ملک بھر میں،نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و شہداء کربلا کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، اس موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی اور فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔
کراچی، لاہور، راولپنڈی، حیدرآباد، فیصل آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،شہر بھر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر بڑی تعداد میں پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیے جائیں گے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کراچی کی 642 امام بارگاہوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے لیے 4 ہزار 994 پولیس افسران اور ہلکار تعینات ہوں گے جلوس کی سیکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کنٹرول رومز قائم ، سرچ اینڈ اسکواڈ اورعمارتوں پراسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ، پوسٹ انسیڈنٹ رسپانس ٹیمیں بھی فرائض انجام دیں گی،مرکزی جلوس کے تمام روٹس سے ملحقہ سڑکوں کو مکمل طور پر بند رکھا جائے گا شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کر دیا گیا جبکہ نشتر پارک اور اطراف میں بھی غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود رہتے ہوئے پیٹرولنگ، اسنیپ چیکنگ اور پکٹنگ کو مزید سخت کریں حساس تنصیبات، عوامی مقامات اور اہم عمارتوں پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہےشہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی مزید مربوط بناتے ہوئے چیکنگ اور سرچنگ کے عمل کو مؤثر بنایا گیا ہے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے جلوسوں اور اہم مقامات پر سوئپنگ اور کلیئرنس کا عمل مکمل کیا جائے گاایڈوانس انٹیلیجنس کلیکشن اور اس کی تھانہ سطح پر فوری شیئرنگ کو بھی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے-
دوسری جانب اسلام آباد میں چہلم کا مرکزی جلوس امام بارگاہ اثناء عشری جی 6 میں ختم ہوگیاپشاور میں چہلم کا جلوس امام بارگاہ حسینیہ ہال صدر سے برآمد ہوا جبکہ لاہور میں امام حسینؓ کے چہلم کا مرکزی جلوس صبح حویلی الف شاہ اندرون دہلی گیٹ سے برآمد ہوگا اور کربلا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوگا،شہدائے کربلا کے چہلم پر کوئٹہ میں قائدآباد، گوالمنڈی اور بروری کے علاقوں میں آج موبائل فون سروس معطل رہے گی،حیدرآباد میں چہلم پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، حیدرآباد، مٹیاری، دادو، سجاول، ٹنڈو اللہ یار، ٹھٹھہ، جھرک میں ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔


