Baaghi TV

Tag: ڈالر

  • چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا

    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا

    چین کے بینک نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ چین اور برازیل کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت کرنے کا پہلا معاملہ طے پا گیا ہے۔ چین اور برازیل، دونوں برکس تنظیم کے رکن ممالک ہیں اور اس تنظیم کا ایک اہم مقصد باہمی تجارت سے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنا ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق چین نے خریداری کی 43 کھیپیں یوان کو برازیلی ریال میں تبدیل کرکے چینگ ڈاؤن بندرگاہ منگوائی ہیں اور اس طرح چین اور برازیل کے درمیان تجارتی معاملات، اب ان ملکوں کی قومی کرنسیوں میں انجام پانا شروع ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان آج کاروباری ہفتے کے آغاز میں ہی انٹر بینک میں ڈالر مزید سستا ہوا ہے، انٹر بینک میں ڈالر 88 پیسے سستا ہونے کے بعد 281 روپے 80 پیسے کا ہو گیا جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر انٹر بینک میں امریکی ڈالر 282 روپے 68 پیسے کا تھا۔

    تاہم واضح رہے کہ امریکا میں آج کولمبس ڈے کی تعطیل ہے جس کے باعث انٹر بینک میں آج ڈالر کے سودے کل (منگل کو) سیٹل ہوں گے، ای کیپ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 281 روپے 50 پیسے پر برقرار ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جو بعد میں مثبت رجحان میں تبدیل ہو گیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 147 پوائنٹس کے اضافے سے 47 ہزار 640 پر آ گیا جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر 100 انڈیکس 47 ہزار 493 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی

    کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی

    کراچی : کاروباری ہفتے کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی۔

    باغی ٹی وی: انٹر بینک میں ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں 5 روپے 5 پیسے کی کمی ہوئی ، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 282 روپے 69 پیسے پر آ گئی ،ایک مہینے کے دوران انٹربینک میں ڈالر بلند ترین سطح سے 24 روپے 41 پیسے تک گر گیا –

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 5 روپے 50 پیسے کم ہو کر 282 روپے 50 پیسے پر آ گیا، امریکی کرنسی بلند ترین سطح سے 50 روپے 50 پیسے سستی ہوئی روپے کی قدر میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی بہتری دیکھی گئی، اسٹاک مارکیٹ میں 1261 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے ساتھ 100 انڈیکس 47 ہزار 494 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

    بنگلہ دیشی نژاد برطانوی مصنفہ ، ناول نگار اور کالم نگار ،تہمیمہ انعم

    علاوہ ازیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 70 کروڑ ڈالر ملنے کی خبروں کا کیپیٹل مارکیٹ پر مثبت اثر پڑا ہے ہفتے کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوا جس سے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملے گی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔

    پی آئی اے پروازیں غیرمعمولی تاخیر کا شکار ،مسافر انتظار کی مشکلات سے دوچار

  • سونے کی قیمتوں میں کمی

    سونے کی قیمتوں میں کمی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کے باوجود پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی آگئی ہے جبکہ جیولرز کے مطابق ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی اور سٹے بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سونے کی قیمتیں کم ہورہی ہیں تاہم مقامی صرافہ بازار میں 10گرام سونا ایک لاکھ 62 ہزار 894 روپے پر آگیا۔

    علاوہ ازیں‌جیولرز کے مطابق سونے کا فی تولہ بھاؤ ایک لاکھ 90 ہزار روپے ہوگیا، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک ڈالر نواسی سینٹس اضافے سے 18 سو 23 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم
    دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں آج بھی ڈالر کی قیمت میں بھاری کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ڈالر کی کمی میں تسلسل کو آج ایک مہینہ پورا ہو گیاہے واضح رہے کہ انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر مزید 1 روپیہ 8 پیسے سستا ہونے کے بعد 283.60 روپے پر ٹریڈ کر رہاہے جبکہ 5 ستمبر کو ڈالر 307.10 روپے پر تھا ۔ انٹر بینک میں ڈالر گزشتہ 1 ماہ میں 23 روپے 50 پیسے سستا ہواہے ۔

    ادھر سٹاک مارکیٹ میں بھی آج بہتری کا رجحان دیکھنے میں آ رہاہے ، شیئرز کا لین دین شروع ہوا تو 100 انڈیکس 47 ہزار 79 پوائنٹس پر تھا جس میں اب تک 230 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے اور انڈیکس 47 ہزار 310 پوائنٹس پر آ چکا ہے ۔

  • امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید  تگڑا

    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا

    مریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ تگڑا ہونے لگا ہے جبکہ انٹربینک میں ڈالر کی قیمت دس ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں ایک روپے 4 پیسے کی کمی ہوئی جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 285 روپے 72 پیسے پر بند ہوا ہے۔

    تاہم یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 286 روپے 76 پیسے پر بند ہوا تھا جبکہ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر بغیر کسی رد وبدل کے 286 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔ دوسری جانب کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سونے کی فی تولہ قیمت 5 ہزار روپے کم ہوگئی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 5 ہزار روپے کی بڑی کمی ہوگئی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس

    24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ روپے ہوگئی ،جبکہ 22 قیراط سونا 1 لاکھ 83 ہزار 833 روپے فی تولہ فروخت ہونے لگا اور 24 قیراط سونا 17 ہزار 100 روپے فی گرام اور 22 قیراط سونا 15 ہزار 700 روپے فی گرام فروخت ہونے لگا ہے تاہم ذرائع کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں مزید کمی متوقع ہے۔

  • پاکستانی روپے نےدنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستانی روپے نےدنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    اسلام آباد: پاکستان کرنسی نے ستمبر کے مہینے میں بہترین کارکردگی، دنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈالر کی غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ، سٹے بازی کے خلاف کریک ڈاؤن، انتظامی اقدامات اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگےحکومتی اقدامات کے باعث گزشتہ 20 روز کے بعد امریکی ڈالر اپنی سب سے زیادہ قدر سے 17 روپے سے زائد نیچے آ چکا ہے جس سےستمبر میں پاکستانی کرنسی کی کار کردگی بہترین رہی اور روپے نے دنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی کرنسی میں 6.2 فیصد بہتری آئی ہے، ستمبر میں پاکستانی روپیہ دنیا کی نمبر ون کرنسی رہا۔

    رواں مالی سال کیلئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع

    جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہدف سے زیادہ محصولات جمع کرنے پر ایف بی آر کی کارکردگی پر اطمیان کا اظہار کیا ہے، ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہےکہ ستمبر کا ٹیکس ہدف حاصل کرلیا گیا ہے، ستمبر میں 834 ارب روپےکا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، ستمبر کا ٹیکس ہدف 799 ارب روپے تھاجولائی سے ستمبر تک 2041 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا، جولائی سے ستمبر تک ٹیکس ہدف 1977 ارب روپے تھا گزشتہ مالی سال اسی عرصےکےدوران 18 لاکھ 75 ہزارٹیکس ریٹرن فائل ہوئےتھے۔

    حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ امریکا "جھوٹ کی حقیقی سلطنت” ہے،چین

  • روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی

    روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی ہے اور کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں ایک روپے ایک پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 287 روپے 74 پیسے پر بند ہوا ہے

    جبکہ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 288 روپے 75 پیسے پر بند ہوا تھا۔
    تاہم دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، اوپن مارکیٹ مین ڈالر ایک روپے سستا ہوکر 289 روپے میں فروخت ہورہا ہے لیکن واضح رہے کہ انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح سے 19 روپے 36 پیسے سستا ہوچکا ہے۔

    پاکستانی روپیہ ستمبر میں اب تک دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی بن گئی جبکہ روپیہ کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی بڑھتی قدر کو بریک لگانے کیلئے حکومتی کوششیں کام کر گئیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈالر کی قدر میں کمی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل 17ویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے نے ستمبر میں دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی کا اعزاز حاصل کرلیا۔ تاہم آج کے سیشن کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی میں 1.01 روپے کا اضافہ ہوا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.35 فیصد اضافہ ہوا اور یہ آج 287.74 روپے پر بند ہوا۔ یہ 10 اگست کے بعد یعنی سات ہفتوں میں روپے کی ڈالر کے مقابلے میں بہترین کارکردگی ہے۔
    یوں تو رواں سال کے دوران مجموعی طور پر روپے کی قدر میں 21 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ رواں مالی سال میں روپے کی قدر میں 0.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم رواں ماہ (ستمبر) میں روپے کی قدر میں 6 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ یاد رہے کہ بدھ کے روز بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر 10 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
    انٹر بینک مارکیٹ میں آج دیگر تمام بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔ یورو کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 2.58 روپے، برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں 0.85 روپے اور آسٹریلوی ڈالر کے مقابلے میں 0.87 روپے کا اضافہ ہوا اور کینیڈین ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں 0.56 روپے، یو اے ای درہم کے مقابلے میں 0.27 روپے اور سعودی ریال کے مقابلے میں 0.26 روپے کا اضافہ ہوا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے تازہ اعداد و شمار جاری کردیے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ستمبرکو ختم ہوئے ہفتے میں 2.48 کروڑ ڈالر کم ہوئے تاہم اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ستمبر تک 13 ارب 16 کروڑ 18 لاکھ ڈالر رہے۔
    خیال رہے کہ مرکزی بینک کے اپنے ذخائر 5.86 کروڑ ڈالر کم ہوکر 7.63 ارب ڈالر رہے جب کہ کمرشل بینکوں کےذخائر 3.38 کروڑ ڈالر اضافے سے 5.52 ارب ڈالر رہے۔

  • دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    انسانی امداد اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان کی کرنسی کو اس سہ ماہی میں عالمی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ بدترین انسانی حقوق کے ریکارڈ کے مطابق غربت کا شکار ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ حکمران طالبان، جنہوں نے دو سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا، نے بھی افغانیوں کو مضبوط گڑھ میں رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مقامی لین دین میں ڈالر اور پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کرنا اور گرین بیک کو ملک سے باہر لانے پر پابندیاں سخت کرنا شامل ہیں۔ اس نے آن لائن ٹریڈنگ کو غیر قانونی بنا دیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی دھمکی دی ہے۔

    بلومبرگ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کنٹرول، نقد رقم کی آمد اور دیگر ترسیلات زر نے اس سہ ماہی میں افغانیوں کو تقریبا 9 فیصد اضافے میں مدد دی ہے، جو کولمبیا کے پیسو کے 3 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کے دوران افغانی کرنسی میں تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ کولمبیا اور سری لنکا کی کرنسیوں کے بعد عالمی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے بعد کرنسی کے نقصانات میں جو کمی دیکھی گئی ہے وہ اس ڈرامائی ہلچل کو بھی ظاہر کرتی ہے جو افغانستان پابندیوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری بہت زیادہ ہے، دو تہائی گھرانے بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور افراط زر افراط زر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 2021 کے اختتام کے بعد سے کم از کم 18 ماہ تک غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا ہفتہ وار امریکی ڈالر کی آمد ہوتی ہے۔

    جبکہ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری نے کہا، "کرنسی پر سخت کنٹرول کام کر رہا ہے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کرنسی میں اس اضافے کو قلیل مدتی رجحان کے طور پر پیش کرے گا۔ افغانستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اب زیادہ تر منی چینجرز کے ذریعے کی جاتی ہے جنہیں مقامی طور پر صرافہ کہا جاتا ہے جو بازاروں میں اسٹال لگاتے ہیں یا شہروں اور دیہاتوں میں دکانوں سے کام کرتے ہیں۔ کابل میں مصروف، کھلی فضا میں چلنے والی مارکیٹ سرائے شہزادہ ملک کا حقیقی مالیاتی مرکز ہے، جہاں ہر روز لاکھوں ڈالر کے مساوی رقم گزرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ٹریڈنگ کی کوئی حد نہیں ہے۔ مالی پابندیوں کی وجہ سے اب تقریبا تمام ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سمیت خطوں میں رائج صدیوں پرانے حوالہ منی ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے افغانستان منتقل کی جاتی ہیں۔ حوالہ سرافوں کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہے۔

    اقوام متحدہ، جس کا تخمینہ ہے کہ افغانستان کو اس سال تقریبا 3.2 بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے، نے اس میں سے تقریبا 1.1 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، عالمی ادارے کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق. گزشتہ سال اس تنظیم نے تقریبا 4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے کیونکہ افغانستان کے 41 ملین افراد میں سے نصف کو جان لیوا بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال معیشت سکڑنا بند ہو جائے گی اور 2025 تک 2 سے 3 فیصد کی شرح نمو حاصل کرے گی، حالانکہ اس نے عالمی امداد میں کمی جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ طالبان نے خواتین پر جبر کو تیز کر دیا ہے۔ لندن میں بی ایم آئی میں یورپ کنٹری رسک کی سربراہ انویتا باسو نے کہا، "غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر سخت پابندیاں اور تجارت میں بتدریج بہتری افغانی کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی سال کے آخر تک موجودہ سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایک مضبوط کرنسی افغانستان کے لئے تیل جیسی اہم درآمدات کے لئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، خاص طور پر جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں۔

    اب بھی، نقد رقم کے بہاؤ کے باوجود، انسانی صورتحال اور مالی نقطہ نظر سنگین ہے. اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے منجمد زرمبادلہ کے 9.5 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 3.5 ارب ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس منصوبے کو اس وقت روک دیا گیا جب اسے معلوم ہوا کہ مرکزی بینک کو طالبان سے آزادی حاصل نہیں ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں کوتاہیاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سال غیر ملکی امداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے فی کس آمدنی کم ہو کر 306 ڈالر رہ جائے گی جو 2020 کی سطح سے 40 فیصد کم ہے۔ خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں نے طالبان انتظامیہ کے اندر بھی تقسیم کو ہوا دی ہے ، کچھ نے کھلے عام اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخوندزادہ نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے، عوامی پارکوں میں جانے، جم استعمال کرنے اور مردوں کی حفاظت کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    رواں ماہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے جنوری 2022 سے رواں سال جولائی کے آخر تک لوگوں کی گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات کا ارتکاب کیا۔ دریں اثنا، 2023 میں پینٹاگون کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دولت اسلامیہ ایک بار پھر دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دہشت گرد گروپ نے افغانستان میں حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جیسے ایک ڈپٹی گورنر کی ہلاکت اور ایک مسجد پر بم حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں چینی، بھارتی اور ایرانی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بی ایم آئی کے باسو نے کہا، "بالآخر، سیاسی استحکام کرنسی کو بنائے گا یا توڑ دے گا – اگر طالبان گھر پر کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو کرنسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔

  • امریکی ڈالر کی قدر  میں کمی کا سلسلہ جاری

    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری

    پاکستانی روپےکے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روپیہ تگڑا ہوا ہے اور آج انٹربینک میں ڈالر ایک روپے 2 پیسے سستا ہوکر 293 روپے 88 پیسے پر بند ہوا ہے۔

    جبکہ انٹربینک میں ڈالر گزشتہ روز 294 روپے 90 پیسے پر بند ہوا تھا تاہم دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ایک روپے اضافے سے ڈالر 297 روپےکا ہے، یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں انٹر بینک میں ایک ڈالر 308 جب کہ اوپن مارکیٹ میں 330 روپے کا ہوگیا تھا لیکن اب ریکوری ہو رہی ہے اور ڈالر کا ریٹ نیچے آرہاہے۔

    دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ترقیاتی فریم ورک کو 15 زمروں میں 5 بڑی کمزوریوں کی بنیاد پر کم ترین قرا دیا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے جن 5 بڑی کسروں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ جاری کھاتے اور ترقیاتی بجٹ الگ الگ وزارتیں تیار کرتی ہیں۔ قانون ’خود مختار اداروں‘ سے اپنے پروجیکٹس کے لیے رقوم کے ذرائع بتانے کا تقاضا ہی نہیں کرتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
    تاہم پروجیکٹس کی مؤثر مانیٹرنگ کی کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا تا کہ اثاثوں کے رجسٹر برقرار رکھنا لازم نہیں اور غیر منقولہ اثاثوں پر رقم کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن مالیاتی اسٹیٹمنٹ میں فرسودگی نہیں بتائی جاتی۔ پانچ سالہ پلاننگ 2018 میں بند ہوگئی تھی اور موجودہ منصوبوں کی لاگت نہیں لگائی گئی اور ان کے قابل پیمائش نتائج بھی کم ہیں۔

  • ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک میں آج ڈالر ایک روپے 11 پیسے سستا ہو کر 296.85 روپے ہے۔ انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 297.96 روپے پر بند ہوا تھا جبکہ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 6 روپے ایک پیسہ سستا ہوا ہے، دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 298 روپے برقرار ہے۔

    دوسری اسٹیٹ بینک نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تین ماہ کے ڈالر بلز کا منافع 125 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.25 فیصد کردیا گیا ہے اور تین ماہ کے برطانوی پاؤنڈ بلز کا منافع 175 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.25 فیصد جب کہ تین ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 225 پوائنٹس بڑھا کر 6.25 فیصد کردیا گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق 6 ماہ کے ڈالر این پی سیز کا منافع 130 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.5 فیصد، 12 ماہ کے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 9 فیصد، 6 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.50 فیصد جب کہ 12 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 100 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8 فیصد کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق6 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 6.5 فیصد، 12 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7 فیصد، 3 اور 5 سال کے اسٹرلنگ اور یورو این پی سیز کا منافع 7.5 اور 6.5 فیصد برقرار ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کے 3 ماہ کے این پی سیز کا منافع 6 فیصد بڑھا کر 21 فیصد، 6 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.25 فیصد اور 12 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.50 فیصد کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس کے علاوہ 3 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 350 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 17.5 فیصد اور 5 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 15 فیصد کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اوورسیز پاکستانی ڈالر این پی سیز میں کم از کم ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کرسکتے ہیں جب کہ 3 اور 5 سال کے این پی سیز کا منافع 8،8 فیصد برقرار ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 392 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 103 پوائنٹس اضافے سے 45753 پر بند ہوا، 100 انڈیکس کی آج بلند ترین سطح 46093 رہی، حصص بازار میں سوا 22 کروڑ شیئرز کا کاروبار 11 ارب روپے میں ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 11 ارب روپے بڑھ کر 6772 ارب روپے ہے۔

  • ڈالر 20 روز کی کم ترین سطح پر 300 سے نیچے آگیا

    ڈالر 20 روز کی کم ترین سطح پر 300 سے نیچے آگیا

    حکومتی ہدایات پر انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں کے بعد روپے کی قدر میں مسلسل بہتری آرہی جبکہ گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر انٹر بینک میں ایک ڈالر ایک روپے 79 پیسے سستاہوکر 301 روپے 16 پیسے پر بند ہوا۔

    جبکہ آج منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی آئی اور ڈالر ایک روپے 41 پیسے سستا ہوگیا اور بعد ازاں کاروبار کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 1 روپے27 پیسے سستا ہوکر 299 روپے 89 پیسے پر بند ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات
    نگران وزیراعظم کا دورہ گلگت،یادگار شہداء پر حاضری
    پی آئی اے کا مالی بحران سنگین ہوگیا
    ایشیا کپ سپر فور، پاکستان 44 رنز پر 2 کھلاڑی آوٹ، بارش کی وجہ سے میچ روک دیا گیا
    تسلسل رہتا تو پاکستان جی 20 میں شامل ہوچکا ہوتا. نواز شریف
    علاوہ ازیں اس وقت انٹربینک میں ڈالرگزشتہ 20 روزکی کم ترین سطح پرہے تاہم دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ تین سو روپے پر برقرار ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالرکا بھاؤ 297 روپے بھی ریکارڈ کیا گیا اور اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ 370 روپے جب کہ یورو 316 روپے کا ہے، سعودی ریال 79 روپے اور اماراتی درہم 82 روپے کا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں سونےکی قیمت میں کمی کا سلسلہ تھم گیا اور سونے کی فی تولہ قیمت میں یکدم ہزاروں روپےکا اضافہ ہوگیا، آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونےکی قیمت میں 5 ہزار 600 روپےکا اضافہ ہوا ہے، فی تولہ سونےکی قیمت 5 ہزار 600 روپے اضافےکے بعد 2 لاکھ 15 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

    خیال رہےکہ ملک میں گزشتہ چند روز کےدوران سونا 30 ہزار روپے سے زائد سستا ہوا جس کے بعد آج یکدم دوبارہ مہنگا ہوگیا، اس کے علاوہ 10گرام سونےکی قیمت 5 ہزار 58 روپے بڑھ کر 1لاکھ84 ہزار 585 روپے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونےکا بھاؤ 15 ڈالر کم ہو کر 1911 ڈالر فی اونس ہے۔