Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے ساتھ پروٹوکول کی صرف دو گاڑیاں رہ گئی ہیں، چیف جسٹس کی گاڑی بدھ کو سپریم کورٹ رجسٹری سے واپسی پر تمام سگنلز پر رکتی رہی،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت کی کہ گاڑی کے آگے پائلٹ نہیں رکھا جائے، دوران سفر معمول کا ٹریفک رواں رہنا چاہئے،سابق چیف جسٹس صاحبان کیساتھ پروٹوکول کی دس سے بارہ گاڑیاں مختص تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیساتھ پروٹوکول کی صرف 2گاڑیاں رہ گئیں تھیں-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہندو جیم خانہ کی ملکیت سے متعلق کیس کی چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے سماعت کی تھی دوران سماعت رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے تجویز پیش کی کہ کمشنر سے زمین کے رقبے سے متعلق تفصیل طلب کی جائے، آپ زمین سندھ حکومت کے حوالے کر دیں۔

    وزیر اعظم نے چیف کمشنر اسلام آباد کو عہدے سے ہٹا دیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ شہر میں کوئی ایسی عمارت بتا دیں جو سندھ حکومت نے محفوظ رکھی ہو؟ جس پر رمیش کمار نے جواب دیا کہ گورنرہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ وہاں عوام نہیں جاتے اس لیے صاف ہیں، جو عوامی مقامات ہیں وہ بتائیں کسی کو صاف رکھا ہو، آپ گورنر ہاؤ س کے باہر احاطہ دیکھ لیں جاکر، کیا حال ہے، دنیا کاکوئی ایک ملک بتا دیں جہاں گورنر، وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہرکنٹینر لگے ہوں، وہ وقت بھی آئےگا جب حکمرانوں کو لوگوں کی فکر ہوگی، ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے آپ قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم نہیں کرنے دیں گے، آپ کو تو یہ جگہ نہیں دیں گے،کل آپ کچھ اوربنا دیں گے۔

    وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں اہم تعیناتیوں اور آسامیوں کی تخلیق میں وزیراعظم کا اختیار …

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جسٹس اعجاز الحسن کو جوابی خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جسٹس اعجاز الحسن کو جوابی خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اعجاز الحسن کو جوابی خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تحفظات کا اظہار کیا تھاجس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جسٹس اعجاز الاحسن کو جوابی خط لکھ دیا جبکہ چیف جسٹس کا جوابی خط سپریم کورٹ ویب سائٹ پر شیئر کردیا گیا۔

    چیف جسٹس نے جوابی خط میں مزید کہا کہ میرے دروازے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، میں انٹر کام اور فون پر بھی ہمیشہ دستیاب ہوں، آپ نے اپنے تحفظات کے لیے نہ مجھے کال کی، نہ ملاقات کے لیے آئے، آپ کا خط ملنے پر فوری آپ کے انٹر کام پر رابطے کی کوشش کی لیکن جواب نہ ملامیں نے اپنے اسٹاف کو آپ کے ساتھ رابطے کا کہا، اسٹاف نے بتایا کہ آپ جمعہ دوپہر لاہور چلے گئے ہیں، ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی۔

    بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا

    چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی پہلی ذمہ داری عدالتی فرایض کی انجام دہی ہے، آپ کی درخواست پر کمیٹی اجلاس جمعرات کو رکھے گئے، جمعرات کو اجلاس رکھنا شاید غلطی تھی، انہوں نے سول کیا کہ مشورہ کرنے میں دلچسپی نہ ہوتی تو جس ایکٹ کو آپ نے معطل کیا تھا اس پر عمل کیوں کرتا؟ اگر مجھے ججز کمیٹی کے فیصلوں پر عمل نہ کرنا ہوتا تو اس کارروائی کو پبلک کیوں کرتا؟ ججز کمیٹی کے 3 اجلاس آپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی ہوئے، ججز روسٹرز پر آپ کے اعتراضات ہیں تو نیا اجلاس بلا کر نئے بینچز کی تشکیل پر غور ہو سکتا ہے۔

    جسٹس سردار طارق کا خصوصی عدالتوں سےمتعلق اپیلوں کو سننا انصاف کے اصولوں کے منافی …