Baaghi TV

Tag: چینی فوج

  • امریکی فضائیہ کا ریٹائرڈ پائلٹ چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار

    امریکی فضائیہ کا ریٹائرڈ پائلٹ چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار

    امریکی فضائیہ کے ایک سابق پائلٹ کو بغیر اجازت چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا-

    محکمۂ انصاف کے مطابق 65 سالہ جیرالڈ براؤن کو امریکی ریاست انڈیانا سے گرفتار کیا گیا وہ حال ہی میں چین سے واپس امریکا آئے تھے، جہاں وہ دسمبر 2023 سے مقیم تھے جیرالڈ براؤن پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی محکمۂ خارجہ سے لائسنس حاصل کیے بغیر چینی فضائیہ کے پائلٹس کو جنگی طیاروں کی تربیت فراہم کی،حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام غیر ملکی افراد کے ساتھ مل کر کیا۔

    فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایف بی آئی اور اس کے شراکت دار اداروں نے ایک سابق امریکی فضائیہ کے پائلٹ کو گرفتار کیا ہے، جو چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دے رہا تھا۔

    ڈاکٹر طارق میمن کا تبادلہ : وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کو نوٹس جاری کردیا

    حکام کے مطابق براؤن نے امریکی فضائیہ میں 24 سال تک خدمات انجام دیں اس دوران وہ اہم یونٹس کے کمانڈر رہے اور جوہری ہتھیار لے جانے والے نظام کی ذمہ داری بھی سنبھالتے رہےوہ 1996 میں ریٹائر ہوئے، جس کے بعد انہوں نے کارگو پائلٹ کے طور پر کام کیا بعد ازاں وہ ایک امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے اور A-10 اور F-35 طیاروں کی تربیت فراہم کرتے رہے۔

    الزام ہے کہ اگست 2023 میں انہوں نے اسٹیفن نامی ایک چینی شہری کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت شروع کی، جو اس سے قبل امریکہ میں جاسوسی کے ایک کیس میں 4 سال قید کاٹ چکا ہے۔ براؤن دسمبر 2023 میں تربیت دینے کے لیے چین گئے تھے۔

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے ایک عہدیدار رومن نے کہا کہ چینی حکومت امریکی فوج کے موجودہ اور سابق ارکان کی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنی فوج کو جدید بنا رہی ہے یہ گرفتاری ایک واضح پیغام ہے کہ ایف بی آئی اور اس کے شراکت دار ادارے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے-

  • فوج پر لطیفہ سنانے پر کامیڈین پر 60 کروڑ روپے جرمانہ عائد

    فوج پر لطیفہ سنانے پر کامیڈین پر 60 کروڑ روپے جرمانہ عائد

    بیجنگ: چین کے معروف اسٹیج کامیڈین کو فوج پر لطیفہ سنانے پر تقریبا 60 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین کے معروف کامیڈین لی ہاؤشی نے ایک اسٹیج پرفارمنس کے دوران مجمع کو ہنسانے کے لیے لطیفہ سنایا جو فوج سے متعلق تھا جبکہ پیپلز آرمی کے نعرے کا بھی استعمال کیا گیا مزاحیہ اداکار کے کتوں کے رویے کو فوجی طرز عمل سے تشبیہ دینے والے اس لطیفے نے حکام کو ناراض کیاان کا کہنا تھا کہ شنگھائی ژاؤگو کلچر میڈیا کمپنی اور کامک لی ہاوشی نے "عوامی فوج کی تذلیل کی”۔

    پاکستان کی موجودہ صورتحال:اراکین کانگریس نےانٹونی بلنکن کو خط لکھ دیا

    کامیڈین کی جانب سے سنائے گئے لطیفے کو ملکی وقار اور قومی سلامتی کا مذاق سمجھا گیا جس پر سخت ایکشن لیتے ہوئے لی ہاؤشی پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا کمپنی نے ملکی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مذکورہ جرمانے کو قبول کر لیا اور غلطی تسلیم کرتے ہوئے لی ہاؤشی کے ساتھ کیا گیا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔

    یہ توہین آمیز تبصرہ ہفتے کے روز بیجنگ میں اسٹینڈ اپ پرفارمنس کے دوران کیا گیا تھا، چین کے ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم ویبو پر شیئر کی گئی پرفارمنس کی آڈیو ریکارڈنگ میں سامعین کے اراکین کو اس لطیفے پر ہنستے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    لیکن انٹرنیٹ پر صارفین نے شدید ردعمل دیا جب سامعین کے ایک رکن نے اس کے بارے میں شکایت کی۔ بیجنگ حکام نے کہا کہ انہوں نے منگل کو تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ کامیڈین کا ویبو اکاؤنٹ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

    چین؛ میچ فکسنگ کے الزام میں جنوبی کوریا کا فٹبالر گرفتار

    حکام نے 1.32 ملین یوآن ضبط کر لیے جسے غیر قانونی آمدنی سمجھا جاتا تھا، اور کمپنی پر مزید 13.35 ملین یوآن جرمانہ عائد کیاچینی دارالحکومت میں شنگھائی شیاؤگو کی سرگرمیاں بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔

    چین کی وزارت ثقافت اور سیاحت کے بیورو کے بیجنگ بازو نے کہا، "ہم کبھی بھی کسی کمپنی یا فرد کو چینی دارالحکومت کو پی ایل اے [پیپلز لبریشن آرمی] کی شاندار شبیہہ کو بدنام کرنے کے لیے ایک اسٹیج کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کا کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی آج نیب

    کامیڈین نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ میں محب وطن ہوں اور واقعتا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے ہمارے ملک کی تذلیل کریں… لیکن مجھے یہ ماحول پسند نہیں ہے جہاں سیاست کے بارے میں ہر لفظ حساس ہومسٹر لی نے اپنے 136,000 سے زیادہ ویبو فالوورز سے معافی مانگی۔شرمندی اور ندامت کا اظہار کیا کہا کہ ۔میں ذمہ داری لوں گا، تمام سرگرمیاں روکوں گا، گہرائی سے غور کروں گا، دوبارہ سیکھوں گا۔

    2020 کے آخر میں، اسٹینڈ اپ کامیڈین یانگ لی پر مردوں کے بارے میں لطیفے بنانے کے بعد "جنس پرستی” اور "مرد سے نفرت” کا الزام لگایا گیا۔ مردوں کے حقوق کے دفاع کا دعویٰ کرنے والے ایک گروپ نے بھی نیٹیزن سے مطالبہ کیا کہ وہ چین کے میڈیا ریگولیٹر کو اس کی اطلاع دیں۔

    فوج پر اپنے بچوں کی طرح اصلاح کرنے کے لیے تنقید کرتا ہوں،عمران خان

  • چینی جنگی طیارے ہمارے جنگی طیاروں کوہراساں کرتےہیں:کینیڈا

    چینی جنگی طیارے ہمارے جنگی طیاروں کوہراساں کرتےہیں:کینیڈا

    ٹورنٹو:کینیڈین فوج کے ترجمان نے چینی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ چینی جنگی طیارے کینیڈین جنگی طیاروں کو پریشان کرتے ہیں ،کینیڈین فوج کے ذمہ داران نے کہاہے کہ صرف پریشان ہی نہیں بلکہ وہ اس کے گشتی طیارے کو ہراساں کر رہے ہیں کیونکہ وہ شمالی کوریا کی پابندیوں کی نگرانی کرتے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کینیڈا کے طیاروں کو اپنی پرواز کے راستوں سے ہٹانے پر مجبور کرتے ہیں۔

     

     

    اس سلسلے میں کینیڈا کی مسلح افواج نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ 26 اپریل سے 26 مئی تک کئی مواقع پر پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) کے طیاروں نے رائل کینیڈین ایئر فورس (RCAF) CP-140 اورورا لانگ رینج گشتی طیارے سے رابطہ کیا۔

     

     

    کینیڈین افواج کے ترجمان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کینیڈین فضائیہ کے ذمہ داران سے PLAAF طیارے نے بین الاقوامی فضائی حفاظت کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔” "یہ طرزعمل انتہائی غیر پیشہ ورانہ ہیں ، چینی جنگی طیارے ہمارے RCAF اہلکاروں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔”

     

     

    کینیڈین حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس دوران جب کینیڈین طیارے شمالی کوریا پر جاری پابندیوں کی مانیٹرنگ کرتے ہیں تواس دوران بعض صورتوں میں کینیڈا کے ہوائی عملے نے اتنا خطرہ محسوس کیا کہ انہیں روکنے والے طیارے سے ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے اپنی پرواز کا راستہ فوری طور پر تبدیل کرنا پڑا۔

    کینیڈا کی طرف سے ان الزامات کا بیجنگ نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • لداخ میں چینی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    لداخ میں چینی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    چین نے 60 ہزار فوجی لداخ کے اس سرحدی حصے پر تعینات کردیئے ہیں جہاں پر بھارتی فوجی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین نے انفراسٹرکچر بھی تعمیر کرنا شروع کردیا ہے تاکہ لائن آف کنٹرول پرفوجی آمدورفت تیز ہوسکے چینی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کئی ایک جگہوں پر تو بھارتی اور چینی فوج آمنے سامنے موجود ہے۔

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا…

    ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کو چینی انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی فوج کی تعیناتی سے خطرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ نئے سال کے پہلے ہی دن چین کے سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکاروں کو متنازع علاقے گلوان وادی میں چین کا بڑا جھنڈا لہراتے اور مسلح فوجی اہکاروں قومی ترانہ پڑھتے دکھایا گیا ہے ویڈیو میں ایک پہاڑ بھی نظر آرہا ہے جس پر چینی زبان میں لکھا ہے ’’کبھی بھی ایک انچ زمین نہیں دیں گے‘

    بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع…

    چین کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتیوں نے چین اور مودی حکومت کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی پیپلز لبریشن آرمی کی ویڈیو پر سیخ پا نظر آیا۔

    قبل ازیں بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں ان کی سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لیا ہے بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور رہے گا وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ اروناچل پردیش میں مختلف جگہوں کے نئے نام رکھنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔

    چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

    یاد رہے چین اور بھارت کے درمیان لداخ کا سرحدی تنازع کئی سال سے جاری جس میں جون 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں اںڈیااورچین کےفوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد مزید شدت آئی تھی۔ ان جھڑپوں میں چین کے 4 اور بھارت کے کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے جھڑپوں کے بعد چین کی افواج نے انیڈین کنٹرول کے کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا، جن میں گلوان وادی، ڈیسپانگ اور ہاٹ سپرنگ جیسے اہم مقامات شامل تھے۔

    چینی میڈیا اس سے قبل بھی مختلف ویڈیوز جاری کر چکا ہے جس میں کبھی بھارتی فوج کے اہلکاروں اور افسران کی درگت بنتے تو کبھی گرفتاریاں دیتے دکھایا گیا ہے-

    گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا

  • گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا

    گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا

    گلوان وادی: چین نے منتازع علاقے میں نیو ایئر پر تقریب منقد کر کے بھارت کو نیا پیغام پہنچا دیا جس سے بھارتی آگ بگولہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نئے سال کے پہلے ہی دن چین کے سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکاروں کو متنازع علاقے گلوان وادی میں چین کا بڑا جھنڈا لہراتے اور مسلح فوجی اہکاروں قومی ترانہ پڑھتے دکھایا گیا ہے ویڈیو میں ایک پہاڑ بھی نظر آرہا ہے جس پر چینی زبان میں لکھا ہے ’’کبھی بھی ایک انچ زمین نہیں دیں گے‘‘

    چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

    چین کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتیوں نے چین اور مودی حکومت کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی پیپلز لبریشن آرمی کی ویڈیو پر سیخ پا نظر آیا۔

    قبل ازیں بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں ان کی سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لیا ہے بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور رہے گا وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ اروناچل پردیش میں مختلف جگہوں کے نئے نام رکھنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔

    اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی…

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے کہا تھا کہ ‘جنوبی تبت چین کے تبت خومختار خطے میں ہے اور تاریخی طور پر چین کی حدود میں ہے’ اور نئے نام دینے کا فیصلہ چین کی خودمختاری کے سلسلے میں کیا گیا ہے چین کی وزارت شہری امور نے کہا تھا کہ زینگنان (جنوبی تبت) میں 15 جگہوں کے ناموں کو معیاری بنایا ہے اور مذکورہ علاقوں کے نام چینی میں رکھ دیئے گئے ہیں بھارت جس خطے کو اروناچل پردیش کا نام دیتا ہے، اسی خطے کو چین زینگنان کہتا ہے۔

    فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    یاد رہے چین اور بھارت کے درمیان لداخ کا سرحدی تنازع کئی سال سے جاری جس میں جون 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں اںڈیااورچین کےفوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد مزید شدت آئی تھی۔ ان جھڑپوں میں چین کے 4 اور بھارت کے کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے جھڑپوں کے بعد چین کی افواج نے انیڈین کنٹرول کے کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا، جن میں گلوان وادی، ڈیسپانگ اور ہاٹ سپرنگ جیسے اہم مقامات شامل تھے۔

    چینی میڈیا اس سے قبل بھی مختلف ویڈیوز جاری کر چکا ہے جس میں کبھی بھارتی فوج کے اہلکاروں اور افسران کی درگت بنتے تو کبھی گرفتاریاں دیتے دکھایا گیا ہے-

    لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    واضح رہے کہ انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے انڈیا اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔

    بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع…

    بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

    انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا…