Baaghi TV

Tag: ڈاکٹرعدنان نیازی

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میری دو دن قبل والی تحریر پڑھ کرکل ایک دوست نے اپنی سٹوری سنائی۔ اسے دوسرے ذرائع سے کنفرم کر کے لکھ رہا ہوں۔

    وہ بتانے لگے کہ میرے والدین دوسرے شہر میں ہیں۔ مجھے جاب کے سلسلے میں فیصل آباد رہنا ہے تومیں نے شادی بھی یہیں کرنے کا سوچا۔ مختلف رشتہ داروں، جان پہچان والوں اور رشتہ سنٹرز کو رشتے کے لیے کہا۔ چونکہ میری جاب بہت اچھی ہے، تنخواہ لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے رشتہ ڈھونڈھنا کچھ خاص مشکل نہیں تھا۔ میں نے سب رشتہ کرانے والوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھے جاب والی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے گھریلو لڑکی چاہیے ، چاہے اس کی تعلیم کم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے باہر کے کھانے نہیں پسند تو اسے کھانا بنانا بھی آنا چاہیے، جہیز مجھے بالکل ہی نہیں چاہیے بس میری طرح شریف ہوں، اخلاق اچھا ہو۔

    ایک جگہ بات تھوڑی آگے بڑھی تو والدین کے ساتھ دیکھنے گئے۔ وہاں کھانا بھی بہترین پیش کیا گیا۔ ہر چیز پر کہا گیا کہ میری ہونے والی بیوی نے ہی بنایا ہے۔ باقی سب کچھ بھی والدین کو اور مجھے پسند آیا تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔

    شادی کے بعدجب اسے فیصل آباد اپنے ساتھ لایا تو اس نے بتایا کہ مجھے تو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کہ پھر شادی سے قبل آپ کے گھر والوں نے کیوں کہا تھا کہ سب آپ نے بنایا ہے۔

    وہ بتانے لگی کہ رشتہ کروانے والوں نے کہا تھا کہ کھانے کا اچھا انتظام کر لینا اور کہہ دینا کہ لڑکی نے بنایا ہے سب۔ رشتہ ہو جائے گا تو پھر کون ان باتوں کو دیکھتا ہے۔ لاکھوں میں تنخواہ ہے لڑکے کی۔ وہ نوکرانی کا انتظام بھی کر ہی لے گا۔ تو امی اور خالہ نے مل کر بنایا اور کہا کہ میں نے بنایا ہے۔

    وہ دوست کہنے لگے کہ مجھے اس جھوٹ پر غصہ تو آیا مگر اب شادی ہو چکی تھی۔ اس لیے اپنی بیوی سے کہا کہ چلیں اب سیکھ لیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ یو ٹیوب سے مدد لیں، کچھ امی ہے۔ کچھ کام والی بتا دے گی اور مدد بھی کروائے گی۔ لیکن آپ سیکھ لیں۔ مجھے نہ باہر کے کھانے پسند ہیں اور نہ ہی کام والی یہ اچھے سے کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ پہلے میں پیار سے سمجھاتا رہا، پھر تھوڑا غصہ کیا مگر اسے تو گویا کچن میں جانے سے ہی چڑ تھی۔

    چھ ماہ تک گزارا کیا مگر جب اس نے اس معاملے میں بالکل ہی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً اسے میکے بھجوا دیا کہ شاید کچھ حالات بہتر ہوں۔ چار پانچ ماہ وہاں رہی لیکن اس کے والدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے، نوکرانی بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ کے لیے کھانے بنائے۔

    بیچ میں بزرگوں کو ڈالا تاکہ معاملہ سلجھ سکے ۔ مزید تین چاہ ماہ کے لیے اسے لے آیا۔ یوں ایک سال گزر گیا لیکن وہ اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوئی۔

    وہ دوست افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ جب بالکل ہی کوئی صورت نہ رہی تو میں نے ایک طلاق دے کر گھر بھیج دیا کہ شاید اس سے ہی کوئی فرق پڑے اور وہ کچھ لچک دکھائے۔ عدت تک انتظار کیا لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

    اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی سوچا۔دوسری شادی تھی تو اچھی نوکری اور تنخواہ کے باوجود اب کی بار رشتہ ڈھونڈھنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ اب کی بار جہاں بھی رشتے کی بات چلی تو میں نے ہر جگہ یہ بھی شرط رکھی کہ ہونے والی بیوی سے گھر والوں کی موجودگی میں خود بھی یہ بات کروں گا۔جہاں بھی بات چلی تو پہلی شادی کی ناکامی کی وجہ ضرور بتائی تاکہ دوسری ناکام نہ ہو۔

    دوسرا یہ کہ پہلے منگنی کی، کچھ عرصہ منگنی رہی۔ پھر گھر والوں کو بہنوں کو کہا کہ ان کے گھر اس دوران جائیں اور دیکھیں کہ وہ کچھ بناتی بھی ہے یا پھر سے ویسا ہی نہ ہو ۔ پھر جا کر دل مطمئن ہوا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ دوسری شادی کے بعد میرا گھر پرسکون چل رہا ہے۔ میں اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہوں اور وہ میرا۔

    وہ دوست بتانے لگے کہ آج کل جاب والی لڑکی کا رشتہ تو بآسانی مل جاتا ہے، والدین لاکھوں کا جہیز بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن گھر سنبھالنے کی بات کریں تو ایسے گھورتے ہیں جیسے پتہ نہیں کتنی غلط بات کر دی ہے۔ حالانکہ یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ میاں بیوی زندگی اچھے سے گزارنے کے لیے مل کر رہیں، مرد باہر کے کام بہت احسن طریقے سے کر سکتا ہے تو وہ کمانے کی ذمہ داری نبھائے، باہر کے سارے کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے سارے معاملات کو دیکھے۔

    ہمارے والدین کی زندگیوں میں اسی وجہ سے سکون تھا اور کم پیسے میں بھی سب بہترین چلتا رہا۔ اب پیسے کی دوڑ میں دونوں کمانے کے چکروں میں اپنا سکون ہی برباد کر بیٹھے ہیں۔ نہ بچوں کو توجہ، پیار ملتا ہے نہ شوہر کا خیال رکھ پاتی ہے۔لیکن عورت جاب بھی کرتی ہو تب بھی گھر کے کاموں کا اضافی بوجھ بھی اسی پر ہوتا ہے۔ کاش کہ ہم پیسے کے لالچ کی بجائے اپنی روایات کی طرف لوٹ آئیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔

  • پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟

    برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔

    اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔

    1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید

    کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔

    کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟

    2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟

    دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔

    بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔

    اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔

    3۔شفاعت کا غلط تصور

    برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟

    شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔

    اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔

  • گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
    اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

    حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

    اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

    نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

    احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔

  • اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میرے ایک جاننے والے ہیں جن کی بیٹیاں ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب والی ایک مسجد میں نماز پر پچھلے دو تین دن سے ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا گھر تو مسلم ٹاؤن کی طرف ہے تو یہاں خیریت سے روز آتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری بیگم کا ایک بیماری کی وجہ سے آپریشن کروانا پڑا ہے۔ گھر میں کھانا وغیرہ وہی بناتی تھیں تو اب جب سے وہ بستر پر پڑی ہیں تو یہاں سے شام کو اپنی بہن کو لے کر جاتا ہوں وہ کھانا وغیرہ بنا آتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی تو ماشاءاللہ تین بیٹیاں جوان ہیں اور تینوں گھر ہیں تو پھر بھی کھانے پکانے کے بہن کو لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کہنے لگے کہ ماں نے بیٹیوں کو کھانا پکانا سکھایا ہی نہیں۔ بس پڑھائی میں مصروف رہیں اس لیے کسی کو بھی نہیں آتا۔

    میں نے کہا کہ بھائی اگر پہلے نہیں سیکھا تو اب سکھا دیں تاکہ یہ محتاجی ختم ہو۔

    وہ مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے میں نے پتہ نہیں کیا بات کر دی ہو۔

    میرے لیے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی۔ لیکن ایسی ہی باتیں اکثر مختلف لوگوں کے رشتے کی بات کہیں چلے تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی کو کھانا پکانا تو ہم نے سکھایا ہی نہیں۔ ہماری بیٹی تو نازوں میں پلی ہے۔

    ایسے لوگ جو بیٹیوں کو کھانا بنانا نہیں سکھاتے وہ ان میں سے کونسی بات سوچ کر ایسا کرتے ہیں

    1۔پہلی آپشن یہ ہے کہ اس کا شوہر ہی کھانا پکا کر اسے کھلائے گا۔ اب اس میں یہ صورتیں ممکن ہیں:

    یا تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جاب کر کے کما کر لائے اور ان کا داماد گھر سنبھالے، کھانا وغیرہ پکائے۔ خود بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی بھی پسند کرتا ہے؟ یہاں تک کہ نہ کوئی بھی شوہر یہ پسند کرے گا اور نہ ہی کوئی بھی بیوی یہ پسند کرتی ہے۔
    اسی میں دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ کما کر بھی شوہر لائے اور پھر کھانا وغیرہ بھی وہی بنائے۔
    اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کو بیاہ کر ہی کیوں لائے گا جبکہ گھر اور باہر خود اس نے ہی سنبھالنے ہیں تو پھر مزید ایک شخص کی ذمہ داریاں وہ کیوں اپنے سر لے؟

    2۔دوسری آپشن یہ ہو سکتی ہے کہ شوہر کمائے اور بیوی کوئی بھی کام نہ کرے یا پھر وہ بھی جاب کرے اور کھانا بنا نا سب نوکروں کے ذمہ ہو۔ بظاہر یہ ممکن لگتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو ایسے گھروں کا حلیہ دیکھنے لائق ہوتا ہے جس میں گھر سنبھالنا نوکروں کے ذمہ ہو۔ نوکرانی شاید ہی کوئی ایسی ملے جو دل سے اچھا کھانا بناتی ہو ۔ پھر صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتی ہیں۔ کوئی بہت ہی امیر کبیر گھرانہ ہو جس نے کئی باورچی رکھے ہوں اور وہ کل وقتی ملازم ہوں تو صرف وہاں یہ چل سکتا ہے لیکن ایسا عام گھرانوں میں ممکن نہیں۔

    3۔تیسری آپشن یہ ہے کہ سارا کھانا باہر ہی کھایا جائے یا پھر باہر سے منگوایا جائے۔ یہ کبھی کبھار تو ممکن ہے لیکن ہر وقت نہیں کیوں کہ ایک تو باہر والے ریٹ ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر وقت منگوانا افورڈ ہی مشکل ہو پائے گا اور پھر اس سے صحت کا جو کباڑہ ہو گا اس کا سب کو معلوم ہے۔

    دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، چاہے عورت گھر رہتی ہو یا کام کرتی ہو، کھانا بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور وہی اس کو احسن طریقے سے کر سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بہت سے ایسے دوسرے کام ہیں جو ہمارے معاشرے میں صرف مرد ہی کرتا ہے اور عورت کر سکتی ہو تب بھی نہیں کرتی۔ تھوڑا سا بھی غور کریں تو بہت سے ایسے کام مل جائیں گے۔ فرانس میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ زیادہ تر گھروں میں کھانا عورت ہی بناتی تھی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہاں اس پر مزیدکمانے کی بھی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔

    یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پڑھائی کسی بھی کلاس کی ہو اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ اس میں تھوڑا سا وقت بھی گھریلو کاموں کےلیے نکالا نہ جا سکے۔ میٹرک اور ایف ایسی سی کو تھوڑا سا ایسا بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد والی تعلیم میں ایسا کچھ نہیں کہ بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کا بھی وقت نہ ہو۔ اس میں سب سے زیادہ نااہلی ماؤں کی ہے۔

    کسی بھی ماں کے لیے کہوں گا کہ اگر آپ کو گھر کے کام کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی تو یہ آپ کی بیٹی کے لیے بھی باعث عار نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا کر خوشی محسوس کرتی ہیں تو یہی خوشی اپنی بیٹی کو بھی محسوس کرنے دیجیے ۔ اگر آپ یہ پسند نہیں کرتیں کہ آپ کا شوہر، آپ کا باپ یا آپ کی ماں، آپ کا بیٹا یا بیٹی گھر آئے اور اسے کہوں کہ خود بنا لیں یا باہر سے کھا لیں تو پھر اپنے بیٹی کے لیے بھی یہ پسند نہ کریں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے ایسا سوچیں۔

    گھر میاں بیوی دونوں مل کر بناتے ہیں۔ اس میں دونوں پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے مرد کو قوام بنا کر کمانے کی اور حفاظت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ عورت کو معاشی معاملات اور باہر کے معاملات سے بالکل آزاد کر کے صرف گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو گھر کا سکون برباد ہو جائے گا۔

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اگر گھر میں یہ کام کر کے راضی نہیں ہونگی تو یاد رہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد لینا چھوڑ دے گا اور پھر بہت سی عورتوں کو یہی کام گھر سے باہر سارے مردوں کے لیے کرنے پڑیں گے۔ نہیں یقین تو ذرا غیر مسلم ممالک کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے۔

  • اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    یہ تقریباً سولہ سال پہلے کا واقعہ ہے جب زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں پڑھتا تھا۔ مہینے میں ایک بار فیصل آباد سےاپنے گاؤں فتح پور لیہ جانا ہوتا تھا۔فیصل آباد سے فتح پور تب ایک ہی اے سی ٹائم جاتا تھا خواجہ ٹریولز سے ڈیڑھ بجے۔ اگر کبھی یہ مس ہو جاتا تھا تو بہت خوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ تب عید کا یا محرم کا موقع تھا۔ ایسے مواقع پر ہوسٹلز بند ہو جاتے تھے اس لیے لازمی جانا ہوتا تھا سب کو۔

    میں نے فون پر ہی سیٹ بک کروا لی تھی۔ کلاس لے کر آیا تو جلدی جلدی کھانا کھایا اور بیگ اٹھا کر زیرو پوائنٹ تک پہنچتے پہنچتے ایک بج چکا تھا۔ عام طور پر زیرو پوائنٹ سے یا تو رکشہ مل جاتا تھا یا پھر موٹرسائیکل پر مین گیٹ یا جی پی گیٹ تک لفٹ مل جاتی تھی اور وہاں سے رکشہ لے لیتے تھے۔ لیکن اس دن نہ کوئی رکشہ خالی ملا نہ ہی کوئی لفٹ۔ سوا ایک ہوا تو اب مجھے پریشانی ہونے لگی۔ مزید ایک دو منٹ گزرے تو اب مجھے لگا کہ اگر فوراً سے رکشہ نہ ملا تو نہیں پہنچ پاؤں گا۔

    یہ گاڑی مس ہو جاتی تو پھر کوئی اور نان اے سی بھی نہیں ملنی تھی کیوں کہ سب فل ہو نی تھیں۔ اس لیے صدقِ دل سے دعا کی کہ یا اللہ کوئی سبب بنا دے اور مجھے گاڑی تک پہنچا دے۔ اس قدر خشوع وخضوع سے شاید ہی میں نے کبھی دعا کی ہو۔ ابھی دعا کی ہی تھی کہ ایک گاڑی آئی ، میں نے لفٹ مانگی۔ وہ رک گئی۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں دو لوگ سوار تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا کہ کہاں تک جانا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگر تو نڑوالا روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا، اگر کسی اور طرف مڑے تو اتر جاؤں گا۔ مین گیٹ سے وہ نڑوالا کی طرف ہی مڑ گئے۔ آگے میں نے یہی سوچا کہ کوتوالی روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا ورنہ کہوں گا کہ اتار دیں۔ وہ عید گاہ روڈ سے ہوتے ہوئے کوتوالی روڈ پر آئے۔ اب مجھے یہی تھا کہ چناب چوک کے پاس اتر جاؤں گا۔ چناب چوک سے پہلے ایک چھوٹا سا روڈ خواجہ ٹریولز کی طرف جاتا ہے وہاں سے تو مڑے اور خواجہ ٹریولز کے سامنے رکے۔

    میری گاڑی بس تیار کھڑی تھی۔ میں جلدی سے کار سے نکلا اور گاڑی کی طرف بھاگا۔ کنڈیکٹر مجھے دیکھتے ہی بولا کہ فلاں سیٹ آپ نے بک کروائی تھی، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے گاڑی میں چڑھنے کو کہا اور میرے بس میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور نے بس چلا دی۔

    تب مجھے خیال آیا کہ یار کاروالوں کا تو شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے باہر دیکھا مگر وہ کار جا چکی تھی۔ بڑا افسوس ہوا کہ شکریہ ادا نہیں کر سکا۔مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اس ساتھ والے کو اڈے پر چھوڑنے آئے تھے یا پھر کسی کو لینے آئے تھے۔ نہ انھوں نے مجھ سے کوئی بات کی نہ میں نے ان کی باتوں میں کوئی مداخلت کی۔ بس اللہ نے میری دعا کے نتیجے میں ایسا سبب بنایا کہ مجھے پورے وقت پر اڈے پر پہنچا دیا۔

    کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صدقِ دل سے کوئی دعا مانگی ہو اور وہ یوں پوری ہوئی ہو۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کیسے اس نے میری دعا قبول کی تھی۔

    اس وقت میری پریشانی وہی تھی، چھوٹی تھی یا بڑی مگر یوں اس کا سبب بنے گا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یقیناً اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر کوئی بھی پریشانی، دکھ ہے تو اللہ سے سچے دل سے مانگیں۔ وہ ایسے پوری کرے گا کہ جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔

  • چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    پچھلے دنوں ہماری ایک کولیگ کی ترقی ہوئی تو انھیں مبارک باد دینے ان کے آفس گیا۔ مبارک باد دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اتنی کم عمر میں اس عہدے پر پہنچ گئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے بہت سخت وقت دیکھا ہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ مسلسل محنت اور ہمت نہ ہارنے سے ہی سب کچھ ملا ہے۔ میں بی ایس سی میں تھی کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ والد صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ چند ہفتے سب ٹھیک چلا مگر پھر سوتیلی ماں نے اپنا سوتیلا پن دکھانا شروع کیا۔ ہم صرف دو بہن بھائی تھے۔ بھائی مجھ سے بڑا تھا جسے والد صاحب نے پاکستان سے باہر پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔

    سوتیلی ماں گھر کے سارے کام مجھ سے کرواتی تھی، والد صاحب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی تھی کہ اسے گھرداری سکھا رہی ہوں، ورنہ اگلے گھر جا کر یہی گلہ آئے گا کہ سوتیلی تھی اس لیے کچھ نہیں سکھایا۔ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بناتی تھی،اور گھر کی صفائی کر کے یونیورسٹی جاتی تھی۔ پھر یونیورسٹی سے واپس آتے ہی سب کے لیے کھانا بنانا ، برتن دھونا ، کپڑے دھونا وغیرہ سب کچھ کرتے رات کے دس گیارہ بج جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا۔

    ہمارے والد صاحب کا اچھا بزنس تھا مگر سوتیلی ماں کے کہنے پر اب مجھے جیب خرچ بھی بہت کم ملتا تھا ، اتنا کم کے میں نے والد صاحب سے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ محلے کےبچوں کو شام کو ٹیوشن پڑھانا شروع کی تاکہ اپنا جیب خرچ بنا سکوں جس سے گھر کے کام مزید رات کو دیر سے ختم ہوتے تھے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ یونیورسٹی کی سمسٹر کی فیس کی باری آئی تو سوتیلی ماں نے والد صاحب کو کہہ دیا کہ اب یہ خود اتنا کماتی ہے، اپنی فیس خود دے سکتی ہے۔ جس کے بعد مجھے مزید زیادہ محنت کرنی پڑی تاکہ اپنی فیس بھی خود جمع کر سکوں۔زیادہ پیسوں کے لیے ایک جگہ ہوم ٹیوشن پڑھانا شروع کی تو ان بچوں کے والد نے تنگ کرنا شروع کردیا مجبوراً چھوڑنا پڑی۔

    بہنوں کو بھائی کا بڑا سہارا ہوتا ہے لیکن بھائی اپنی عیاشیوں میں مصروف تھا۔ میں جتنی بھی کوشش کرتی تھی مگر وہ میری بات اول تو سنتا ہی نہیں تھا، کبھی سن بھی لیتا تھا تو ایک ہی بات ہوتی تھی کہ تم عورتوں کی لڑائیاں کبھی ختم نہیں ہونگی۔

    والد صاحب کا سہارا تھا تو وہ سوتیلی ماں نے چھین لیا تھا۔ میری ڈگری ہوتے ہی سوتیلی ماں نے اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ میرے رشتے کے لیے والد صاحب کے کان بھرنے شروع کیے۔ وہ نشئی سا تھا، واجبی سی تعلیم، محلے میں ہی کوئی دکان چلاتا تھا۔ عمر میں بھی مجھ سے کافی بڑا تھا۔ میں نے انکار کیا تو سوتیلی ماں نے کہنا شروع کیاکہ یونیورسٹی میں ہی اس کا کسی سے چکر ہوگا اس لیے نہیں مان رہی۔ اب تو میرے دل میں آتا تھا کہ اچھا تھا کہ کوئی ہوتا جس سے شادی کر کے اس جہنم سے نکل سکتی۔ بڑی مشکل سے ایم فل کی اجازت ملی۔ اپنے اخراجات تو میں پہلے ہی خود پورے کر رہی تھی لیکن ایم فل کی فیس زیادہ تھی۔ اس لیے والد صاحب سے بہرحال کچھ نہ کچھ سپورٹ ضروری تھی۔ ان کی اچھی مالی حیثیت کی وجہ سے مجھے کوئی سکالرشپ بھی نہیں مل سکتا ہے۔ مشکل سے ایم فل میں داخلے کی اجازت مل ہی گئی۔ ایم فل کے پورا ہونے کے قریب ایک کلاس فیلو نے پروپوز کیا، میں کسی سہارے کی تلاش میں تھی اس لیے اسے فوراً کہا کہ رشتہ بھیجو۔ اس رشتہ کے آنے پر سوتیلی ماں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ وہ الزام لگائے کہ خدا کی پناہ۔ لیکن میں ڈٹی رہی۔ کلاس میں وہ لڑکا کافی اچھا تھا ۔ شکل و صورت اور اخلاق بھی مناسب تھا۔ والد صاحب نے لڑکے کا گھر بار نہ دیکھا بس ایسے ہی ناراض ہو کر ہاں کر دی اور کہہ دیا کہ شادی کر کے جاؤ اور واپس کبھی اس گھر میں نہ آنا۔

    شادی بغیر کسی جہیز کے سادگی سے ہوئی۔ جہیز نہ لانے کی وجہ سے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے چند دنوں میں ہی طعنے دینے شروع کر دیے۔ میں ایک جہنم سے نکل سے کردوسرے میں آگئی تھی۔ شادی سے قبل اس نے کوئی وعدے تو نہیں کیے تھے مگر مجھے اتنا تھا کہ وہ مجھے پیار اور عزت دے گا۔ وہ بھی نہ ملے۔ کچھ دنوں بعد بات طعنوں سے جسمانی ازیت تک پہنچ گئی۔ میں نے جاب کی بات کی تو فوراً سے مان گئے۔ اچھی جاب مل جانے سے گھر میں کچھ دن سب اچھا رہا لیکن کچھ مہینوں بعد پھر سے وہی حالات۔ شاید انھیں اس بات نے شیر بنا دیا تھا کہ اس کا آگے پیچھے تو کوئی ہے نہیں ۔ باپ سوتیلی ماں کا ہو چکا تھا اور گھر آنے سے منع کر چکا تھا۔ بھائی نے باہر ہی کسی میم سے شادی کر لی تھی اور اسے بہن کا کچھ یاد ہی نہیں تھا۔ جن لڑکیوں کا میکہ نہ ہو وہ کٹی پتنگ کی مانند ہوتی ہیں۔ مجھے تنخواہ ملتے ہی شوہر ساری لے لیتا تھا۔ گھر میں ساس کی مرضی چلتی تھی۔

    مجھے جاب سے واپس کر گھر کے سارے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ اس کے باوجود بھی طعنے اور مارکٹائی ہاتھ آتی تھی۔ ہر ماہ اتنا کما کے دیتی تھی پھر بھی جہیز نہ لانے والے طعنے ختم نہیں ہوتے تھے۔ باپ اور بھائی سے تحفظ نہ ملنے کے بعد مجھے شوہر سے یہ توقع تھی مگر اب وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ شوہر سے کئی بار بات کی، اسے سب بتایا مگر اسے صرف یہ تھا کہ میرا میکہ تو ہے نہیں تو کہاں جاؤں گی۔ جب سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے خلع کے لیے کیس دائر کر دیا۔ جب تک خلع کا کیس چلتا رہا، شوہر کے گھر ہی رہی، اسے کہتی رہی کہ آپ ابھی حالات کو بہتر کر لو تو میں خلع کا کیس واپس لے لوں مگر اسے تھا کہ میں خلع نہیں لونگی بلکہ صرف اسے بلیک میل کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ مجبوراً خلع لے لی۔

    خلع لے کر والد صاحب کے پاس پہنچی تو سوتیلی ماں نے گھر میں ہی داخل نہ ہونے دیا۔ والد صاحب کو کال کرتی رہی مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔ وہیں دروازے پر ان کا انتظار کیا مگر جب وہ آئے تو میری بات سنے بغیر ہی اندر چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ بھائی سے بھی بات کی انھیں سب بتایا مگر انکا کہنا تھا کہ اپنے مسئلے خود حل کرو۔

    وہاں سے ایک گرلز ہاسٹل میں آگئی ۔ جاب کی وجہ سے پیسے کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے ایک دو سال میں ہاسٹل میں ہی رہی۔ مرد ذات سے نفرت سی ہو گئی تھی۔

    میرے ایک کولیگ کو کسی طرح میرے حالات کا پتہ چلا جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ اس نے ایک بزرگ کی مدد سے مجھ سے رشتے کی بات کی۔ اس کی کافی کوشش کے بعد میں نکاح پر راضی ہو گئی۔ اب مجھے قدرت نے وہیں لا کھڑا کیا تھا جہاں کچھ عرصہ قبل میں اور میری سوتیلی ماں تھی۔ دونوں بچے سہمے ہوئے تھے۔ لڑکا بڑا تھا اور لڑکی چھوٹی۔

    میں نے انھیں حقیقی ماں جیسا پیار دینے کا سوچا۔میرے جو بچے کبھی کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں وہ میرے شوہر کی پہلی بیوی سے ہیں۔ بچوں کو ایسا پیار دیا ہے کہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ میرے سگے بچے ہیں یا سوتیلے۔ میرا شوہر نہیں چاہتا کہ ابھی میری اولاد ہو، شاید اسے خوف ہے کہ میری اپنی اولاد ہو گئی تو میں ان بچوں کو پہلے جیسا پیار نہیں دونگی ۔ اس لیے میں نے اس پر کبھی زور نہیں دیا۔ والد صاحب بوڑھے ہونے کے بعد کاروبار کے قابل نہیں رہے، بھائی ملک سے باہر ہے۔

    میرے اس شوہر کی تنخواہ اچھی ہے اس لیے اس نے میری تنخواہ کے بارے کبھی نہیں پوچھا۔ اپنی تنخواہ میں سے ایک بڑا حصہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے اخراجات کے لیے بھجوا دیتی ہوں۔ باپ پیسے تو لے لیتا ہے مگر ابھی بھی ناراض ہے، بات نہیں کرتا مجھ سے نہ ملتا ہے ورنہ اس کی مزید خدمت بھی کرتی۔

    شوہر سے پیار ملا ہے۔ ان دو بچوں کی صورت اللہ نے اولاد بھی دے دی ہے۔ اب یہ ترقی بھی مل گئی ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود میں نے کبھی بھی خودکشی کا نہیں سوچا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میرے ساتھ جو بھی ظلم ہوئے ان کا بدلہ میں کسی سے بھی لوں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ میری زندگی میں سکون ہے۔

    میں نے نم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہونے سے پہلے ان سے اجازت چاہی کہ ان کی سٹوری اپنی وال پر لکھ لوں۔ انھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ضرور لکھیں تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو سکے کہ کسی بھی کامیاب شخص کو اس سیٹ تک پہنچنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاید اس سے کسی کو اپنی پریشانیاں چھوٹی لگنے لگیں۔ اس لیے اس میں شناخت چھپانے کے لیے تھوڑا سی تبدیلیاں کی ہیں لیکن مرکزی مضمون وہی رہنے دیا ہے۔ انھیں دکھانے کے بعد ان کی اجازت سے ہی یہ سٹوری پوسٹ کی جار ہی ہے۔

  • کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    آج کل اس مسئلے کی وجہ سے کئی جگہ ناچاقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سوچا اس پر کچھ لکھ دوں۔

    اپنے ذاتی اخراجات یا اپنی بچت کے لیے عورتیں پہلے بھی گھروں میں کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں مثلاً کپڑوں کی سلائی ، کڑھائی یا چھکوریاں وغیرہ بنانا۔ اس آمدن پر صرف عورت کا ہی حق ہوتا تھا اور اس میں کوئی اختلاف کبھی نہیں ہوا۔ اب بہت ساری عورتیں گھروں سے باہر نکل کر سارا دن جاب کرتی ہیں اور اس تنخواہ پر بھی ان کے مؤقف کے مطابق صرف ان کا ہی حق ہے۔

    یہاں میں اپنی رائے عرض کروں تو جو عورتیں گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں وہ اپنے فارغ اوقات میں سے کام کر کے اپنے لیے کماتی ہیں۔ جبکہ جو عورتیں پورا دن جاب کرتی ہیں وہ اپنے اصل کام یعنی گھرسنبھالنے والی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر یہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

    اگر وہ مکمل طور پر سبکدوش نہ بھی ہوں تو بھی ان کی اس جاب کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ بچے یا تو گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے پڑتے ہیں یا پھر ڈے کئیر میں۔ اس طرح بچوں کی تربیت اور ان کی اچھے سے دیکھ بھال متأثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت گھر میں رہے تو شام کو واپسی پر شوہر کو اچھے سے وقت دے سکے گی اور اس کا خیال بھی اچھے سے رکھ سکتی ہے۔ جبکہ سارا دن آفس میں کام کر کے تھک ہار کر لوٹنے والی بمشکل کھانا پکانا ہی کر سکے گی۔

    مہمانوں کی آمد پر سارا کچھ باہر سے ہی منگوانا پڑے گا۔ گھر میں اگر بوڑھے والدین ہیں تو ان کی خدمت کے لیے نہ وقت ہو گا نہ انرجی۔ ایسے میں اگر سسرال والے یا شوہر اپنی بیوی کو جاب کی اجازت دے رہا تو اس کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کی ساری تنخواہ پر صرف اس کا حق ہے؟

    یہاں ایک بات اور یاد رہے کہ آج کل ہونے والے رشتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیے اوراگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے جاب کر رہی ہو تو وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد جاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاب چھوڑنی ہو گی۔ جاب والی لڑکیاں عام طور پر ایسے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں۔

    دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو باقاعدہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ جاب والی لڑکی کا رشتہ ملے۔ انھیں شادی کے بعد بھی جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جاب والی لڑکیاں ایسے رشتوں کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ یہ رشتہ ہی جاب کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اب اگر رشتہ ہی جاب کی وجہ سے ہو رہا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ساری تنخواہ پر لڑکی کا حق تسلیم کریں گے۔

    یہ چند ایک باتیں اگر ذہن میں بٹھا لیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    یہاں اپنی ایک پرانی تحریر کا اقتباس بھی شئیر کر دیتا ہوں جو اس بات کو مزید واضح کر دے گا۔

    معاشرے کی بنیادی اکیائی خاندان ہوتا ہے جو مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ہر خاندان میں دو قسم کی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

    ۱۔ باہر سے کما کر لانا

    ۲۔ امورِ خانہ داری جیسے کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ

    اب ان ذمے داریاں کو پورا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

    ۱۔ تمام ذمے داریاں کسی ایک پر ڈال دی جائیں۔ یقیناً کسی انتہائی مجبوری کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور ایسا تعلق کبھی بھی دیر پا نہیں ہو سکتا۔

    ۲۔ دونوں مل کر کمائیں اور دونوں گھر کے کام بھی مل کر کریں۔ بظاہر یہ آئیڈیل صورت لگتی ہے لیکن اس میں خاندان کا شیرازہ کس طرح بکھرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس مغربی معاشرے کو دیکھ لیا جائے۔ بچے صبح سے شام تک کئیر سنٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ باہر کے کھانوں پر گزارہ ہوتا ۔ پھر جو لوگ میری طرح کافی عرصے سے یورپ میں رہ رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی دیرپا ، شادی شدہ جوڑے ہیں ان میں مرد ہاتھ تو بٹاتے گھریلو کاموں میں لیکن زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس طرح عورتوں کو ایک تو لازمی طور پر کام کر کے خود اپنے لیے کمانا پڑتا اور دوسری طرف گھریلو ذمینداریا ں بھی نبھانی پڑتی ہیں اور عورت پر دوہرا بوجھ ڈال دیا جاتا۔ اس لازمی طور پر کمانے کی وجہ سے عورتوں کو کیا کیا کام کرنے پڑتے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

    ۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک کمائے اور دوسرا گھریلو ذمہ داری نبھائے۔ اگر کوئی حقیقی طور پر صحیح معاشرہ قائم کرنا چاہے تو یہی صورت ہی سب سے بہتر ہے۔ کسی بھی ادارے، کمپنی، ملک وغیرہ میں مختلف لوگ مختلف کام ہی انجام دیتے ہیں۔ اس طر ح اس کا نظام چلتا۔ ذمے داریاں تقسیم ہو جاتیں اور سب کام صحیح طور پر چلتے ہیں اگر سب اپنے حصے کا کام کرتے رہیں۔ اب اس صورت میں مزید دو آپشن ہوتے ہیں۔

    الف۔ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔
    ب۔ عورت کمائے اور مرد گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔

    اس میں کوئی دو رائے تو ہیں نہیں کہ اگر اس طر ح ذمے داریاں تقسیم کرنی ہوں تو کون کس ذمے داری کے لیے زیادہ موضوع ہے۔ مزید برآں اسلام جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس میں بھی یہی صورت ممکن ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔ انسان کو بنانے والے نے خود مرد کو کمانے کا ذمہ سونپا ہے (سورہ النسا ، آیت ۳۴) اور وہی بہتر جانتا ہے کہ مرد ہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

    لیکن اگر کسی کو اسلام کے اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ دوسرا تجربہ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ یعنی بیوی کمائے اور شوہر گھر سنبھالے۔ اول تو بیوی طعنے دے دے کر ہی مار دے گی کہ فارغ بیٹھے رہتے ہو۔ اور اگر یہ نہ بھی ہو تو جیسے ہی بیوی آفس سے گھر آئے شوہر پہلے ہی تیار بیٹھا ہو کہ چلو شاپنگ پر جانا ہے۔ یا یہ کہ آج کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر ہر تھوڑے دنوں کے بعد ضد کہ مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کے آؤ اور وہاں رہنے کے لیے پیسے بھی دو۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو دیکھیں کہ کتنے دن بیوی کماتی رہتی ہے۔

    آخر میں مردوں سے گزارش ہے کہ گھر کے کام کو عار نہ سمجھیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب وقت ملتا تو گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ اور عورتوں سے گزارش کہ ذمے داریاں بانٹ کر نبھائی جائیں تو گھرانہ احسن طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ اور اپنے والدین کے گھر کام کر کے اگر کوئی نوکرانی نہیں بن جاتی تو شوہر کے گھر کام کرنے سے کوئی نوکرانی کیوں بن جاتی ہے۔