Baaghi TV

Tag: چیچن

  • روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں

    روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں

    کیف :روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی جنگ ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ روس کی پیشقدمی جاری ہے۔ آج روس کی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوئی ہے۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روسی فوجی ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیو میں اتر گئے ہیں جس کے فوراً بعد ہی شہر کی سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

    اس سے قبل شہر میں شیلنگ جاری رہی اور علاقائی گورنر کے مطابق روسی میزائلوں سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 21 افراد جان سے جا چکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ یوکرینی فوج نے بدھ کو ٹیلی گرام ایپ پر جاری ایک بیان میں کہاکہ روسی فضائی دستے خارکیو میں اترے۔

    حملہ آوروں اور یوکرینیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ روس نے پیر کو شہر میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں آٹھ افراد مارے گئے۔ اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

    یوکرینی وزیر داخلہ کے مشیر اینٹون گیراشچینکو کے مطابق خارکیو کا کوئی حصہ نہیں رہا جہاں گولہ باری نہ ہوئی ہو۔ خارکیو زیادہ تر روسی زبان بولنے والوں کا شہر ہے جس کی آبادی 14 لاکھ سے زائد ہے۔

    روسی کا یوکرینی شہر خیرسون فتح کرنے کا دعویٰ یوکرین پر روسی حملے کے ساتویں دن روسی فوج نے جنوبی یوکرینی شہر خیرسون کو فتح کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشونکوف نے بدھ کو ایک ٹی وی پیغام میں کہاکہ روسی فوجی دستوں نے خیرسون کے علاقائی مرکز کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ شہر میں عوامی سہولیات اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ شہر میں اشیائے خوردونوش اور ضروری سامان کی کوئی قلت نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج اور مقامی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے، رہائشیوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور عوامی سہولیات کو جاری رکھا جا سکے۔

    خیرسون کے میئر ایگور نکولایف نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ہم اب بھی یوکرین ہیں۔ اب بھی مضبوط۔‘ بظاہر روسی فوج کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ’مرنے والوں کی لاشیں اٹھانے‘ اور ’جہاں جہاں بجلی، گیس، پانی اور ہیٹنگ کی سہولیات متاثر ہوئی ہیں انہیں بحال کرنے‘ کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

  • یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے: چیچن صدر

    یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے: چیچن صدر

    ماسکو:یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے:اطلاعات کے مطابق چیچنیا کے صدر رمضان قادروف کا کہنا ہے کہ ’ان کے کئی جنگجو روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

    سابق باغی اور روس کے حمایت یافتہ چیچن لیڈر رمضان قادروف نے منگل کو کہا کہ ’وہ یوکرین کے خلاف صدر ولادیمیر پوتن کے حملے کی حمایت کرتے ہیں، اور وہ اپنے جنگجو بھی روس کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک بیان میں رمضان قادروف کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے اس جنگ میں لڑنے والے چیچنز کا نقصان ہوا ہے، ہمارے دو جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    کریملن نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے ماسکو کے حملے کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے یوکرین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور سے نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو مذاکرات کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور ’ان کے نتائج کا اندازہ لگانا بہت جلد ہے۔

    خیال رہے کہ یوکرین اور روس کے حکام نے پیر کو بیلا روس اور یوکرین کی سرحد پر جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار بات چیت کے لیے ملاقات کی تھی۔ دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ ماسکو مذاکرات کے نتائج کا ’تجزیہ‘ کرے گا۔

    انہوں نے یہ بات یوکرین کے حکام کے کئی گھنٹے بعد کہی، جن کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے شہر خارکیو کے مرکزی چوک پر گولہ باری کی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو روس کے حملے کے بعد سے اب تک 350 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    روس نے بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے لیکن ان کی تعداد ظاہر نہیں کی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خارکیو پر روسی شیلنگ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ دارالحکومت کی روسی فوج سے حفاظت کرنا اولین ترجیح ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’خارکیو پر حملہ جنگی جرم ہے۔ یہ روس کی ریاستی دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’خارکیو اور کیئف (پر قبضہ کرنا) روس کے اہم ترین مقاصد ہیں۔ اس دہشت گردی کا مقصد ہمیں اور ہماری مزاحمت کو توڑنا ہے۔

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔