Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • پریزائیڈنگ افسر جانی دشمن بھی ہوتو فیصلہ ووٹ سے ہوتا ہے،چیف جسٹس

    پریزائیڈنگ افسر جانی دشمن بھی ہوتو فیصلہ ووٹ سے ہوتا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پی بی 14 میں دوبارہ گنتی اور ریٹرننگ افسران کیخلاف جانبداری کے الزامات کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : عدالت میں 96 پولنگ اسٹیشنز میں سے 7 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواست کی سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس نے مدعی کے وکیل سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ غلط رزلٹ تیار کیا گیا؟وکیل نے جواب دیا کہ فارم 45 کے مطابق یہ رزلٹ نہیں تھے اور افسران بھی جانبدار تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات میں سب سے اہم شواہد ووٹ ہوتے ہیں، فارم 45 تو پریزائیڈنگ افسر بھرتا ہے، آپ یا تو دوبارہ گنتی پر اعتراض کریں کہ ڈبے کھلے ہوئے تھے،وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ پریزائیڈنگ افسران نے سارا فراڈ کیا، جج صاحب نے بغیر شواہد کے مجھے فیصلے میں جھوٹا کہہ دیا۔

    زین قریشی کی گرفتاری: سیکریٹری قومی اسمبلی و دیگر کو 10 دن میں جواب جمع …

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حقائق پر فیصلہ کرتے ہیں، یہ کوئی میاں بیوی کا مقدمہ نہیں جو سچے جھوٹے کا فیصلہ کریں گے، اس کا فیصلہ ریکارڈ پر ہوتا ہے، پریزائیڈنگ افسران کی جانبداری ثابت کریں، بتائیں کیا وہ رشتہ دار تھے ؟ دوبارہ گنتی پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، پریزائیڈنگ افسر جانی دشمن بھی ہوتو فیصلہ ووٹ سے ہوتا ہے، ووٹوں کے سامنے 45 فارم کی کوئی اہمیت نہیں۔

    ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی،اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین 82 ہزار کی سطح …

  • سپریم کورٹ،وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب

    سپریم کورٹ،وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب

    سپریم کورٹ، وفاق اور چاروں صوبوں میں ترقیاتی فنڈز کا معاملہ،عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کرلی

    عدالت نے کہا کہ حالیہ منظور شدہ بجٹ کی سالانہ ترقی پلان سمری فنانس سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کے دستخط سے پیش کی جائے،عدالت نے بلاک مختص کردہ اسکیمز یا امبریلا اسکیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں،کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی.

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عوامی پیسے کے تحفظ کے تناظر میں کیس سن رہے ہیں حکومتیں پیسے ضرور خرچ کرے لیکن شفافیت ہونی چاہیے ،شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی اسکیمز انفرادی شخصیات کی بنیاد پر نہ چلائی جائیں، ضیاءالحق نے اراکین اسمبلی اور سینٹرز کیلئے ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسے دینے کی روایت شروع کی، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے بھی کافی مشکلات ہیں، عوامی فنڈز کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ منصوبے ضرور بنائیں لیکن سب کچھ آئین کے تحت ہونا چاہیے، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو منصوبے لٹک جاتے ہیں،ترقیاتی منصوبے انفرادی شخصیات کے تحت نہیں ہونے چاہیں،ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں منصوبے کیا بنائے جا رہے ہیں، شفافیت ہونی چاہیے،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • آئینی ترامیم  میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا،

    آئینی ترمیمی بل میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں،عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم سے متعلق بل حکمران اتحاد کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتوار کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اس ضمن میں حکومت بل پاس کروانے کے لئے اپنے نمبر پورے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے

    مجوزہ آئینی ترامیم میں 54 تجاویز شامل ہیں، آئین کی63،51،175،187، اور دیگر میں ترامیم کی جائیں گی، آئین کے آرٹیکل63 میں ترمیم کی جائیں گی، منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائےگی،آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائےگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں بھیجا جاسکےگا، چیف جسٹس پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائےگی، آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرےگی،آئینی عدالت کے فیصلے پراپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے،آئینی عدالت میں آرٹیکل 184،185،186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائےگا۔

    آئین کا آرٹیکل 181 ججزکی عارضی تقرری سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے مشاورتی اختیار سماعت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 رکن پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ڈی فیکشن کلاز ہے اورپارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز تقرریوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل187 مکمل انصاف سے متعلق ہے۔

    آئینی ترمیمی بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جا رہی ہے،چونکہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طریقے سے اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے مقاصد کے لیے مزید ترمیم کرنا مناسب ہے۔ یہ ایکٹ آئین (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کہلائے گا۔یہ ایکٹ فوراً نافذ ہو جائے گا۔آئین کے نئے آرٹیکل 9A کا اندراج۔- آئین میں، آرٹیکل 9 کے بعد، مندرجہ ذیل نئی دفعہ 9A کو داخل کیا جائے گا، یعنی:-"9A. صاف ستھرا اور صحت مند ماحول، ہر شخص کو صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا حق حاصل ہوگا۔آرٹیکل 17 میں ترمیم، لفظ سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت سے تبدیل کردیا جائے۔حکومت پاکستان کے خلاف کام کرنے والی جماعت کا معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 48: وزیراعظم، کابینہ کی صدر کو ایڈوئز کسی عدالت اور ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔وضاحت: آرٹیکل 48 میں سے ایڈوائز میں سے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو نکال دیا گیا ہے۔
    آرٹیکل 63 اے میں تین ترامیم تجویز، ووٹ شمار ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جائے گا،آرٹیکل 68: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے خلاف پارلیمان میں بات نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 78: آئینی عدالت میں جمع ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو جائے گی۔ آرٹیکل 81: تین ترامیم شامل، لفظ وفاقی آئینی عدالت شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 100: اٹارنی جنرل پاکستان وہ شخص تعینات ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔آرٹیکل 111: ایڈوائزرز صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بات نہیں ہو سکے گی۔ آرٹیکل 165اے: انکم ٹیکس شق میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا۔ آرٹیکل 175 اے: آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی اور ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے، جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی، وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ چیئرپرسن ہو گا۔جوڈیشل کمیشن میں چیئرمین کے علاوہ 12 ارکان ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت کے دو ججز، چیف جسٹس سپریم کورٹ، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو گا۔ قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی کی سفارش اسپیکر کی نامزد کردہ 8 رکنی قومی اسمبلی کی کمیٹی کرے گی۔پہلی بار آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی صدر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی،چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام کمیٹی تین سینئر ترین ججز میں سے کرے گی۔ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی کا کمیشن سالانہ جائزہ لے گا۔ اگر کسی جج کر کارکردگی تسلی بخش نہیں تو وقت دیا جائے گا ورنہ کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ بھیجے گی۔آرٹیکل 175 بی میں ترمیم: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی تعیناتی اور دائرہ کار،آرٹیکل 176 میں ترمیم: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کہا جائے گا۔ آرٹیکل 176اے کی شمولیت: دوہری شہریت کا مالک وفاقی آئینی عدالت کا جج نہیں ہو سکتا۔ آرٹیکل 177: سپریم کورٹ ججز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 177 اے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے حلف سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 178اے: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی۔آرٹیکل 179: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہو گی۔ 179 اے، 179 بی: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کا جج صدر مملکت عارضی طور پر تعینات کریں گے۔آرٹیکل 182اے کی شمولیت: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں ہو گی۔ آرٹیکل 184: دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازعہ وفاقی آئینی عدالت دیکھے گی۔

    مفاد عامہ کے معاملات پر تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مفاد عامہ کے تمام مقدمات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔ 184 اے کی شمولیت: ہائی کورٹس کے آئینی معاملات پر فیصلے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج ہو سکیں گے۔آرٹیکل 185: ہائیکورٹس کی اپیلیں سپریم کورٹ سنے گی، آئینی سوالات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ آرٹیکل 186: صدرارتی ریفرنس پر سماعت آئینی عدالت کرے گی۔ آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی مقدمہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائیکورٹ کو بھجوا سکے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا خود کو منتقل کر سکتی ہے۔رٹیکل 187 میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کسی بھی متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے۔آرٹیکل 188: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار رکھیں گی۔آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کا کسی بھی قانونی اصول حکم نامہ سپریم کورٹ سمیت ساری عدالتوں پر بائنڈنگ ہو گا۔سپریم کورٹ کا قانونی اصول پر کوئی بھِی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 190: تمام جوڈیشل اتھارٹیز وفاقی آئینی عدالت کی مدد کی پابند ہوں گی۔ آرِٹیکل 191: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت اپنے قواعد و ضوابط بنائیں گے۔ آرٹیکل 192: ہائی کورٹس کے ججز کی تعداد کا تعین ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہو گا۔ آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا۔ ہائیکورٹ جج کے لیے ہائیکورٹ وکالت کا کم از کم 15 سال کا تجربہ، 15 سال جوڈیشل آفس کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا،آرٹیکل 199: ہائی کورٹ از خود آرڈر جاری نہیں کر سکے گی۔قومی سلامتی سے متعلقہ کسی شخص پر ہائی کورٹ حکم جاری نہیں کر سکے گی۔آرٹیکل 200: صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کر سکیں گے۔ آرٹیکل 202: ہائیکورٹ قواعد و ضوابط ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنائے جا سکیں گے۔ آرٹیکل 204: توہین عدالت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی، آرٹیکل 205: وفاقی آئینی عدالت کی تنخواہیں مقرر کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 206: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے استعفے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 207: جج آفس آف پرافٹ نہیں لے سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 208: وفاقی آئینی عدالت کے افسران کی تعیناتیوں سے متعلق الفاظ کی شمولیت ہے،آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلیاں، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئینی عدالت کا سینئر ترین جج، ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ آرٹیکل 210: کسی شخص کو طلب کرنے کا کونسل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کا اختیار ہو گا۔ آرٹیکل 215: چیف الیکشن کمشنریا الیکشن کمیشن کا کوئی ممبر نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 215 میں ون اے کا اضافہ: چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اکثریتی قرار داد سے دوبارہ نئی ٹرم کے لیے تعینات ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 239: آئینی ترمیم کے خلاف کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موثر نہیں ہو گا۔

    آرٹیکل 243: مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتیوں، دوبارہ تعیناتیوں، ایکسٹیشن، مدت ملازمت پاک فوج کے قوانین کے مطابق ہوں گے اور انہیں دو تہائی اکثریت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248: صدر، گورنرز کو آئین و قانون کے تحت قائم عدالتوں سے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔رٹیکل 255: حلف سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 259: صدارتی ایوارڈز میں سائنس و ٹیکنالوجی، ادویات، آرٹس اور پبلک سروس کا اضافہ، آرٹیکل 260: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ،: شیڈول تین میں اضافہ: حلف نامے میں وفاقی آئینی عدالت کا حلف شامل ہے،شیڈول چار میں تبدیلی: کنٹونمنٹ ایریاز میں الفاظ لوکل ٹیکس، سیس، فیس، ٹول اور دیگر چارجز کو شامل کیا گیا ہے۔شیڈول پانچ میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ شامل ہے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/further-to-amend-the-Constitution-of-the-Islamic-Republic-of-Pakistan.pdf” title=”further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan”]

    ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئے کمیشن ہو گا جس کے چیئرپرسن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے،دو سینئر جج وفاقی آئینی عدالت کے کمیشن کے رکن ہوں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر جج، وفاقی وزیر قانون،اٹارنی جنرل بھی رکن ہوں گے،ایک سینئر ایڈووکیٹ یا ایک وکیل جس کی سپریم کورٹ میں کم از کم بیس سال کی پریکٹس ہووہ بھی رکن ہو گا ،سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دودو اراکین بھی کمیشن کے رکن ہوں گے. ایک رکن حکومت اور ایک اپوززیشن کی طرف سے ہو گا، نامزدگی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کریں گے،

    "(2B) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شق (2) میں کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے اور اس عدالت کے پانچ اگلے سینئر ترین جج اس کے ممبر ہوں گے۔ شق (2) کے پیراگراف (iv)، (v) (vi) اور (vii) میں کمیشن کے دیگر ارکان ہوں گے۔(xiii) شق (2B) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا داخل کیا گیا، درج ذیل نئی شق (2C)،داخل کیا جائے گا:”(2C) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر، وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کا مقصد، نامزد شخص کا نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، وزیراعظم تقرری کے لیے اسے صدر کے پاس بھیجیں گے،بشرطیکہ وفاق کے پہلے چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر صدر اعظم کے مشورے پر کرے گا۔

    "(2D) قومی اسمبلی کی کمیٹی، اس کے بعد اس آرٹیکل میں کمیٹی کہلائے گی، قومی اسمبلی کے سپیکر کے نامزد کردہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔(2E) ہر پارلیمانی پارٹی کو، جہاں تک ممکن ہو، کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی۔(2F) کمیٹی، اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، متعلقہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سات دنوں کے اندر نامزدگی بھیجے گی جیسا کہ اس آرٹیکل کی شق (2C) اور (3) میں فراہم کیا گیا ہے۔(2G) کمیشن یا کمیٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ صرف اس میں خالی جگہ ہونے یا اس کے کسی اجلاس سے کسی رکن کی غیر موجودگی کی بنیاد پر غلط یا سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔(2H) کمیٹی کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جائیں گے اور اس کی کارروائی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔(21) آرٹیکل 68 کی دفعات کارروائی پر لاگو نہیں ہوں گی۔(2J) کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔ "(3) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر، کمیٹی کی سفارش پر، تین سینئر ترین افراد میں سے کیا جائے گا۔

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    صدر مملکت کسی بھی جج کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
    (7) وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا سوائے اس آرٹیکل کے فراہم کردہ۔(8) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس کا مشاہدہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کریں گے۔کونسل کی طرف سے بنائے گئے قواعد کے تابع، کونسل کا ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں ایسے دیگر افسران اور عملہ شامل ہوگا، جیسا کہ ضروری ہو۔”

    آئین کے آرٹیکل 210 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے جہاں کہیں بھی واقع ہو، الفاظ "وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ” کے متبادل ہوں گے۔ اور(ii)شق (2) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے "وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ” کی جگہ دی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں(ا)موجودہ پہلی شرط کے بعد، مندرجہ ذیل نئی شرط ڈالی جائے گی:”مزید یہ کہ کمشنر اور ایک رکن اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود، جب تک اس کا جانشین دفتر میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:”؛ اورموجودہ دوسری شرط میں، لفظ "مزید” کے لیے لفظ "بھی” بدل دیا جائے گا۔شق (1) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا ترمیم کی گئی، درج ذیل نئی شق (1A) داخل کی جائے گی:”(1A) وہ شخص جو کمشنر کے عہدے پر فائز ہو یا،ایک رکن، ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے،ایک اور مدت کے لیے اسی دفتر میں دوبارہ تعینات کیا گیا۔”آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 239، شق (5) کے لیے، درج ذیل کو تبدیل کیا جائے گا،

    سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے باوجود،یا ہائی کورٹ، آئین کی کوئی شق یا اس میں کوئی ترمیم کسی بھی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت یا ہائی کورٹ میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی فیصلہ، حکم یا اعلان کوئی قانونی اثر اور باطل نہیں ہوگا۔”

    آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل 243 میں، شق (4) کے بعد، درج ذیل نئی شق (5) ڈالی جائے گی، شق (4) میں مذکور سروسز چیفس کی تقرری، دوبارہ تقرری، توسیع، سروس کی حدود، ریٹائرمنٹ یا برطرفی مسلح افواج سے متعلق قوانین کی دفعات کے مطابق ہوگی،آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ بل کے تحت سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ اس سے آرمی ایکٹ کو مزید مستحکم اور محفوظ بنایا جائے گا۔

    آئین کے آرٹیکل 255 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 255، شق (2) میں، الفاظ "وہ شخص” کے لیے، دوسری بار آنے والے الفاظ”ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صوبے کے معاملے میں اور چیف جسٹس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت، دیگر تمام معاملات میں” کو تبدیل کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کے سوموٹو اختیار کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہائی کورٹس کے اختیارات میں کمی آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے نظام کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ عدالتی نظام میں مزید نظم و ضبط اور شفافیت لائی جا سکے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/the-President-may-remove-the-Judge-from-office.pdf” title=”the President may remove the Judge from office”]

  • جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس  کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے رولز بنانے کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا،

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی، جس پر جوڈیشل کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آوٹ کرگئے ہیں، جوڈیشل کمیشن مجوزہ رولز 2024 سے متعلق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس جاری ہے،اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین اجلاس میں شریک ہیں، ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز بھی اجلاس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک ،اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہیں،چاروں صوبائی وزرا قانون سمیت ہائیکورٹس کے سینئر ججز بھی شریک ہیں،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز تقرری کے لیے رولز کا جائزہ لیا جارہا ہے، ہائیکورٹس میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

    دوران اجلاس جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کی تجویز دی، جس پر کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں مجوزہ سفارشات کا مسودہ پڑھا۔ جسٹس منیب اختر کی رائے ہے کہ آئینی ترمیم کا معاملہ حتمی ہونے تک اجلاس موخر کیا جائے،مئی میں بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آئینی ترمیم کی وجہ سے ہی موخر کیا گیا تھا،

    جوڈیشل کمیشن کے دیگر ممبران نے اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاس جاری ہے، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں

    واضح رہے کہ 28 اگست کو ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری کیلئے رولز کا جائزہ لینے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ہائیکورٹس میں ججز تقرری کیلئے نام بھی طلب کرتے ہوئے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کو خط بھی لکھے تھے،خط میں کہا گیا ہے کہ جس ہائیکورٹ میں 5 سے زیادہ نشستیں خالی ہیں فوری نام تجویز کیے جائیں، ڈھائی سال بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مکمل ہوئی شریعت اپیلٹ بنچ بھی 29 جولائی سے فعال ہے۔

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    دوسری جانب حکومت نےکل ہفتے کے روز آئینی قانونی عدالتی اصلاحات پیکج پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا منصوبہ بنا لیا ہے، اس ضمن میں سینیٹ اورقومی اسمبلی کااجلاس کل بلانے کافیصلہ کیا گیا ہے،قومی اسمبلی اجلاس کل دن گیارہ بجے اور سینیٹ اجلاس کل شام چار بجے بلایاگیاہے،کل بلائے گئے اجلاس میں اہم قانون سازی متوقع ہے، قومی اسمبلی اورسینٹ سیکریٹریٹ کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں.

  • سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا گیا

    نیشنل پارک ایریا میں قائم مونال ریسٹورنٹ، لاء مونٹانا، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے،عدالت نے نظرثانی درخواستیں خارج کردیں،سپریم کورٹ نے نیشنل پارک ایریا میں قائم ریسٹورنٹس کے حق میں دی گئی آبرزویشنز واپس لے لیں ،سپریم کورٹ نے مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کو کسی اور مقام پر لیز کے وقت ترجیح دینے کی آبرزیشن واپس لے لی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ ،لا مونتانہ اور دیگر ریسٹورنٹس نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی،عدالت میں یقین دہانی کے باوجود نظرثانی دائر کرنا عدالت کیساتھ مذاق ہے،رضاکارانہ تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کے بعد نظرثانی دائر کرنا توہین آمیز ہے،سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو کہا ان ریسٹورنٹس کو دیگر علاقوں میں ترجیح بنیادوں لیز دی جائے،عدالت نے قرار دیا کسی اور مقام پر ریسٹورنٹس کی لیز میں نیشنل پارک ایریا کے ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے، سپریم کورٹ لیز کے عمل میں ترجیح دینے کے اپنے فیصلے کو حذف کرتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایکسٹینشن لینے سے انکار

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایکسٹینشن لینے سے انکار

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رانا ثناءاللہ کی بات کی تردید کر دی چیف جسٹس نے ایکسٹینشن لینے سے صاف سے انکار کردیا اور کہا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں،ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں اعظم نزیر تارڑ اورجسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے،اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے،،بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں قبول نہیں کروں گا،مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں،

    صحافی نےسوال کیا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر کیوں نہیں ہو رہا ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے،جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بینچ نہیں بن پا رہا تھا،

    مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس نے قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ،رانا ثناء اللہ

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

  • مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ انتخابات کیس کا فیصلہ 12 دن میں دیا اور اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کی،جسٹس منصور علی شاہ بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے ریفرنس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ شریعت اپیلٹ بینچ کے ارکان جسٹس قبلہ ایاز اور جسٹس خالد مسعود نے بھی فل کورٹ ریفرنس میں شرکت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کو نئے عدالتی سال کی مبارک ہو، 9 دن بعد مجھے بطور چیف جسٹس ایک سال ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ نئے عدالتی سال کے موقع پر نظر ڈالی جاتی ہے کہ ادارے کی کارروائی کیسی رہی، میرا سب سے پہلا کام فل کورٹ اجلاس بلانا تھا جو 4 سال سے نہیں ہوا تھا، لائیو ٹرانسمیشن کا مقصد عوام تک براہِ راست اپنی کارکردگی دکھانا تھا، پہلے عوام کو وہی معلوم ہوتا تھا جو ٹی وی چینلز دکھاتے تھے یا یوٹیوبر بتاتے تھے، عوامی اہمیت کے حامل مقدمات کو براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، ہر جج کا کوئی نہ کوئی رجحان ہوتا ہے، اتنا تعین ہو ہی جاتا ہے کہ فلاں جج کے پاس کیس لگا تو پراسیکیوشن کا وزن کیا ہو گا، یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے، لوگوں نے 30، 40 سال میں بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے، کسی نہ کسی طرف اتنے تجربے میں رجحان بن جاتا ہے، اب یہ کسی کی قسمت ہے کہ کس کا کیس کہاں لگ گیا۔

    میرے دور میں تاریخ میں پہلی بار کسی جج کو مِس کنڈکٹ پر برطرف کیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میرے دور میں تاریخ میں پہلی بار کسی جج کو مِس کنڈکٹ پر برطرف کیا گیا،ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کو سنا گیا اور اپنی رائے دی کہ ان کے خلاف دیا گیا فیصلہ غلط تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کو غلط طریقے سے نکالا گیا ان کی برطرفی کو بھی کالعدم قرار دیا،پہلے بینچ دیکھ کر ہی بتا دیا جاتا تھا کہ کیس کا فیصلہ کیا ہو گا،اب توخود مجھے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میرے دائیں بائیں جانب کون سے ججز کیس سنیں گے، ہم نے نظر انداز کیا تو گالی کلچر شروع کردئیں ، گالی گلوچ دیکر آپ اچھے نہیں لگیں گے بچپن مین کوئی برا کہتا تو والدہ سےشکایت کرتے تو والدہ کہتیں جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے ، اسی پر عمل پیرا ہوں ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحبان کو  مرسڈیزبینزجیسی گاڑیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ عوام کےپیسےہیں ہمیں بھی دیکھناچاہیےعوام کے پیسے کیسے بچا سکتے ہیں،مرسڈیز بینز واپس کی ،لاہوروالی لینڈکروزربھی واپس بھیج دی،میں نےدونوں گاڑیاں حکومت کو واپس کردیں ،گاڑیوں کے پیسے عوام پرلگنے چاہئیں ،جب چیف جسٹس بنا تو چیف جسٹس پاکستان کی رہائش گاہ پر چار پانچ مور پنجروں میں رکھے گئے تھے ۔ انہیں رہا کروایا ،ری ہیبلیٹیشن کے بعد کلر کہار بھجوا دیا،

    مجھے ہنسی آتی ہیں ،پرانے صحافی کہتے ہیں چیف جسٹس نےمقدمہ نہیں لگایا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ مجھے ہنسی آتی ہیں ،پرانے صحافی کہتے ہیں چیف جسٹس نےمقدمہ نہیں لگایا۔ آُپ تبصرے کریں پر حقیقت کی بنیاد پر مفروضوں کی بنیاد پر نہیں ، آپکی بھی کچھ ذمہ داری ہے،مقدمے چیف جسٹس نہیں لگایا بلکہ کمیٹی لگاتی ہے،چیف جسٹس مقدمہ نہیں لگا سکتا، شفافیت کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ویب سائٹ پر دینا شروع کر دیا ہے، کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس موجود ہیں، تبصرے حقیقت کی بنیاد پر کریں مفروضوں پر نہیں، آپکی ذمہ داری ہے سچ بولئے، بحیثیت جج نہیں کہہ رہا کہ سوچیں کیا آپ کی والدہ اور والد اس کے برعکس کچھ کہیں تو کر دیئے،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال کی تقریب ماضی سے سبق سیکھنے کا بھی ایک موقع ہوتا ہے، گزشتہ سال بھی کہا تھا جوڈیشل سسٹم میں اہم ترین وہ عام سائلین ہیں جو انصاف کے لیے رجوع کرتے ہیں، سائلین کی امیدیں ٹوٹنے کی ذمے داری نظام انصاف سے منسلک ہم تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے،مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سے زیادہ سائلین کو کوئی اور چیز ناامید نہیں کرتی، فوجداری مقدمات میں لوگوں کی آزادی اور زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں،کئی مرتبہ ملزمان اور مجرمان کے مقدمات کی باری آنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، بے گناہ کا دہائیوں تک جیل میں رہ کر رہا ہونا کسی سانحے سے کم نہیں ہوتا۔

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل فاروق ایچ نائیک نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے اسکوپ اور استعمال کے اثرات پر کافی سوالات اٹھے، سیاسی مقدمات میں توہین عدالت کا اختیار استعمال ہونے پر بحث نے طول پکڑا،بحث شروع ہوئی کہ جوڈیشل اتھارٹی اور اظہار رائے کی آزادی کے درمیان توازن قائم ہونا چاہیے، نئے عدالتی سال پر عدلیہ کے اندرونی چیلنجز کو بھی دیکھنا ہو گا، نظام انصاف کی طاقت کا انحصار ججوں کے معیار پر ہے، قابل ترین ججز کو عدلیہ میں لانے کا پراسیس اپنانا ہو گا، میرٹ کی بنیاد پر ججوں کی بھرتی کیلئے سخت طریقہ کار اپنانا ہو گا، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان عدالتی اختیار نہیں رکھتا، پارلیمانی کمیٹی کا جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کے برعکس کوئی فیصلہ عدلیہ میں مداخلت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں ،بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے تھے،وفاقی حکومت نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے،رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کیس،مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے آغاز پر ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ نے تو تمام فریقین کی رضامندی سے فیصلہ دیا، رضامندی سے ہی 3 ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کا کہا گیا، پھر نظرثانی کس بات کی،وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں کہا کہ ” رضامندی سے ریسٹورنٹ ختم کرنے کا نہیں کہا، مجبوری میں بات کی تھی، ہمارے سامنے 2 آپشن تھے کہ یا تو خود سے ریسٹورنٹ ختم کریں ورنہ گرا دیئے جائیں گے، میرے مؤکل ڈاکٹر محمد امجد 66 فیصد شیئر ہولڈر ہیں جن کو سنا ہی نہیں گیا، سپریم کورٹ نے جب فیصلہ دیا تو اس وقت میرے مؤکل ملک سے باہر تھے، لامونتانا کےمختلف شیئر ہولڈرز ہیں، ہمیں مؤثر حق سماعت نہیں دیا گیا، ماضی میں ایف آئی اے ریسٹورنٹ مالکان کے خلاف تحقیقات کرچکی، تحقیقات میں نکلا کہ مالکان نے کوئی جرم نہیں کیا”۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر بخاری آر یو سیریس، ایف آئی اے کا اس سے کیا کام، کئی بار لوگ اپنے خلاف خود بھی کیس کروا لیتے ہیں، لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر ایف آئی اے سے تحقیقات کروا لیں کہ کوئی جرم نہیں ہوا، آپ ریاست سے جو سروسز لیتے رہے میں اس سے متاثر ہوں، ایف آئی اے کا اس سارے معاملے پر کیا اختیار ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل نعیم بخاری نے کہا میرے ملک میں ایسا کئی بار ہوا کہ جن کا اختیار نہیں تھا، وہ بہت کچھ کرتے رہے، 1954 میں کیا ہوتا رہا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہماری پیدائش سے پہلے کے معاملات پر ہم پر اُنگلی نہ اٹھائیں،نعیم بخاری نےکہا کہ آپ سمجھتے ہیں آواز اُونچی کر کے مجھے ڈرائیں گے، میں ڈرنے والا نہیں،آپ نے خود بھٹو کیس میں سب لکھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صرف اپنے کیس تک محدود رہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بخاری صاحب ہم نے چلیں اپنی غلطیاں مان لیں ناں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، نیشنل پارک میں جانوروں کے حقوق ہیں، ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود تھا پھر بھی آپ کمرشل سرگرمیاں کرتے رہے، آپ قوانین کی خلاف ورزی میں ریسٹورنٹ چلاتے رہے،نعیم بخاری نے کہا کہ لائسنس موجود تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا پڑھیں ذرا وہ 11 ہزار روپے سالانہ فیس والا لائسنس تھا، نعیم بخاری نے کہا کہ یہ تو 1999ء کی فیس تھی،

    سماعت کے اختتام پر نعیم بخاری نے اونچی آواز پر بات کرنے پر چیف جسٹس سے معذرت کر لی،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تعجب ہوا تھا کہ یہ آپ ایسا کر رہے ہیں؟ مجھے تعجب ہوا تھا کہ آپ کیسے غصہ کر رہے ہیں، بطور جج ہماری تکلیف دہ ڈیوٹی ہے چبھتے سوالات پوچھنا ہوتے ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں غصہ نہ کروں،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

    سپریم کورٹ کے حکم پر”مونال” انتظامیہ نے ہوٹل بند کرنے کی تاریخ کا کیا اعلان

  • چیف جسٹس نے  قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ،رانا ثناء اللہ

    چیف جسٹس نے قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ،رانا ثناء اللہ

    مسلم لیگ ن کے رہنما، وزیراعظم کے مشیر، رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ہے۔

    نجی ٹی وی اے آر وائی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ ایکسٹینشن قبول نہیں کریں گے لیکن اگر سب کی حد عمر بڑھ رہی ہے تو پھر ٹھیک ہے،پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں آئینی ترمیم پیش ہی نہیں ہو سکتی، ہمارے پاس چیف جسٹس کی ایکسٹینشن اور آئینی ترمیم کے نمبرز پورے نہیں، چیف جسٹس نے کہا ہے وہ کوئی ایکسٹینشن قبول نہیں کریں گے، مولانا ہمارے ساتھ نہیں بلکہ ہم مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں۔

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل ر قمرجاوید باجوہ نے دوبارہ ایکسٹینشن والی بات ہمارے سامنے کبھی نہیں کی،شہباز شریف نے بھی کبھی نہیں کہا کہ قمر جاوید باجوہ نے آ کر ایکسٹینشن کا کہا ہو، نوازشریف سے قمر جاوید باجوہ کے سسر اعجاز امجد کی لندن میں ملاقات نہیں ہوئی، فیض حمید پر آرمی چیف کی تعیناتی اور مرضی کی پوسٹنگ لینے کا الزام تو لگتا رہا ہے، اس مقصد کے لیے فیض حمید پر الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو استعمال کیا،اگر یہ الزام ہے تو پھر فیض حمید اکیلے یہ نہیں کرسکتا، بانی پی ٹی آئی ساتھ ہو گا

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کاکہنا ہے کہ حکومت کے پاس ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت نہیں ، چیف جسٹس پاکستان کی توسیع پر باربار بات کرنا نامناسب ہے

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف