Baaghi TV

Tag: چیئرمین

  • جسٹس ر جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش معطل

    جسٹس ر جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کو معطل کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر احکامات جاری کیے۔

    عدالت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سفارشات کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 اگست تک جواب طلب کر لیا۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سابق چیئرمین نیب کے خلاف تادیبی کارروائی سے بھی روک دیا۔

    وکیل نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

    قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اختیارات کا معاملہ دیگر 2 درخواستوں میں بھی اٹھایا گیا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 7 جولائی کی میٹنگ کے منٹس غیر قانونی قرار دیے جائیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ اب پی اے سی سے انکوائری کمیشن میں چلا گیا ہے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پی اے سی نے کارروائی ختم کر دی ہے؟ آئندہ سماعت پر آگاہ کریں۔قائم مقام چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کارروائی نہیں چل رہی تو درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی۔

  • خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے، چیئرمین نادرا

    خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے، چیئرمین نادرا

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ نادرا نے پاکستان میں غیر رجسٹرڈ خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے 19 صرف خواتین کے رجسٹریشن مراکز قائم کیے ہیں اور 10 موبائل رجسٹریشن وینز تعینات کی ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار چیئرمین نادرا طارق ملک نے اسلام آباد میں عورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ” عورتوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کے بغیر جمہوریت کا تصور ناممکن” کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیم، عورت فاؤنڈیشن اور زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت 56.95 ملین خواتین ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ انتخابی فہرست 2018 کے بعد سے، مردوں کے مقابلے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی شرح میں 53.2 فیصد (10 ملین خواتین ووٹرز) کا اضافہ ہوا ہے۔

    چیئرمین نادرا نے کہا کہ مجموعی طور پر صنفی فرق اب کم ہو کر 8.9 فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نادرا کی توجہ کے پی اور بلوچستان کے اضلاع پر ہے جہاں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے بتایا کہ خواتین کو نچلی سطح سے بااختیار بنانا ہوگا۔ رجسٹریشن کے باوجود نادرا خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کثیر الجہتی مداخلتوں میں مصروف عمل ہے۔ اس سلسلے میں نادرا نے خواتین کی رجسٹریشن کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جمعہ کو پورے ملک میں خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے خواتین کی رجسٹریشن کے لیے 258 نادرا رجسٹریشن سینٹرز ہفتے کے روز بھی فعال رہتے ہیں۔

    انہوں نے سامعین کو بتایا کہ 222 موبائل رجسٹریشن گاڑیاں بڑے پیمانے پر غیر رجسٹرڈ شہریوں خصوصاً دور دراز یا پسماندہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، 66 وورتوں کے لئے مخصوص ڈیسک قائم کیے جائیں گے جہاں پر صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، صنفی فرق کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ نادرا دفاتر میں خاتون افسروں کو انچارج بنانا ہے اور 96 فیصدنادرا دفاتر میں خواتین عملہ ہے۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے مرد کو خواتین کی رجسٹریشن اور غیر رجسٹرڈ شہریوں کو بڑھانے کے حوالے سے پالیسی میں اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سال مارچ میں بچوں کو اکیلے والد یا والدہ کے ساتھ رجسٹر کرنے کی پالیسی کا آغاز کیا جس سےاکیلی ماؤں کو والد کے شناختی کارڈ کے بغیر اپنے بچوں کو آسانی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے کے قابل بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی گزشتہ سال جولائی میں نادرا میں انکلوسیو رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو قیام کیا گیا تھا۔

  • عمران خان ایک بار پھر تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب

    عمران خان ایک بار پھر تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب

    عمران خان اگلی ٹرم کیلئے تحریک انصاف کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخ ہو گئے ہیں

    ۔شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین، اسدعمر مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں، دیگر 2 پینلز کے امیدواران نے عمران خان کے حق میں انتخاب سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ایک پینل کی سربراہی عمر سرفراز چیمہ دوسرے کی نیک محمد کررہے تھے

    دوبارہ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اس الیکشن میں اپوزیشن راجہ ریاض سے بہتر اپوزیشن ہے پاکستان میں سیاسی نہیں فیملی پارٹیز ہیں،تحریک انصاف ہماری فیملی پارٹی ہے،ہمیں فاسٹ ٹریک پر پارٹی الیکشن کرانے پڑے ہیں ہماری خواتین کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے جمہوریت میں میرٹ ہے بادشاہت میں نہیں، جمہوریت میں اس طرح کا رویہ کبھی نہیں سوچا تھا، حکومت نے جان بوجھ کر لوگوں میں خوف پھیلایا ،جب حکومت گری تو عوام احتجاج کرنے کیلئے باہر نکل آئے،فضل الرحمان کے مارچ کو ہم نے نہیں روکا،پیٹرول کی قیمت4روپے بڑھنے پر بلاول نے لانگ مارچ کیا،ہم جمہوری لوگ ہیں، بلاول کے جلسے کو بھی نہیں روکا،وہ4اینکرز ہیروز ہیں جن کےخلاف کارروائی ہو رہی ہے،موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہے ہیں چیئرمین واپڈا کے مستعفیٰ ہونےکےبعد واپڈا کی ریٹنگ گرگئی الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں،ہم نے ڈیمز کے 10بڑے نئے منصوبوں پر کام شروع کیا،پیٹرول کی قیمت4 روپے بڑھنے پر بلاول نے لانگ مارچ کیا،ہم جمہوری لوگ ہیں، بلاول کے جلسے کو بھی نہیں روکا،

    عمران کان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہےہیں، الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں، ہم نے ساڑھے 3 سال میں وہ کچھ نہیں کیا جو انہوں نے ایک ماہ میں کیا، ان کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ کرپشن کیسز ختم کرناتھا،روس کے ساتھ سستے تیل کا معاہدہ ہوگیا تھا،امریکہ کی اجازت کے بغیر یہ کوئی کام نہیں کرے گا،ان کو اپنے عوام کی کوئی فکر نہیں ہے، ان کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں، یہ ان کیخلاف کبھی اسٹینڈ نہیں لے گا،دس سال میں امریکہ نے 400 ڈرون حملے کیے، انہوں نے پہلے سازش کی اس کے بعد پارلیمنٹ کو بے توقیر کر کے رکھ دیا،حلقہ بندیوں پر اعتراض آرہے ہیں،الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں نیب میں اپنے بندے رکھیں گےتو یہ ادارہ بھی بے توقیر ہو جائے گا انہوں نے کیسز سے نکلنے کے لیے نیب پر پتھراو کیا،انہوں نے مرحوم ڈاکٹر رضوان کو باقاعدہ دھمکیاں دیں،دنیا میں کہیں بھی ملزم قاضی نہیں بن سکتا، ایک کرپٹ شخص کوآئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا، پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت ہے،ہمارے دور میں معیشت6فیصد سے ترقی کررہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی مہنگائی کبھی نہیں ہوئی، میں چند روز بعد لانگ مارچ کی تاریخ دے رہا ہوں، اس ملک کاسب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا، سپریم کورٹ سے جیسے ہی فیصلہ آئے گا میں لانگ مارچ کی تاریخ دوں گا،

    رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے پی ٹی آئی نیشنل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں میں ووٹرز کا حلقہ تبدیل کردیا گیا ہے ،اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک گھرانے کے ووٹ 6 جگہوں پر منتقل کردیئے گئے ہیں،جہاں جہاں حلقہ بندیوں میں خامیاں ہوں گی،پٹیشن دائر کریں گے،حکومت اپنے وزن کے نیچے دب چکی ہے یہ خود گرنے والی ہے،عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو سب مانتے ہیں پارٹی کی آج سے ممبرسازی کا عمل شروع کریں گے اگر کسی کا ووٹ درج نہیں تو ہمیں اس کی مدد بھی کرنی ہے،یہ معاملہ زیادہ دیر نہیں رہنے والا، آپ نے تیاری کرنی ہے ،اگر کوئی نشست ہار گئے تو یہ ہماری ناکامی ہوگی پارٹی کی آج سے ممبرسازی کا عمل شروع کریں گے،اگر کوئی نشست سے ہار گئے تو یہ ہماری ناکامی ہوگی،

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • کرپشن کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے: چیئرمین نیب

    کرپشن کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے: چیئرمین نیب

    اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح دیتا ہے، بدعنوانی کے ذریعے اربوں روپے لوٹنے والوں کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا جاے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی فرد، جماعت یا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق صرف ملک سے ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے ’’احتساب سب کے لئے‘‘ کی پالیسی کے تحت آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی جس کو معتبر ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ۔انہوں نے کہا کہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتبار کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نہ صرف بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے بلکہ 1405 ملزمان کو معزز احتساب عدالتوں نے نیب کی موثر پیروی کی بدولت اکتوبر 2017ء سے دسمبر 2021ء تک نہ صرف سزا سنائی بلکہ نیب نے موجودہ انتظامیہ کے دور میں 539 ارب روپے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر برآمد کئے ایسی کارکردگی انسداد بدعنوانی کے کسی دوسرے ادارے نے نہیں دکھائی، نیب نے 1999ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک 821ارب روپےبلاواسطہ اور بلاواسطہ برآمد کئے اس وقت مختلف احتساب عدالتوں میں 1237بدعنوانی کیسز زیر سماعت ہے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1335 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، ان ممالک میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں، نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے، نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے، نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں، نیب نے نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے،نیب ہیڈ کوارٹرز میں پاکستان اینٹی کرپشن ٹریننگ اکیڈمی قائم کی گئی ہے، اس اکیڈمی کا مقصد انویسٹی گیشن افسران کو وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کے لئے جدید تکنیک سے آگاہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب نے مستقبل کی قیادت کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی پھیلانے کے لئے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں جوکہ قابل تعریف اقدام ہے، اس تناظر میں ملک کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پچاس ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، نیب میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، شکایت کی جانچ پڑتال سے لے کر بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے تک ہر مرحلے پر اس کی نگرانی کی جاتی ہے اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جائے، اس تناظر میں اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری لائی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب دوسروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ خود احتسابی پر بھی یقین رکھتا ہے، نیب غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مقدمات اور بدعنوانی کے میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں نے ہزاروں معصوم لوگوں کو ان کی محنت کی کمائی سے محروم کیا، نہ ہی انہیں پلاٹ دیئے اور نہ ہی انہیں ان کی محنت سے کمائی گئی رقم واپس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کا بہت احترام کرتا ہے جو کہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے معاملات قانون کے مطابق ایف بی آر کو بھیجے جا چکےہیں، بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کے لئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے، بزنس کمیونٹی کے رہنمائوں نے ان کے مسائل کے بروقت حل کے لئے ذاتی دلچسپی لینے پر نیب کی کوششوں کو سراہا ہے، نیب عوام دوست ادارہ ہے، نیب میں آنے والے تمام افراد کی عزت نفس کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

  • پیمرا کا سابق چیئرمین پیمرا ابصارعالم کیخلاف ایکشن”جولُٹ مچائی سی واپس کردیو” کا پیغام

    پیمرا کا سابق چیئرمین پیمرا ابصارعالم کیخلاف ایکشن”جولُٹ مچائی سی واپس کردیو” کا پیغام

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف ایکشن لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق پیمرا نے سابق چیئرمین ابصار عالم کو پوری تنخواہ واپس کرنے کی ہدایت کردی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے ابصار عالم کی چیئرمین پیمرا تقرری غیرقانونی قرار دی تھی۔

    یاد رہے کہ نوازشریف کے کار خاص ابصار عالم دسمبر 2015 سے دسمبر 2017 تک چیئرمین پیمرا کے عہدے پر فائز رہے۔

    انہوں نے بطور چیئرمین پیمرا 5 کروڑ 3 لاکھ سے زائد رقم تنخواہ کی مد میں لی تھی، پیمرا نے ہدایت کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ابصار عالم تنخواہ وابس پریں۔پیمرا کا کہنا ہے کہ ابصار عالم تقرری سے عدالتی فیصلے تک تنخواہ کا حق رکھنے کا قانونی جواز نہیں رکھتے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیمرا نے سابق چیئرمین پیمرا کو 25 کروڑ 3 لاکھ 66 ہزار روپے پیمرا کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نئے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

    تین سال قبل ابصار عالم کی تعیناتی کے خلاف ایڈووکیٹ اظہر صدیقی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے وقت پیمرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کی گئی اور سیاسی بنیادوں پر ابصار عالم کی تقرری کی گئی۔

    ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو نواز رہی ہے۔ ابصار عالم کو صدر اور وزیر اعظم سے زیادہ تنخواہ دی جا رہی ہے، ان کو ملنے والی 15 لاکھ روپے تنخواہ اور لاکھوں روپے کی مراعات قوانین اور قواعد وضوابط کے خلاف ہیں۔

    درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چییرمین پیمرا کے عہدے پر ابصار عالم کو نوازنے کے لیے ماسٹرز کے بجائے تعلیمی قابلیت کو گریجویشن کردیا گیا جو قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے۔

    جسٹس شاہد کریم نے چند روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چیئرمین پیمرا کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیا گیا۔ چیئرمین پیمرا کی تعیناتی شفاف طریقے سے نہیں ہوئی۔اس سماعت کے بعد لاہورہائی کورٹ نے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

  • نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    اسلام آباد: نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدرمملکت کریں گے فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے بعد اب نئے چیئرمین نیب کے لیے بھی ناموں پر ڈیڈلاک کا سامنا ہے، اپوزیشن اور حکومت تاحال نئے چیئرمین نیب کے ناموں کا فیصلہ نہ کر سکی ہے۔

    اسی حوالے سے فکر مند ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس سلسلے میں کہا کہ نئے ناموں سے متعلق حکومت نے الٹا طریقہ شروع کر دیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے صدر کا اختیار ہی نہیں بنتا۔

    راناثنا اللہ نے کہا ہونا یہ چاہیے تھا کہ لیڈر آف دی ہاؤس، اور اپوزیشن لیڈر مشاورت کرتے، لیکن جو کام وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا تھا وہ حکومت نے صدر کو سونپ دیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب صدر مملکت دونوں لیڈرز کو خط لکھ رہا ہے اور نام مانگ رہا ہے۔

    یاد رہے کہ پیر کو ذرائع نے خبر دی تھی کہ حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین نیب کے لیے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکر کا نام تجویز کیا گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی نے کوئی ‏نام تجویز نہیں کیا، نام تجویز کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے اگرکوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا توپھرحتمی اوربہترفیصلے کے لیے صدرمملکت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کوئی تقرر کریں‌گے

    اس صورت میں‌ یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ ن لیگ صدر کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردے اور کسی متفقہ فیصلے کوقبول کرنے سے بھی انکار کردے ، تاہم یہ امکان زیادہ ہے کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور معاملات درست سمت میں چل جائیں گے