Baaghi TV

Tag: ڈائریکٹر جنرل

  • نسلہ ٹاور کیس: کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 3 افسران گرفتار

    نسلہ ٹاور کیس: کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 3 افسران گرفتار

    کراچی: اینٹی کرپشن پولیس کی ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے میں کارروائی، اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ڈائریکٹر جنرل آصف میمن، ایڈیشنل ڈائریکٹر شیخ فرید اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاطف احمد خان کو گرفتار کر لیا جبکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی تھانہ اینٹی کرپشن میں پہلے سے درج کرلیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی :حکام کے مطابق بدھ کی شب اینٹی کرپشن پولیس ایسٹ زون نے ڈی جی کے ڈی اے آصف میمن کےکیمپ آفس پر چھاپہ ماراجہاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاطف احمد خان کو گرفتار کرلیا اینٹی کرپشن پولیس نے ڈی جی کے ڈی اے آصف میمن کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا-

    حرمین قتل کیس، ملزمان نے پولیس کو اعترافی بیان دے دیا

    ملزمان کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق اب تک ہونے والی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل حکومت کے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ماتحت افسروں کو غیر قانونی طور پر سرکاری احکامات جاری کرنے کا حکم دے رہے تھے ایک اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر بھی مقدمے میں نامزد ہے تاہم وہ فرار ہوگئے۔

    گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے

    حکام کے مطابق زیر حراست تینوں افسران اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کا حکم مل چکا ہے ملزمان معطل تھے لیکن اس کے باوجود گلستان جوہر بلاک 2، 16 اور کورنگی میں زمینوں کے غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہونے کے علاوہ وہ آصف علی میمن کے غیر قانونی احکامات پر عملدرآمد کر رہے تھےجو قوائد کی خلاف وزری اور غیر قانونی ہے-

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    اس سے قبل نسلہ ٹاور کی تعمیر کے اہم کردار افسران کے خلاف فیروز آباد تھانے میں مقدمہ کے اندراج کے بعد ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے پولیس کی اعلٰی سطحی پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ نسلہ ٹاور کی غیر قانونی تعمیر کے کیس میں پولیس نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ملوث افسران کی فہرست حاصل کرلی تھی، ساتھ ہی شارع فیصل پر نسلہ ٹاور کی تعمیر کی اجازت دینے کے اہم اجلاس کا لیٹر بھی پولیس نے حاصل کرلیا تھا سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کیس میں محکمہ اینٹی کرپشن کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے رکھا ہے۔

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی…

  • ڈائریکٹر جنرل نے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اورڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ کو عہدوں سے برطرف کردیا

    ڈائریکٹر جنرل نے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اورڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ کو عہدوں سے برطرف کردیا

    کراچی کی قیمتی اراضی کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ناکام،ملوث افسران کے گرد گھیرا تنگ،وزیر بلدیات سندھ نے ایم ڈی اے کی 30ایکٹر اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کو الاٹ کئے جانے کا سختی سے نوٹس لے لیا،ڈی جی ایم ڈی اے عمران عطاءسومرو کو فوری تحقیقات کا حکم، وزیر بلدیات کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل نے کارروائی کرتے ہوئے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اورڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کردیا ،گورننگ باڈی سے منظوری لئے بغیرنیشنل ہائی وے پر واقع اراضی کینجھر جھیل نامی کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کو الاٹ کرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئیں تھیں،ذرائع ابلاغ میں نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران اور سسٹم مافیا کاتیار کھیل خاک میں مل گیا،ایڈیشنل ڈی جی ناصر خان سمیت دیگر افسران کیخلاف بھی کارروائی کا امکان۔تفصیلات کے مطابق ایم ڈی اے افسران کا نیشنل ہائی وے پر واقع 30 ایکٹر قیمتی اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کے نام پر ٹھکانے لگانے کا تیار کھیل بری طرح ناکام ہوکر رہ گیا، ذرائع ابلاغ میں کی گئیں نشاندہی پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے عمران عطاءسومرو کو فوری تحقیقات اور کارروائی کی ہدایت کردی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل عطاءعمران سومرو نے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ محمد عرفان اور ڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ شاہد چوہان کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کرکے تحقیقات کی ہدایت کردی ہے جبکہ مذکورہ افسران کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان کیخلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ 30 ایکٹر اراضی کی مبینہ خلاف ضابطہ الاٹمنٹ کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان نے اہم کردار ادا کیا تھا اور محکمہ جاتی نوٹ شیٹ میں اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری بھی دی تھی،واضح رہے کہ نیشنل ہائی وے پر واقع نیو ملیر ہاﺅسنگ اسکیم 1 کے سیکٹر 12 میں موجود مذکورہ اراضی ایم ڈی اے نے فیوچر پلاننگ کیلئے مختص کررکھی ہے جسے ٹھکانے لگانے کا کام افسران نے انتہائی برق رفتاری کے ساتھ کرتے ہوئے آخری مراحل میں داخل کردیاتھا اور سائٹ پلان تک تیار کرلیا گیا تھا تاہم ذرائع ابلاغ کی نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران کا قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بری طرح ناکام ہوکر رہ گیا ہے۔