اوکاڑہ (باغی ٹی وی)ہوشربا مہنگائی نے عوام کے ساتھ دکانداروں کی بھی چیخیں نکلوادیں ،مہنگائی نے کاروبار تباہ کردئے ،گاہک آتے ہیں ریٹ پوچھتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں اوکاڑہ سے ملک ظفراقبال کی رپورٹ
Tag: چیخیں

اوکاڑہ: مہنگائی کی وجہ سے دکاندار پریشان

کپتان نے قوم کی چیخیں نکلوا دیں
کپتان نے قوم کی چیخیں نکلوا دیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موسم گرم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا پارہ مزید ہائی کر دیاگرمی کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں لوڈشیڈنگ میں بھی تیزی آ گئی، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت متعدد شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری پریشان ہو چکے ہیں، ہر گھنٹے بعد بجلی کا جانا اور گرمیوں کے آغاز میں ہی ایسا پریشان کن ہے، شہری وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کو بھی اسی کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک سازش ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ ابھی تو گرمی کا آغاز ہے اور درجہ حرارت قابل برداشت ہے مگر درجہ حرارت بڑھتے اور ماہ رمضان شروع ہوتے ہی ناجانے کیا کیا جائے گا، سچ پوچھیے تو عمران خان نے جانے سے پہلے عوام کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چیخیں ہی نکلوا دی ہیں
لاہور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے شہر میں ہر گھنٹے بعد بجلی بند ہونے لگی بجلی کی بندش سے واسا کے ٹیوب ویل بھی بند ہوگئے ہیں جبکہ شہری پریشان ہورہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی شروع ہوتے ہی مختلف علاقوں میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے بعض علاقوں میں بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ لیسکو میں طلب بڑھ گئی ہے جبکہ بجلی کا کوٹہ مزید کم ہوگیا ہے
ایک شہری نے ٹویٹر پر کہا کہ ایک دم سے ہر دو گھنٹے بعد ایک گھنٹا لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ نہ گرمی ہے اور نہ زیادہ لوڈ ہے اور گذشتہ 6 سال میں عروج پر لوڈشیڈنگ جو تھی وہ ہ 3 گھنٹے بعد ایک گھنٹہ تھی کیا یہ بھی وزیر اعظم کو عوام میں غیر مقبول کرنے کی طرف ایک قدم ہے؟؟؟
ایک دم سے ہر دو گھنٹے بعد ایک گھنٹا لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ نہ گرمی ہے اور نہ زیادہ لوڈ ہے اور گذشتہ 6 سال میں عروج پر لوڈشیڈنگ جو تھی وہ ہ 3 گھنٹے بعد ایک گھنٹہ تھی
کیا یہ بھی وزیر اعظم کو عوام میں غیر مقبول کرنے کی طرف ایک قدم ہے؟؟؟— Ch. Ikram-ul-Haq Lone (@Ikramul98113661) March 31, 2022
ایک صارف کا کہنا تھا کہ لیسکو نے ایک دم سے لاہور میں غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ کردی۔ لیسکو کو بھی پتہ ہے خان صاحب کی حکومت جانے والی ہے اب ہم کو کس نے پوچھنا ہے۔ واپڈا اور نپمرا میں بھی یہی حساب کتاب ہے۔ کبھی ان کپمنیون کا آڈٹ نہیں ہوا۔ لیسکو کو پتہ ہے انکا خسارہ لوڈشیڈنگ کرکے پورا کرنا ہے۔
لیسکو نے ایک دم سے لاہور میں غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ کردی۔ لیسکو کو بھی پتہ ہے خان صاحب کی حکومت جانے والی ہے اب ہم کو کس نے پوچھنا ہے۔ واپڈا اور نپمرا میں بھی یہی حساب کتاب ہے۔ کبھی ان کپمنیون کا آڈٹ نہیں ہوا۔ لیسکو کو پتہ ہے انکا خسارہ لوڈشیڈنگ کرکے پورا کرنا ہے۔@Lescoofficial
— SARFRAZ BAIG (@sarfarazo986) March 31, 2022
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اچانک ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہونا شروع ذرائع سے پتا چلا ہے کہ امریکہ لوڈشیڈنگ کروا کے عمران خان کیخلاف عالمی سازش کروا رہا ہے
https://twitter.com/RizwanArshadCh/status/1509431651876872192
صحافی عمار مسعود کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے تو جانے باقی شہروں میں کیا حال ہو گا
اگر اسلام آباد کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے تو جانے باقی شہروں میں کیا حال ہو گا #loadshedding
— Ammar Masood (@ammarmasood3) March 31, 2022
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو چیلنج کر دیا گیا ہے، درخواست میں لیسکو چیف اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست گزار نے کہا کہ لاہور میں 12 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ، عدالت لیسکو کے چیف سمہت ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے ۔
ملک میں بڑھتی لوڈشیڈنگ کا معاملہ ملک میں 5 ہزار 372 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، فیول کی قلت سے 2 ہزار 139 میگاواٹ بجلی کم پیدا ہورہی ہے، کے ٹو ٹرپ ہوا ہے جبکہ کے تھری ابھی مکمل آپریشنل نہیں ہوا، چیئرمین نیپرا کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز چشمہ میں سی ون میں بھی کوئی فالٹ آیا ہے،
ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس
الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید
بہت ہو گیا، اب ریلوے کو ٹھیک کرنا ہو گا، شیخ رشید کی اجلاس میں افسران کو ہدایت
آپ کی حکومت کے پاس جو بھی کام جاتا ہے وہ لامحدود مدت کے لیے ہوتا ہے ،چیف جسٹس کے ریمارکس

ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے


