Baaghi TV

Tag: چیئرمین نیب

  • نیب افسران نے "اجتماعی زیادتی”کی،طیبہ گل کا بیان ریکارڈ،سابق چیئرمین نیب طلب

    نیب افسران نے "اجتماعی زیادتی”کی،طیبہ گل کا بیان ریکارڈ،سابق چیئرمین نیب طلب

    سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی طیبہ گل ایک بار پھر سامنے آ گئی، طیبہ گل نے ادارہ محتسب برائے خواتین میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے جس کے بعد سابق چیئرمین نیب کو طلب کر لیا گیا ہے

    طیبہ گل نے 2022 میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال اور دیگر کے خلاف درخواست دائر کی تھی، تا ہم انکا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا، درخواست پر اب بیان ریکارڈ کیا گیا ہے، طیبہ گل نے اپنے بیان میں ایک پھر سابق چیئرمین نیب پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے،طیبہ گل کی درخواست پر سماعت ایک سال بعد ہوئی، چیئر پرسن ادارہ محتسب برائے تحفظ خواتین فوزیہ وقار نے طیبہ گل کی درخواست پر سماعت کی،

    درخواست گزار طیبہ گل نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے درخواست سننے کے لیے غیراخلاقی حرکات کرنے کا کہا،جاوید اقبال نے بلیک میل کیا، غیر اخلاقی حرکات نہ کرنے پر کیس نہ سننے کی دھمکی دی ،شہزادسلیم نے جاوید اقبال کے کہنے پر مجھ پر جھوٹا مقدمہ بنایا اور مجھے گرفتار کیا، نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر وغیرہ نے گرفتار کیا اور لاہور لے کر گئے جہاں ہراساں کیا گیا، عمران ڈوگر نے دیگر نیب افسران کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بنائی،میرے شوہر کو خاموش رہنےکا کہا گیا ورنہ ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی گئی، جاوید اقبال، شہزاد سلیم، عمران ڈوگر اور دیگر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

    طیبہ گل نے اپنا بیان ادارہ محتسب اسلام آباد برائے خواتین میں قلمبند کرایا جس پر ادارہ محتسب برائے خواتین نے طیبہ گل کی جانب سے لگائے گئے الزامات ریکارڈ کر لیے اور سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال سمیت 12 افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاادارہ محتسب برائے خواتین کی جانب سے سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم اور نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون طیبہ گل کے الزامات پر اپنا جواب ریکارڈ کرائیں
    درخواست گزار خاتون طیبہ گل کے الزامات پر اپنا جواب ریکارڈ کرائیں

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • ہر چیز کی ایک ڈومین،اگر یہ سب ہونا  تو پھر عدالتوں کو بند کریں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہر چیز کی ایک ڈومین،اگر یہ سب ہونا تو پھر عدالتوں کو بند کریں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں طیبہ گل ہراسگی کیس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین، ڈی جیز نیب کی طلبیوں اور سفارشات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے وکیل ایس اے رحمان ،نیب کی جانب سے جہانزیب بھروانہ ، رافع مقصود اورجسٹس (ر)جاوید اقبال کی جانب سے وکیل شعیب صدیقی و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبا ل دوگل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے پاس رولز کے تحت طلبی کا اختیار ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بھیجے گئے نوٹسز عدالت کو سنائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ طیبہ گل کی شکایت پر چیئرمین نیب کو بلایا کہ فنڈ غلط استعمال ہوتا ہے؟ کمیٹی بلاتی ہے مگر براہ راست چیئرمین کو نہیں بلا سکتی، ہمیں بھی نوٹسزآتے ہیں مگر رجسٹرار کو بلایا جاتا ہے اوروہ جاتے بھی ہے،طیبہ گل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیوں گئیں؟ ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کیوں نہیں گئیں؟ آپ پی اے سی کو کہیں گے کہ عدالت میں زیرسماعت کیسز میں مداخلت کرے؟پی اے سی کااختیار نہیں کہ کسی کی درخواست پر ادارے کے سربراہ کو بلائے،اگر شکایت یہی تھی کہ فنڈز میں خوردبرد ہورہی ہے تو ایف آئی اے کےپاس جانا چاہئے تھا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ میں کہتا ہوں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو چیئرمین نیب کو نہیں بلانا چاہئے تھا،عدالت نے استفسار کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کون سمجھائے گا کہ ان کا اختیار کیا ہے؟ ہم نے اٹارنی جنرل سے بھی کہا تھا کہ ان کو سمجھائیں مگر سمجھتا کون ہے؟اگر یہ سب ہونا ہے تو پھر عدالتوں کو بند کریں،ایڈیشل اٹارنی جنرل نے کہاکہ رولز 27میں کمیٹی کے پاس بلانے کااختیار ہے،عدالت نے کہاکہ رولز کے تحت کمیٹی بلا سکتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ڈائریکٹ چیئرمین کو بلائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ دوگل صاحب آپ ماشاللہ سے بڑے قابل لاء افسر ہے،آپ جانتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک ڈومین ہوتی ہے،اس کا مطلب کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سول اور کرمنل کیسز کو بھی لکھ سکتی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ یہ تو پھر قتل اور زمینوں پر قبضے کے کیسز میں بھی طلبی کر سکتی ہے،عدالت نے کہاکہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایساہی چلتا رہے، تو چلنے دیں پھر، ہمارا کام تو ختم ہوجائے گا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ایک غلط پریسڈینٹ سیٹ کر رہی ہے ایسا نہ کریں، پارلیمنٹ کا قانون ساز اپنا کام کرتا نہیں اور باہر کام کا شوق ہوتا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ایسے معاملات اکثرذاتی عناد کی وجہ سے ہوتے ہیں،عدالت نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جس کو بلایا وہ چائے کے کپ کیلئے نہیں بلکہ ایک مقصد سے بلایا، نیب ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے نوٹسز یہاں چیلنج ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ طیبہ گل کیس جب زیرسماعت تھا تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بلا سکتی تھی، یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جانا چاہئے تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ سول جج کے اختیارات آرٹیکل 190سے زیادہ ہیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کادائرہ اختیار قانون میں واضح ہے،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کرسکتی۔

    عدالت نے طیبہ گل ہراسگی کیس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار ،چیئرمین، ڈی جیز نیب کی طلبیوں اور سفارشات کے خلاف کیس ،جسٹس (ر)جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں، نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنائینگے، چیئرمین نیب

    کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں، نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنائینگے، چیئرمین نیب

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ ہمیں جرم کا خاتمہ کرنا ہے، ملزم کا نہیں

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ر نزیر احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن بڑھتی جا رہی ہے نیب افسران کم سے کم وقت میں کیسز نمٹائیں کرپشن کیسز میں ریکوریز بڑھ رہی ہیں نیب قوم کا اعتماد حاصل کرکے رہے گا ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی ساکھ بحال کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں،

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ر نزیر احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا ادراک ہے،متاثرین کی مدد کیلئے نئی پالیسی بنا رہے ہیں، دھوکا دہی کے متاثرین کی رائے مد نظر رکھ کر پالیسی مرتب کی جائے گی بد عنوانی کے خاتمے میں ہمارا کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنا کر دم لیں گے ہمیں ادارے کو عقوبت خانہ نہیں بنانا، ہم تمام قوانین کا جائزہ لے رہے ہیں اور تین ماہ میں مؤثر قانون سازی کرکے جرائم کا خاتمہ کریں گے البتہ کوشش ہوگی ہم خاموشی کے ساتھ کریں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا جس کی وجہ سے نیب کی توجہ اپنے اہداف سے ہٹ گئی تھی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا آغاز لاہور سے ہوگا سزا و جزا عدالت کا کام ہے نیب کی بنیادی ذمہ داری قانون میں کمی کو پورا کرنا بھی ہے

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • چیئرمین نیب کی پی اے سی طلبی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    چیئرمین نیب کی پی اے سی طلبی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    چیئرمین نیب کی پی اے سی طلبی کیخلاف نیب کی متفرق درخواست 21 جون کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں قائم مقام چیئرمین نیب کی چیئرمین پی اے سی کی طرف سے طلبی کو چیلنج کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا 21 جون کو کچھ اور کیسز بھی سماعت کیلئے مقرر ہیں نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ 21 جون کو ملازمین کی بحالی، تنزلی کے کیسز ہیں، ہماری درخواست کو الگ سنا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست کو 21 جون کو الگ سن لیں گے

    عدالت نے نیب کی جلد سماعت کی متفرق درخواست21 جون کو سماعت کیلئے مقررکردی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے رجسٹرار آفس کو نیب درخواست21 جون کو مقرر کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب درخواست پر احکامات جاری کئے عدالت نے نیب درخواست کو 21 جون کومقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • عمران خان نے چیئرمین نیب  کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے چیئرمین نیب کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر دی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نذیر احمد نے یکم مئی کو چھٹی والے روز وارنٹس گرفتاری جاری کئے، چھٹی والے روز جاری کئے گئے وارنٹس کو 8روز تک چھپائے رکھا انکوائری کو انویسٹی گیشن میں بدلنے کا بھی نہیں بتایا گیا۔

    آج ہی بتائیں کہ بشری بی بی کیخلاف کتنے کیسز درج ہیں؟عدالت

    عمران خان کی جانب سے چئیرمین نیب کے خلاف درخواست آرٹیکل 209 اور نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 کے تحت دائرکی گئی ۔

    واضح رہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو آج طلب کرلیا،نیب نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مرکزی ملزم عمران خان کو آج 11 بجے نیب راولپنڈی دفتر طلب کیا ہے۔

    عثمان بزدار،فرح گوگی اور بشری بی بی کے بیٹے سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ …

    چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب سوالنامے کے تمام سوالات کے جواب لانے کے ساتھ کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی،نیب نے عمران خان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبارہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب نے بشری بی بی کو بھی آج طلب کیا ہےنیب نے بشری بی بی کوبطور گواہ نوٹسزجاری کیے۔ نیب کی جانب سےعدالت میں بتایا گیاکہ بشری بی بی کی گرفتاری نہیں چاہیئےبشری بی بی سےالقادر ٹرسٹ کی دستاویزات رجسٹریشن اور ایچ ای سی سے رجسٹریشن سمیت ملنے والے عطیات کی تفصیل بھی طلب کی گئیں ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    نور عالم کی زیر صدرات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے کل چیئرمین نیب کو طلب کر لیا، کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سیکریٹری کمیٹی چیئرمین نیب کواجلاس میں شرکت کے لیے خط لکھیں،اربوں کھربوں کے کیسز پر چیئرمین نیب بریفنگ دیں، خیبرپختونخوا سمیت دیگر اہم کیسوں پر چیئرمین نیب بریفنگ دیں، میڈیا کے ذریعے بھی چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لیے آگاہ کر رہے ہیں،کل دن ڈیڑھ بجے پبلک اکاونٹ کمیٹی میں چیئرمین آکر بریفنگ دیں، کل کمیٹی اجلاس کا پہلا ایجنڈا نیب کی بریفنگ ہو گا،قوم کا ایک پیسہ لگا ہو اس کا حساب دینا ہوتا ہے، ایک ہاوسنگ ا سکیم میں گیس کیوں فراہم نہیں کی گئی؟ لوگ تیس تیس سال سے گیس سے محروم ہیں، گیس کی فراہمی سے متعلق ذمہ داران کا تعین کر کے رپورٹ طلب کرلی گئی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    پی اے سی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے تزئین و آرائش کے کام پر سوالات اٹھا دیئے ،جب سے کمیٹی روم میں مواصلاتی نظام میں مسائل کا سامنا، کمیٹی نےنوٹس لے لیا کمیٹی نے مواصلاتی نظام کی خرابی کی تحقیق کر کے رپورٹ طلب کر لی ،کمیٹی نے وقت پر ڈی اے سی کا اجلاس نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر سیکریٹری کام نہیں کرے گا تو متعلقہ وزیر کو بھی طلب کیا جائے گا،

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ذیلی کمیٹی کی کنوینئر شپ سے معذرت کر لی پی اے سی نے نواب وسان کو ذیلی کمیٹی کا کنوینئر بنا دیا

  • سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جان بچے گی نہیں ، شاہد خاقان عباسی

    سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جان بچے گی نہیں ، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کا سرکس ابھی تک چل رہا ہے ،نیب کا چیئرمین تو گھر چلا گیا، اس سے کوئی پوچھ گچھ کرے تو مختلف بہانے کر کے جان بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جان بچے گی نہیں ۔

    جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

    احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو ظلم ان لوگوں نے کیے ہیں ان کو جواب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے عدالت سے پوچھا کہ یہ بتائیں ہمارا جرم کیاہے، یہ پراسیکیوشن بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہر دوسرا لفظ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔شاہد قاخان عباسی نے کہا کہ میں نے عدالت سے پوچھا کہ کیا کسی جرم کے بغیر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ جس پیسے پر ٹیکس دیا ہو کیااس پر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکا جواب نیب کے پاس نہیں ہے۔

     

    پرویز الٰہی کی وفاقی وزرا اور حمزہ شہباز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

     

    انہوں نے کہا کہ اب سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی منی لانڈرنگ کاکیا ہوگا، وہ ثبوت بھی ابھی سامنے آئیں گے ،جو کرپشن اس نے کی ہے، جو منی لانڈرنگ اس نے کی ہے، جواس کے اثاثے ہیں،میرا چیلنج ہے کہ وہ اپنے اثاثے عوام کے سامنے رکھیں۔

    قائم مقام چیئرمین نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اختیارات عدالت میں چیلنج کردیے

     

    انہوں نے کہا کہ چار سال تک احتساب کے جھوٹے دعوے کرتے رہے، اگر آپ واقعی احتساب کے داعی ہیں تو اپنے اثاثے اس ملک کے عوام کے سامنے رکھیں ۔

  • کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کر کے ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کر کے ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نورعالم خان نے نیب کے قائم مقام چیئرمین ظاہر شاہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بی آر ٹی، بینک آف خیبر، بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ کیس دوبارہ کھول کر پی اے سی کو رپورٹ دی جائے۔ اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے میٹنگ سے جانے کی اجازت طلب کی جس پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ آپ کا اجلاس میں بیٹھنا ضروری ہے آپ کے ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھے ہیں، آپ کمیٹی سے نہیں جا سکتے

    انہوں نے قائم مقام چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ بی آر ٹی کرپشن ریفرنس کہاں گیا ؟ بینک آف خیبر کا کیا کیا؟ بلین ٹری سونامی کا کیا ہوا؟ مالم جبہ کا کیا کیا؟ جس پر ظاہر شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ مالم جبہ کیس بند ہو چکا ہے جس پر چیئرمین پی اے سی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہدایات دیتے ہیں کہ اس کیس کو ری اوپن کریں اور ہمیں رپورٹ دیں .چیئرمین پی اے سی نے پوچھا کہ انہیں کتنے وقت میں رپورٹ پیش کی جائے گی؟ جس پر ظاہر شاہ نے جواب دیا کہ 6 ماہ میں رپورٹ دیں گے نور عالم خان نے کہا کہ آپ کے پاس فائلیں تیار ہیں، سالوں سے یہ کیس پڑے ہوئے ہیں، بلین ٹری کیس کا کیا ہوا؟ اب تو لوگوں نے درخت جلانا شروع کردیے ہیں انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ان چاروں کیسز پر فوری تحقیقات کا حکم دیتی ہے

    سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں،مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہا کہ پی اے سی میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بلاکر ان کا موقف سنا جائے گا، برجیس طاہر نے کہا کہ سابق چیئرمین نیب کیوں نہیں آرہے،میں ایک سب کمیٹی پی اے سی کا کنوینئر تھا، ہیلی کاپٹر کیس میں بے نظیر بھٹو فاروق لغاری کو بلایا وہ آئے، اگر سابق صدر، ووزیر اعظم آسکتے ہیں تو سابق چیئرمین نیب کیوں نہیں آسکتے، چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میں تو سابق چیئرمین نیب کے وارنٹ جاری کرنا چاہتا تھا،ارکان پی اے سی نے کہا کہ جاوید اقبال اگر عید کے بعد آنا چاہتے ہیں تو ایک موقع دے دیں،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا، طیبہ گل کے معاملے پر قائم مقام چیئرمین نیب کو تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا گیا، اور کہا گیا کہ جلد تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں، رپورٹ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بھجوائی جائے گی، کاس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

  • عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب کے ساتھ نازیبا ویڈیو میں موجود خاتون سامنے آگئی

    سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی کو ویڈیو میں موجود خاتون نے انٹرویو دیا ہے، اس انٹرویو میں طیبہ گل نے انکشاف کیا کہ میں نے ویڈیو چیئرمین نیب کا اصل روپ دکھانے کیلئے بنائی مجھے انصاف تو نہیں ملا لیکن وزیر اعظم عمران خان وہی ویڈیو چیئرمین نیب کو دیکھا کر بلیک میل کرتے رہے اور عمران خان نے نیب سے ہیلی کاپٹر کیس اور مالم جبہ کیس ختم کروا لئے

    خاتون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے خلاف وزیراعظم کے شکایتی سیل ” سٹیزن پورٹل” پر داد رسی کے لئے شکایت اپلوڈ کی تھی۔ جس کے بعد اس سے وہ ثبوت لے کر ٹیلیویژن چینل پر چلائے گئے اور چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا۔ وہ ویڈیو امانت تھی، میں ویڈیو کو ٹی وی پر نہیں دینا چاہتی تھی، عمران خان اور اسکے حواریوں نے اس ویڈیو کو استعمال کیا اور ٹی وی پر چلوا دیا، اعظم خان نے کہا تھا کہ جو چیزیں آپ کے پاس ہیں وہ ہمیں دیں، میں نے تو ویڈیو تحقیقات کے لئے دی تھی، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ہماری ویڈیو ٹی وی پر چلوا دی گئیں، وہ ویڈیو عمران نیازی نے News one پر چلوا دی ، میرے ساتھ چیرمین نیب کی اور بھی ویڈیوز تھیں وہ ویڈیوز یو ایس بی میں تھی اور وہ یو ایس بی میں نے وزیر اعظم عمران نیازی کے سیکرٹری اعظم خان کو دے دیں تھیں

    ‏چیئرمین نیب کے ساتھ ناذیبا ویڈیو میں موجود طیبہ گل نے مزید بتایا کہ شاہزیب خانزادہ نے پروگرام کیا تھا میں نے کچھ حقائق بتائے تھے، نیب کے کیس کے خلاف چارج شیٹ بنتی ہے، میں اور میرا شوہر ڈیڑھ ماہ وزیر اعظم ہاؤس رہے اور کہیں آتے جاتے تھے وہ سب خرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اٹھایا،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کی کردار کشی کرنیوالے سائبر کرائم کے ماہر، انڈیا اور افغانستان میں رابطے، حیران کن انکشافات

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    سلیم صافی نے سوال کیا کہ لوگ کیسے یقین کر کیں کہ عمران خان نے آپ کو انصاف دینے کی بجائے، آپ کے دیے ہوئے مواد کو اپنے حق میں استمعال کیا ، جس پر خاتون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو بھیجے گئے میسج کا ثبوت موجود ہے، ہم نے تو حکومت سے انصاف مانگا تھا لیکن انہوں نے کوئی انصاف نہیں دلوایا، ،عمران خان اور اعظم خان کیا میری بات سنتے، انہوں نے اسی ویڈیو کو استعمال کیا، پرویز خٹک، مالم جبہ کیس ختم ہو گئے،انہوں نے اس ویڈیو سے بے شمار فائدے اٹھائے، ایک کیس اٹھا کر بتا دیں جو انکے خلاف چلا ہو، چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا، ہماری عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی ہے، کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں، وعدہ کیا جاتا تھا کہ انصاف ملے گا لیکن میں تین سال سے انصاف کی جنگ لڑ رہی ہوں، مجھے کیا انصاف دیتا تھا اپنے کیس بند کروا دیئے، یہ تقاضا ہوتا تھا کہ کچھ اور ہے تو دیں، میں پھر ان پر ٹرسٹ نہیں کر سکی اور ملنا چھوڑ دیا

  • چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    اسلام آباد : چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس اطہرمن اللہ سے مشاورت کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کے لیے شہری محمد فہد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    گستاخانہ بیانات: آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر…

    درخواست میں میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ 2001 میں بھی سپریم کورٹ نے سیکشن 6 میں ترمیم کرکے چیف جسٹس کی مشاورت کا کہا، 20 سال گزرنے کے باوجود نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میں ترمیم نہ کی جا سکی-

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ وزارت قانون کو چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں ترمیم کی ہدایت کی جائے اور چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کے بغیر نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے روکا جائے۔

    درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےکہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ عدالت پارلیمنٹ کوہدایات نہیں دے سکتی اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی صرف آبزرویشن تھی، سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا اس کے بعد کافی فیصلے آچکے۔