Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس آف پاکستان

  • سپریم کورٹ: پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس کے چیمبر میں جانے سے روک دیا

    سپریم کورٹ: پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس کے چیمبر میں جانے سے روک دیا

    پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس آف پاکستان کے چیمبر میں جانے سے روک دیا،جہاں وہ عمران خان کا خط چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو دینے آئی تھیں۔

    پولیس حکام کے مطابق بغیر اجازت کسی کو بھی آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس موقع پر وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ بی بی سائلہ ہیں اور وہ بانی پی ٹی آئی کا خط چیف جسٹس کو دینا چاہتی ہیں، اس لیے انہیں آگے جانے دیا جائے،رجسٹرار آفس کے نمائندوں کی اجازت کے بغیر کسی کو آگے نہیں جانے دیا جا سکتا جب کہ چیف جسٹس کی عدالت بھی ختم ہو چکی ہے، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ہمراہ پارٹی کی لیگل ٹیم بھی موجود تھی، جس کی سربراہی سردار لطیف کھوسہ اور انتظار پنجوتھا کر رہے تھے۔

    علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ خط مختلف مقدمات اور عدالتی نظام کے حوالے سے ہے بانی پی ٹی آئی نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے اور ہم یہ خط دینے یہاں آئے ہیں تاہم سپریم کورٹ پولیس اتھارٹی نے علیمہ خان اور ان کی ہمشیرہ کو چیف جسٹس کے چیمبر کی طرف جانے سے روک دیا۔

    اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف دیا کہ ہم چیف جسٹس کو بانی پی ٹی آئی کا خط پہنچانا چاہتے ہیں، علیمہ بی بی سائلہ ہیں، انہیں جانے دیا جائے تاہم پولیس حکام نے اجازت نہ دی۔

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا خط سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا ہے،پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ خط لے کر قائمقام رجسٹرار کے دفتر پہنچے جہاں یہ خط جمع کرایا گیا،خط میں بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اور ان کی اہلیہ پر انصاف کے دروازے بند ہیں، وہ 772 دنوں سے تنہائی کی قید میں ہیں، جہاں 9×11 کے کمرے کو ان کے لیے پنجرہ بنا دیا گیا ہے ان کے خلاف 300 سے زائد سیاسی مقدمات قائم کیے گئے جو پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت بگڑ رہی ہے لیکن ڈاکٹر کو معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی انہیں تنہائی میں قید رکھا گیا ہے اور علاج و کتب تک رسائی سے بھی محروم کیا گیا ہےبانی پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ خواتین قیدیوں کو ضمانت میں رعایت دینا قانون کا حصہ ہے لیکن بشریٰ بی بی کو یہ حق بھی نہیں دیا جا رہا،اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کرائی جاتی ہے نہ ہی بیٹوں سے فون پر بات کرنے کا بنیادی حق دیا جا رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے مطابق یہ قید نہیں بلکہ سوچا سمجھا نفسیاتی تشدد ہے تاکہ عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔

    خط میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہزاروں کارکنان اور حامی اب بھی جیلوں میں بند ہیں جبکہ بھانجے حسن نیازی کو فوجی حکام نے حراست میں لے کر اذیت دی اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، بہنوں اور بھانجوں کو بھی ناحق مقدمات اور قید کا سامنا ہے۔

    خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدلیہ کو سیاسی جماعت توڑنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہےتحریک انصاف نے 8 فروری 2024 کے انتخابات جیتے لیکن عوامی مینڈیٹ راتوں رات چرا لیا گیا ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم انتخابی ڈکیتی کو جائز بنانے کے لیے استعمال ہوئی۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ مقدمات سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہے جبکہ بشریٰ بی بی اور ان کے دیگر مقدمات بھی التوا کا شکار ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کو فوری طور پر اہم اپیلوں پر سماعت کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہےبانی پی ٹی آئی نے خط میں مؤقف اپنایا کہ جب قانون کی حکمرانی دفن ہو جائے تو قومیں اندرونی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں،انصاف ذوالفقار بھٹو کیس کی طرح 44 سال بعد نہیں بلکہ وقت پر ملنا چاہیے۔

    خط میں چیف جسٹس سے اپیل کی گئی کہ بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اور بشریٰ بی بی کو علاج کے لیے ڈاکٹر تک فوری رسائی فراہم کی جائے پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کو انصاف کی آخری پناہ گاہ سمجھتے ہیں اور عدلیہ کی خودمختاری بحال ہونی چاہیے۔

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ آج چیمبر ورک پر چلے گئے جہاں وہ چیمبرک ورک کے دوران فیصلے لکھیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جمعہ کو ریٹائر ہونے والے آج سے چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں اور اب وہ فیصلے تحریر کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے 25 اکتوبر جمعہ کے روز ریٹائر ہو جانا ہے اور نئے چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے ناموں پر پارلیمانی کمیٹی آج غور کرے گی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • جوڈیشل کمیشن میں  اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    جوڈیشل کمیشن میں اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن میں اہم فیصلوں پر اتفاق رائے ہوگیا۔

    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے آج کے اجلاس کی کارروائی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اراکین کو رولز کے بارے میں بریف کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اراکین اور شریک چیئرمین کا رولز ڈرافٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یقینی بنایا گیا کہ ڈرافٹ رولز آئین سے مطابقت رکھتے ہوں جبکہ تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس اور سینئر جج رولز ڈرافٹ کارروائی کے مطابق رولز ڈرافٹ کریں، آیندہ اجلاس 28 ستمبر کو ہوگا جبکہ ترامیم کے مجوزہ ڈرافٹ میں کچھ تبدیلیوں پر اتفاق رائے ہوا۔نیا ڈرافٹ آئندہ اجلاس میں اراکین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 28 ستمبر صبح 10 بجے ہوگا۔

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    اجلاس سے قبل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی شریک ہوں گے، اجلاس میں جسٹس (ر) منظور ملک، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہوں گے۔عام طور پر ہائی کورٹس کے سینئر ترین ججز ممبر نہ ہونے کے باعث جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، تاہم ذرائع نے بتایا تھا کہ ہائی کورٹس کے اجلاس میں چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون بھی شریک ہوں گے، عام حالات میں جس ہائی کورٹ میں ججز تعیناتی ہوتی ہے اس کے متعلقہ چیف جسٹس اور وزیر قانون اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس،صحافیوں نے بائیکاٹ کر دیا

    اجلاس میں مجوزہ جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کا جائزہ لیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری کے بعد ججز کی تقرریاں کی جائیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کیا جاچکا ہے، خط میں ہائی کورٹس سے ججز کے تقرر کے لیے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دو ججز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں 24 ججز کی آسامیاں خالی ہیں، صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 13 ججز خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہاں کل 17ججز کی تعیناتیاں ہونی ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 11 اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 4 ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ میں بھی ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے سے متعلق بل متعلقہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس سے قبل رولز میں ترمیم کے لیے گزشتہ اجلاس 3 مئی کو بلایا گیا تھا، وزیر قانون نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد کمیٹی نے رولز میں ترمیم کی منظوری کا معاملہ ملتوی کردیا تھا۔

  • جسٹس عمرعطا بندیال نے بطورچیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھا لیا

    جسٹس عمرعطا بندیال نے بطورچیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھا لیا

    جسٹس عمرعطا بندیال نے ملک کے 28 ویں بطورچیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا-

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلا م آباد میں منعقد کی گئی، تقریب میں وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف اوروفاقی وزرا شرکت ہوئے ، تقریب میں سپریم کورٹ کے موجودہ اورریٹائرڈ ججز بھی موجود تھے،صدرمملکت عارف علوی نے جسٹس عمرعطا بندیال سے حلف لیا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری 2022 سے 16 ستمبر 2023 تک چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے۔

    جسٹس عمرعطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار

    چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطابندیال کو وکلاء نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت میں آپ کو بطور چیف جسٹس ویلکم کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکلا سے کہا کہ بہت شکریہ،آپ جیسے وکلاء کا ساتھ خوشی کا باعث ہے، ججز اور وکلاء ایک خاندان ہے، خوش قسمتی ہے ہماری بار بڑی زبردست ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ زیر التواء مقدمات کا بوجھ کم کرنا ہے، وکلاء تیاری کرکے آئیں، التواء سے گریز کریں۔

    وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں تو آپ کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کروں گا،تاکہ آپ سے دوبارہ ملاقات ہو سکے وکیل نعیم بخاری کی بات پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قہقہہ لگایا۔

    پیٹرول پمپ مشین کو کنٹرول کرنے والے آلے کا استعمال،شہری ہوشیار

    سپریم کورٹ کے ججز کی تکمیل مدت ملازمت 65 اورہائی کورٹ کےججوں کی عمر کی حد 62 سال ہےایسا ایک سے زائد بار ہوا ہے کہ ہائی کورٹ میں جونیئر کوئی جج عدالت عظمیٰ میں پہنچ کرسینئر ہو جاتا ہےجسٹس گلزاراحمد نے 21 دسمبر 2019ء کوجسٹس ثاقب نثار کی جگہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالاتھاجسٹس بندیال 18 ستمبر 2023ء اپنے ریٹائرمنٹ تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس رہیں گے اس دوران پاکستان میں عام انتخابات بھی ہوں گے۔

    جسٹس بندیال کے منصب کی میعاد مکمل ہونےپرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کی جگہ لیں گے ان کی چیف جسٹس کے لئے میعاد 25 اکتوبر 2024ء تک ہوگی اس دوران انہیں صدر عارف علوی کی جانب سے اپنے خلاف دائر ریفرنس کا بھی سامناکرناہوگااس دوران جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم خان چیف جسٹس بنے بغیر ہی عدالت عظمیٰ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

    سوشل میڈیا پر ججز کو سکینڈلائز کرنے کا راستہ روکنا ہو گا: نامزد چیف جسٹس نے پہلا…

    جسٹس عمر عطاء بندیال نے 4 دسمبر 2004ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اُٹھایا لیکن نومبر 2007ء میں انہوں نے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا بعدازاں وہ دو سال کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے-

    عدلیہ کوعالمی رینکنگزمیں اپنی تیزی سے گرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،فواد…

    جون 2014ء میں ان کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔ اپنے اعلیٰ عدالتوں میں منصب قاضی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جسٹس بندیال نے اہم مقدمات کے فیصلے دیئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی اور پشاور میں حاصل کرنے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے گریجویشن کیا کیمبرج یونیورسٹی کے لنکن اِن سے بیرسٹر کی سند حاصل کی۔ 1983ء میں لاہور ہائی کورٹ اور کچھ برسوں بعد سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے درج ہوئے۔

  • وکلاء دلائل کے بجائے لاتوں اور مکوں سے اپنا کیس پیش کرتے ہیں، چیف جسٹس

    وکلاء دلائل کے بجائے لاتوں اور مکوں سے اپنا کیس پیش کرتے ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: آج کے وکلاء دلائل کے بجائے لاتوں اور مکوں سے اپنا کیس پیش کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں حقائق تخلیق کیے جارہے ہیں،
    ذرائع کےمطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جج محنت کرکے ایمان داری سے فیصلہ دیتے ہیں شام میں تبصرہ شروع ہوجاتے ہیں، 99 فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں قانون کا پتا ہی نہیں ہوتا ہے۔آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا، یہ ہمارا ملک ہے انہی حالات میں محنت سے کام کرنا ہوگا، اسی سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کیں۔

  • جو سچ نہیں بول سکتا وہ انصاف بھی نہ مانگے ، چیف جسٹس آف پاکستان

    جو سچ نہیں بول سکتا وہ انصاف بھی نہ مانگے ، چیف جسٹس آف پاکستان

    اسلام آباد:جو سچ نہیں بول سکتا وہ انصاف بھی نہ مانگے ، اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آصف کھوسہ نے دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا گواہ سن لیں اب اگر جھوٹ بولیں گے تو سزا ضرور ملے گی ، قانون میں لکھا ہے جھوٹ بولناجرم ہے

    لاہوررجسٹری میںسپریم کورٹ میں ویڈیولنک کےذریعے دوپارٹیوں کےتنازع میں قتل سےمتعلق کیس کی سماعت میں وکیل نے بتایا دونوں پارٹیوں میں صلح ہوچکی ہے، جس پر عدالت نے کہا کیس میں 13 سے11 لوگ پہلے ہی بری ہوچکے ہیں، جب سارا جھوٹ ہوتو سچ تلاش کرنا مشکل ہے۔بعد ازاں عدالت نے مشتاق احمد اور نور الحق کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

    اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اہم ریمارکس میں کہا دونوں پارٹیوں نے اتناجھوٹ بولا کہ سچ ڈھونڈنا مشکل ہوگیا، دونوں پارٹیاں جھوٹ کا پلندہ ہیں ،اگر اتنا جھوٹ بولیں گے تو ہم فیصلہ کیسے کریں گے۔

    لاہور رجسٹری می ویڈیو لنک سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنے جھوٹ کے بعد کچھ باقی ہی نہیں رہ جاتا، 100 میں سے 95 فیصد پورے مقدمے میں جھوٹ بولا گیا، کیس پڑھتے ہوئے حیران رہ گیا اتنا جھوٹ کیسے بولاجا سکتا ہے، نچلی عدالتوں کو کیوں کچھ نظر نہیں آتا۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ساری دنیامیں قانون ہےگواہ جھوٹ بولےگاتومقدمہ ختم،1951 میں لاہور ہائی کورٹ نے کہا جھوٹ بول لیں سچ تلاش کر لیں گے، سارامعاملہ1951کےبعدخراب ہوا،عدالت نےجھوٹ بولنے کا لائسنس جاری کردیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت کیسےجھوٹ بولنےکی اجازت کسی کودےسکتی ہے، قانون میں لکھا ہےکہ جھوٹ بولناجرم ہے، کوئی اگرجھوٹ بولےگاتوفائدہ ملزم کوہوگا۔