Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس اطہر من اللہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے گورنر بلتستان کی عدم تعیناتی سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے گورنر بلتستان کی عدم تعیناتی سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گورنر بلتستان کی عدم تعیناتی سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنا دیا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گورنر بلتستان کی عدم تعیناتی سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس کا عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر کو وزیر اعظم کی سفارش پر گورنر کی تعیناتی کرنی ہوتی ہے۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ون ڈے آج ملتان میں کھیلا جائے گا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ صدر مملکت کو وزیراعظم کی سفارش پر آرڈر 2018 کے آرٹیکل 33 کے مطابق گورنر کا عہدہ خالی ہونے کے بعد وزیراعظم کی سفارش پر تعیناتی کرنی ہوتی ہے توقع ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کی سفارش پر آرڈر 2018 کے تحت گورنر تعینات کریں گے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اسپیکر کی قائم مقام گورنر تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کی درخواست غلط فہمی پر مبنی ہے گورنر بلتستان کا عہدہ 19 اپریل 2022 سے خالی ہے۔

    چیف جسٹس نے تین صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تعیناتی سے متعلق مجوزہ طریقہ کی ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹائی جاتی ہے۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    واضح رہے کہ سپیکر گلگت بلتستان کا بطور قائم مقام گورنر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی درخواست گزار محمد کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ 19 اپریل 2022 سے خالی ہے-

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ 48 دنوں سے گلگت بلتستان صوبے کا علاقہ آئینی اور قانونی سربراہ کے بغیر ہے، وفاقی حکومت گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر کو گلگت بلتستان کے قائم مقام گورنر کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

    آج عام انتخابات ہوں تو پی ڈی ایم اتحاد پی ٹی آئی کو شکست دے سکتا ہے، سروے

  • عمرسرفرازچیمہ کی بطور گورنرعہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    عمرسرفرازچیمہ کی بطور گورنرعہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    اسلام آباد: ہائی کورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی-

    اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر نئے گورنر کی تعیناتی کر دی ہے،آپ کی درخواست تو غیر موثر ہو چکی ہے-

    پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ میں اس حوالےہدایات لے لیتا ہوں عدالت نے بابر اعوان کی ہدایات لینے تک کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظو ر کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے اپنی برطرفی کا فیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنچ کیا تھا

    عمر سرفراز چیمہ نے بابر اعوان ایڈوکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں برطرفی نوٹیفکیشن کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی تھی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانا غیر قانونی ہے لہذا عدالت فیصلے کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ عہدے پر بحال کرے آئین کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہے، گورنر پنجاب ایگزیکٹو کا حصہ نہیں ہوتا اور صدرکی خوشنودی پر گورنر عہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

    پاکستان ترک سرمایہ کاروں کا دوسرا گھر ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    درخواست میں کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کو بلا اختیار ہے اور ماورائے آئین قرار دیتے ہوئےکہا گیا تھا کہ صدرکے اختیارات کو رولزکے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم نے اپنے بیٹے کے فائدے کے لیے غیرقانونی طور پر ہٹایا، پنجاب میں آئینی بحران پیدا کر دیا گیا ہے، کابینہ ڈویژن سے نوٹیفکیشن جاری کرانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

    بعد ازاں عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا تھا سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے اپنی برطرفی کے فیصلےکو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے وزیراعظم کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

    تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے سابق گورنر کی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ پنجاب کا ہے، یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری بھیجی گئی تھی تاہم صدر مملکت نےوزیراعظم کی سمری مسترد کر دی تھی تاہم بعد ازاں آئینی مدت پوری ہونے کےبعد عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    سندھ ہائی کورٹ نے درختوں کی کٹائی کے خلاف درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر…

  • لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے، ریاست اختیار کا مسلسل غلط استعمال کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

    لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے، ریاست اختیار کا مسلسل غلط استعمال کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

    اسلام آباد : ہائیکورٹ کے جج چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے یہ عدالت ریاست کی جانب سے اختیار کا مسلسل غلط استعمال دیکھ رہی ہے-

    باغی ٹی وی :چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو بھجوایا گیا ہے، علی وزیر کئی ماہ سے قید میں ہیں۔

    گرفتاریوں کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست،محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتے‘عدالت

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وفاق، صوبائی حکومتوں اور پارلیمنٹ کا کام ہے، پہلے یہ سارے کام نہیں کرتے اور پھر اپوزیشن میں آتے ہیں تو کیس عدالت لے آتے ہیں اس طرح کی باتوں سے جمہوریت غیر فعال ہو جاتی ہے۔ تمام ادارے کام کریں تو ایسی درخواستیں عدالتوں میں نہ آئیں۔ سیاسی لڑائیوں میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے حلقہ کے عوام کو جوابدہ ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کریں گی تو عدالت کیا کرے؟ حکومت خود سوئی ہوئی ہے اورحکومتی سپورٹرز عدالت پر طنز کرتے ہیں، پہلے بھی ایسا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے، حکومت کا کام ہے کہ کمیشن بناکر ان مسائل کو حل کرے۔ جس کے حق میں فیصلہ آ جائے دوسرے اس پر برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے شیریں مزاری واحد پارلیمنٹیرین نہیں بہت سارے ایسے ممبران کو گرفتار کیا گیا۔ ان مسائل کو کمیشن بنا کر حل کرنا حکومت کا کام ہےیہ عدالت ریاست کی جانب سے اختیار کا مسلسل غلط استعمال دیکھ رہی ہے ہرریاستی ادارے کو اب پرو ایکٹو رول ادا کرنا چاہئے-

    عدالت نے شیریں مزاری کی گرفتاری سے متعلق کیس میں وفاق کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی ۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ: ان کی جنگ ہم نہیں لڑ سکتے،کارکن کسی احتجاج کا حصہ نہ بنیں ،طاہر القادری کی اپنے…

  • جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ

    جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ

    ایک قیدی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بااثر قیدیوں سے متعلق لکھے خط پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بظاہر جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ میں جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کیس کی سماعت ہوئی وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار کون ہے؟-

    عدالت نے استفسار کیا کہ بظاہر جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں، کیوں نا غیر انسانی رویے کی وجہ سے قیدیوں کو معاوضہ دیا جائے؟ قیدیوں کےلیےمعاوضہ ان حکام سے لیاجائےجو غیرانسانی رویےکےذمہ دار ہیں۔

    کیوں نامیڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جائےتاکہ انفارمیشن سامنے آئے،اسلام آباد ہائی کورٹ

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ریاست اپنے شہریوں پر ظلم نہیں کرسکتی اگر ہورہا ہے تو کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہوگا، جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ رویہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی زندہ مثال ہے۔

    اسلام آبادہائی کورٹ نے ایک ماہ میں وزارت انسانی حقوق سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 12 جنوری کوایک قیدی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بااثر قیدیوں سے متعلق لکھے خط پر سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے تھے کہ وزرا اور ججز بھی دو تین دن جیل میں رہیں تو انہیں مشکلات کا اندازہ ہو۔

    وزیر اعظم ایک روزہ دورے پر کوئٹہ روانہ،آرمی چیف بھی نوشکی پہنچ گئے

    سماعت کے دوران عدالت کو ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق نے بتایا تھا کہ بغیر کسی فزیکل پرابلم کے بااثر قیدی اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں رہ رہے ہیں، وزیر صاحبہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے ، اڈیالہ جیل میں شکایت کا نظام فعال نہیں ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے سپریڈنٹ جیل بھکر اور اڈیالہ آگاہ ہی نہیں تھے ہم جب بھی وزٹ کرتے ہیں اس سے قبل ہی ہر چیز اوکے ہوتی ہے لیکن حقیقت ایسا نہیں ہوتی، ہم نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیل اتھارٹیز نے درحقیقت کوئی کام نہیں کیا، دو ہزار کی جگہ پانچ ہزار سے زیادہ قیدی اڈیالہ جیل میں رکھے گئے ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جلد لائی جائے گی، شاہد خاقان عباسی

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی سوسائٹی کی گورننس کو دیکھنا ہو تو ان کی جیلوں کا جائزہ لے لیں، جو باہر طاقت ور ہے جیل کے اندر بھی طاقت ور ہے ، جیل کے اندر کرپشن کا جو الزام ہے یہ کیسے ٹھیک ہو گا ، جیلوں کے اندر کوئی رول آف لاء نہیں،بااثر اور عام قیدی میں بھی تفریق ہے آپ نے جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو ختم کرنا ہے، دیکھ لیں جیسے کراچی میں ہوا ہے جہاں قیدی ہسپتال کرائے پر لے کر رہ رہے تھے جیل ٹرائل کے لیے نہیں، کبھی قیدی بن کر جیل گئے ہیں؟ وکلا تحریک میں بہت سارے وکیل بھی جیلوں میں گئے، ایسا کیوں نا کریں کابینہ ممبر اور ججز بھی اگر دو دو تین تین دن جیل رہیں تو سمجھ سکیں گے کہ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے،عدالت کس کو کہے کہ وہ تین چار دن جیل میں جا کر گزارے؟ آپ بتائیں نا کس کو تجویز کریں کہ وہ تین چار دن جیل کے اندر رہے پھر بتائے کیا چل رہا ہے-

    آسٹریلیا نے دورہ پاکستان کیلئے ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا