Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو گئے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو گئے

    مخصوص نشستوں کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولانا فضل الرحمان نے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں، دوران سماعت جے یو آئی نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کی تھی تا ہم اب مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں،اپیل نہیں کریں گے،

    ویڈیو بیان میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر بطور سیاسی جماعت اپیل دائر نہیں کریں گے،سپریم کورٹ کے فیصلے پر حمتی رائے قانونی ماہرین ہی دے سکتے ہیں، جے یو آئی بطور سیاسی جماعت اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کرے گی،فیصلے سے متاثر افراد کو انفرادی طور پر اپیل سے نہیں روک سکتے، جے یو آئی سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی طور پر تسلیم اور پی ٹی آئی کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار کرتی ہے، امید کرتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے پیشرفت مفید ثابت ہوگی، تحفظات کو دور کرنے کے لیے اور مذاکراتی ماحول تشکیل دینے کے لیے مددگار ثابت ہوگا

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کی جانب سےمخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے پر تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ذمہ داری پوری نہیں کی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر فوری استعفیٰ دیں،آج عمران خان کی جیت ہے اور آج کا دن عمران خان کے نام ہے۔

    خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں ،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ آج محب وطن پاکستانیوں کیلئے خوشی کا دن ہے، نوافل ادا کریں، فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، پریکٹیکلی 11 ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے،آج پورے ملک کے لئے ،جمہوری قوتوں کے لئے خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں اور رب کا شکر ادا کریں، ان شاء اللہ ہمارا حق ہمیں مل گیا، یہ وہی حق تھا جس کے لئے ہم کہتے چلے آ رہے تھے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، آج 11 ججز نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا،اور کہا کہ تحریک انصاف ان نشستوں کی حقدار ہے، یہ سیٹیں واپس تحریک انصاف کو ہی ملیں گی،

    عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے جشن منایا گیا اور عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،لاو ترازو تول کے دیکھو ساڈا بلہ بھاری اے، کے نعرے لگائے گئے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل بھی نعرے لگانے والوں میں شامل تھیں،

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

    مخصوص نشستوں کی واپسی سے پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ‘ مسرت جمشید چیمہ
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کی واپسی کی صورت میں پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ہے ،عدالتی فیصلے سے واضح ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نے کسی کی ایماء پر پی ٹی آئی کے حق پر ڈالا تھا ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ساری قوم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ، اگر پاکستان کو گھمبیر مسائل کی دلدل سے باہر نکالنا ہے تو آئین و قانون کے مطابق چلنا ہوگا ۔پی ٹی آئی نئے عزم اور جذبے کے ساتھ عوامی حقوق کے لئے جاری جدوجہد کو آگے برھائے گی اور ان شا اللہ فتح حق اور سچ کی ہو گی ،پی ٹی آئی کے اراکین ایوانوں کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کی آواز بلند کریں گے ۔آنے والے دنوں میں نئی جدوجہد شروع ہونے جارہی ہے جس سے اتحادی حکومت کی بنیادیںلرز جائیں گی ۔

    سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی جس کو عوام نے ووٹ دیا تھا،کنول شوذب
    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا تھا کہ آج اللہ کی طرف سے مدد آئی ہے، سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی ہے جس عوام نے اُسے ووٹ دیا تھا،الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے، سلمان اکرم راجہ ہماری آواز بنے، سپریم کورٹ میں کیس لڑا، آج کا فیصلہ پی ٹی آئی کی جیت ہے، پی ٹی آئی کو سیٹیں مل جائیں گی،انصاف کا بول بولا ہوا ہے آج، خواتین کو انکا حق مل گیا،

    عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا،زرتاج گل
    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ کل عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا، آج سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ ختم کی ہے،بشریٰ بی بی کے ساتھ عدت جیسا کیس گھٹیا ترین کیس ہے، خواتین یکجہتی کے لئے عدالت آتی ہیں، ہم پورا دن عدالت بیٹھے ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، جن لوگوں نے بشریٰ بی بی پر گھٹیا کیس بنایا سیاسی دشمنی کی بنا پر انکو بھی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کی خواتین بشریٰ بی بی کے ساتھ ہیں،آج سپریم کورٹ سے بھی عمران خان کی جیت ہوئی ہے، عمران خان کی پارٹی جیت گئی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دے دیا ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

  • سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا
    مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل ہے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ہیں،احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار پائے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرا ر دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار دیئے گئے،میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار دیئے گئے

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کےاختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا،تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے،جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں،لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے،سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے،

    تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 8/5 کی اکثریت سے ہے، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے وہ فیصلہ سنائیں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان کے چھینے سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا ،تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، پی ٹی آئی کو عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملیں گی،دیگر جماعتوں کو ملنے والی مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں ہیں جن 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی دکھائی وہ پی ٹی آئی کے ہی ہیں ،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لسٹ جمع کرائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی۔ نشستیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی،پی ٹی آئی 15 روز میں مخصوص نشستوں کی فہرست دے،الیکشن کمیشن نے 80 ارکان کی فہرست پیش کی ہے ،80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا ،باقی 41 ارکان آئندہ 15 دنوں میں اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس جماعت کا حصہ ہیں

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بطور پی ٹی آئی قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں،عدالت نے کہا کہ دیگر 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ سنی اتحادکونسل کے امیدوار تھے، سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت نے اکثریتی فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست کی مسترد
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے قانون کے مطابق پروسیس مکمل نہیں کیا درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کا یکم مارچ کا آرڈر برقرار رہے گا،

    الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو نکال کر فیصلہ دیا، اس بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن نے غلط طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا، پی ٹی آئی نے آزاد قرار دیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی ڈیکلیئر کریں، پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں مصنوعی الفاظ کا اضافہ نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے ذریعے نئے الفاظ کا اضافہ کرنا آئین پاکستان کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کےفیصلے کی غلط تشریح کی،

    جسٹس امین الدین خان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں ،چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نا جیت سکی، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی، آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے فیصلہ سنایا، اس موقع پر سپریم کورٹ کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں موجود تھی، پولیس الرٹ تھی،سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستے بند اور عام شہریوں کا داخلہ بند کردیا گیا تھا، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سردار لطیف کھوسہ اور کنول شوذب بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر علی خان, شبیر قریشی اور ثناءاللہ مستی خیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہِ عدالت وکلاء، رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھر گیاتھا،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو دن فل کورٹ مشاورتی اجلاس بلایا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پہلے کہا گیا تھا کہ تین رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا پھر کاز لسٹ جاری کی گئی کہ فل کورٹ فیصلہ سنائے گی،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    جمعہ کا دن،کئی عدالتی فیصلے،ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا
    پاکستان کی ملکی سیاست میں جمعہ کا دن انتہائی اہم رہا، جمعہ کے دن کئی عدالتی فیصلے ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلایا،20 جولائی 2007 جمعہ کے روز سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہوئی تھی،31 جولائی 2009 بروز جمعہ ،ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا،28 جولائی 2017 بروز جمعہ،پانامہ لیکس کیس میں‌سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا،15 دسمبر 2017 بروز جمعہ، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا،13 اپریل 2018 بروز جمعہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا،6 جولائی 2018،ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن ر صفدر کو سزا سنائی گئی تھی،

    شریف برادران اور مسلم لیگ ن کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے، پانامہ کیس کے فیصلے سے تاحیات نااہلی کے فیصلے تک سب جمعہ کو سنائے گئے، پانچ مئی 2017 بروزجمعہ پاناما جے آئی ٹی بنی۔ اٹھائیس جولائی بروز جمعہ نواز شریف نااہل ہوئے۔ پندرہ ستمبر بروز جمعہ نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی۔ تیرہ اپریل کو نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے .ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کو سنایا گیا جب عدالت نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ا س سے پہلے اصغر خان کیس میں نوازشریف اور دیگر کیخلاف تحقیقات کا حکم بھی انیس اکتوبر 2012 بروز جمعے کو ہی جاری ہوا تھا.

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر ہونے والا مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، مشاورتی اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شامل تھے.گزشتہ روز بھی ایک فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس پر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کسی بھی وقت سنائے جانے کا امکان ہے،آج ججز کا دوسرا مشاورتی اجلاس مختصر رہا، تقریبا 40 سے 45 منٹ جاری رہا، کل تقریباً 2 گھنٹے مشاورت ہوئی، 13 ججز نے سر جوڑے کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    کُل77 متنازع نشستوں میں سے 22 قومی اور 55 صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں ہیں،الیکشن کمیشن پاکستان نے 13مئی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ان نشستوں کو معطل کر دیا تھا،قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختون خوا سے 8 سیٹیں شامل ہیں،قومی اسمبلی میں معطل نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 14، پیپلز پارٹی کو 5، جے یو آئی ف کو 3 اضافی نشستیں ملی تھیں،خیبر پختون خوا اسمبلی میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی مخصوص نشستیں معطل ہیں جن میں سے جے یو آئی ف کو 10، مسلم لیگ ن کو 7، پیپلز پارٹی کو 7، اے این پی کو 1 اضافی نشست ملی تھی،پنجاب اسمبلی میں 24 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 اقلیتی نشستیں معطل ہیں، جن میں سے ن لیگ کو 23، پیپلز پارٹی کو 2، پی ایم ایل ق اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک ایک اضافی نشست ملی تھی،سندھ اسمبلی سے 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست معطل ہیں جہاں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست ملی تھی۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • ہمارا معاشرہ ایسا ، پیار کی بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہمارا معاشرہ ایسا ، پیار کی بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ کسی وکیل کی سرزنش کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ سکھانا ہوتا ہے کیونکہ یہ پروفیشنل ازم اور اصولوں کا معاملہ ہوتا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ہم فیصلہ لکھتے ہوئے نہیں سوچتے کہ روسٹرم پر کن جملوں کا تبادلہ ہوا، غصے میں دیا گیا فیصلہ صحیح فیصلہ نہیں ہوتا، میرا اسٹاف گواہی دے گا کہ میں نے اپنے کیریئر میں کبھی غصے میں فیصلہ نہیں دیا، ہم نے خیال کرنا ہے کیونکہ لوگ انصاف کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں ،میں غصہ کرتا ہوں،یہ ذاتی نہیں، پروفیشنل ہوتا ہے،ہمارا معاشرہ ایسا ہے پیار کے بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ نوجوان وکلاء کی رہنمائی کے لیے بار کونسلز کو کردار ادا کرنا ہوگا، نوجوان وکلاء کو کیس کی تیاری کےعلاوہ اچھے آداب کےساتھ عدالت میں پیش ہوناچاہیے، ہمارے وقت وکلا نے کیس کی فائل نہیں پڑھی ہوتی تھی تو عدالت سے ڈانٹ پڑتی تھی، نوجوان وکلاء سے درخواست ہے کہ مقدمات کی فائلیں پڑھ کر آئیں،ہ اچھی بار ہی اچھا بینچ بناتی ہے، ہم سب نے اپنا کردار ادا کر کے چلے جانا ہے اور نوجوانوں نے ان سیٹوں پر بیٹھنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے انکشاف کیا کہ میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر کا حصہ رہا ہوں، میاں ثاقب نثار اور اُن کے والد میاں نثار دونوں وہ چیمبر چلاتے تھے۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل کو تین حلقوں کا  ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل کو تین حلقوں کا ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ٹربیونل کو تین حلقوں کا باقاعدہ ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن ٹریبیونل ابتدائی معاملات سے متعلق کارروائی آگے بڑھا سکتا ہے،الیکشن ٹریبیونل تبدیلی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ٹریبیونل میں کیا کارروائی چل رہی ہے؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایک کیس آج تھا، دیگر دو پیر کو سماعت کیلئے مقرر ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم کیس 22 جولائی تک رکھ لیں تو کوئی ایشو تو نہیں؟ اگر پروسیجر کی کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے تو چیلنج کیا جا سکتا ہے، ن لیگی امیدوار کے وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس رِٹ میں آرڈر کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رِٹ میں نہیں کر سکتے تو سڑک پار سپریم کورٹ چلے جائیں،اگر ٹریبیونل کے کسی آرڈر سے متاثر تھے تو رٹ پٹیشن دائر کرتے، آرڈر کے خلاف رِٹ قابل سماعت ہے، آپ سیدھے تعصب پر چلے گئے، میں تو حیران ہوں آپ لوگوں نے قانون دیکھا ہی نہیں اور اعتراض کر دیا، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالت الیکشن ٹریبیونل کو حتمی فیصلہ کرنے سے روک دے، الیکشن ٹریبیونل کی کارروائی کو آگے بڑھنے سے نہ روکا جائے،ٹریبیونل نے 2 مئی کو جواب اور فارمز جمع کرانے کا حکم دیا تھا ابھی تک جمع نہیں ہوئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں متفقہ حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں،ایشوز فریم کروا لیں، ٹریبیونل کو ابتدائی چیزیں پوری کرنے دیں، ہم الیکشن ٹریبیونل کو باقاعدہ ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی

    الیکشن ٹربیونل،راجہ خرم نواز نے فارمز اور بیان حلفی جمع کروا دیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،  سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مختصر رہوں گا، پندرہ منٹ میں جواب الجواب مکمل کروں گا،آرٹیکل 218 کے تحت دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری شفاف طریقہ سے ادا کی یا نہیں،ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری مکمل نہیں کی، موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی، 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن تین مخصوص نشستیں ملیں،الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق بے ایمانی پر مبنی جواب جمع کروایا،الیکشن کمیشن کے سامنے معاملہ سپریم کورٹ سے پہلے بھی لے کر جایاگیاتھا،الیکشن کمیشن اپنے ہی دستاویزات کی نفی کررہاہے، کیا یہ بےایمانی نہیں؟

    آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جسٹس عرفان سعادت
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھول جائیں الیکشن کمیشن نے کیاکہا؟ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق قانون پر مبنی تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق مخصوص نشستوں کا فیصلہ چیلنج کیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ دیتا کہ غلطی ہوگئی، الیکشن کمیشن نے ایسا رویہ اختیار کیاجیسے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق فیصلے کا وجود ہی نہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا لیکن سیٹ نہیں جیتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، ابھی دلائل دیں لیکن بعد میں تفصیلی جواب دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہوتا ہے،پارلیمنٹ کے اندر جو فیصلے ہوتے ہیں وہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے،ایسے فیصلے سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی،پارلیمانی پارٹی پولیٹیکل پارٹی کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں، جیسے وزیراعظم کو ووٹ دینا ہو تو پارلیمانی پارٹی پابند نہیں کہ سیاسی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کرے، وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں،

    آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، چیف جسٹس
    باپ پارٹی! نام عجیب سا ہے! جسٹس جمال مندوخیل کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی باقی صوبوں میں سیٹ لے اور ایک صوبے میں نہ لے تو کیا ہوگا؟ وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے دیگر صوبوں میں سیٹ جیتی لیکن خیبرپختونخوا میں کوئی سیٹ نہیں لی، الیکشن کمیشن کا غیرشفاف رویہ ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں سپریم کورٹ جوڈیشل نوٹس لے؟ اگر نہیں تو ذکر کیوں کررہے؟آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ 2018 انتخابات پر انحصار نہیں کرےگی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن امتیازی سلوک کررہا تو سپریم کورٹ دیکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی 2018 میں الیکشن کمیشن ٹھیک تھا؟

    کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یونانی کہتےتھے اگر دلائل سے بات نہیں کرسکتے تو فرد پر اٹیک کردو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یونانی مثال اچھی بات ہے؟ آئینی بات ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اچھی بات نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی منافقت ظاہر ہے، جمیعت علمائے اسلام ف کو بھی اقلیتوں کی مخصوص نشست دی ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام ف نے کہا ہمارے مینی فیسٹو میں ایسا کچھ نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں جمیعت علمائے اسلام ف کا اقلیتوں کے حوالے سے مینی فیسٹو دکھا دیتاہوں، جے یو آئی کو اقلیتی نشست بھی الاٹ کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا جمیعت علمائے اسلام ف کو اقلیتی نشست نہیں ملنی چاہیے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ کامران مرتضیٰ اس پر وضاحت دے چکے ہیں کہ مس پرنٹ ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کامران مرتضیٰ کی وضاحت ہوا میں ہے، جے یو آئی کی کی ویب سائٹ سے آئین ڈائون لوڈ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں تمام مسلمان شامل ہوسکتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باقیوں کو آپ مسلمان سمجھتے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ آئین کے ٹیکسٹ پر بات چاہتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں آئین کے ٹیکسٹ سے ہی فیصلہ چاہتا ہوں، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا ٹیکسٹ میں لکھا ہے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دیں ؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کے ٹیکسٹ میں ایسا نہیں لکھا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جواب الجواب دلائل نہیں دے رہے نئے نکات اٹھا رہے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں انہی نکات پر بات کر رہا ہوں جو بار بار یہاں اٹھائے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار پی ٹی آئی کی طرف سے بات کرنے لگتے ہیں آپ سنی اتحاد کونسل پر رہیں، متناسب نمائندگی کے حساب سے تو سنی اتحاد کونسل کو زیرو نشست ملنی چاہئے، آپ کی تو عام انتخابات میں زیرو نشست تھی،

    ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، چیف جسٹس کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیا 18 جنرل سیٹیں جیتنے والی کو 30 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی لاجک کے مطابق آپ کو تو پھر صفر سیٹ ملنی چاہیے کیونکہ آپ کوئی سیٹ نہیں جیتے، آپ تحریک انصاف کے کیس پر دلائل دےرہے، آپ سب باتیں اپنے خلاف کررہےہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں آزادامیدوار کہہ رہے وہ آزادامیدوار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، ہم آپ کے دلائل مان لیتے ہیں تو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحادکونسل کو ملے گی جو پارلیمنٹ میں موجود ہے،

    2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹ کے حق پر کوئی بات نہیں کررہا، عوام نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دیا،انتخابات کو شفاف بنانا ضروری ہے، صورتحال کے مطابق ایک بڑی سیاسی جماعت کو ووٹ ملا جس کو انتخابی عمل سے نکال دیا گیا، بات سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کے حق کی ہے، 2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ عوام کا حق پامال ہونے دیں؟

    فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں،جسٹس عرفان سعادت
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اسی وقت کہہ دیتا آپ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن کا مسلسل ایک ہی موقف رہتا تو بات سمجھ آتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن نارمل حالات میں اور شفاف ہوئے تھے؟کیا ایک بڑی سیاسی جماعت کو اپنے امیدوار دوسری جماعت میں کیوں بھیجنے پڑے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ آزاد امیدواروں نے کیسے پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی،پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو آزاد امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے بتانا ہوگا،آزاد امیدوار کی بھی مرضی شامل ہونی چاہیے،الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت کا ممبر ہے تو اسی سیاسی جماعت کا نشان اسے ملنا چاہیے،کسی سیاسی جماعت کو چھوڑے بغیر نئی جماعت میں شمولیت نہیں ہوسکتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بلے کے نشان کا فیصلہ آنے سے پہلے حامد رضا پی ٹی آئی کے نامزد تھے،الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی جس وجہ سے تنازع پیدا ہوا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جسٹس عرفان سعادت نے کہا تھا ہمیں مفت نشستیں ملیں، اس پرمرزا غالب کا شعر سنانا چاہتا ہوں، غالب نے کہا تھا مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مرزا غالب کو چھوڑیں، آپ تشریف رکھیں، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کے جواب الجواب دلائل مکمل ہو گئے.

    سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟جسٹس جمال مندوخیل کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ واپس بھی لے لیا گیا تھا،ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،الیکشن کمیشن نے مکمل دستاویزات جمع نہیں کروائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 13 جنوری کا ڈیکلریشن آپ نے تحریک انصاف نظریاتی کا ظاہر کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیس بہت اہم ہے، سنجیدہ سوالات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری پر اٹھے ہیں، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں جو تحریک انصاف کے ہوتے ہوئے سنی اتحادکونسل میں گئے وہ ٹھیک گئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر آزاد امیدوار ڈیکلیئر کیا ہے تو سنی اتحادکونسل میں شامل ہوسکتے، سنی اتحادکونسل کے علاوہ کسی پارٹی میں شامل کونے کی کوئی آپشن نہیں تھی،اس سے پہلے جو ہوا وہ الیکشن کمیشن کی غلطی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آئینی تشریح سے ایسے نتیجے پر پہنچے تو مجھے انکار نہیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں کہاں لکھا کہ مخصوص نشستیں لینے کے لیے ایک سیٹ جیتنا ضروری ہے،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا آپ کی دلیل وکیل فیصل صدیقی کے کیس کو نقصان نہیں پہنچا رہی، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اپنے دلائل مکمل اور شفاف دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بات ہو رہی تو ووٹ کے حق کی بات ہورہی،الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا،کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے،فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،قاسم سوری الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سوچ رہے ہیں اس کیس میں کیا کریں ؟ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ آپ صرف مجھے سن لیں اور فیصلہ دے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا قاسم سوری سے رابطہ نہیں ہے، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جی میرا بلکل قاسم سوری کے ساتھ رابطہ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے کلائنٹ کو پکڑ کر تو نہیں لا سکتے ،انہیں بتائیں کہ سپریم کورٹ کو ایسے استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جو بھی کرنا ہے جلدی سے کر دیں، وآپ مجھے حکم دیتے ہیں تو میں کیس چھوڑ دیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنے خوبصورت شخص کو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ کیس چھوڑ دیں ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کورٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں،آپ انکو ہمارا پیغام پہنچائیں ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میرا کوئی رابطہ ہی نہیں ہے پیغام کیسے بھیجوں،

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی،سپریم کورٹ نے وفاقی و بلوچستان حکومت کو قاسم سوری جائیداد رپورٹ معاملہ پر نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے ایف آئی اے سے قاسم سوری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے قاسم سوری کہاں پر ہے،بلوچستان حکومت قاسم سوری کی جائیدادوں کی رپورٹ پیش کرے۔قاسم سوری عدالتی حکم باوجود پھر پیش نہیں ہوئے۔

    قاسم سوری کو دو بار پہلے بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، آج بھی عدالت پیش نہ ہوئے نومئی کےو اقعات کے بعد سے قاسم سوری پہلے روپوش تھے اب اطلاعات کے بعد قاسم سوری برطانیہ میں ہیں.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، این اے 81 انتخابی عذرداری کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل احسن بھون نے کہا کہ دوبارہ گنتی میں میرے موکل کامیاب قرار پائے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ریٹرننگ افسرنےدوبارہ گنتی کی درخواست پر آرڈر نہیں کیا، ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کا قانون کے مطابق پابند تھا، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کو کرنی چاہیے تھی،ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردے تو کیا ہوگا،ریٹرننگ افسر فیصلہ کیخلاف داد رسی کا فورم کونسا ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فارم 47 کیا چیز ہے۔ قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،فارم 47 کیلئے قانون میں کیا لفظ استعمال کیا گیا ہے،وکیل احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ فارم 47 ابتدائی نتیجہ ہوتا ہے، حتمی نتیجہ فارم 48 پر جاری ہوتا ہے جب کہ فارم 47 کو قانون میں عارضی نتیجہ قرار دیا گیا ہے

    وکیل احسن بھون نے کہا کہ 9 فروری کو ریٹرننگ افسر نے فارم 47 جاری کیا اور 11فروری کو ریٹرننگ افسر نے حلقے کا فارم 48 بھی جاری کردیا، انتظامی افسر کے فیصلے کے خلاف میرا مؤکل الیکشن کمیشن چلا گیا،کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،وکیل چوہدری بلال نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اختیار ہے کہ دوبارہ گنتی کروائے یا نہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ اس کیس میں نتیجہ حتمی ہونے سے پہلے گنتی کی درخواست دی گئی،وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست کے ساتھ کوئی شواہد نہیں دئیے گئے،الیکشن کے دن دھاندلی اور اگلے روز دوبارہ گنتی کی درخواست دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےا ستفسار کیا کہ دوبارہ گنتی کیلئے کیا شواہد دئیے جا سکتے ہیں، دوبارہ گنتی کیلئے دو قانونی شرائط ہیں،ایک الیکشن میں بہت سی بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں، وکیل نے کہا کہ نتیجہ کااعلان کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے عدالت کا نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،بدقسمتی سے عدالتیں بہت آگے چلی جاتی ہے،شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چوہدری اعجاز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں دوبارہ گنتی میں آپ جیت بھی سکتے ہیں، اگر کچھ غلط ہوتو اسکو آغاز سے ہی درست کرنا چاہیے سپریم کورٹ میں این اے 81 سے متعلق سماعت مکمل ،عدالت نے انتخابی عذرداریوں کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • جسٹس ملک شہزاد نے  چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درخواست دی ہے جس میں انہوں نے چھٹیاں مانگی ہیں،چار جولائی کو جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس کو خط لکھا جس میں کہا کہ
    میں فرض کے گہرے احساس اور بھاری دل کے ساتھ آپ کو خط لکھ رہا ہوں،یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کے کیس سے متعلق قانونی عمل کو غیر ضروری طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ الزامات چاہے ان کی سچائی سے قطع نظر، ہماری معزز عدلیہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری پر پرچھائی ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح، میں اسے اخلاقی طور پر سمجھتا ہوں۔میں اس وقت تک مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتا جب تک اس طرح کے دعوے موجود ہیں، میں نے غیر متزلزل طور پر انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ یہ میرا فرض رہا ہے کہ میں کسی بھی قسم کے بیرونی اثرات یا ذاتی تحفظات سے آزاد ہو کر مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کروں۔ ان اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے میری عدالتی ذمہ داریوں سے عارضی ریلیف دیں اور میری بیٹی سے متعلق قانونی کارروائی کے اختتام تک مجھے کسی بھی بنچ پر تفویض کرنے سے گریز کریں۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے خط میں انکی بیٹی کی گاڑی حادثے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حادثے کے نتیجے میں نوجوان کی بے وقت موت ہوئی ، میں اپنے آپ کو اپنے عدالتی فرائض سے دستبرداری کی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں۔یہ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ اقدام ہمارے عدالتی ادارے کے تقدس اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ غیر جانبداری کا تصور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کی حقیقت، اور میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہوں کہ دونوں میں سے کوئی بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    بیٹی کو مشورہ دیتا ہوں دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے،خود کو قانون کے حوالے کرے، جسٹس ملک شہزاد
    جسٹس ملک شہزاد احمد نے اپنے خط میں مزیدکہاکہ میں اس موقع کو اپنی بیٹی کو مشورہ دینے کے لیے کہتا ہوں کہ وہ ہمت اور دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ عدالتی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور خود کو قانون کے حوالے کرے۔میں اللہ رب العزت، سپریم جوڈیشل کونسل اور آپ کے معزز فیصلے پر اپنا غیر متزلزل بھروسہ رکھتا ہوں۔ میں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہتا .

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    واضح رہے کہ مقتول نوجوان کے والد رفاقت تنولی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دیں،قانون سب کے لیے برابر ہے،اگر میں برابر کا حق رکھتا ہوں تو میرے بچے کی قاتل کو گرفتار ہونا چاہیے تھا
    میرے بچے کی قاتل آزاد گھوم رہی ہے،جسٹس شہزاد نے دو سال اپنے بیٹی کو سزا سے بچایا،میرے بیٹے اور اس کے دوست جو یتیم بھی تھا کو سابق چیف جسٹس ملک شہزاد کی بیٹی نے سرکاری گاڑی سے کچل کر مار دیا تھا اور جج صاحب کو سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رفاقت تنولی کی گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے،اور کہا پولیس تفتیش میں پہلے کچھ نہیں ہوا، ہماری ڈیڑھ ماہ کی تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے،پہلے تو کوئی گھوسٹ ڈرائیور بتایا گیا تھا، اب ہمیں نئی فوٹیجز ملیں، پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ایک خاتون ڈرائیور گاڑی چلا رہی تھی، لینڈ کروزر گاڑی نے ٹکر ماری، قائداعظم تھرمل پراجیکٹ کی گاڑی تھی،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے یہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ میں گئی تھی،گاڑی کا جب ایکسیڈنٹ ہوا تو یہ گاڑی جسٹس شہزاد احمد کے استعمال میں تھی، گاڑی جسٹس شہزاد احمد کی فیملی کے استعمال میں تھی، گاڑی سپرداری پر لی گئی تھی ہم نے سپرداری منسوخی کی درخواست دی ہے،گاڑی کا غلط استعمال ہو رہا ہے ہم سپرداری منسوخ کروا رہے ہیں،پولیس اب تفتیش میں بہت قریب پہنچ چکی ہے،

    واضح رہے کہ 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے، واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار تھی،شکیل کے والد رفاقت تنولی نے کارروائی کیلئے درخواست دی تو دوران تفتیش معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے جج کے زیر استعمال تھی