Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری

    پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری دے دی ہے

    سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالہ سے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تعیناتی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کی توثیق کی گئی، اجلاس میں بھیجے گئے ناموں کی منظوری دے دی گئی

    پارلیمانی کمیٹی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی بطورسپریم کورٹ جج کی منظوری دی ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی بطورجج سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال کی بھی بطور جج سپریم کورٹ کی منظوری دی گئی۔

    جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا .

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کا فیصلہ پانچ ممبران کی اکثریت سے ہوا.جسٹس ملک شہزاد احمد کی سپریم کورٹ تقرری کی جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے مخالفت کی،ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کی مخالفت کی،جسٹس منیب اختر جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس منظور ملک نے بھی مخالفت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کی حمایت کی.اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین نے بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام کی حمایت کی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور جسٹس شاہد بلال کے ناموں کی سفارش متفقہ طور پر کی گئی.

  • یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد نے کہا کہ ہم نے فیصلہ قانون اور آئین کےمطابق کرناہوتاہے،جلد انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کمزور ہیں، کمزور طبقے کااہم مسئلہ عدالتوں سے بروقت فیصلہ نہ ہونا ہوتا ہے،کئی مقدمات ایسے ہیں جو 30،30 سال سے زیرالتوا ہوتے ہیں،وکیل بھائیوں کیساتھ پرانا تعلق ہے،جوڈیشری کے افسران کا محفل میں آنے پر شکرگزار ہوں، اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں،پہلے بھی کہا عدالتی نظام کمزور کیلئے بنایا گیا ہے،سب سے پہلے ہم نے مسائل کی نشاندہی کرنی ہے،حلف اٹھایا تو سب سے گزارش کی سرجوڑ کر بیٹھیں،کئی مقدمات میں فیصلے ہونے تک 2نسلیں گزر جاتی ہیں،آج کادن پنجاب کے عوام اور ضلعی عدلیہ کیلئے تاریخی ہے،آج سے ای کورٹس سے شہادت قلمبند کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے، فیصلے سے لوگوں کو جلد اور سستاانصاف مہیا کرنے میں مدد ملے گی،کسی بلیک میلنگ میں آئے بغیر فرائض انجام دیں گے،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے، عدلیہ میں مداخلت کاسلسلہ جلد ختم ہوگا، عدلیہ بغیر کسی ڈر اور خوف کے فرائض انجام دے رہی ہے، کسی بلیک میلنگ کاشکار نہیں ہونا،کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا،عدلیہ مداخلت سے نجات کےلیے جدوجہد کررہی ہے،فل کورٹ میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ ہڑتال کلچر برداشت ہوگا،ہڑتال کی کال ہو یا نہیں کام قانون کے مطابق کریں ،پنجاب کے تمام وکلاء نے ہڑتال اور تالا بندی کے کلچر کو دفن کر دیا پنجاب میں 2 لاکھ سے زائد کیسز دائر ہوئے ، پنجاب میں فیصلہ 3 لاکھ سے زائد کیسز کا فیصلہ ہوا،وکلاء کا یہ کام نہیں کہ عدالت کو تالا لگائیں،کچھ سیاسی عناصرسے درخواست ہے آپ وکالت چھوڑ دیں،ہمیں دیں،ہم آپ کو بھرتیاں کریں گے شام کو تالا لگا لیجیے گا، جج صاحب ( انسدادِ دہشتگردی عدالت سرگودھا) سے فون پر بات ہوئی، انہوں نے کہا تمام اقدامات کے باوجود کسی بھی قسم کی قربانی کیلئے تیار ہوں، لیکن کسی سے ناانصافی نہیں کروں گا۔عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہے جس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،

    لاہور ہائیکورٹ نے طلبا کو الیکٹرک بائیکس تقسیم کرنے سے روک دیا

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کے 8 الیکشن ٹریبونلز کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کر دی، دائر درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برخلاف ہے ،الیکشن ٹربیونلز تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،اپیل کو کل سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 الیکشن ٹریبونلز تشکیل دینے کا فیصلہ دیا تھا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے گزشتہ روز 8 ٹریبونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کئے تھے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • نومئی مقدمات،ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج

    نومئی مقدمات،ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج

    شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات ،حکومت پنجاب کی کیسز ٹرانسفر کرنے کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے حکومت کی 11 ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں ،عدالت نے فی کیس دو لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا ،عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ مدعی بھی آپ پولیس بھی آپ پھر بھی انصاف کی توقع نہیں،اگر جیل میں بھی تھریٹس ہیں تو آسمان پر جاکر بسیرا کرلیں، ہم نے پنڈی عدالت کے جج سے وجہ پوچھی،وہاں بھی سائلین کو عدالت میں نہیں جانے دیا گیا، جس فریق کا جی چاہے وہ ٹرانسفر کی درخواست دے کر سماعت رکوا دے ،آپ کو لاہور ہائیکورٹ کے ججوں پر اعتماد نہیں، آپ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز پر اعتماد نہیں ہے کیا چاہتے ہیں،جن لوگوں نے آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنانا ہے وہی سب کچھ کررہے ہیں

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے محکمہ پراسیکیوشن کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی واقعات کے کیسز زیر التوا ہیں ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت دیگر رہنما کیسز میں نامزد ہیں،عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج سے انصاف کی توقع نہیں،جج کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کیسز کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کئے جائیں.

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی تعیناتیوں کا معاملہ ، جوڈیشل کمیشن ممبران کو خط،7جون کے اجلاس کے میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط لکھ دیا گیا

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو خط ارسال کر دیا،خط کی کاپی سنیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ممبران جوڈیشل کمیشن کو بھجوائی گئی ہے. خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے 7 جون کو تین ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی ہے،جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور آئی ہے، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی وجہ سے عوام الناس میں ابہام اور ہیجان پیدا ہو چکا ہے،جوڈیشل کمیشن کی تجویز کی وجہ سے پنجاب کا پورا نظام عدل ایک ہیجان میں مبتلا ہے، یہ ہیجان صرف اس وجہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کئے گئے،یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی کیا کارروائی ہوئی؟ ججز کی نامزدگی کیسے ہوئی؟ بتایا جائے کہ جوڈیشل کمیشن میں کیا نئے اصول پنائے گئے جو ماضی میں آئوٹ آف ٹرن ججز کی تعیناتیوں کیلئے نہیں اپنائے گئے تھے،آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مجوزہ تعیناتی آئین کے کس آرٹیکل، کونسے قانون کے تحت کی جا رہی ہے؟بادی النظرمیں آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تعیناتی ادارے کی تباہی کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگی، اگر جوڈیشل کمیشن نے غلط فیصلہ کرنا ہی ہے تو غلط فیصلے کو اچھا کر کے کر لیا جائے جیسے ماضی میں کیا گیا، جوڈیشل کمیشن کے پاس مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ ججز کی فہرست میں بہترین آپشنز موجود ہیں، مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے سے کم از کم آئندہ چار سال عدلیہ میں اصلاحات کے پروگرام میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ہوگی،ماضی میں عدلیہ بالخصوص لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ تجربات سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، سپریم کورٹ مختاراحمد علی کیس میں سپریم کورٹ کی بابت معلومات کو بھی مفاد عامہ کے تحت آئینی حق قرار دے چکی ہے،آئین کے آرٹیکل 19اے، معلومات تک رسائی کے قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میٹنگ منٹس پبلک کئے جائیں،جوڈیشل کمیشن اگر اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کرتا تو سپریم کورٹ سے آئینی درخواست میں رجوع کرینگے،

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • آئی جی صاحب، عدالت کا مذاق نہ بنائیں، عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    آئی جی صاحب، عدالت کا مذاق نہ بنائیں، عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائی کورٹ ،اے ٹی سی سرگودھا کے جج کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے از خود نوٹس پر سماعت کی،آئی جی پنجاب عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے، یہ عدلیہ کی آزادی سے جڑا ہوا ہے،یہ رپورٹ صرف آپ کی عدالت کے لیے اور صرف آپ کے لیے ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارے بہت اچھے جوڈیشل افسر ہیں جنہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے بندے کے ملنے کا پیغام پہنچایا گیا، کیا آپ نے وہ بندہ ڈھونڈا ہے جو جج صاحب سے ملنا چاہتا تھا؟سرگودھا عدالت کے باہر فائرنگ کے معاملے پر کیا اپ ڈیٹ ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمیں وہاں سے 17 گولیوں کے خول ملے ہیں ۔ ہم نے یہ معاملہ سی ٹی ڈی کو ریفر کر دیا ہے۔ عدالت کے باہر فائرنگ ہوئی، جج صاحب کے حکم پر ہم نے انکوائری کروائی، ہمیں سب سے پہلے عدالت کے علاقے کی جیو فینسنگ کروانی ہو گی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلیفون کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی کو موبائل ڈیٹا نہیں دیں گی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ پھر کرفیو نافذ کر دیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی ڈی آر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،

    آپ نے کس قانون کے تحت وکلا اور سائلین کے عدالت میں جانے پر پابندی لگائی،عدالت
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر جیو فینسنگ کی اجازت نہیں ملتی تو آپ بندے کو گرفتار نہیں کریں گے؟ بہاولپور میں جج صاحب کے گھر کے باہر جو میٹر توڑا گیا، اس کی کیا معلومات ہیں ؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے پتہ کروایا ہے، ہمیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی،جج صاحب کا خیال ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسی کے بندوں نے ان کا میٹر توڑا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے کس قانون کے تحت وکلا اور سائلین کے عدالت میں جانے پر پابندی لگائی، ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے تھریٹ الرٹ ملا تھا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ چاہتے تھے کہ جج صاحب کے پاس جو کیس لگے ہیں ان پر کارروائی نہ ہو سکے.ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہم نے جج صاحب کو کام سے نہیں روکا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ نے وکلا اور سائلین کو عدالت میں گھسنے نہیں دیا، اور کام سے روکنا کیا ہوتا ہے؟ آپ نے راولپنڈی کے جج کے ساتھ بھی یہی کیا، راولپنڈی کے جج نے درخواستیں کیں کہ آپ لوگ ان کے ساتھ سلوک کیا کر رہے ہیں، آپ بتائیں کہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے ؟ ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے تھریٹ الرٹ ملا تھا،

    ملک میں دوہرا معیار ، جو جج پسند نہ ہو اس کے خلاف بیان بازی شروع کر دیتے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پھر پورے پاکستان کی عدالتوں کو بند کر دیں، سارے پاکستان میں ہی تھریٹ الرٹ ہے، جج صاحب اپنے کام سے نہیں رکے، انہوں نے خط میں بھی لکھا ہے کہ وہ ڈرنے والے نہیں، جو کام انہوں نے کرنا تھا، آپ نے اس کام سے انہیں روکا، آپ کا حساب تو انہوں نے لینا ہے جنہیں آپ خوش کر رہے ہیں، آئی جی صاحب، براہ کرم عدالت کا مذاق نہ بنائیں، کور کمانڈر کے گھر حملہ ہوا، اس پر عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں، صوبے کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ ہو تو آپ نے کسی کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا،آئی جی پنجاب نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حوالے سے آپ نے مجھے شاباش دی تھی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں نے شاباش دی، آپ نے اچھا کام کیا،اس ملک میں دوہرا معیار ہے، جو جج پسند نہ ہو اس کے خلاف بیان بازی شروع کر دیتے ہیں، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر پروگرام چلوائے جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ اے ٹی سی جج سرگودھا نےچیف جسٹس کو خط میں کہا تھا کہ مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر عدالت کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی راستے بلاک کردئیے گئے تحفظ فراہم کیا جائے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے اے ٹی سی جج سرگودھا کے خط پر از خود نوٹس لیا تھا

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    بلوچستان ہائیکورٹ میں گندم کی خریداری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سماعت کی، عدالت نے وزیراعلی بلوچستان کو کیس میں ذاتی طور پر طلب کرلیا .ایڈوکیٹ جنرل آصف ریکی نے عدالت میں وضاحت کی کہ وزیراعلی بلوچستان آج کوئٹہ میں نہیں اسلئے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، وزیراعلی کی اسلام آباد سے واپسی کل ہوگی، عدالت نے درخواست کی سماعت 12جون بروز منگل تک ملتوی کردی،عدالت نے ڈی جی خوراک ظفر اللّٰہ کے تبادلے کےنوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے کا حکم بھی دے دیا۔واضح رہے کہ گندم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق درخواست اوستہ محمد کے ایک شہری محمد صادق نے دائر کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے محکمے میں گندم کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا جس پر معزز عدالت نے محکمے کو گندم کی خریداری سے فوری طور پر روک دیا تھا ۔ دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے سیکرٹری خزانہ حکومت بلوچستان کو محکمہ خوراک کے حق میں 2.5 بلین روپے جاری کرنے سے بھی روکا تھا ۔ اسی طرح سیکرٹری محکمہ خوراک اور پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو مڈل مین یا کوئی اور شخص کو اگلی سماعت تک آگے کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو آئندہ سماعت تک باردانہ کی تقسیم فوری طور پر روکنے کی بھی ہدایت کی اور انہیں گندم کی خریداری کے سلسلے میں بڑے زمینداروں کے ساتھ ساتھ مڈل مین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

    سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائیریکٹر جنرل نے خریداری کے متعلق کرپشن کے انکشاف کے متعلق دستاویزات فراہم کئے ۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ محکمہ خوراک نے اسٹریٹجک ذخائر ہونے اور اندرون خانہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود 50000 میٹرک ٹن اضافی گندم کی خریداری کا یہ اقدام صرف چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے کیا تھا لیکن پروجیکٹ ڈائیریکٹر کی ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے نصیر آباد ڈویژن کے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں اور چھوٹے حقیقی کاشتکاروں کے بجائے مڈل مینوں اور بروکرز سے غیر قانونی مطالبات، بدعنوانی اور باردانہ کی تقسیم غیر شفافیت کی اطلاعات ہیں جب ڈائریکٹر جنرل خوراک کو کیس کے اس پہلو کا سامنا ہوا تو انہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا اور کہا کہ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے، محکمے کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی اور بے قاعدگیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے، انہوں نے چیف سیکریٹری ، سیکریٹری محکمہ خوراک ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی کمشنرز کو خطوط لکھے ۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے بتایا کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مبینہ طور پر گندم کی خریداری کا طریقہ کار ناقص اور غیر منصفانہ ہے۔ گندم غریب کسانوں کی بجائے درمیانی آدمی ، بیوپاریوں یا بڑے زمینداروں سے خریدی جارہی ہے اس نے کہا کہ ایک سادہ طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل شفاف طریقے سے سر انجام دینا چاہیے۔ محکمہ خوراک نے چھ سال گزرنے کے باوجود کمرشل بینکوں کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری ابھی تک صاف نہیں کی ہے جو کہ 2.5 بلین روپے ہے۔ اس کمرشل بینک کے قرض کی ادائیگی کو جلد از جلد کلیئر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ محکمہ کو 20 لاکھ روپے یومیہ سود 2018 کے بعد سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اسٹریٹجک ذخائر، ڈی جی، خوراک کی طرف سے حکومت بلوچستان کے پاس فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریبا 815,000 تھیلے ہیں، جب کہ گودام کی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش 01 ملین سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں گندم خریدنے کی ضرورت نہیں ہے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان کو 500,000 تھیلوں کی ضرورت کیوں ہے جب کہ 01 ملین سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے

  • بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں،چیف جسٹس

    بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہم نے قدرتی وسائل کو ختم کردیا جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں ہوئیں ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتے کے روز موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق سیمینار سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے قدرتی وسائل کو ختم کردیا تاہم اسے اصراف کے اجتناب سے آج بھی بچایا جاسکتاہے، ماحولیاتی تحفظ کیلئے گھر سے اقدار پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ ہمیں سگریٹ چھوڑنے ، واک کرنے جیسے علاج بتاتے ہیں، جب انسانی ٹمپریچر بڑھتا ہے تو اسکا مطلب ہے ہم بیمار ہو رہے ہیں، صرف ایک ڈگری بڑھنے پر انسان کو بخار ہوجاتا ہے مگر آج زمین بیمار ہے اس کو بخار ہے، زمین بہت ذیادہ دھواں اپنے اندر سمو رہی ہے، ہم پلاسٹک کو بنا تو رہے لیکن اسکو تلف نہیں کر رہے ہیں، ہر ڈاکٹر گوشت کی بجائے سبزیوں کے استعمال کا کہتا ہے۔

    پاکستان پانچواں ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہے، جسٹس منصور علی

    انہوں نے کہا کہ شوگر سب سے پہلی ڈرگ تھی جو دریافت ہوئی، ڈاکٹرز ہمیں صحت مند زندگی کیلئے واک کا بھی مشورہ دیتے ہیں، منصور علی شاہ صاحب نے ہائبرڈ گاڑیوں کا کہا لیکن ہمیں پیدل چلنے کی ضرورت ہے، اگر آپ چاہیں تو تمام ججز کو سائیکل مہیا کئے جا سکتے ہیں، بچپن میں کہا جاتاتھا بجلی بچائیں کھانا بچائیں مگر آج انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے، ہم نےقدرتی وسائل کو ختم کردیا،اصراف کے اجتناب سے قدرتی ماحول کو بچایا جا سکتا ہے،ہم قدرت کو جاننے میں ناکام ہوئے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کیلئے گھر سے اقدار پروان چڑھانے کی ضرو رت ہے۔

    پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ پرندے اپنے پسندیدہ ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں،کتنے پرندے اور جانور آج دنیا سے ختم ہو رہے ہیں، سائنس نے اب بتایا ہے کہ سمندر میں حیاتیات سمندر کی اپنی بقا کیلئے ضروری ہیں،اگر ہم درخت ،پرند چرند کو بچائیں تو تبدیلی لائی جاسکتی ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیات کا تحفظ نہ کیا گیا تو جانداروں کی بقا خطرے میں پڑھ سکتی ہے ،بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔

    جنوبی افریقا کا نیدرلینڈز کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی خالی نشستوں پر تقرری کے حوالہ سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی کو سپریم کورٹ تعینات کرنے کی سفارش کی گئی، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال کو بھی سپریم کورٹ لانے کی سفارش کی گئی ، جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا .

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کا فیصلہ پانچ ممبران کی اکثریت سے ہوا.جسٹس ملک شہزاد احمد کی سپریم کورٹ تقرری کی جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے مخالفت کی،ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کی مخالفت کی،جسٹس منیب اختر جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس منظور ملک نے بھی مخالفت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کی حمایت کی.اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین نے بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام کی حمایت کی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور جسٹس شاہد بلال کے ناموں کی سفارش متفقہ طور پر کی گئی

  • پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    سپریم کورٹ . نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سی گرین کلر کا لباس زیب تن کر رکھا ہے.جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں

    ‏اپیل کنندہ زہیر صدیقی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

    درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا نا کہ نیب قانون کو , نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں،نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس، نیب کی کاروائی کے لیے عوام کا اختیار کتنا ہے میری سمجھ کے مطابق تو کوئی بھی شہری شکایت درج کر سکتا ہے،یہ اختیار نیب کا ہے پتہ کرے کرپشن ہوئی یا نہیں؟

    آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ سمیت جن اداروں اور شخصیات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوتا اس حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی، پارلیمنٹ موجود تھی قانون سازی کر سکتے تھے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 1999 سے 2018 تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہیں، تمام عرصے میں کسی سیاسی جماعت نے نیب قوانین میں ایسی ترمیم نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں عدالت میں فریق نہیں،نیب ترامیم پی ٹی آئی نے چیلنج کی، انہی سے پوچھیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیلنج کی گئی نیب ترامیم مخصوص تناظر میں کی گئیں تھی، کرپشن عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے، عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب قوانین کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر پر ہوتا ہے، پبلک آفس ہولڈرز صرف سیاستدان نہیں ہوتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ نیب ارڈیننس کب آیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ 1999 میں آیا تھا,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نام لیں نا وہ کس کا دور تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مشرف کا دور تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی کچھ ایسا ہی تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا، بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے ، کیا آپ 90 دنوں میں نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں ، کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی

    خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں ،باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہو گا،خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،

    سپریم کورٹ،وفاقی حکومت کی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید
    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، عمران خان راہداری میں چہل قدمی کر سکتے ہیں، عمران خان کو ورزش کی بھی اجازت ہے

    شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا.چیف جسٹس
    خواجہ حارث نے کہا عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟خواجہ حارث نے جواب دیا ہائیکورٹ میں درخواست ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے، ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگنے سے پہلے ہائیکورٹ معاملہ پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرچکی تھی،آپ سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر کہہ سکتے تھے کہ اب ہائیکورٹ میں کیس شروع ہو چکا ہے، ہائیکورٹ بار کے صدر سپریم کورٹ کو آکر کہہ سکتے تھے کیس ہائیکورٹ میں چلنے دیں یا میری درخواست بھی یہاں منگوا لیں، شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا،

    کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں،چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اگر غلط ہوں تو عدالت میں آکر نشاندہی کریں، اپنی سیاست اور آئینی معاملات کو علیحدہ علیحدہ رکھیں، اس رویے کی وجہ سے ہمارے نظام انصاف کی درجہ بندی نچلی سطح پر ہے،کیمرے پر تو سب تنقید کرتے ہیں، کھلی عدالت میں کوئی بات نہیں کرتا، کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں، باہر بات کرنا تو آسان ہے،انصاف نا صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر اسی وجہ سے گراوٹ کا شکار ہے،اس طرح کے حکم امتناع سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، میری رائے ہے کہ قانون معطل نہیں ہوسکتا ،نیب ترامیم اتنا خطرناک تھا تو اسے معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا،

    سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھی گئی جب عمران خان کے وکیل نیب ترامیم کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آپکے موکل اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں لائی گئی؟جب چیف جسٹس پاکستان نے یہ سوال پوچھا اس وقت علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے اٹارنی جنرل کو نوٹس ہوا تھا، اٹارنی جنرل نے کیوں کوشش نہیں کی کہ کیس دوبارہ لگے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنا تو میں نے عدالت میں بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا، اس وقت بحث چل رہی تھی کہ اختیار میرا ہے یا کسی اور کا ہے، باہر جا کر بڑے شیر بنتے ہیں لیکن سامنے آکر اس پر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا؟خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی موجودگی کے باوجود اس کیس میں کچھ ثابت نہ ہو سکا، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا خواجہ صاحب بتا دیں کون کونسی ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا، آپ نے سیکشن 9 فائیو اے میں ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سیکشن 14 کے حذف کرنے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ترامیم کالعدم ہو جاتی ہیں تو نقصان بانی پی ٹی آئی کو اپنے کیس میں ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیب قوانین کو بھگت رہے ہیں مگر چاہتے ہیں یہ کرپشن کے خلاف برقرار رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب کے ادارے میں لوگ خود کرپشن کریں کون دیکھے گا ،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کہ ادارے پر ادارہ تو نہیں بٹھایا جا سکتا ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی پر تو آپ کو بھروسہ کرنا ہوگا ۔

    سپریم کورٹ،وقفے کے بعد سماعت،عمران خان ویڈیو لنک پر سکرین سے غائب
    سپریم کورٹ میں سماعت کا وقفہ ہوا، دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کی ویڈیو لنک پر تصویر نہیں آ رہی تھی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنے پاس بلا کر وجہ دریافت کی،عدالتی عملے نے بتایا عمران خان کمرہ عدالت میں ہونے والی گفتگو سن سکتے ہیں مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے جس کے باعث انکی ویڈیو نہیں آ رہی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فون کر کے پتہ کریں اور مسئلہ حل کریں .

    کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی تھی،
    لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی سیکشن سے کرپشن کی شرط نکال دیں صرف آمدن اور اثاثوں میں فرق ہونا کافی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وزیراعظم سے نہیں پوچھے گا یہ گھر کہاں سے لیا وہ کہے بھائی نے تحفہ دیا تو کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے میں اس کے بھائی سے پوچھا جائے گا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس طرح تو یہ گھومتا رہے گا, جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ بانی پی ٹی آئی کو بھی ڈرکونین قوانین سے ایکسپوز کر رہے ہیں،اگر کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایسے میں وکیل کے خلاف بھی کاروائی ہو سکتی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو پوری فیملی کو پتہ ہوتا ہے ہمارے سربراہ کی آمدن کتنی ہے اور خرچہ کتنا کر رہا ہے کیا ایسے میں تمام فیملی کے خلاف کارروائی ہوگی، میں وکیلوں کو تھوڑا ریسکیو کر رہا ہوں، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسفند یارولی کیس میں سپریم کورٹ نیب کی تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟ نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے،دوسرے خلیفہ سے ان کی چادر کا سوال پوچھا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا وہ عام آدمی تھا،عام آدمی حکمرانوں سے آج بھی پوچھ سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی.وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتی.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے،رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے،بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپس ہوئی؟460ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کر دیےتھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب کی 2023 کی ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے کہ کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا،وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا،ایک بات پر تو قوم کیلئے سب ساتھ بیٹھ جائیں،جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی نے منع نہیں کیاکہ نیب قوانین کو سخت یا نرم نہ کریں،کل کو پارلیمنٹ نیب قوانین کو سخت بھی کرسکتی ہے، ترامیم ختم کریں اور کل پارلیمنٹ نیب قانون ہی ختم کردےتوکیا ہوگا؟1999میں مارشل لاء نہ ہوتاتو نیب قانون کا وجود بھی نہ ہوتا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 سے پہلے احتساب ایکٹ موجود تھا، احتساب ایکٹ کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہی تھا،

    خواجہ حارث نے جعلی اکاونٹس کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جعلی اکاونٹس کیس کی اپیل ہمارے پاس آئے، کسی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، کیس پر بات نہ کریں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے نیب پہلے ٹھیک تھا،

    میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، عمران خان
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟کیا آپ کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں، کیس سے متعلق ہی بات کیجئے گا، آپ جیل میں اپنے حالات سے متعلق گفتگو کرنے لگ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ، مجھے تکلیف ہوئی کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار سا کریکٹر ہوں اس لئے لائیو نشر نہیں کیا جائے گا "، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کرتی، آپ نظر ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں” .آپ اپنے کیس پر رہیں،عمران خان نے کہا کہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتاہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا،مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفےکی قیمت کم لگائی، پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی،میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے.نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتےہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں .

    نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے.عمران خان
    جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیاہے،عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟ عمران خان نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے، عمران خان نے کہا کہ ستائیس سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا،غریب ملکوں کے سات ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا،میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے ہی برقرار رہے گی ،عمران خان نے کہا کہ نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا،عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا .حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتاہے،نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا.دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ،

    جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں.جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں”.عمران خان نے کہا کہ میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ "حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں”، عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا،

    ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیاتو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے،ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہا کہ سائفرکیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے.

    خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں.چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی، حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتاتھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کردیا اور کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں ، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں ، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے ، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں .

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر اپ کو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کدھر ہیں پراسیکیوٹر جنرل کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں، نیب کے یہ والے پراسیکیوٹر آئندہ اس عدالت میں نہ آئیں، چیف جسٹس ریکوڈک ریکوری کا کریڈٹ لینے پر نیب پر برہم ہو گئے. کہا کہ اپ سپریم کورٹ کو مذاق نہ سمجھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو ایسی رپورٹ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہو گئے،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر آج کے کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا.سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہفتے میں کوئی فریق اگر کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے تو کروا دے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا.حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کا 10 ارب ڈالر ریکوری کا کریڈٹ لینا سرپرائزنگ تھا.اداروں کی جانب سے ایسی غلط دستاویزات جمع نہیں ہونی چاہیے، چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل خود ریکوری اور بجٹ کی اصل رپورٹ پیش کریں، نیب کا گزشتہ 10 سال کا سالانہ بجٹ بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق، وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر کر سکتی تھی،نیب کا آج جمع کرویا گیا جواب مسترد کرتے ہیں،

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی