Baaghi TV

Tag: چیچن سربراہ

  • بیٹوں کو یوکرین کیخلاف جنگ میں بھیجنے کا انعام،پیوٹن نے چیچن سربراہ کوروسی فوج کے اعلی فوجی عہدے پرترقی دیدی

    بیٹوں کو یوکرین کیخلاف جنگ میں بھیجنے کا انعام،پیوٹن نے چیچن سربراہ کوروسی فوج کے اعلی فوجی عہدے پرترقی دیدی

    روسی صدرپیوٹن کے اتحادی اور روس کی نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے 5 ستمبر کو اعلان کیا کہ انہیں روسی فوج کے اعلی فوجی عہدے پرترقی دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیچن رہنما قادریوف نے کہا روسی صدر پیوٹن نے انہیں اپنے فیصلےت سے ذاتی طور پر آگاہ کیا ہے انہوں نے ٹیلی گرام پر کہا روسی صدر نے مجھے کرنل جرنل کے عہدے پر ترقی دی ہے۔ یہ میرے لیے ایک پروموشن ہے،رمضان قادریوف نےکہا یہ میرے لئے بہت بڑا عزاز ہے-

    چیچن سربراہ کا اپنے 3 کم عمر بیٹوں کو یوکرین کے محاذ پر بھیجنے کا اعلان

    یاد رہے کرنل جرنل کا عہدہ روسی فوجی عہدوں کی کی سیریزمیں تیسرے رینک پر آتا ہے یہ پیش رفت اس وقت سامنےآئی ہے جب روسی فوج کو یوکرین میں سلسلہ وار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور قادروف نے اپنے 3 بیٹوں کو لڑنے کیلئے محاذ جنگ پر بھیجنے کا اعلان کیا تھا 46 سالہ چیچن قادروف رہنما یوکرین پر روسی حملے کے سب بے بڑے حامی ہیں۔

    چیچن رہنما نے مزید کہا کہ وہ کریملن کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے خصوصی فوجی آپریشن کو فوری ختم کرنے کے لیے سب کچھ کریں گے۔

    قادریوف نے روس کو یوکرین میں انتہائی سخت گیرحربے استعمال کرنے کا کہا تھااس ہفتے لیمان قصبہ سے روسی فوج کی پسپائی پر انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر تکنیکی جوہری ہتھیار استعمال کر ڈالے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے 14، 15 اور 16 سال کے تین بیٹوں کو لڑنے کیلئے بھیجنے کا اعلان کردیا ۔

    دوسری جانب روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے توقع ظاہر کی ہے کہ کریملن میں ضم شدہ یوکرین کے علاقوں میں صورت حال ’’مستحکم‘‘ ہوجائے گی جبکہ ماسکو کو حال ہی میں یوکرین میں پے درپے فوجی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یوکرینی فوج نے متعدد اہم قصبے روسی فوج کے قبضے سے واگزار کرالیے ہیں۔

    پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    روسی اساتذہ کے ساتھ بدھ کو ٹیلی ویژن پر ویڈیو کال کے دوران میں صدر پیوٹن نے کہا کہ ہم اس مفروضے کی بنیادپرکام کررہے ہیں کہ نئے علاقوں میں صورت حال مستحکم ہوجائے گی ہماری فوج کے زیرقبضہ علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کے لیے نام نہاد ریفرنڈم کے نتائج قائل کرنے سے کہیں زیادہ تھے۔

    صدرپیوٹن نے کہا کہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج نے نہ صرف مجھے خوش کیا بلکہ مجھے حیران بھی کیا۔وہ کسی شک وشبہ سے بالاتر تھے۔

    مغرب اور یوکرین نے روس نواز علاقوں میں ریفرنڈم کے عجلت میں انعقاد کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ماسکونے ایک دکھاوے کے طور پریوکرینی علاقوں میں جلد بازی میں ریفرینڈم کا انعقاد کیا تھا جبکہ اس دوران میں یوکرینی فوج کی اپنے علاقوں کوواگزار کرانے کے لیے پیش قدمی جاری تھی۔

    صدرپیوٹن نے گذشتہ ہفتےکریملن میں ایک بڑی تقریب میں یوکرین کے چارعلاقوں کو روسی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا اورکہا تھا کہ ان کے باشندے اب ’ہمیشہ کے لیے‘روسی ہو جائیں گے۔

    روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد…

    انھوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی تھی جب یوکرین میں مختلف محاذوں پر روسی فوج کونمایاں فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔اس سے قبل گذشتہ بدھ کے روز ماسکو نے کیف سے کھوئی گئی زمین واپس لینے کا عہد کیا تھا۔

  • یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے دھمکی دی ہے کہ یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے-

    باغی ٹی وی :آج پیر کی صبح اپنے تازہ ترین بیان میں چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حلف نے باور کرایا کہ روسی افواج یوکرین کے جنوب مشرق میں محصور ساحلی شہر ماریوپول ، دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملہ کریں گی۔

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

    ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں رمضان نے مزید کہا کہ پہلے ہم لوجاسک اور دونیسک پر مکمل کنٹرول حاصل کریں گے۔ پھر اس کے بعد کیف اور دیگر تمام شہروں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    قدیروف گذشتہ ماہ مارچ کے وسط میں ایک تصویر میں تقریبا 30 مسلح افراد کے بیچ نظر آئے تھے اس تصویر کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ یوکرین کے شہر ماریوپول کی ہے۔

    روس کے ہمنوا رمضان قدیروف جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی کئی ریکارڈ شدہ وڈیوز جاری کر چکے ہیں ان وڈیوز میں وہ اپنے فوجیوں کی "کیف کے نازیوں” کے سامنے بہادری کو سراہتے ہیں۔

    روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آغاز 24 فروری کو ہوا تھا۔ بحیرہ آزوف پر واقع ماریوپول شہر روس کا تزویراتی ہدف ہے۔ بالخصوص اس پر قبضہ کر لینے سے مشرق میں روس کے ہمنوا علاحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو جنوب میں جزیرہ نما قرم کے ساتھ مربوط کیا جا سکے گا۔ روس نے 2014ء میں قرم کو اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا۔

    واضح رہے کہ تقریبا دو ماہ قبل یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے چیچن سربراہ رمضان قدیروف کئی بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر یوکرین میں لڑائی میں چیچن فورسز کی شرکت کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے حساس علاقوں کے انتظام وانصرام کے ذمے دار ادارے (اسٹیٹ ایجنسی فارمینجنگ دی ایکسکلوژن زون) نے چرنوبل جوہری پلانٹ پرقبضہ کرنے والی روسی افواج پر تحقیقی لیبارٹریوں سے خطرناک تابکار مواد چرانے کا الزام عاید کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ مواد انھیں ممکنہ طور پرہلاک کر سکتا ہے۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    روس کی افواج نے 24 فروری کو یوکرین پرحملے کے پہلے دن ہی چرنوبل میں واقع اس ناکارہ پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے 31 مارچ کووہاں سے پسپائی اختیارکرنے سے پہلے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک انتہائی تابکار زون پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

    یوکرینی ایجنسی نے اتوارکے روز فیس بُک پرایک بیان میں کہا ہے کہ روسی فوجیوں نے علاقے میں دو لیبارٹریوں کو لوٹ لیا ہے۔روسی فوجی ایکو سینٹر ریسرچ بیس کے ذخیرہ کرنے والے حصے میں داخل ہوئے تھے اورانھوں نے 133انتہائی تابکار مادے چوری کرلیے تھے اگراس مواد سے غیرپیشہ ورانہ انداز میں نمٹا جائے تو اس کا معمولی سا ذرّہ بھی مہلک ہے۔

    یوکرین: ریلوے اسٹیشن پر روس کا مبینہ راکٹ حملہ، 5 بچوں سمیت 50 افراد ہلاک

    اسی ہفتے کے اوائل میں یوکرین کے وزیرتوانائی جرمن گلاشچینکو نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں نے خود کو جوہری تابکاری کی ’’چونکا دینے والی‘‘مقدار سے روشناس کرایا اب اس کے بعد ان میں سے کچھ کے پاس زندہ رہنے کے لیے ایک سال سے بھی کم وقت ہوسکتا ہے اور واضح طور پر وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے،بلکہ بیماریوں سے ان کی سست روی سے موت واقع ہوسکتی ہے

    گلاشچینکو نے جمعہ کواخراج زون کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ انھوں (روسی فوجیوں) نے تابکاری سے آلودہ ننگی مٹی کھودی، محفوظ کرنے کے لیے تھیلوں میں تابکار ریت جمع کی اور اسی دھول میں سانس لیا تھا ہر روسی فوجی چرنوبل کا ایک ٹکڑا زندہ یا مردہ گھر لے جائے گا روسی فوجی سازوسامان بھی اس تابکار مادے سے آلودہ ہوا ہے مگر روسی فوجیوں کی اس خطرناک مواد سے لاعلمی حیران کن ہے۔

    یادرہے کہ چرنوبل پاور اسٹیشن 1986ء میں بدترین جوہری تباہی سے دوچار ہوا تھا اوردنیا میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا جوہری حادثہ تھا۔

    یوکرینی صدرولادیمیر زیلنسکی کی گریمی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت