Baaghi TV

Tag: ڈاکٹرحفیظ الحسن

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی آج سے 4.6 ارب سال پہلے اپنے انجام کو پہنچے ایک ستارے کے نیبولہ سے تشکیل پایا۔ یہ نیبولہ دراصل گیسوں اور خلائی گرد کا مجموعہ تھا جو وقت کیساتھ ساتھ گریویٹی کے زیرِ اثر جمع ہوتا گیا۔ ان میں سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی گیسیوں سے سورج اور نظامِ شمسی کے بڑے سیارے جیسے کہ مشتری، زحل، وغیرہ بنے جبکہ خلائی گرد سے زمین اور دیگر چٹانی سیارے جیسے کہ مریخ، زیرہ، عطارد وغیرہ۔

    مگر کچھ خلائی گرد اور گیسیں کوئی باقاعدہ سیارہ نہ بن سکے۔ یہ سیارچوں، خلائی چٹانوں، شہابیوں کی صورت پورے نظامِ شمسی میں اب بھی موجود ہیں۔ یہ نظامِ شمسی میں کم و بیش ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں کئی آج بھی زمین پر شہابِ ثاقب کی صورت گرتے ہیں اور ماضی میں بھی زمین اور دیگر سیاروں پر گرتے رہے ہیں۔

    ان سیارچوں، شہابیوں اور خلائی چٹانوں کی سب سے زیادہ تعداد مریخ اور مشتری کے درمیان کے علاقے میں ہے۔ اس علاقے کو فلکیات کی دنیا میں "مین ایسٹرآیڈ بیلٹ” کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود بونے سیارے، سیارچے، شہابیے، چٹانیں مختلف سائز اور ساخت کی ہیں۔ انکا قطر چند سینٹی میٹرز سے لیکر کئی سو کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقے کی چوڑائی زمین اور سورج کے مابین فاصلے سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ مگر ان تمام کا کل ماس محض زمین کے چاند جتنا ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ماضی میں کسی اور سیارے کی باقیات نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں رہ جانے والا کچرا ہے۔

    ان سیارچوں اور شہابیوں میں نظامِ شمسی اور زمین کی تاریخ چُھپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات اور سائنسدان شہابیوں اور سیارچوں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ شہابیے جو زمین پر گرتے ہیں اُنکا خصوصی تجزیہ کیا جاتا ہے کہ ان میں ہمارے وجود کی، ہمارے آغاز کی کہانی موجود ہو سکتی ہے۔

    2007 میں ناسا نے اسی علاقے کے سب سے بڑے سیارچے ویسٹا پر ایک مشن بھیجا جو اربوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے 2011 میں اسکے مدار میں پہنچا۔ جسکے بعد 2015 میں یہ اسی علاقے میں سب سے بڑے سیارچے یا بونے سیارے سیریس تک پہنچا۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں اور بونے سیاروں کی تہہوں میں پانی ہو سکتا ہے۔ سیریس پر نامیاتی اجزا بھی ملے جو زمین پر زندگی کے وجود کی بنیاد ہیں۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں پر نظامِ شمسی کی تاریخ کے کئی راز چھپے ہیں۔ سیریس اب تک جیولاجیکلی ایکٹو ہے اور اسکی تہوں میں پانی مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ سیریس پر ایمنیویا ملنے سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید نظامِ شمسی کے باہری علاقے میں وجود میں آیا اور بعد اندرونی ایسٹرآیڈ بیلٹ میں شامل ہوا مگر اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔