Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس پاکستان

  • موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور اہداف طے کرے،چیف جسٹس پاکستان

    موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور اہداف طے کرے،چیف جسٹس پاکستان

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں سالانہ چھٹیوں کے بعد نئے عدالتی سال کے موقع پر جوڈیشل کانفرنس منعقد ہوئی۔

    کانفرنس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران نے شرکت کی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا تھا جبکہ 2004 سے اسے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہےیہ موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور آنے والے سال کے اہداف طے کرے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی اور 5 نکات پر مبنی اصلاحاتی عمل شروع کیا گیا، سپریم کورٹ میں ڈیجیٹل فائلنگ اور ای سروسز کا آغاز ہو چکا ہے نظامِ انصاف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہیے لیکن ہم فی الحال اس کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں، ہزار فائلیں ڈیجیٹلی اسکین کی جائیں گی اور یہ پراجیکٹ 6 ماہ میں مکمل ہوگا مقدمات کی فہرست بندی (فکسنگ) مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کی جائے گی اور ڈیجیٹل اسکین پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد عدالت میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال شروع ہوگا،شفافیت کے لیے اندرونی آڈٹ کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔

  • 26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس  نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا جوابی خط،منظر عام پر آگیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اپنا جوابی خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس پر لکھا تھادونوں ججز نے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کو 4 نومبر 2024 کو فل کورٹ کے سامنے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ ان جیسے تمام سوالات کے جوابات میٹنگ منٹس اور چیف جسٹس کے خط میں سامنے آگئے۔

    چیف جسٹس پاکستان کے خط کے متن کے مطابق آرٹیکل 191 اے کے تحت آرٹیکل 183/3 کی درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق 4 کے تحت ججز آئینی کمیٹی ہی کیس فکس کرنے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق تین اے کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی شق چار کے تحت آئینی بینچ کے ججز پر مشتمل کمیٹی کو معاملہ سپرد کیا جاتا ہے نہ کہ ججز ریگولر کمیٹی کو۔

    خط میں کہا گیا کہ ججز کمیٹی 2023 ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی اور کمیٹی کے اپنے بھائی ججز اراکین کی اس تشویش کو سمجھتا ہوں جو چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے ہے، میں نے ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے 13 ججز سے رائے لی، جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) نے کہا کہ آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت دائر کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیا ایسا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہو سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے 13 ججز میں سے 9 جج صاحبان کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو فل کورٹ کے بجائے آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، جب ججز کی رائے آچکی تو یہ حقائق دونوں بھائی ججوں (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) کو بتا دیے گئے اور انھیں 13 ججز کے نقطہ نظر سے بھی آگاہ کر دیا گیا، بطور چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ اجلاس بلانے کو مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف ججز کے درمیان انتہائی ضروری باہمی روابط کی روح مجروح ہوتی بلکہ اس سے سپریم کورٹ عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی ہے، جیسا کہ افسوس کے ساتھ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ اسی پس منظر میں، چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر کو دوپہر کے بعد کافی دیر سے، میرے دو بھائی ججز کے خطوط موصول ہوئے۔ کمیٹی نے سربمہر لفافوں میں اپنی رائے دی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کا حکم دینے کی درخواست کر رہے ہیں،مجبوراً، میں نے یہ دو خطوط اور ان کے جوابات (سربمہربند لفافوں میں) سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کے حوالے کر دیے ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے رکھے جائیں، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جو 5 نومبر 2024ء کو بلایا گیا، منعقد ہو۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ میں اس اجلاس میں جوڈیشل کمیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز کو آئینی بینچ کے اراکین کے طور پر نامزد کرے، تاکہ آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق (3) کے کلاز (اے) کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی یا آئینی بینچ کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو پاکستان کے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے پیش کر سکے۔

    چیف جسٹس نے خط میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی کا اجلاس بلانا یا پاکستان کے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینا یقیناً آئین کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

  • چیف جسٹس کی عدلیہ، قانونی برادری اور عوام کو عید کی مبارکباد

    چیف جسٹس کی عدلیہ، قانونی برادری اور عوام کو عید کی مبارکباد

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے عید الفطر کے موقع پر عدلیہ، قانونی برادری اور عوام کو عید کی مبارکباد پیش کی۔

    باغی ٹی وی : اپنے پیغام میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عید الفطر رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام کی علامت ہے اور ہمیں ہمدردی، رواداری اور ایثار کی خوبیوں کی یاد دلاتی ہے ہم قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یہ عید پوری قوم کے لیے امن، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث بنے۔

    انہوں نے کہا کہ عید کے اس پرمسرت موقع پر ہمیں اپنے معاشرے کے ان کم نصیب افراد کو یاد رکھنا چاہیے جو مشکلات کا شکار ہیں، آئیے ہم اللہ کی نعمتوں کو مہربانی، سخاوت اور ایثار کے ساتھ دوسروں میں بانٹیں، کیونکہ یہی رویہ ہمیں بھائی چارے، انصاف اور دیانت پر مبنی ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کی ترغیب دیتا ہے۔

    صدر مملکت نے نواب شاہ،بلاول نے لاڑکانہ میں نماز عید ادا کی

    پاکستان بھر میں عیدالفطر منائی جا رہی، صدر مملکت،وزیراعظم،عسکری قیادت کی مبارکباد

    جیل میں تیسری عید، سیکورٹی وجوہات،عمران خان نماز عید نہ پڑھ سکے

  • نئے چیف جسٹس پاکستان کیلئے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے

    نئے چیف جسٹس پاکستان کیلئے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے

    اسلام آباد: نئے چیف جسٹس پاکستان کےلیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تین نام خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادیئے ہیں، وزارت قانون کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا تھا جس میں تین سینئر ترین ججوں کے نام نئے چیف جسٹس کے لیے مانگے گئے تھے ۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کے تقرر کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا اور نئے چیف جسٹس کی تقرری موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل کی جائے گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائرمنٹ سے قبل چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں جہاں وہ ان دنوں فیصلے لکھیں گے، سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں پہلے نمبر پر جسٹس منصور علی شاہ، دوسرے نمبر پر جسٹس منیب اختر اور تیسرے نمبر پر جسٹس یحییٰ آفریدی ہیں۔

  • طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ

    اسلام آباد قائد اعظم یونیورسٹی سنڈیکیٹ اجلاس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بحثیت رکن شرکت، قائد اعظم یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ کرلیا جبکہ ذرائع سیکریٹری تعلیم وسیم اجمل کی سربراہی میں طلبہ یونین کے لیے قواعد طے کرنے کے لئے کمیٹی قائم.

    جبکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ وائس چانسلر پروفیسر نیاز کی زیر صدارت اجلاس میں شریک ہوئے، چیف جسٹس کا یونیورسٹی میں اسلحہ بردار پولیس ، رینجرز اور سیکیورٹی کی موجودگی پر اظہار ناراضگی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا یونیورسٹی کو اسلحہ و منشیات سے پاک رکھیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے پہلے قانون میں یونین موجود تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    یورو ایشیا اکنامک فورم؛ خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار. چیئرمین سینیٹ

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کو بھی یونیورسٹی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہ دیں اور ایجنسیوں کو بھی یونیورسٹی معاملات سے پرے رکھیں ، یہاں اعلٰی تعلیم پر توجہ دی جائے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی میں آ خری بار چیف جسٹس بھگوان داس نے دورہ کرکے اجلاس میں شرکت کی تھی اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار آن لائن اجلاس میں شرکت کی تھی

  • چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بھی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے اور انہوں نے اس بات کا اظہار ملٹری کورٹ سے متعلق کیس کے بینچ سے علیحد ہوتے وقت بھی کیا تھااب انہوں نے آج اپنےعہدے کا حلف اٹھانے کےبعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت کل بروز پیر کو ہو گی، کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا 14 رکنی فل کورٹ کرے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات سے متعلق ہے جسے پارلیمنٹ سے منظور کیا تھا تاہم سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر حکم امتناع دیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں، اور جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے حلف کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

    آئین کے مطابق چیف جسٹس اور 2 سینئر ججزسپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہوتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا ہے، اور اب جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل کاحصہ ہیں دوسری جانب جسٹس منیب اختر ججز تقرری کیلئےقائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئےہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصورعلی شاہ پہلے ہی کمیشن کا حصہ ہیں۔

    آئی ایم ایف کےایجنڈے کو پوری طاقت سےآگےبڑھایا جا رہا ہے،حافظ نعیم

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس اور4 سینئر ججزرکن ہوتے ہیں، جب کہ کمیشن کے دیگر ارکان میں ایک ریٹائرڈ جج، وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوتے ہیں پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوتا ہے۔

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال کا بینچ اچانک ڈی لسٹ کردیا گیا-

    باغی ٹی وی: رجسٹرار سپریم کورٹ نے مقدمات ڈی لسٹ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق بینچ کے سامنے سماعت کے لئے مقرر تمام مقدمات بھی ڈی لسٹ کر دیے گئے ہیں تاہم نوٹیفکیشن میں بینچ ڈی لسٹ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کے بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی شامل تھے بینچ کے سامنے آج 12 مقدمات سماعت کے لئے مقرر کیے گئے تھے سپریم کورٹ کے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست بھی منسوخ کردی گئی جبکہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کی کازلسٹ بھی منسوخ کردی گئی۔

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔

    آڈیو لیک کی گفتگو انتہائی سنگین ہے،وزیر قانون

    بینچ نمبر 2 کے تمام مقدمات کی سماعت کے لئے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نئے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست جاری کردی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال طبیعت ناسازی کے باعث سپریم کورٹ نہیں آ سکے۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • 2 سجیلے رہبروں نے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑ لی -امان اللہ کنرانی

    2 سجیلے رہبروں نے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑ لی -امان اللہ کنرانی

    سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے چیف جسٹس پاکستان اور عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا یے-

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مولانا رومی کی حکایت” ہزار قابل لوگوں کی موت سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک احمق مالک بن جانے سے ہوتا ہے” شئیر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیف جسٹس پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا-

    وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا


    اپنے بیان میں سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سینیٹر (ر ) امان اللہ کنرانی نے کہا کہ 2 سجیلے رہبروں نے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑ لی –

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے 2ا سمبلیاں توڑیں جہاں کوئی عُذر نہ تھا اورآئیندہ چند مہینوں میں عام انتخابات مقررہ مدت پر ہو جاتے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا-

    ایمل ولی خان کا عارف علوی،عمران خان اور بیرسٹر سیف کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

    انہوں نے لکھا کہ دوسرے چیف جسٹس پاکستان بھی ریٹائرمنٹ سےچندماہ قبل ساتھیوں سےٹکرائے جہاں ساتھی ججز پُرسکون انداز میں اپنے کام میں مصروف تھے-

    واضح رہے کہ عمران خان پر عدم اعتماد آنے کے بعد جب وہ وزیراعظم ہاوس سے نکالے گئے تو اسکے بعد انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن الگ ممکن نہیں ۔ پرویز الہی نے بھی عمران خان کو اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا مشورہ دہا تھا لیکن وہ نہ مانے اگر عمران خان اسمبلی تحلیل نہ کرتے تو ان پر پنجاب میں جو مقدمات بن رہے ہیں وہ نہ بنتے کیونکہ پنجاب میں انکی حکومت تھی تاہم اپنے ہی غلط فیصلوں کے نتائج عمران خان اب بھگت رہے ہیں

  • خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    پشاور: خیبرپختونخوا بار کونسل نے چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غلط فیصلے نے جوڈیشل سسٹم کو داغ دار بنایا ہے، جوڈیشل ضابطہ اخلاق اور اپنےحلف کی خلاف ورزی کی گئی وفاقی حکومت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرے، سینئر ججز کو نظرانداز کرنا جوڈیشل ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    خیبرپختونخوا بار کونسل نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 12 اپریل کو بار کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس میں صوبے بھر کے بار صدور کو مدعو کیا جائے گا۔


    قبل ازیں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نےچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےفی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اپنی ٹوئٹ میں نوازشریف کا کہنا تھاکہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سےنکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے-

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی چیف جسٹس سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔


    علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی نےبھی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےاستعفےکا مطالبہ کیاعوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ چیف جسٹس اب بس، استعفیٰ دیں، اگر استعفیٰ نہیں دیا تو عید کے بعد تیار رہیں، ہم اسلام آباد آرہے ہیں، پھر عوام آپ سے استعفیٰ لے کر رہیں گے عدلیہ کی آزادی، جمہوریت، آئین و پارلیمان کی بالادستی کی جنگ پہلے بھی لڑی تھی، اب بھی لڑیں گے، عدلیہ کی حقیقی آزادی کی تحریک اب ہم چلائیں گے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

  • ضروری ہے کہ ہم  آئین کے تحت اداروں کا تحفظ کریں ، چیف جسٹس

    ضروری ہے کہ ہم آئین کے تحت اداروں کا تحفظ کریں ، چیف جسٹس

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے چار جسٹس کوئٹہ پہنچ گئے، آج سے دو بینچ کیسز کی سماعت کریں گے۔

    کوٹئہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کی نئی تعمیر شدہ عمارت میں پہنچے جہاں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے استقبال کیا ۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا ء بندیال اور جسٹس جمال خان مندوخیل کو پولیس کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا چیف جسٹس عمر عطاءبندیال اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بلڈنگ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا جسٹس عمر عطاء بندیال نے اس موقع پر کہا کہ اللہ تعالی ہمیں صحیح معنوں میں انصاف فراہم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ سچائی اور دیانت داری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ،امن اور سکون کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،ایک دوسرے کےساتھ اختلافات کو دورکریں آئین کے مطابق قومی اداروں کا تحفظ ہمارا فرض ہے ہم نے آئین کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،ریاست کا وجود ماں کی طرح ہوتاہے ،تکلیف ہوتی ہے جب ڈسٹرکٹ عدلیہ کے لوگ نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں،ریاست کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے عدلیہ آئین کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے قانون کی برتری سے ہی ملک مستحکم اور ترقی کرتے ہیں ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم آئین کے تحت اداروں کا تحفظ کریں ،عدلیہ کیس کی نوعیت دیکھ کر آگے بڑھتی ہے بلوچستان کے لوگ اچھے اور محنتی ہیں،بلوچستان کو اُس کی جائز ترقی نہ مل سکی،یہاں سے اسلام آباد جانا کتنا مہنگا ہے ، جہاز کا ٹکٹ تو اب استطاعت سے باہر ہے، ہم نے سال ساڑھے 24 ہزار کیسز کا فیصلہ کیا، گزشتہ سالوں ہماری ٹینڈنسی بڑھ رہی تھی، رواں سال نہیں بڑھی، قانون کی بات لائیں ضرور سنیں گے،موجود ہ صورتحال میں سب کو اکھٹا ہوکر آگے چلنا ہوگا،وکلا کو ویڈیو لنگ کا استعمال کرناچاہیے ،

    واضع رہے کہ آج پہلی مرتبہ کوئٹہ رجسٹری کی نئی عمارت میں سپریم کورٹ کے دو بنچ کیسوں کی سماعت کریں گے بنچ نمبر 1 چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس محمد علی مظہر اور بنچ نمبر 2 جسٹس یحیئ خان آفریدی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہے سپریم کورٹ کے دونوں بنچوں نے کوئٹہ رجسٹری کی نو تعمیر شدہ عمارت میں کیسوں کی باقاعدہ سماعت شروع کر دی سپریم کورٹ رجسٹری میں ویڈیو لنک کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہےویڈیو لنک کے ذریعے پرنسپل سیٹ سے رجسٹری کے کیسز کی سماعت ہوسکے گی سپریم کورٹ بار کے بلوچستان سے نائب صدر کی جانب سے آج سپریم کوٹ کے چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جائے گا۔