Baaghi TV

Tag: ڈالر

  • ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر برقرار

    ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر برقرار

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے۔گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور ڈالر 229.88 روپے پر بند ہوا۔

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    آج بھی کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اب تک انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 3 روپے 12 پیسے تک اضافہ ہوا ہے۔انٹربینک میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 233 روپے ہوگئی ہے۔

     

    درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

     

    دوسری جانب لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ بینکوں میں انٹر بینک ریٹ سے 10،20 روپے زائد چارج کرنے پر تشویش ہے، بینکوں کے اضافی رقم لینے سے بزنس کمیونٹی کو ایل سی کھولنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار بنیادوں پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی اور سیاسی عدم استحکام کے سبب سٹے باز زیادہ متحرک ہوگئے ہیں جبکہ وزیراعلی پنجاب کے انتخابی عمل سے متعلق عدالتی فیصلے سے موجودہ حکومت کی ساکھ کمزور ہونے سے سیاسی افق پر صورتحال مزید گھمبیر نظر آرہی ہے۔

  • انٹر بینک میں ڈالر 230 روپے کا ہو گیا

    انٹر بینک میں ڈالر 230 روپے کا ہو گیا

    ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ۔

    باغی ٹی وی : انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر ایک بار پھر انٹربینک میں ڈالرکی قدر میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور ڈالر کی قدر میں اب تک ایک روپے 67 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    انٹربینک میں اس وقت ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر 230 روپے پر ٹریڈ کررہا ہے-

    واضح رہے کہ انٹربینک میں گزشتہ ہفتے بھی ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر 228.37 روپے پر بند ہوا-

  • اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرری

    اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرری

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرر ی کردی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے اس سلسلے میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں‌اس حوالےسے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارت خزانہ کی تیار کردہ سمری کی منظوری دی۔

    اسٹیٹ بینک کےبورڈ آف ڈائریکٹرز میں ممتاز معاشی ماہرین شامل ہیں۔ڈاکٹرعلی چیمہ، ڈاکٹر اکبر زیدی، طارق پاشا کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔نجف یاور، فواد انور، ندیم حسین بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ ہیں۔

    بورڈ آف ڈائریکٹرز میں محفوظ احمد خان،زاہد فخرالدین جی ابراہیم بھی شامل ہیں۔سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی بورڈ کا حصہ ہیں۔

    ادھرڈالر بے لگام ہوگیا، روپے کے مقابلے امریکی کرنسی نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ملک بھر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بدترین گراوٹ کا تسلسل جاری ہے، ایک مرتبہ پھر امریکی کرنسی کی قیمت 228 روپے 37 تک جاپہنچی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید ایک روپے 56 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 228 روپے 37 پیسے پر فروخت ہوا ہے۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی 231 روپے پربند ہوا ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بے لگام گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، روپے کی بے قدری کی وجہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی عدم استحکام کی صورتحال کے درمیان مارکیٹ کا معاشی رہنمائی سے محروم ہونا ہے۔

    مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے اور مارکیٹ کو عام انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکمراں اتحاد کی جانب سے کچھ رہنمائی کی ضرورت ہوگی۔

    روپے کی قدر میں گراوٹ میں تیزی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ منفی کیے جانے، یورو بانڈ کی پیداوار میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی فعال سپلائی نہ ہونے کے بعد ہوئی ہے۔

  • انٹربینک میں ڈالر 229، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 231 روپے میں فروخت

    انٹربینک میں ڈالر 229، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 231 روپے میں فروخت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے

    ڈالرتاریخ کی بلند ترین سطح پر،انٹربینک میں ڈالر 2 روپے 19 پیسے مہنگا ،انٹربینک میں ڈالر 229 روپے پر ٹریڈ کررہا ہے،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے 50 پیسے مہنگا ہوا ہے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 231 روپے میں فروخت ہو رہا ہے

    کئی مہینوں سے پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھنے میں آرہی ہے پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 204.85 کی سطح پر بند ہوئی تھی

    مالیاتی بحران خطرناک حد تک بڑھنے سے غیر یقینی ماحول سے ڈالر کی بلند پرواز جاری ہے جو رکنے کا کسی صورت نام ہی نہیں لے رہی، ہر ہفتے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    ماہرین کے مطابق ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے جو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھا ہے اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے

    دوسری جانب ساڑھے 4 ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب 40 کروڑ ڈالر کمی ہوئی ہے،زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 24 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے،

    اسلام آباد سے سینئر صحافی انصار عباسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیگ کر کے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب ڈالر بھی روپیے کو روندتے ہوے روز نئی سے نئی چوٹیاں سر کر رہا ہے۔ اس طرف بھی کوئی توجہ دیں۔

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری،ڈالر230 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری،ڈالر230 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری،مزید مہنگا ہو کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی :فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر کے انٹربینک ریٹ ملکی تاریخ میں پہلی بار 230 روپے سے تجاوز کرگئے قبل ازیں دن کے آغاز میں انٹربینک ڈالر 2 روپے 8 پیسے مزید مہنگا ہوگیا ڈالر مزید 2 روپے8 پیسے مہنگا ہو کر227 روپے کی نئی تاریخی بلند ترین سطح پرٹریڈ ہوتا رہا تاہم اب ڈالر کے انٹربینک ریٹ 5.10 روپے کے اضافے سے 230.01 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈالر224 روپے92 پیسوں کی سطح پربند ہواتھا پاکستان میں گذشتہ کئی مہینوں سے روپے کی قدر میں گراوٹ دیکھنے میں آرہی ہے۔ملک میں حکومت کی تبدیلی کے بعد11 اپریل سے اب تک ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 204.85 کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔ جو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھا ہے اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹے باز منفی افواہیں پھیلاکر ڈالر میں سٹے بازی کررہے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے روپے کی قدر میں نمایاں کمی کےعوامل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ متحرک مارکیٹ پرمبنی شرح مبادلہ کے نظام کے تحت جاری کھاتہ کی صورتحال ، متعلقہ خبروں اور اندرونی بے یقینی مل کر یومیہ بنیادوں پر روپے کی قدر میں تبدیلی کا سبب بن رہی ہے۔

    مرکزی بینک کا موقف ہے ڈالر کی قدر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں جارحانہ اضافے کا بھی نتیجہ ہے۔

  • ڈالر مزید 4 روپے مہنگا ہو کر226 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر مزید 4 روپے مہنگا ہو کر226 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر مزید 4 روپے مہنگا ہو کر226 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی: ملک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے انٹربینک میں ڈالر 4 روپے 1 پیسے مہنگا ہو کر226 روپےکی سطح پرپہنچ گیا۔

    ڈالرگزشتہ روز 221 روپے99 پیسوں کی سطح پربند ہوا تھا۔پاکستان میں منگل کے روز روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قیمت میں تقریباً 7 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا یہ اضافہ ملکی تاریخ میں کسی ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    پاکستان میں گذشتہ کئی مہینوں سے روپے کی قدر میں گراوٹ دیکھنے میں آرہی ہے۔ملک میں حکومت کی تبدیلی کے بعد11 اپریل سے اب تک ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 204.85 کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔ جو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھا ہے اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا منفی رجحان جاری ہے اور 100 انڈیکس 248 پوائنٹس کم ہو کر 40140 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

  • انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ، ڈالر 223 روپے کا ہوگیا

    انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ، ڈالر 223 روپے کا ہوگیا

    کراچی: انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا اور کاروبار کے دوران ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا پیر کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 215.20 روپے پر بند ہوا۔

    منگل کے روز بھی کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا اور انٹربینک میں ڈالر مزید ایک روپے 55 پیسے مہنگا ہوکر انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 216 روپے 75 پیسے ہو گیا تھا بعد ازاں روپے کی قد میں مزید کمی دیکھنے میں آ ئی اور کاروبار کے دوران ڈالر مزید مہنگا ہوا اور اس کی قدر میں مجموعی طور پر6 روپے 80 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 223 روپے ہوگئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر8 روپے مہنگا ہوکر 224 روپے میں فروخت ہورہا ہے-

    واضح رہے کہ شہبازحکومت کےدوران ڈالر 40 روپے7 پیسےتک مہنگا ہوچکا ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت میں ڈالر 58 روپے88 پیسےتک مہنگا ہواتھا جو ملکی تاریخ میں اس کی بلند ترین سطح ہے ہر روز ڈالر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کوچھو رہا ہے-

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 216 روپے کا ہوگیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 216 روپے کا ہوگیا

    پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور روپے کی قدر مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے 5 پیسے مہنگا ہو کر 214 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے 5 پیسے مہنگا ہو کر 216 روپے تک مہنگا ہوگیا، ڈالر 216 روپےتک مہنگا ہوکرتاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا-

    جبکہ ڈالر گزشتہ ہفتے 201.95 پیسوں کی سطح پربند ہوا تھا، 21 جون کو ڈالرنے 212 روپےکی بلند ترین سطح کوچھولیا تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جون میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 211 روپے 48 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان ہے اور 100 انڈیکس 431 پوائنٹس کم ہوکر 41643 پر ٹریڈ کر رہا ہے اور اُدھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 103 اور ڈبلیو ٹی آئی 99 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی قدر بھی تیزی سے کم ہونے لگی

    ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی قدر بھی تیزی سے کم ہونے لگی

    نئی دہلی :پاکستانی روپے کے بعد اب ہندوستانی روپے کی قدر بھی کم ہونی شروع ہوگئی ہے ، اس حوالے سے ہندوستان میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ریکارڈ گراوٹ پرسخت تنقید کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی قراردیا ، حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے راہل کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی روپے کی قدر میں گراوٹ پر پہلے جتنا زیادہ شور مچاتے تھے آج اتنا ہی خاموش ہیں۔

    ہندوستانی روپے کی قدر کم ہونے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے روپیہ مسلسل ریکارڈ سطح پر گر رہا ہے اور حکومت کے پاس روپے کی قدر کی بحالی کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وہ کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔

    کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے، روزگار کم ہو رہے ہیں۔ ملک کے لوگوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے، لیکن وزیر اعظم کے دفتر میں الفاظ، پروگرام اور طور طریقوں کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے ۔

    دوسری جانب کانگریس کی ترجمان سپریہ سرینیت نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی بہت جلد پیٹرول کی طرح سنچری کی تیاری کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ڈالر کے مقابلے میں اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی مضبوط کرنسیاں بھی زوال کا شکار ہورہی ہیں ، ان حالات میں جب کرنسی کی قدرکم ہوتی ہے تواس سے ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے اورمعاشی سرگرمیاں بھی متاثرہوتی ہیں‌، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں‌اس وقت معاشی سرگرمیاں تیز ہونے کی بجائے سست روی کا شکار نظرآتی ہیں

     

  • روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھراقوام متحدہ میں کوئی بھی رہ سکے گا:روس کا انتباہ

    روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھراقوام متحدہ میں کوئی بھی رہ سکے گا:روس کا انتباہ

    ماسکو:روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھرسخت ردعمل آئے گا:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے واضح کیا ہے کہ روس کو سلامتی کونسل سے صرف اقوام متحدہ کے خاتمے کی صورت میں ہی نکالا جاسکتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے یہ سخت بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ختم کرنے کے مطالبات پر دیا ہے۔

    روسی نمائندے دیمتری پولیانسکی نے کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریمارکس سلامتی کیلیے کارگر نہیں ہیں، ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ لوگ جانتے ہیں کہ روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکالنا صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب اقوام متحدہ کو ختم کردیا جائے اور اسے نئے سرے سے تشکیل دیا جائے۔

    روسی نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے کونسل کے دیگر اراکین سے پیشگی مشاورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت دی گئی، جو موجودہ طرز عمل کی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کیف کا کام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو “اشتعال دلانا” تھا، جو یوکرائنی مسئلے سے تیزی سے تنگ آ رہے ہیں۔ پولیانسکی کے مطابق یوکرینی صدر زیلینسکی اور اقوام متحدہ میں یوکرین کے ایلچی دونوں ہی اپنی سانسیں ضائع کر رہے ہیں، وہ وقتاً فوقتاً یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس کا اس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست پر کوئی حق نہیں ہے، کہ ہم نے اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد غیر قانونی طور پر برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر مضحکہ خیز ہے ہم نے اس کی وضاحت کی ہے اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے حکام نے بھی مناسب وضاحتیں فراہم کی ہیں۔
    قانون سازی کی معلومات کے سرکاری روسی ویب پورٹل کی طرف سے شائع کردہ ایک دستاویز کے مطابق، روس کے وزیر اعظم میخائل میشوسٹن نے کونسل آف یورپ کے فریم ورک کے اندر متعدد معاہدوں میں روس کی شرکت کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔

    حکومت کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کونسل آف یورپ انٹرنیشنل کوآپریشن گروپ آن ڈرگس اینڈ ایڈکشن (پومپیڈو گروپ) سے دستبردار ہو جائے گا، 1990 کا جزوی معاہدہ یورپ کی کونسل برائے جمہوریت کے ذریعے یورپی کمیشن کا قیام، کھلا جزوی معاہدہ بڑی قدرتی اور تکنیکی آفات کی روک تھام، ان کے خلاف تحفظ، اور امداد کی تنظیم کے لیے تعاون پر، کھیلوں پر وسیع جزوی معاہدہ، ثقافتی راستوں پر وسیع جزوی معاہدہ اور یورپ میں تاریخ کی تعلیم پر آبزرویٹری جیسے معاہدوں سے بھی روس نکل جائے گا

    مزید برآں، روس اب کونسل آف یوروپ کے کلچرل سپورٹ فنڈ (Eurimages) اور یورپی Audiovisual Observatory کے کام میں حصہ نہیں لے گا۔

    روس نے 26 سال قبل کونسل آف یورپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1996 کے بعد سے، روسی مندوبین نے تعاون کے پانچ اہم فارمیٹس میں حصہ لیا: بین الحکومتی (کمیٹی آف دی وزراء کونسل آف دی یورپ، CMCE)، بین الپارلیمانی (پارلیمانی اسمبلی آف دی کونسل آف یورپ، PACE)، بین علاقائی (کانگریس آف لوکل اور علاقائی حکام)، عدالتی (یورپی عدالت برائے انسانی حقوق) اور غیر سرکاری (آئی این جی اوز کانفرنس آف دی کونسل آف یورپ)۔شامل ہیں‌

    مزید یہ کہ روس کی کونسل آف یورپ کے انٹرنیشنل کوآپریشن گروپ آن ڈرگس اینڈ ایڈکشن (پومپیڈو گروپ)، یورپی کمیشن برائے جمہوریت برائے قانون (وینس کمیشن)، بدعنوانی کے خلاف ریاستوں کے گروپ (گریکو) میں نمائندگی کی گئی تھی۔ بین الحکومتی کمیٹیاں اور کونسل آف یورپ کی ورکنگ باڈیز۔ اس نے کئی درجن کونسل آف یورپ کے ایکٹ اور معاہدوں میں شمولیت اختیار کی تھی اس سے بھی نکل جائے گا

    ڈالرنہں اب روسی روبل چلے گا:ولادی میرپوتن کااعلان ،اطلاعات کے مطابق ولادی میرپوتن کی حکومت نے اناج، سورج مکھی کے تیل اور اشیا خورد و نوش کو برآمدات کی فہرستیں شامل کرتے ہوئے بڑا اعلان کر ڈالا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گندم اسی کو ملے گی جو ادائیگی روبل میں کرے گا، یہ بیان اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جب روسی حکومت نے اناج، سورج مکھی کے تیل اور اشیا خورد و نوش کو برآمدات کی فہرست میں شامل کیا۔

    روسی کابینہ کے فیصلے میں اس بات کی بھی توثیق کی گئی کہ جو دوست ممالک اکتیس اگست دو ہزار تئیس تک برآمد شدہ سورج مکھی کے تیل اور سورج مکھی کی کھانے والی اشیا کی برآمدات کی ادائیگی قومی کرنسی (روبل) میں کرینگے، ان پر ایک سال کی ڈیوٹی میں توسیع کردی جائے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ نئے ادائیگی کے طریقہ کار تحت گندم پر برآمدی ڈیوٹی کی بنیادی قیمت 15,000 روبل ($267 سے زیادہ) فی ٹن ہوگی۔

    واضح رہے کہ روس دنیا میں گندم کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور سورج مکھی کے بیجوں کا ایک بڑا سپلائر ہے۔ گذشتہ ماہ روس کے وزیر برائے زراعت دیمتری پیٹروشیف نے بتایا کہ روسی اناج کی فصل رواں سال ایک سو تیس ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہوگی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم زرعی مصنوعات صرف “دوست ممالک” کو برآمد کرینگے۔