Baaghi TV

Tag: چیونٹیاں

  • چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چونٹیاں پیشاب کو سونگھ کر کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: پیرس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیاں پیشاب میں کینسر کی بو کو شناخت کرسکتی ہیں ماضی کی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مختلف اقسام کے کینسر پیشاب کی بو کو بدل دیتے ہیں لیکن ماہرین کے سامنے یہ بات پہلی بار آئی ہے کہ چینٹیوں میں کینسر تشخیص کرنے کی یہ صلاحیت موجود ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی: بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا کہ چیٹیوں کو مریضوں میں کینسر کی تشخیص کے لیے سستے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    فرانس کی سوربان پیرس نورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ پیٹریزیا ڈیٹورے نے بتایا کہ چیونٹیوں کو صحت مند افراد اور کینسر کے مریضوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تربیت کرنا آسان ہے، یہ تیزی سے سیکھتی ہیں، بہت کارآمد ہوتی ہیں اور ان کو رکھنا مہنگا نہیں ہوتا۔

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    یہ تحقیق پروفیسر ڈیٹورے اور ان کے ساتھیوں کی گزشتہ تحقیق پر مبنی ہے جس میں دیکھا گیا تھا کہ چیونٹیاں لیب میں بنائے گئے کینسر کے خلیوں کو سونگھنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    حال میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 70 چیونٹیوں کو کینسر کی رسولیوں اور بغیر کینسر والے چوہوں کا پیشاب سُنگھایا تین تجربوں کے بعد چیونٹیوں میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ صحت مند چوہوں اور کینسر زدہ چوہوں کے درمیان فرق کر سکیں۔

    محققین نے بتایا کہ چیونٹیوں کے سونگھنے کا نظام بہت حساس ہوتا ہے اور ہم نےانہیں کینسر کی بو سونگھنے کی تربیت دی تھی اب محققین کی جانب سے انسانوں پر یہ ٹرائل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

    سابقہ تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت ہوا تھا کہ کتے بھی پیشاب کی بو سے کینسر کو شناخت کرسکتے ہیں، مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیوں میں یہ صلاحیت کتوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

  • ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :چیونٹیاں تقریباً ہر گھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں، یہ سڑکوں پر یا دیواروں کے کناروں پر بھی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی آپ نے ان کی تعداد جاننے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اس کرہ ارض پر کتنی تعداد میں چیونٹیاں موجود ہیں،سائنس دانوں نے اس کا کسی حد تک اندازہ لگا لیاہے-

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چونٹیوں کی اب تک کی عالمی آبادی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دو لاکھ کھرب چیونٹیاں ہیں-

    جرمنی کے شہر وزبرگ میں قائم جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں،چیونٹیوں کی اس تعداد کو اگر انسانوں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ہر انسان کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ سبین نُوٹین کا کہنا تھا کہ محققین کے اندازے کے مطابق چیونٹیوں کی تعداد20 کواڈرِلین ہے۔ یعنی 20 کے آگے پندرہ صفر لگائے جائیں۔

    تحقیق میں محققین نے لکھا کہ چیونٹیوں کی تقسیم اور بہتات ماحولیات اور دیگر حیاتیات کے لیے ان کے کردار کی اہمیت سمجھانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چیونٹیوں جیسے کیڑے جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اعتبار سے ان کی اہمیت ہوتی ہے،لیکن ان کی موجودہ حقیقی کُل تعداد یا ان کی کسی مخصوص خطے میں موجودگی کا اندازہ نہیں ہے۔

    اس تخمینے تک پہنچنے کے لیے محققین کی ٹیم نے چیونٹیوں پر کیے جانے والے گزشتہ 489 مطالعات کا جائزہ لیا جو تمام برِاعظموں، بڑی آماجگاہوں اور مختلف ماحولوں پر مبنی تھے تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ زمین پر 20 کواڈرِلین چیونٹیاں موجود ہیں جن کا وزن 12 میگا ٹن یعنی 12 ارب کلو گرام خشک کاربن کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے شریک مصنف ور کیڑوں کے ماہر ماحولیات سبین نوٹین کے مطابق یہ وزن دنیا میں موجود جنگلی پرندوں اور مملیوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہے جبکہ انسانوں کے مجموعی وزن کا 20 فی صد ہے، اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اثرات کا پیمانہ کیا ہے۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر حیاتیات پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ”چیونٹیاں تقریباً ہر زمینی ماحولیاتی نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ غذائی اجزا کی سائیکلنگ، گلنے کے عمل، مٹی کے ذرات کو اِدھر اُدھر کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ چیونٹیاں بھی کیڑوں کا انتہائی متنوع گروہ ہیں، جس کی مختلف اقسام ہیں جو وسیع پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا انہیں اہم ماحولیاتی کھلاڑی بناتی ہے۔

    پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیٹا سیٹ ہزاروں سائنس دانوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کو ظاہر کرتا ہےہم اس کی بنیاد پر ہی دنیا کے مختلف خطوں کے لیے چیونٹیوں کی تعداد کو معلوم کرنے اور ان کی مجموعی عالمی تعداد اور بایوماس کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں۔

    چیونٹیوں کی 12 ہزار سے زائد معلوم اقسام ہیں اور یہ عموماً سیاہ، بھوری اور سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جب کہ ان کے جسم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کا سائز ایک ملی میٹر سے تین سینٹی میٹر تک ہوتا ہے چیونٹیاں عام طور پر مٹی، پتوں کی گندگی یا سڑنے والے پودے اور کچنز میں رہتی ہیں۔

    دنیا بھرمیں موجود چیونٹیوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کی جانے والی تحقیق PNAS نامی جرنل میں شائع ہوئی-

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

  • چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    آج تک بندروں اور چوہوں کو چیزیں چراتے اور لے کر بھاگتے دیکھا ہے لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جسے دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کیوں کہ اس مرتبہ بندر اور چوہے نہیں بلکہ چیونٹیاں سونے کی چین لے کر فرار ہور ہی ہیں-

    باغی ٹی وی : سونے کی چین کا کو چراتی ہوئی چیونٹوں کے اس قافلے کو عین موقع پر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔


    ویڈیو انڈین فاریسٹ سروس کے ملازم سوسانتا نندا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ سونے کے چھوٹے اسمگلر، آئی پی سی کے کس سیکشن کے تحت انہیں پکڑا جاسکتا ہے؟-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور دلچسپ کمنٹس کر رہے ہیں-

    قبل ازیں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں نامعلوم چوہوں کے ایک گروہ نے 5 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری کرلیا تھا تاہم پولیس نے چوری شدہ سونا برآمد کر لیا تھا ممبئی پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ چوہے سونے کے ایک تھیلے کو گھسیٹ کر ایک گٹر میں لے گئے اور ان کی اس حرکت کا راز دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد فاش ہوا تھا

    سندری پالنیول نامی خاتون سونے کا ایک تھیلا لے کر بینک کے لاکر میں جمع کرانے جا رہی تھیں۔ اسی تھیلے میں انہوں نے وڈا پاؤ بھی رکھا تھا جو انہوں نے سڑک پر موجود کچھ بھکاریوں کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن غلطی سے کھانے کے بیگ کے ساتھ سونے کے زیورات بھی دے دیئے دو منٹ میں ایک بس آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئیں پھر احساس ہوا کہ ان کا پرس نہیں ہے، تب انہیں یاد آیا کہ یہ وڈا پاؤ کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    لیکن جب سندری پالنیوال جلدی سے واپس آئیں تو وہ بچے وہاں نہیں تھے تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ بچوں نے وہ بیگ پھینک دیا تھا جسے چوہے موقع ملتے ہی گھسیٹ کر گٹر کے اندر لے گئےپولیس نے بتایا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چوہے بیگ کو گٹر لائن میں لے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے گٹر کی پوری لائن کو سکین کیا تو وہ پرس گٹر لائن میں پڑا ہوا مل گیا۔

    میکسیکو میں مئیر کی مادہ مگرمچھ سے شادی،تصاویر وائرل