اقتدار کی نہیں، عزت کی سیاست کرتا ہوں۔

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ

    ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

  • پی ٹی آئی میں شامل کیوں نہیں ہوا ،بتایا تو  عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ  ہوگا،چوہدری نثار

    پی ٹی آئی میں شامل کیوں نہیں ہوا ،بتایا تو عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،چوہدری نثار

    راولپنڈی: سینئیر سیاسی رہنما چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی 54 سال سے میرا دوست ہے مگر میں تحریک انصاف میں شامل کیوں نہیں ہوا ابھی نہیں بتا سکتا، بتایا تو بانی پی ٹی آئی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا-

    باغی ٹی وی :اڈیالہ روڈ پر انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ این اے 54،53 اور پی پی 10 سے آزاد امیدوار چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک مشکل ترین دور سے گزررہا ہے،عمران خان نے اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے کافی مرتبہ اصرار کیابانی پی ٹی آئی 54 سال سے میرا دوست ہے مگر میں تحریک انصاف میں شامل کیوں نہیں ہوا ابھی نہیں بتا سکتا، بتایا تو بانی پی ٹی آئی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، میں دوست کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔

    انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں الیکشن کے بعد کسی جماعت میں عزت کے ساتھ جاؤں، انتخابات 2018 میں کیا ہوا، اس کی وجہ کچھ اور تھی، پھر کبھی بتاؤں گا، عمران نے کسی کو پارٹی میں شامل کرنے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی میرے لیے کی۔

    چوہدری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں 35 سال گزارے، بہت سے راز میرے پاس ہیں مگر ان پر تنقید نہیں کروں گا، اپنے حلقے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے جو لوگ کہتے مسلم لیگ ن نے ترقیاتی کام کروائے تو ان کو بولیں ڈیڑھ سال اب حکومت رہی کوئی ایک اینٹ لگائی ہے تو دکھا دیں آپ سے جو ووٹ مانگنے آئے اس سے پوچھیں کتنے ترقیاتی کام کرائے ہیں، میں نے اس حلقے کے عوام کی خدمت کی میری اولا د بھی آپ کی خدمت کرے گی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    لاہور:پنجاب میں کچھ دیر بعد وزیراعلی کا انتخاب ہونے جارہا ہے دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ چوہدری نثار کا فیصلہ بھی بہت اہمیت اختیار کرسکتا ہے ، لیکن انہیں خبروں کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نثارفیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں

    سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار آج بھی پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہونگے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار لاہور جانے کے بجائے راولپنڈی میں موجود ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی س چوہدری نثار نے فیض آباد راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب نماز جمعہ ادا کی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر جب چوہدری نثآر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاہور جارہے ہیں تو چوہدری نثارعلی خان نے جواب دیا کہ لاہور جانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گ

    چوہدری نثار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ کولگتا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا انتخابی عمل آج مکمل ہوجائے گا؟۔ اس پران کا کہنا تھا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے پہلے وزیراعلیٰ کے انتخاب ميں کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    چوہدری نثار 2018 کے انتخابات میں راولپنڈی سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ چوہدری نثار نے گزشتہ سال قانونی پابندی کے باعث رکن صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھایا تھا۔

    ادھر دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ آج تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،آصف زرداری کی شجاعت حسین سے دوسری اہم ملاقات،رات گئے تک جوڑ توڑ

    ضمنی انتخاب میں کامیاب لودھراں سے منتخب ہونے والے رکن پیر رفیع الدین بخاری نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ پیر رفیع الدین کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لیے حمزہ شہباز کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی کسی جماعت میں شامل نہیں ہورہا فی الحال حمزہ شہباز کا ساتھ دے رہا ہوں۔

  • چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے ساتھ بہت کچھ لےکرآئےہیں:   فضل الرحمن12ویں کھلاڑی:اللہ خیرکریں گے:عمران خان

    چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے ساتھ بہت کچھ لےکرآئےہیں: فضل الرحمن12ویں کھلاڑی:اللہ خیرکریں گے:عمران خان

    اسلام آباد :چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے کچھ ساتھ لے کرآئےہیں:فضل الرحمن 12 کھلاڑی ہیں:اللہ خیرکریں گے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی صورت استعفی نہ دینے کے عزم کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہے میں گھر بیٹھ جاؤں گا، ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا، چودھری نثار سے ملاقات ہوچکی۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔

    صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، نیوٹرل والی بات اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے تناظر میں کی، فضل الرحمان سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے، فضل الرحمان کے اب ٹیم سے باہر ہونے کا وقت ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے صحافیوں کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا،چوہدری نثار سے ملاقات ہوچکی ہے، ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا اور ووٹنگ سے ایک دن پہلے میرا کارڈ سامنے آئے گا۔

    اپوزیشن کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پہلے ہی اپنے سارے کارڈز شو کرچکی ہے اور ان کی سیاست ختم ہونے والی ہے، یہ لکھ لیں کہ تحریک عدم اعتمادناکام ہوگی۔

    اتحادیوں سے متعلق انھوں نے کہا اتحادی 27 تاریخ کے جلسے کے بعد حکومت کیساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے ، تحریک انصاف کی مقبولیت میں حالیہ دنوں بےپناہ اضافہ دیکھنے کو آیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج بچا ہوا ہے تو پاک فوج کی وجہ سے بچا ہوا ہے، فوج کیساتھ آج بھی اچھے تعلقات ہیں، فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے ، فوج پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں ، پاکستان کو فوج کی سخت ضرورت ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ کی سیاست چوری بچانے کے لئے ہے، کسی بھی صورت این آر او نہیں ملے گا، ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے میں ہار ماننے والا نہیں، جب تک زندہ ہوں ان چوروں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا۔

    شہباز شریف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کیساتھ بیٹھ کر کام کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا، یہ لوگ اپنی کرپشن بچانے کیلئے میرے خلاف کٹھے ہوئے ہیں۔

    صدارتی ریفرنس پر عمران خان نے کہا سپریم کورٹ ریفرنس اس لئےبھیجا تاکہ ووٹوں کی خریدوفروخت پررکاوٹ آئے ، یہاں پرعرا ق کی طرح حملے کی ضرورت نہیں صرف 20ممبران پارلیمنٹ کو خریدیں۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی ہونے دیں پتہ چلے گا کون استعفیٰ دیتاہے، 27مارچ کوعوام کو سمندراسلام آباد میں ہوگا، اتنا بڑا جلسہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا، پاکستان میں سب سے بڑےجلسے میں نے کیے ہیں، مینارپاکستان کو بھرنے کا کریڈٹ بھی مجھے جاتا ہے۔

    نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کو نوازشریف نے خرید اہوا ہے، پاکستان میں لفافہ کلچرنوازشریف لیکر آیا ہے۔

    عمران خان نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ میں ریفرنس کا مقصدتحریک عدم اعتمادکی تاخیری ہرگزنہیں، یہ تومیں عدالت میں کہہ چکا ریفرنس اور پارلیمانی پروسیجرالگ الگ چلے گا، ہمارامقصد ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، شفاف الیکشن کیلئےہی سینیٹ الیکشن کےوقت ریفرنس دائرکیاتھا، یوسف گیلانی کے بیٹھے کی ویڈیوز منظرعام پرآئیں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

    صحافیوں نے سوال کیا کہ کامران خان نےوی لاگ میں4مطالبےہیں، کامران خان کہتے ہیں جنرل فیض اور بزدار پر فیصلے کریں ؟وزیراعظم عمران خان نے جنرل فیض اور بزدار سےمتعلق سوال پر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کامران خان کو کون بتاتا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف مجرم ہے،اس کے ساتھ کیوں بیٹھوں گا، شہباز شریف جیسے چور کے ساتھ بیٹھ کر اپنی توہین نہیں کروں گا۔ چوروں کا جتنا بھی دباؤ ہو آخری بال تک لڑنے والا ہوں، ابھی تو لڑائی شروع ہی نہیں ہوئی تو استعفیٰ کہاں سے آگیا ، مجھے توسمجھ نہیں آتی استعفے کی بات کیوں کی جارہی ہے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ حکومت چھوڑنے کیلئے تیار ہوں مگرانہیں استعفیٰ نہیں دوں گا، حکومت گر گئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا۔

    نیوٹرل کی خبروں کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، کسی سے کوئی دوریاں نہیں ، آرمی چیف سے دوریوں کی بات غلط ہے، کیا لڑائی سے پہلے ہاتھ کھڑے کردوں ؟ مولانا فضل الرحمان سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، عدم اعتماد والا میچ ہم جیتیں گے۔

  • تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:چوہدری نثار

    تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:چوہدری نثار

    راولپنڈی:تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ چار سال سے اقتدار کا روزہ رکھا ہواہے اب لگ رہا ہے بہت جلد اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ روزہ کھولوں گا۔

    سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان 4 سال بعدبول پڑے۔ اپنے حلقےمیں جلسےسے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بڑے عہدوں کی جتنی آفر مجھے ہوتی ہےکسی کونہیں ہوتی لوگ تواقتدار کیلئے جوتیاں اتھانےکو تیار ہو جاتے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ چار سال سے اقتدار کا روزہ رکھا ہواہے اب لگ رہاہےبہت جلد اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ روزہ کھولوں گا۔

    سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حلقے کے عوام کو میرے لئے ووٹ مانگنے پر کبھی شرمندگی نہیں ہو گی میں نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا نہ مجھےکوئی دو نمبرکہےگا۔

    اس سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹویٹر اس سلسلے میں‌ چوہدری نثارپچھلے کئی دنوں سے اپنا خاص پیغام چھوڑ رہے ہیں‌، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان مشکل میں ضرور ہے لیکن اس مشکل کے بعد آسانی ہے

    چوہدری نثار نے اپے ایک اور پیغام میں کہا تھا کہ عمران خان کو ملک وقوم کی بڑی فکر ہے یہ ٹھیک ہے کہ مہنگائی وغیرہ کی وجہ سے عوام پریشان ہیں لیکن یہ حقیقت ہےکہ عوام یہ جانتے ہیں کہ عمران خان کرپٹ ٹولے سے اگرٹکرا رہا ہے توفقط ایک بہتر قومی مستقبل کےلیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ گلام دشمننان پاکستان کا ہے اور زبان پی ڈی ایم کی ہے لیکن یہ سب رسوا ہوکر رہیں گے