Baaghi TV

Tag: چھٹیاں

  • این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی شرکت کی، اجلاس میں چھٹیوں کے حوالہ سے بات چیت کی گئی،اجلاس میں . یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے موسم سرما کی تعطیلات 3 جنوری 2022 سے شروع ہوں گی (ماسوائے انتہائی موسمی حالات یا دھند سے متاثرہ علاقوں کے)۔اس ضمن میں صوبائی ادارے بھی مطلع کریں گے۔

    یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں طالب علموں میں زیادہ سے زیادہ ویکسین لینے کے لیے لیا گیا ہے، تا کہ تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کی ویکسین لگائی جا سکے، ابھی تک لاکھوں طالب علموں کو ویکسین نہیں دی گئی، اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بچے انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    این سی او سی اجلاس میں والدین سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو جلد از جلد ویکسین لگوائیں تاکہ ان کی اور ان کے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میں جنوری میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول کرنا سمجھداری کی بات ہو گی تاکہ اومیکرون کیسز کا بھی پتہ چل سکے

    قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سربراہ این سی او سی اسد عمر سے ملاقات کی، وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ سردی زیادہ ہو رہی ہے، لوگوں نے چھٹیوں کے حوالے سے پلان کیے ہوتے ہیں، چھٹیاں 20 دسمبر سے کرنی چاہئیں، ہماری سفارش ہے کہ 20 دسمبر سے موسم سرما تعطیلات کریں سربراہ این سی او سی کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین کا عمل جاری یے، اومی کرون کے کیسز پاکستان میں تصدیق ہونا شروع ہو چکے ہیں، این سی او سی نے اومی کرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں ویکسین جاری رکھنے کی ہدایت دی، تین ہفتوں میں کورونا پھیلنے کا خدشہ ہوتا، جب سکول کھلیں گے تو اومی کرون پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہو گا،ا ومی کرون خطرناک نہیں البتہ پھیلاؤ کے پیش نظر احتیاط بہت ضروری ہیں ,سربراہ این سی او سی نے کہا کہ 20 دسمبر سے چھٹیاں ہوں تو دوبارہ ادارے کھلنے پر اگر کورونا پھیلے گا تو دوبارہ ادارے بند کرنا پڑ سکتے ہیں، این سی او سی حکام سے معاملہ پر بات کروں گا

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟

    مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سموگ کے تدارک کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے سکول بند کرنے کی عدالت کو کروائی یقین دہانی

  • مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف
    لاہور:چُھٹیاں 25 دسمبر کونہیں 20 دسمبرکو:اگراعلان نہ ہوا توحکم دے دیں گے:ہائی کورٹ ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    تفصیلات کے مطابق عدالت نے مارکیٹس بھی جلد بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی تو اسموگ کی شدت میں اضافہ پر عدالت نے اظہار تشویش کیا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرے، اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    عدالت نے باربی کیو کی دکانیں جلد بند کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فورا دکانیں بند نہیں کی جا سکتیں اس پر دوسرا حل دیکھنا چاہیے۔ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سردی کی شدت میں اضافے سے گرل مچھلی اور باربی کیو کی فروخت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے لیکن اس کی وجہ سے دھویں کا اخراج بھی بڑھ گیا ہے اور اسموگ میں اضافہ ہورہا ہے ، لہذا دکانیں اور مارکیٹس جلد بند کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پوری دنیا میں مارکیٹس 6 بجے بند ہوجاتی ہیں۔ بازاروں کے اوقات کار کو کم ہونا چاہیے۔عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے پہلے ٹویٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پچیس دسمبر سے چُھٹیاں ہوں گی ، جس کے لیے صوبائی حکومتوں نے اس فیصلے پررضا مندی بھی ظاہر کی تھی ، اس فیصلے کے بعداعلان کیا گیا کہ چُھٹیاں واقعی پچیس دسمبر کو ہوں گی ، تاہم آج ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صورت حال بدلتی ہوئی نظرآتی ہے اورامکان ہے کہ اب پچیس دسمبر نہیں بلکہ بیس دسمبر کو بچوں اوراساتذہ کی موجیں لگ جائیں گی اور والدین پریشان ہوجائیں گے ،

  • پرائیویٹ سکول بچوں کی فیسوں اور صحت کے دشمن

    پرائیویٹ سکول بچوں کی فیسوں اور صحت کے دشمن

    قصور
    پرائیویٹ سکول و کالجز مالکان نے پنجاب گورنمنٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے بچوں کو چھٹیاں نہیں دیں بلکہ بچوں کو بغیر یونیفارم کے سکول آنے کا پابند کر دیا
    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے 20 دسمبر سے 5 جنوری 2020 تک بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرکے تمام سرکاری و نجی سکولوں کو پابند کیا گیا مگر قصور اور گردونواح میں قائم چند ایک نجی سکول و کالجز نے گورنمنٹ کے حکم کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور مذید ظلم کی انتہا کہ کچھ پرائیویٹ سکول تو بچوں کے باقاعدہ سالانہ امتحانات بھی لے رہے ہیں قانونی اور کاروائی سے بچنے کیلئے سکول و کالجز مالکان نے بچوں کو سخت احکامات دیئے ہیں کہ سکول و کالجز لازمی آئیں مگر بغیر یونیفارم کے آئیں تاکہ کسی بھی قسم کے چھاپے کی صورت میں ٹیوشن کا بہانہ بنا کر قانونی کاروائی سے بچا جا سکے
    گورنمنٹ نے سخت سردی و دھند کی بدولت چھٹیاں دی ہیں تاکہ بچے موسمی اثرات سے بچ سکیں اور ان کی صحت پر برے اثرات نا پڑیں مگر ہوس اور رینکنگ کے مارے پرائیوٹ سکول و کالجز نے بچوں کی جسمانی و دماغی صحت کو داءو پر لگا رکھا ہے
    بچوں کے والدین نے ایسے سکول و کالجز مالکان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ہم بچے پڑھنے نہیں بیجھتے تو ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ آپ کے بچوں کو سکول و کالجز سے نکال دیا جائے گا
    لہذہ وزیر تعلیم و وزیر اعلی پنجاب نوٹس لے کر ڈی سی و تحصیلوں کے اے سی صاحبان کو حکم دیں کے ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے