Baaghi TV

Tag: ڈالر

  • کچھ عرصے کے بعد امپورٹ پر سے پابندی اٹھانی پڑے گی،گورنر اسٹیٹ بینک

    کچھ عرصے کے بعد امپورٹ پر سے پابندی اٹھانی پڑے گی،گورنر اسٹیٹ بینک

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا

    فنڈز کی عدم دستیابی داسو سے دنیور رابطہ کاری کا منصوبہ تعطل کا شکارہے،وزارت منصوبہ بندی نے کہا کہ 30کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے ،5 کروڑ 80 لاکھ خرچ کئے گئے، ہم نے 12 کروڑ روپے جاری کیے ہیں پہلے وہ خرچ ہوجائیں، ایس سی او حکام نے کہا کہ دو ہفتے قبل 12 کروڑ روپے جاری کئے ہیں وہ خرچ ہو جائیں گے ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب تک آپ رقم خرچ نہیں کریں گے تو آپ کو مزید رقم کیسے ملے گی، ٹھیکیداروں کو ادائیگی کریں تاکہ آپ کو مزید رقم مل سکے،کمیٹی نے ہدایت کی کہ ادائیگی کرنے کے بعد ہمیں کنفرم کریں،

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دی،اور کہا کہ جب یہ سال شروع ہوا تو معیشت پر کافی دباؤ تھا، اس وقت دو بڑے چیلنجز ہیں جس میں مہنگائی اور بیرونی فنانسنگ شامل ہے،اس سال یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ 10 ارب ڈالر کا جاری خسارہ ہوگا،رواں مالی سال کے آخر میں جاری خسارہ 7 ارب ڈالر کا ہوگا،سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ڈالر پر مارکیٹ میں سٹہ ہوتا ہے اسٹیٹ بینک اس کو کنٹرول کرے،ڈالر کو حقیقی قیمت پر لانا اسٹیٹ بینک کا کام ہے،گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مالی ذخائر پر دباؤ بیرونی فنانسنگ کے کم ہونے کی وجہ سے ہے، آئی ایم ایف کے جائزے میں تاخیر کی وجہ سے بیرونی فنانسنگ رک گئی ہے،آئی ایم ایف سے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں،مالی ذخائر 4.3 ارب ڈالر کے ہیں اورایک ہفتے میں ڈیڑھ ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے،قرضوں کی واپسی کی وجہ سے بھی مالی ذخائر میں کمی ہوئی ہے،دو تین ماہ مہنگائی کا دباؤ رہے گا اوررواں سال اوسط مہنگائی 26.5 فیصد ہوگی، رواں سال ترسیلات زر 29 ارب ڈالر تک موصول ہونے کا تخمینہ ہے،درآمدات کو زیادہ دیر روک نہیں سکتے، ہمیں کچھ عرصے کے بعد امپورٹ پر سے پابندی اٹھانی پڑے گی،ایکسپورٹرز کو سہولت دیتے ہوئے فارن کرنسی اکاونٹ کی سہولت دی ہے، ایل سیز پر پابندیوں کا فیصلہ وزرت تجارت، خزانہ اور حکومت سے مشاورت سے کیا، اس وقت کے ملک کے حالات کے مطابق ایل سیز پر پابندی کا فیصلہ درست تھا،ایل سیز پر مکمل پابندی نہیں لگ سکتی اس لییے ترجیحی سیکٹرز کیلئے ایل سیز کھولی گئیں،ایل سیز کھولنے کیلئے فارماسوٹیکل سیکٹر کو پہلی ترجیح پر رکھا گیا تھا، فروری میں فارماسوٹیکل سیکٹر کی امپورٹ 185ملین ڈالر کی رہیں، اس وقت کے ملک کے حالات کے مطابق ایل سیز پر پابندی کا فیصلہ درست تھا، ایکسپورٹرز کو سہولت دیتے ہوئے فارن کرنسی اکاونٹ کی سہولت دی ہے،

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ والی آنٹیاں ایسے نعرے کہیں اور لگا کر دکھائیں …تو کیا ہوگا ؟

    باغی ٹی وی”عوام کو”عورت مارچ” کےفوائد نہیں بتاتا:ہمیں یہ منظورنہیں:”عورت مارچ "کی آرگنائزرکاموقف دینے سے انکار،

    میرے ساتھ ایک عورت کی موجودگی میں اس کے خاوند نے جنسی زیادتی کی:وہی عورت اب عورت مارچ کی روح رواں

    عورت مارچ کے لیے فنڈریزنگ شروع:حکومت مخالف قوتیں دل کھول کرفنڈدینے لگیں‌

  • ڈالر کے بعد سونے کی قیمت میں 9 ہزار روپے  کا اضافہ

    ڈالر کے بعد سونے کی قیمت میں 9 ہزار روپے کا اضافہ

    ڈالر کے بعد سونے کی قیمت میں 9 ہزار روپے کا اضافہ

    بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے میں ایک ڈالر کی کمی جب کہ پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 9 ہزار 400 روپے کا ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں ایک ڈالر کی کمی ہوئی، اور عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 1836 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب پاکستان میں جمعرات کے روز سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 9 ہزار 400 روپے اور 8 ہزار 58 روپے کا غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر

    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 2 لاکھ 6 ہزار 500 روپے ہوگئی، جب کہ دس گرام سونے کی قیمت اضافے کے بعد ایک لاکھ 77 ہزار 40 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

  • ڈالر کی اڑان،اوپن مارکیٹ میں 286 کا فروخت ہونے لگا

    ڈالر کی اڑان،اوپن مارکیٹ میں 286 کا فروخت ہونے لگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،آج کاروباری دن کے آغاز سے ڈالر کی قیمت میں تقریبا 15 روہے اضافہ ہوا ہے

    انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے کچھ ہی دیر کے بعد ڈالر مہنگا ہوا ہے، ڈالر کی قیمت 8.89 روپے مہنگی ہوئی جس کے بعد ڈالر نے 275 روپے پر ٹریڈ کیا ، بعد ازاں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا،انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 14.74 روپے مہنگا ہونے کے بعد 280.85 روپے پر فروخت ہو رہا ہے ،جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 286 روپے میں فروخت ہو رہا ہے ،ڈالر ملک کی تاریخ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر290 روپے فروخت ہورہا ، ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے قرضوں میں 1600 ارب سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے روپے پر دباؤ ہے،ڈالر کی قیمت میں ٹریڈنگ کےدوران اضافہ عارضی ہے

    کرنسی ڈیلرز کی 26 رکنی تنظیم پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ڈالر ریٹ میں اضافہ کی وجہ آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر ہے،زرعی شعبے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے پاکستان کی معاشی ساکھ کافی بہتر ہے،زرعی شعبے پر ٹیکس لگایا جائے،اوورسیز پاکستانیز اور ایکسچینج کمپنیز کی کارکردگی ایکسپورٹرز سے اچھی ہے،اوورسیز پاکستانیز کو خصوصی مراعات دی جائے،

    گزشتہ کاروباری روز کے ا ختتام پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 274 روپے کی سطح پر بند ہوا، اسی طرح انٹر بینک مارکیٹ میں 4.61 روپے اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد 266.11 روپے پر بند ہوا ہے، ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ موڈیز کی ریٹنگ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی بتائی جارہی ہے ایسے کئی شعبے ہیں جن کے پاس ایل سیز کی بھی گنجائش نہیں اور کرنسی دباﺅ کا شکار ہے

  • ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے.

    حکومت کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسی کا مسودہ موصول ہونے کے بعد اگلے ہفتے واشنگٹن سے آن لائن مذاکرات جاری رہنے جیسے عوامل کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر بیک فٹ پر رہا جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 270 روپے سے بھی نیچے آگئے جبکہ اوپن ریٹ 273 روپے کی سطح پر آگئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 55 پیسے بڑھ گئی تھی لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کا پہلا اقدام مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور قرضے کی قسط کا اجراء یقینی ہونے سے ڈالر دوبارہ بیک فٹ پر آگیا۔

    ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2 روپے کی کمی سے 268.50 روپے پر بھی آگئے تھے لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1.22 روپے کی کمی سے 269.28 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 273 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر بتدریج عمل درآمد کا خواہشم ند ہے لیکن آئی ایم ایف حکام تمام شرائط پر فوری عمل درآمد چاہتا ہے۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر بھی 3 ارب ڈالر سے گھٹ کر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈالر کی بہ نسبت روپیہ تگڑا ثابت ہورہا ہے اور اس تگڑے پن کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ طور پر جلد ہی اسٹاف سطح کا معاہدہ ہونے کے نتیجے میں قسط کے اجراء کی توقعات ہیں۔

    آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات پر مختلف برآمدی شعبے بھی مارکیٹ میں اپنے ڈالر کیش کرارہے ہیں جس سے رسد قدرے بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پر کیپ ختم ہونے اور اس کی قدر کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے سے ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق بھی بتدریج گھٹتا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرض پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے جب ملک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مطلوبہ سطح تک لانے میں کامیاب ہوجائے گا، اس وقت ہم آزادانہ معاشی فیصلے کرسکیں گے۔ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بورڈ سے منظوری کے نتیجے میں عالمی برادری اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اعلان کردہ 10 ارب ڈالر کے فلڈ ریلیف فنڈز کا بھی اجراء ممکن ہوسکے گا جس سے معیشت میں ڈالر کی رسد بڑھنے سے زرمبادلہ کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔

  • اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز میں کمی

    اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز میں کمی

    اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز نیچی ہوگئی جس کے بعد روپے کی قدر مستحکم ہونے لگی۔

    اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز نیچی ہوگئی جس کے بعد روپے کی قدر مستحکم ہونے لگی۔ مسلسل 3 سیشنز کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی ہے، انٹربینک میں ڈالر 4 روپے 63 پیسے سستا ہوگیا۔ جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 265 روپے پر آگیا۔ گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 7 روپے 3 پیسے مہنگا ہوا تھا، جس کے بعد امریکی کرنسی کی قیمت پہلی بار 269 روپے 63 پیسے تک پہنچ گئی تھی۔ جمعہ کو انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 262 روپے 60 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔

    10 ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں کئی مرتبہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل 26 جنوری کو انٹربینک میں ڈالر 24 روپے 54 پیسے مہنگا ہوکر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں 19 روپے اضافہ ہوا تھا۔ مذکورہ اضافے کے بعد سے انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 255 روپے 43 پیسے پر پہنچ چکی تھی جبکہ اوپن مارکیٹ میں 262 کا ہوگیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت سے متعلق سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کے لئے مشکل ترین وقت شروع ہوچکا ہے، 75 سالہ مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں سے ایک شرط بھی یہ تھی کہ ڈالر کو مارکیٹ ریٹ چھوڑ دیا جائے۔ وزارت خزانہ کے سابق ترجمان مزمل اسلم نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ معیشت کی زبوں حالی اسحاق ڈار کا بروقت اقدام نہ اٹھانا ہے، نئی پٹرول کی قیمت 250 روپے سے اوپر ہوں گی، بجلی اور گیس کی قیمتوں کا تعین 250 کی قیمتوں سے ہوگا۔

  • ترک کرنسی کی قدر میں کمی،ایک ڈالر 18.75 لیرا کا ہوگیا

    ترک کرنسی کی قدر میں کمی،ایک ڈالر 18.75 لیرا کا ہوگیا

    ترکی کے لیرا کی قدر میں پیر کوڈالر کے مقابلے ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انقرہ حکومت نے رواں سال شرح مبادلہ کو سختی سے کنٹرول کرنے کی پالیسی پرعمل کیا ہے لیکن اس کے باوجود لیرا کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے ایک ڈالر 18.75 لیرا کا ہوگیا ہے اس طرح اس سال کے دوران میں لیرا کی قدرمیں قریباً 30 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔

    امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    پیر کو گرینچ معیاری وقت 0518 جی ایم ٹی تک لیراکی قدر میں جمعہ کے مقابلے میں 0۰35 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔جمعہ کو ایک ڈالر کے مقابلے میں لیرا کا 18۰6850پر کاروباربند ہواتھا۔

    2021ء میں لیراکی قدر میں 44 فی صد کمی واقع ہوئی تھی اور یہ افراطِ زر میں اضافے کے بعدغیرروایتی شرح تبادلہ کا نتیجہ تھا۔ترکی نے ڈالر کے مقابلے میں لیرا کوگرنے سے بچانے کے لیے ایک اسکیم بھی متعارف کرائی تھی۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک بار پھر معمولی اضافہ

    اس اسکیم کی وجہ سے کرنسی پالیسی فیصلوں پر کم رد عمل کا اظہارکرتی ہے جوکرنسی کی قدر میں کمی ، انقرہ کی مارکیٹ میں بالواسطہ غیرملکی زرمبادلہ کی فروخت اورمعیشت میں کریڈٹ کے خلاف لیرا کے ذخائر کی حفاظت کرتی ہے۔

    اس سال ایک اورنرمی کے چکرکے باوجود اگست کے بعد سے لیرانسبتاً مستحکم رہا ہے اور85 فی صد کے قریب افراطِ زر کے باوجود پالیسی کی شرح 500 بیس پوائنٹس کم ہوکر9 فی صد ہوگئی ہے۔

  • امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ آج بھی جاری رہا۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کا بھاؤ 3 پیسے بڑھا ہے انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ایک امریکی ڈالر کا بھاؤ 225.43 روپے ہے،اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 234.50 روپے برقرار ہے۔


    گذشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 225.40 روپے کا تھا، انٹربینک میں گذشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 225 روپے 12 پیسے کا تھا –

  • اینٹی ڈالر اسمگلنگ آپریشنز:پشاور اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں گرفتاریاں

    اینٹی ڈالر اسمگلنگ آپریشنز:پشاور اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں گرفتاریاں

    پشاور:اینٹی ڈالر اسمگلنگ آپریشنز:پشاور اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں گرفتاریاں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ڈالرکی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کی طرف سے آپریشن جاری ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اینٹی ڈالر اسمگلنگ آپریشنز میں ڈالراسمگل کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں، ایل ای ایز نے ڈالر کے اسمگلروں اور ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔

    / چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کاکسٹمز ہاؤس کراچی کا دورہ

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اب تک پیشاور اور ڈی آئی خان میں ہنڈی حوالات کی 110 کے قریب دکانیں سیل کی جا چکی ہیں اور بھاری مقدار میں ڈالر اور دیگر کرنسی برآمد کی جا چکی ہے۔ایل ای ایز ڈالر کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف ملک بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کا سلسلہ چلائیں گے۔ ایف آئی اے حکام کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

    یاد رہ کہ دو دن قبل بھی کچھ ایسی ہی گرفتاریاں کی گئیں ، جن میں‌ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ماتحت ادارے پاکستان کسٹمز کی کرنسی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے کارروائیاں کرتے ہوئے گذشتہ ایک ماہ کے دوران لاکھوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ملک پرمشکل وقت ہے،تمام سیاستدان تلخیاں بھلا کرپاکستان کی خاطرآگے بڑھیں:سید مصطفیٰ…

    پاکستان کسٹمز کے ماتحت اداروں کلکٹریٹ انفورسمنٹ اسلام آباد،کوئٹہ اور پشاور نے اسمگلروں سے برآمد ہونیوالی غیر ملکی کرنسی ضبط کرلی، کلکٹریٹ کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے نومبر 2022کے دوران غیر ملکی کرنسی کی سمگل کے7 کیس پکڑے۔

    کلکٹریٹ کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے نومبر میں 94ہزار 358ڈالر کی غیر ملکی کرنسی پکڑی ،کلکٹریٹ کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے نومبر کے دوران غیر ملکی کرنسی کی اسمگل کا 1 کیس پکڑا، کلکٹریٹ کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے نومبر میں 1 کروڑ 42 لاکھ روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی پکڑی ہے۔

  • ماضی میں ڈالرکو آزاد چھوڑکرملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا:اسحاق ڈار

    ماضی میں ڈالرکو آزاد چھوڑکرملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا:اسحاق ڈار

    دبئی:وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ماضی میں ڈالر کو آزاد چھوڑ کر ملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مسلم لیگ ن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ 4 سال میں معیشت تباہ کر دی گئی، پاکستان سنگاپور کے بجائے سری لنکا بننے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
    اسحاق ڈار نے کہا کہ ریاست بچانے کے لیے حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ساتھ ہی پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ڈالر کو آزاد چھوڑ کر ملکی معیشت کا بڑا غرق کیا گیا، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملکی قرضے میں 4000 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا، ڈالر اور روپے کی قدر میں توازن پیدا کریں گے، ڈالرز کو 200 روپے سے کم کرنے کی کوشش کریں گے، ہماری حکومت کا عزم ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو بہتر کریں گے۔

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف معیشت کو دوبارہ پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے معاشی اصلاحات پرعمل کر رہے ہیں، آئی آیم ایف پروگرام پورا کریں گے، موجودہ مالی سال 32 سے 34 ارب ڈالرزکی ضرورت ہے، امید ہے کہ یہ رقم جمع کر لی جائےگی۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی؛کاروباری طبقہ انتہائی پریشان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی؛کاروباری طبقہ انتہائی پریشان

    اسلام آباد:پاکستان میں معاشی بدحالی پھر سے قدم جمانے لگی ہے اور کاروباری طبقے پربہت مشکل اوقات آن پہنچے ہیں،اس حوالے سے تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کی لپیٹ میں آگئی ہے۔

    بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا تو پی ایس ایکس 100 انڈیکس 42 ہزار 190 پوائنٹس پر موجود تھا۔کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ ایک وقت میں ہنڈریڈ انڈیکس 699 پوائنٹس کی کمی کے بعد 41 ہزار 490 کی سطح پر بھی دیکھا گیا۔

    تاہم کاروباری اوقات کے اختتام پر پی ایس ایکس ہنڈریڈ انڈیکس 650 پوائنٹس کی کمی کے بعد 41 ہزار 540 پر بند ہوا۔بدھ کے روز 333 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، 265 کمپنیوں کیے شیئر کی قیمت میں کمی، 58 کی قیمتوں میں اضافہ جب کہ 10 کمپنیوں کے شیئر کے دام مستحکم رہے۔

    ادھرانٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ (PKR) امریکی ڈالر کے مقابلے میں 68 پیسے بڑھ گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ مقامی کرنسی 68 پیسے یا 0.31 فیصد اضافے کے ساتھ 219.73 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔

    تجزیہ کاروں نے اس تبدیلی کی وجہ 1.5 بلین ڈالر کی متوقع آمد کو قرار دیا جب پاکستان نے ADB کے ساتھ بجٹ میں مدد اور سیلاب سے متعلق بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں مدد کے لیے قرض کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    ایک ویب پر مبنی مالیاتی پورٹل میٹیس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ اے ڈی بی کے معاہدے پر دستخط اور چین سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی توقع کے ساتھ آنے والے دنوں میں روپے کو اس رفتار کو جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار