Baaghi TV

Tag: چیئرمین پی ٹی آئی

  • چیئرمین پی ٹی آئی اور  شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی: آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں کیس کی سماعت جج ابوالحسنات نے کی ،دوران سماعت سائفر کیس کا چالان جمع ہونے کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے نوٹس جاری کردیے-

    جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیئے کہ گواہان کے بیانات ملزمان کو نوٹس جاری کرنے کے لیے کافی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی کے حوالے سے سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کیاجاتاہے، سپرنڈنٹ اڈیالہ جیل 4 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرے-

    عمران خان سائفر کیس:ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ ..

    دوسری جانب پی ٹی آئی وکیل خالدیوسف کی جانب سے دائر سائفرکیس کے نقول فراہم کرنے کی درخواست منظور کرلی گئی ،عدالتی عمل نے کہا کہ سائفرکیس کے نقول کی کاپیاں فراہم کرنے کے لیے ایک دن درکار ہوگا، عدالتی عملے نے وکیل خالدیوسف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چالان کے نقول پرسوں فراہم کردی جائیں گی-

    90 روزمیں الیکشن نہ کروانے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

  • کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق پچاسویں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں ، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب گڈ ٹو سی یو ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے عدالت کے دو منٹ چاہیے ،میرے حوالے سے خبر میں کہا گیا کہ میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عدالتی حکم کا حصہ ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے متعلقہ حکم پڑھنا چاہتا ہوں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجھ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں غلطیوں کا اعتراف منسوب کیا گیا، آٹھ جون کے عدالتی حکم کے مطابق میں نے کہا تھا دو قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کی دو شقیں ایک جیسی تھیں، ریویو ایکٹ کیس پر سماعت شروع ہوئی تو پارلیمان نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو ایکٹ کیس پر عدالتی فیصلہ اگست کے دوسرے ہفتے میں آیا ہے، قانون میں ترمیم نہ کرنے کی یہ دلیل قابل قبول نہیں، پارلیمان قانون سازی میں کافی مصروف رہی، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل شاید پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں چیف جسٹس کو ربڑسٹیمپ بنایا گیا، میڈیا میں کیا رپورٹ ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں نے کہا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجراور ریویو ایکٹ اوورلیپ کرتے ہیں، میرے سامنے اخبار ہے جس میں مجھ سے منسوب بات چھپی ہے، خبر کے مطابق مجھ سے منسوب کیا گیا میں نے نقائص تسلیم کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی انگریزی اخبارات میں خبر رپورٹر کے نام سے شائع کیوں نہیں کی جا رہی، معلوم نہیں کیا یہ کوئی سنسر شپ کا نیا طریقہ آیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے تو تسلیم کیا قوانین میں مطابقت نہیں، جو قانون سازی کی گئی اس سے چیف جسٹس پاکستان کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان ریویو ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی ہر بات مانیں گے مگر یہ بات تسلیم نہیں کریں گے، کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،

    نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے فہرستیں طلب کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم کے بعد کتنے کیسز عدالتوں سے واپس ہوئے فہرست فراہم کی جائے، ایک فہرست نیب جمع کرا چکا ہے لیکن اسے مزید اپڈیٹ کر کے دوبارہ جمع کرائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ نئے نیب قانون میں کون سی ایسی پرانی شقیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے نیب قانون میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں،نیب قانون کی وجہ سے کئی لوگوں نے بغیر جرم جیلیں کاٹیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، نیب ترامیم سے کئی جرائم کو ختم کیا گیا کچھ کی حیثیت تبدیل کی گئی،نیب ترامیم سے کچھ جرائم کو ثابت کرنا ہی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کم سے کم حد پچاس کروڑ کرنے سے کئی مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے، نیب ایک ہی ملزم پر کئی مقدمات بنا لیتا ہے جن میں سینکڑوں گواہان ہوتے ہیں،سیکڑوں گواہان کی وجہ سے نیب مقدمہ کئی کئی سال چلتے رہتے ہیں،اصل چیز کرپشن کے پیسے کی ریکوری ہے، ریکوری نہ بھی ہو تو کم از کم ذمہ دار کی نشاندہی اور سزا ضروری ہے،یہ درست ہے کہ نیب قانون میں کئی خامیاں ہیں اور اس کا اطلاق بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں اب تک انچاس سماعتیں کرچکی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے.  بلال اظہر کیانی

    عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے. بلال اظہر کیانی

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال کیانی نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ہم نے آئینی طریقے سے غیر آئینی وزیراعظم کو ہٹایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص مسلسل قوم سے جھوٹ بولتا رہا ہے جس نے اپنی سیاست کے لئے ریاست داؤ پر لگایا. البتہ اس شخص کو لانے کے لئے بھی آئین توڑا گیا تھا۔بلال کیانی کا مزیدکہنا تھا کہ سائفر بھی اس شخص کی آئین توڑنے کی کڑی تھی، عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے. یہی مہنگائی، بیروزگاری اور انتشار کی وجہ ہیں۔

    بلال کیانی کا مزیدکہنا تھا کہ سائفر بھی اس شخص کی آئین توڑنے کی کڑی تھی، عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے. یہی مہنگائی، بیروزگاری اور انتشار کی وجہ ہیں۔ بلاول اختر کیانی نے مزید کہا کہ 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اور اسی روز ہی سائفر آیا، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتا دیکھ کر 30 مارچ کو سائفر لہرایا گیا، اس جھوٹ کی تصدیق اعظم خان بھی کر چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ امریکی سائفر سے متعلق ہونے والی تحقیقات اور سابق بیورو کریٹ اعظم خان کے بیان کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی لیگل ڈیپارٹمنٹ کی رائے کے بعد کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی مقاصد کے لیے سائفر کا ڈرامہ رچایا تھا۔ دوسری جانب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

  • توشہ خانہ کیس،سات دن میں ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ

    توشہ خانہ کیس،سات دن میں ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کا فیصلہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا

    عدالت نے عمران خان کی درخواست مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا ،عدالت نے ٹرائل کورٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے دلائل پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا، عدلات نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ 7دن میں توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرے، ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قرار دینے کی درخواست مسترد کی تھی

    عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرلی، ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف ٹرائل قابل سماعت قراردیا تھا تاہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کی دوران سماعت کیس سے متعلق فیصلہ سنا دیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس ٹرائل کے خلاف درخواستیں دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

    پی ٹی آئی چئیرمین اور اہلیہ ببشریٰ بی بی سمیت نیب میں طلب،گرفتاری کا امکان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیرسٹرگوہر کی وساطت سے دائرکی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامرفاروق غیرجانبداری کے تقاضے پورے کرنے کیلئے توشہ خانہ ٹرائل سے متعلقہ درخواستیں نہ سنیں میرا پورا سیاسی کیرئیر ان مقدمات کی وجہ سے رسک پر ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قراردینے کی درخواست دائرکی تھی، ا س سے قبل سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

    ملتان :ماں اور 16 ماہ کی بیٹی کو قتل کرنے والا ڈکیت گینگ گرفتار

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات