Baaghi TV

Tag: چیئرمین نیپرا

  • کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے علاقوں میں ہلاکتوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ کےالیکٹرک کے سروس ایریا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے 2023-24 میں شہریوں اور بجلی کمپنیوں کے ملازمین کی ہلاکتوں کا ڈیٹا جاری کردیا گیا ہے۔نیپرا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں بجلی کمپنیوں کے زیرانتظام علاقوں میں 140 مہلک حادثات ہوئے، کےالیکٹرک کے سروس ایریا میں سب سے زیادہ 34 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کےالیکٹرک کے انتظامی علاقوں میں 32 شہری اور 2 ملازمین کی ہلاکتیں ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں آئیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں 26 ہلاکتیں ہوئیں، پیسکو 20، لیسکو 18 اور گیپگو کے زیر انتظام علاقوں میں 9 حادثات ہوئے۔اس کے علاوہ حیسکو9، کیسکو 9 اور فیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں 7 حادثات ہوئےجبکہ سیپکو 5 اور میپکو کے زیر انتظام علاقوں میں 3 اموات ہوئیں۔

    ٹھٹھہ: فش فارم مالکان کو سرکاری فیس کی وصولی کے نوٹسز جاری

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

  • کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ملک میں انارکی ہوگی، نیپرا

    کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ملک میں انارکی ہوگی، نیپرا

    نیپرا حکام نے کہا ہے کہ اگر کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے تو ملک میں انارکی ہوگی اور کے الیکٹرک کو ہٹا دیا جائے تو معاملات کون سنبھالے گا۔ک

    باغٰ ٹہ وی کی رپورٹ کے مطابق ے الیکٹرک کی فی یونٹ 51 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے اتھارٹی میں سماعت کی۔حکام نیپرا نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اگست 2024 کے لیے 853 ملین فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافہ مانگا ہے، جس پر کے الیکٹرک نے کہا کہ مارچ کی نسبت اگست میں 14 فیصد بجلی کھپت میں اضافہ ہوا۔ممبر نیپرا نے سوال کیا کہ ریفرنس کی نسبت کے الیکٹرک کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا سی پی پی اے کی ڈیمانڈ میں کمی اور کے الیکٹرک کی ڈیمانڈ میں اضافہ کیسے ہوا کے الیکٹرک نے جواب دیا کہ کراچی میں بارشیں نہ ہونے کے باعث بجلی کھپت میں سی پی پی اے کی نسبت اضافہ ہوا۔

    دوران سماعت، کراچی کے صارفین مہنگی بجلی پر کے الیکٹرک پر برس پڑے۔نمائندہ جماعت اسلامی نے کہا کہ کے الیکٹرک نے مہنگی بجلی بنانے کی روایت کو قائم رکھا، کے الیکٹرک کا جنریشن کا لائسنس کینسل کیا جائے تاکہ بجلی سستی مل سکے، کے الیکٹرک اپنے 40 سال پرانے ناکارہ پاور پلانٹس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں، کے الیکٹرک اس وقت 200 سے 300 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کر رہی ہے۔نمائندہ جماعت اسلامی نے کہا کہ مہنگی بجلی کے باوجود کراچی بھر میں گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، کے الیکٹرک معاہدے کے مطابق طے شدہ سرمایہ کاری نہیں کر رہا جبکہ نیپرا اتھارٹی اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے، کراچی کے صارفین کو نئے کنکشنز لینے میں بھی بہت مشکلات ہیں۔نمائندہ انڈسٹری نے کہا کہ صنعتوں میں بجلی کھپت میں کمی کی وجہ کے الیکٹرک کی مہنگی بجلی ہے، کے الیکٹرک کو چاہیے کہ وہ خود بنانے کے بجائے سی پی پی اے سے سستی بجلی لے، کے الیکٹرک صارفین کی شکایات اور درخواستوں کو بھی سنجیدہ نہیں لیتی۔

    یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دیا ، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علی خورشیدی

    الطاف حسین کی صاحبزادی کا پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ

    نیپرا حکام نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر کے الیکٹرک کو شو کاز جاری کیا ہے، نیٹ میٹرک کے معاملے پر آج(جمعہ) سماعت کی جائے گی۔صارف نے کہا کہ کے الیکٹرک نے جو ادائیگیاں کرنی ہیں اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ نیپرا اتھارٹی نے بے شمار چیزوں پر کے الیکٹرک کو جرمانے کیے ہیں، نیپرا اتھارٹی کے کیے گئے جرمانے وصول ہی نہیں ہوتے اس لیے اسکا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا، اگر کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے تو ملک میں انارکی ہوگی، اگر کے الیکٹرک کو ہٹا دیا جائے تو معاملات کون سنبھالے گا ممبر نیپرا نے کہاکہ ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ نیپرا اتھارٹی اپنا کام نہیں کر رہی، نیپرا سے اوپر کے فورمز پر اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے اور نیپرا اتھارٹی اسٹے آرڈرز پر کچھ نہیں کر سکتی، کے الیکٹرک نے عوام کا اربوں روپے دینا ہے وہ کیس کورٹ میں ہے نیپرا اتھارٹی کیا کرے۔

  • بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن خریدنے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں،چئیرمین نیپرا

    بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن خریدنے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں،چئیرمین نیپرا

    کراچی: چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاکستان بھر میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مقابلہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ہے لیکن مقابلہ کہیں نظر نہیں آرہا-

    باغی ٹی وی : چیئرمین نیپرا توصیف حسن فاروقی نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کے ای سمیت پاکستان بھر میں پاورڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی پرکہا ہے کہ ’کے ای‘ نجی ادارہ ہونے کے ناتے دیگر ڈسکوز کے مقابلے میں بہتر ہے جو ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو 40 فیصد سے کم کر کے 15.5 فیصد تک لایا ہے لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ’کے ای‘ بجلی کی پیداوار کو بہتر نہیں بناسکا۔

    بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں،حافظ نعیم الرحمان

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ’کے ای‘ کی اجارہ داری جولائی 2023ء تک ختم ہو جائےگی اور سی ٹی بی سی ایم کراچی کے تاجروں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے پاور پلانٹس لگا کر یا اپنی مرضی سے کسی اور پاورپروڈیوسرسےبجلی حاصل کر سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کمپیٹیٹیو ٹریڈنگ بائلٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی) پاکستان کی ہول سیل الیکٹریسٹی مارکیٹ کھولنے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتا ہے جس کا مقصد بجلی کے بلک صارفین کو ڈسکوز یا اپنی پسند کے مسابقتی سپلائر سے بجلی خریدنے کا انتخاب فراہم کرتا ہے پاکستان اس وقت توانائی کی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے کیونکہ پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود ملک بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن خریدنے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں۔

    چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کی جانب سے بند صنعتوں سے وصول کیے جانے والے فکسڈ چارجز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ متعلقہ قوانین کے تحت ایسی تمام بند صنعتوں کے پاس کنکشن منقطع کرنے کے لیے درخواست دینے کا اختیار ہے جس سے وہ فکسڈ چارجز سے بچ جائیں گی۔کے ای ان صنعتوں سے درخواست موصول ہونے پر کسی بھی وقت سیکیورٹی ڈپازٹ اور سسٹم ڈیولپمنٹ چارجز کے بغیر انہیں دوبارہ کنکشن بحال کرنے کا پابند ہے۔

    بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں،حافظ نعیم الرحمان

    چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے موجودہ نرخ بھارت، بنگلادیش، سری لنکا، ویتنام اورکمبوڈیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔بجلی کے نرخ بنگلادیش میں 22 فیصد کم ہے جبکہ گیس میں یہ پاکستان کے مقابلے میں 30 سے 32 فیصد سستی ہے جس کی وجہ سے ہم مقابلہ کرنے اور اپنی برآمدات بڑھانےسےقاصر ہیں اگرانرجی ٹیرف کوبنگلادیش کے برابر لایا جائےتوپاکستان کی برآمدات 60 ارب ڈالر سے کم نہیں ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 23000 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے جبکہ تھر سے جلد ہی مزید 1300 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی اور سولر، ونڈ اور ہائیڈل وسائل سے بجلی کی پیداوار میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اس منظر نامے میں پیک آور ٹیرف وصول کرنا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

    قبل ازیں صدر کے سی سی آئی طارق یوسف نے چیئرمین نیپرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ گردشی قرضہ 4000 ارب روپے سے زائد کی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نےفلورملوں کوگندم کایومیہ سرکاری کوٹہ بڑھاکرڈبل کردیا

  • لوگ بل دیتے ہیں انہیں بجلی تو دیں، بجلی کی لوڈ شیڈ نگ پر چیئرمین نیپرا سی ای او آئیسکو  پر برہم

    لوگ بل دیتے ہیں انہیں بجلی تو دیں، بجلی کی لوڈ شیڈ نگ پر چیئرمین نیپرا سی ای او آئیسکو پر برہم

    اسلام آباد: بجلی کی لوڈ شیڈںگ پر چیئرمین نیپرا نے سی ای او آئیسکو پر برہمی کا اظہار کیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کے لیے نیپرا میں سماعت ہوئی سی ای او آئیسکو ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ آئیسکو کے بجلی نقصانات سب سے کم ہیں، ہماری وصولیوں کی شرح بھی سب کمپنیوں سے اچھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا دادو واقعہ پر حکومتی رسپانس کی سست روی کا اعتراف

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کے لیے پانچ سال کی کارکردگی دیکھیں گے، تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں پانچ سالہ کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں، آپ کہتے ہیں آئیسکو سب سے اچھی کمپنی ہے۔

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ میری بیوی نے کہا کل بجلی آٹھ مرتبہ گئی، آپ چیئرمین نیپرا ہیں، اگر آپ کا یہ حال ہے تو باقی کا کیا حال ہوگا جبکہ رات میرے سامنے بھی میرے گھر کی بجلی دو بار گئی، لوگ بل دیتے ہیں انہیں بجلی تو دیں۔

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم نے کراچی میں دو لاکھ 16 ہزار کھمبوں کی ارتھنگ کرائی، آئیسکو سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں بھی ارتھنگ کے عمل پر کام تیز کریں، بجلی تقسیم کار کمپنیاں اپنی وصولیوں کی تفصیل جمع کرائیں، جس کمپنی کے پاس تفصیل نہیں وہ تفصیلات منگوالیں۔

    واضح رہے کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے گرمی اور رمضان کے دوران کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہنے سے عوام پریشان ہے اور شکوہ کر رہی ہے کہ بجلی کے بھاری بھرکم بل تو آتے ہیں لیکن بجلی نہیں آتی۔ ادھر تاجر اور درزی بھی وقت پر آرڈر مکمل نہ کرنے سے مشکلات کا شکار ہیں۔

    پاکستان کا واحد ہسپتال تعمیراتی مراحل میں لینٹر تک

    دوسری جانب لیسکو حکام نے بجلی کا کوٹہ فوری بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ ترجمان کےالیکٹرک کا کہناہے کہ نیشنل گرڈ سے 300 میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے، چند علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ عارضی طورپربڑھا دیاگیا ہے۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ بجلی کے بحران کے حل کے لیے میٹنگز ہوئی ہیں، 6 سے7 ہزارمیگاواٹ بجلی اس لیےنہیں بنائی جارہی کہ پاور پلانٹس کوفیول نہیں ملا، سندھ بھرمیں 10سے12 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے گزشتہ حکومت کہتی رہی کہ بجلی سسٹم میں موجود ہے آج پوچھتا ہوں کدھر ہے بجلی ؟ سابق وزیر فواد چودھری نے کہا اسٹیبلشمینٹ سے نہ بن سکی اس لیے حکومت ختم ہوئی پی ٹی آئی حکومت صرف ان کی نا اہلی سے گئی فیڈرل اور صوبائی گورنمنٹ دونوں کے لیے لوڈ شیڈنگ ایک بڑا چیلنج ہے، ایک پاور پلانٹ جو میرٹ آرڈر میں سب سے اوپر ہے اور سستی بجلی دیتا ہے، یہ پلانٹ سستی بجلی دے رہا ہے جس سے کے الیکٹرک بجلی لیتی ہے۔

    کوورنا قوانین کی خلاف ورزی: دبئی سول ایوی ایشن کا پی آئی اے پر بھاری جرمانہ عائد

  • کراچی والوں کی لوڈشیڈنگ سے جان کب چھوٹے گی؟ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس

    کراچی والوں کی لوڈشیڈنگ سے جان کب چھوٹے گی؟ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس

    کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں کئی چیئرمین نیپرا سے کئی اہم امور پر بات چیت کی گئی –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے چیئرمین نیپرا توصیف حسین فاروقی کی اپنے دفد کے ہمراہ ملاقات کی- وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کرنے والےوفد میں ممبر سندھ رفیق شیخ، ممبر بلوچستان رحمت اللہ بلوچ اور ممبر کے پی ٹی بہادر شاہ شامل تھے-
    وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ وزیر توانائی امتیاز شیخ اور پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو شریک ہوئے-

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم یہاں اجلاس کر رہے ہیں اور آپ نے ٹیرف بڑھا دیا- ابھی نیا ٹیرف 1.53 روپے فی یونٹ بڑھایا گیا ہے-
    زیادہ ٹیرف کے باعث لوگ بل ادا نہیں کر پارہے ہیں- لوگوں کو بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے بھیک مانگتے ہم نے دیکھا ہے- پاکستان خاص طور پر سندھ کے غریب عوام پر بجلی کے ہائی ریٹ کا بوجھ نہیں ڈالیں-

    چیئرمین نیپرا نے کراچی میں بجلی کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی چوری بھی کافی ہے- جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجلی کی چوری روکنے کیلئے حیسکو اور سیپکو کو ٹھیک کرنا ہوگا- سندھ میں لوڈشیڈنگ کابڑا عذاب ہے- اب گرمی آ رہی ہے لوڈشیڈنگ کو ہر حال میں کنٹرول کرنا ہوگا- بڑھتی لوڈشیڈنگ ہمارے لیئے امن امان کی صورتحال پیدا کرتی ہے-وزیراعلیٰ سندھ نے نیپرا چیئرمین کو کہا کہ بل اور لوڈشیڈنگ میں سندھ کے عوام کو رلیف دی- جب تک رلیف نہیں دیا جائے گا عوام تکلیف میں رہیں گے-وزیراعلیٰ سندھ نے ونڈ اور سولر پروجیکٹس کے ٹیرف کے پڑے کیسز کو جلد حل کرنے کیلئے بات کی- نیپرا ونڈ اور سولر طے کریں گی تو سندھ میں مزید پروجیکٹس لگائیں گے- چیئرمین نیپرا نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہر طرح کی معاونت کی یقین دہانی کرائی حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک جس علاقے سے ادائیگی کم ہوتی ہے تو پورے علاقے کی بجلی بند کرتے ہیں-یہ ظلم ہے اور جو بل ادا کرتا ہے اس کو سزا دینے کے مترادف ہے- یہ بلکل ٖغلط ہے، ہم اس کو ٹھیک کرینگے-