Baaghi TV

Tag: ڈائنو سار

  • چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    بیجنگ: چین میں سبزہ خور سوروپوڈس ڈائنوسار کی ایک نوع دریافت ہوئی ہے جس کی گردن 15 میٹر یعنی بچوں کی اسکول بس سے بھی 10 فٹ لمبی تھی۔

    باغی ٹی وی: اس کا نام ’مامین چی سارس سائنوسینیڈورم‘ رکھا گیا تھا۔ اگرچہ اس کے رکازار 1987 میں چین سےدریافت ہوئے تھے لیکن پہلی تحقیقی رپورٹ 1993 میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ تاہم مزید تجزیئے کے بعد اس کی گردن اور طویل نکلی ہے جو 49 فٹ سے زائد طویل تھی۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    اب نیا مطالعہ نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِرکازات ڈاکٹر اینڈریو مور نے کیا ہے۔ انہوں نے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سے مامین چی سارس کا جائزہ لیا ہے اور یہ ٹیکنالوجی پہلے موجود نہ تھی انہوں نے حال ہی میں "مامین چی سارس” کے مزید رکازات اور بالخصوص گردن کی ہڈیوں کو دیکھا ہے۔

    ان میں سے تین نمونوں کی گردن کے مہرے ناپ کر ان کا موازنہ ایسے ہی دیگر ڈائنوسار سے کیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ "مامین چی سارس” کی گردن میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 18 مہرے تھے اور ان کی مجموعی لمبائی 49 فٹ بنتی ہے جو 15 میٹر کے لگ بھگ ہے۔

    یو اے ای نے الیکٹرک کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں کو بطور ٹیکسی متعارف کروادیا

    سوروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار کی لمبی گردن سارس کی گردن جیسی تھی اور وہ افق پر 20 سے 30 درجے پراٹھی رہتی تھی سوروپوڈس 16 کروڑ سال قبل منظرِ عام پر آئے اور کوئی ساڑھے چھ کروڑ برس پہلے اپنے دیگر ساتھیوں کےساتھ صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔

  • ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت، جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا

    ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت، جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا

    ماہرین نے ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا-

    باغی ٹی وی : جریدے لائیوسائنس میں شائع تحقیق کے مطابق ڈائنو سار کی یہ قسم ٹکر مارنے کی بجائے ٹانگیں اور ہاتھ چلانے کا بڑی ماہر تھی ماہرین کے خیال ہے کہ جس طرح آج کینگرو مکے اور لاتیں چلاتے ہیں عین اسی طرح یہ ڈائنوسار بھی لڑنے کا ماہر تھا۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    ماہرینِ حیاتیات نے کِک باکسنگ کے اس رویے کا ثبوت ’پیکی سے فیلو سارس(Pachycephalosaurus) کے ایک اچھی طرح سے محفوظ ڈھانچے کا تجزیہ کرکے اس کا ایک ورچوئل 3D ماڈل بنا کراوریہ نوٹ کیا کہ ڈائنوسار کی اناٹومی کےحصے کنگارو سے مشابہت رکھتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اسی طرح کے طریقوں سے منتقل ہوتے ہیں۔

    مالٹا میں گریٹ پلین ڈائنوسارمیوزیئم کے ماہرین نے اسے دریافت کیا ہے یہ تحقیق 2 نومبرکوٹورنٹو میں سوسائٹی آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تھی کریٹے شیئس عہد سے تعلق رکھنے والا ڈائنوسار دو ٹانگوں پر چلتا تھا جسے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا نام دیا گیا ہے اور اپنے دشمن پر طاقتور لاتیں چلاتا تھا۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    خوش قسمتی سے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا بہت ہی اچھا اور قدرے مکمل ڈھانچہ ملا ہے جس کی بنا پر تھری ڈی ماڈل بنایا گیا ہے۔ ماہرین نے غور کیا تو انکشاف ہوا کہ اس کے خدوخال بہت حد تک بڑے کینگرو سے مشابہہ ہیں۔ اگرچہ یہ ڈائنوسار اپنی دم کو بطور کوڑا استعمال کرتا تھا لیکن ساھ ہی کینگرو کی طرح مکے برسانے اور لات مارنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

    اگرچہ یہ اپنے تربوز جیسے بڑے سر سے بھی ٹکر مار سکتا تھا لیکن اسے ہاتھ پیر چلانے میں آسانی ہوتی تھی۔ دوسری جانب میامی میں فروسٹ سائنس میوزیئم سے واستہ ماہر کیری وڈروف نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا غالب امکان ہے کہ یہ ڈائنوسار جھگڑالو تھا۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    یہ طویل عرصے سے سوچا جاتا تھا کہ یہ کریٹاسیئس دور (145 ملین سے 66 ملین سال پہلے) عجیب و غریب ایک دوسرے پر بھاگتے تھے اور اپنے تربوز جیسے سر سے ایک دوسرے کو ممکنہ طور پر ساتھیوں، خوراک یا علاقے کے لیے مقابلہ کرنے کے لیے ٹکریں مارتے تھے –

    ووڈرف نے کہا کہ اگرچہ بہت سے ماہرین حیاتیات نے پیکی سے فیلو سارس کی کھوپڑیوں کا مطالعہ کیا ہے، باقی جسم پر تجزیہ بہت کم ہے کیونکہ ان کے ڈھانچے شاذ و نادر ہی اچھی طرح سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن، امریکی مغرب کی ہیل کریک فارمیشن سے اچھی طرح سے محفوظ شدہ نمونے تک رسائی کا مطلب یہ تھا کہ ووڈرف اس کی ریڑھ کی ہڈی کی جانچ کر سکتا ہےاور ساتھ ہی دیگر جسمانی خصوصیات جو اس کے رویے کے بارے میں سراغ پیش کر سکتی ہیں۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

  • ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    محققین کا کہنا ہے کہ جس شہابِ ثاقب نے ڈائنو سار کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا اس کے سبب 2500 کلومیٹر رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

    باغی ٹی وی :6.6 کروڑ سال قبل کریٹیسیئس دور کے آخر میں تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا سیارچہ جزیرہ نما یوکاٹین (جو آج کا میکسیکو ہے) سے ٹکرایا تھا اس تصادم کے نتیجے میں ڈائنو سار کے ساتھ زمین پر رہنے والے تقریباً 75 فی صد نباتات اور جانور ختم ہوگئے تھے اس تباہی کا ایک حصہ اس تصادم سے جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی سائنس دان نے تصادم کے وقت کی چٹان کا معائنہ کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ کچھ آتشزدگیاں سیارچہ ٹکرانے کے چند منٹوں بعد ہی شروع ہوگئی تھیں۔

    پروفیسر بین نیلر کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آگ تصادم کا براہ راست نتیجہ تھی؟ یا بعد میں لگی تھیں۔ کیوں کہ نباتات تصادم کے بعد ماحول میں اڑنے والے ملبے کی وجہ سے ہونے والے اندھیرے کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ تباہ کن آگ لگنا کیسے اور کب شروع ہوئیں اور ایک صاف مگر خوف ناک تصویر پیش کرتی ہے کہ شہابِ ثاقب کے گرنے کے بعد فوری طور پر کیا ہوا ہوگا۔

    ایک طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر پرندوں کے ڈائنوسار 65 ملین سال پہلے ختم ہو گئے تھے لیکن پال بتاتے ہیں، ‘دنیا بھر میں مٹی کی ان تہوں کی ڈیٹنگ بہت درست ہے – اس کا اندازہ چند ہزار سالوں میں لگایا گیا ہے حالیہ ریڈنگ نے اسے بہتر کیا ہے، اور ڈایناسور کے معدوم ہونے کی تاریخ 66.0 ملین سال پہلے کی ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں جو سبزہ خور سوروپوڈ سے تعلق رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں پرتگال کے وسط سے پومبل شہر سے برآمد ہوئی ہیں جس کا قد 12 میٹر اور سر سےدم تک کی لمبائی 25 میٹر تھی یہ جانور پتوں اور سبزے پرگزارہ کرتے تھے اورچاروں پیروں پر چلا کرتے تھے-

    2017 میں ایک شخص کو اپنے پلاٹ پر کئی غیرمعمولی بڑی ہڈیاں دکھائی دیں یہ ہڈیاں تعمیراتی عمل میں ملی برآمد ہوئی تھیں اس کے بعد سائنسدانوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تحقیق شروع کی۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت


    بعد اگست 2022 میں پرتگالی اور ہسپانوی ماہرین ایک جگہ جمع ہوئے اور یہاں باضابطہ تحقیق کی اس کے بعد وہاں سے سوروپوڈ کی مزید ہڈیاں ملیں جس کے بعد ماہرین نے اسے یورپ سے دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا ہے۔

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    تحقیقی ٹیم میں شامل لزبن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی ماہر حیاتیات ، ایلزبتھ میلافایا نے کہا کہ اس طرح کے آثار کی دریافت عام بات نہیں، کیونکہ اس ڈائنوسار کی پسلیاں اچھی حالت میں ملی ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس طرح اس کے رکازات دریافت ہوئے ہیں وہ عام حالات میں ممکن نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ جراسک عہد کی یہ دریافت غیرمعمولی ہے۔

    ایک اندازے کےمطابق لگ بھگ 10 سے 16 کروڑ سال قبل سوروپوڈ ڈائنوسار زندہ تھےاور اب تک انہیں سب سے بڑے ڈائنوسار میں شمار کیا جاتا ہے اس کے اعضا مکمل طور پر بن چکے تھے فی الحال اس کے پسلیاں اور گردن کےکئی مہرے دریافت ہوئے ہیں تاہم مزید کھدائی کے بعد کئی اور قیمتی رکازات مل سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پومبل علاقے میں اس سے قبل بھی ڈائنوسار کے آثار ملے ہیں کیونکہ یہاں کروڑوں سال قدیم جراسک پرتیں بہت واضح ہیں۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

  • امریکا:خشک سالی کا شکاردریا ئی نالےسے11 کروڑ 30 لاکھ قدیم ڈائنو سار کے قدموں کے نشان دریافت

    امریکا:خشک سالی کا شکاردریا ئی نالےسے11 کروڑ 30 لاکھ قدیم ڈائنو سار کے قدموں کے نشان دریافت

    رواں برس یورپ میں خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں نایاب اور قدیم چیزوں کے ظاہر ہونے کا سلسلہ تاحال جاری ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا میں جاری شدید گرمی اور خشک سالی سے ایک دریائی نالہ خشک ہونے سے وہاں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دیکھے گئے ہیں جو لگ بھگ 11 کروڑ 30 لاکھ (113 ملین) سال قدیم ہیں۔

    برطانیہ میں 800 سال قدیم لاکٹ دریافت

    ماہرین کا خیال ہے کہ کروڑوں برس قبل ایک بڑا ڈائنوسار یہاں سے گزرا تھا۔ یہ علاقہ ڈیکساس کی مشہوری ڈائنوسار وادی کا حصہ ہے جو اس سے قبل بھی ایسی ہی دریافتوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔

    پارک انتظامیہ کے مطابق دریا بالکل خشک ہونے سے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا ایک طویل سلسلہ سامنے آیا ہے جو درحقیقت ’ایکروکینتھوسارس‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس ڈائنوسار کی اونچائی 15 فٹ اور وزن لگ بھگ 7 ٹن تھا۔

    پارک کی ترجمان اسٹیفینی سیلیناس گارشیا کے مطابق شدید گرمی سے ٹیکساس بھر میں مشکلات ہیں لیکن پارک کے علاقے میں گھاس پھوس کا نقصان ہوا ہے اور دریا بھاپ بن کر اڑچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر سوروپوڈ نسل کے ڈائنوسار کے نشانات ملے ہیں جن کی گردن سے دم تک لمبائی 60 فٹ اور وزن 44 ٹن تک تھا۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے


    خشک سالی سے کئی مقامات پر دریا کا فرش واضح ہوچکا ہے، جس کے بعد نقوشِ پا دریافت ہوئے ہیں۔ تاہم توقع ہے کہ یہ نشانات بارشوں کے موسم میں دریا میں پانی بھرنے سے دوبارہ ڈوب جائیں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت دنیا بھر میں قدیم جانوروں کے قدموں کےنشانات موسم زدگی اور ٹوٹ پھوٹ سےمحفوظ رہتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی ریاست یوٹاہ کی ایئر فورس بیس کے قریب ایک جگہ سے 12 ہزار سال پُرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت ہوئے تھے کورنیل ٹری رِنگ لیبارٹری کے محقق تھامس اربن اور ان کے ساتھی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈیرون ڈیوک نے ان نقوش کی نشاندہی چلتی گاڑی میں کی تھامس اربن نے حال ہی میں نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں قدیم انسانوں کے قدموں کے نقوش کا مطالعہ کیا ہے۔

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جب میں نے چلتی گاڑی سے ان نقوش کی نشاندہی کی تب مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ انسانوں کے پیروں کے نشان ہیں تاہم، مجھے یہ علم تھا کہ یہ پیروں کے نشانات ہیں کیوںکہ یہ یکساں فاصلے پر متبادل ترتیب کے ساتھ تھے۔

    ایئر فورس کے بیان کے مطابق محققین کی ٹیم کے مدد سے اربن نے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سے پرنٹ ریکارڈ کرنے کے لیے تکنیک کا تعین کیا جس کے بعد مشاہدہ کیے گئے نشانات سے زیادہ نشانات سامنے آئے۔

    بیان میں تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جس طرح وائٹ سینڈز میں نمی کی موجودگی میں نشانات دِکھتے تھے، یہاں بھی ہم نے ریڈار کی مدد سے کئی ناقابلِ دید نقوش کی نشاندہی کی سب ملا کر ٹیم نے بچوں سے لے کر بڑوں تک 88 نقوشِ پا دریافت کیے سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق قدموں کے یہ نشانات 12 ہزار سال پرانے ہیں۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد