سپریم کورٹ نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں –
جسٹس ہاشم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا،جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔
کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں،اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ جب مقا بلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔
ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی، اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟
تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی 6،6بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

