Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر رضوان اسد خان

  • عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فیمن ازم سے دانستہ یا نادانستگی میں متاثرہ خواتین کو ان احادیث پر شدید اعتراض ہے:

    "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”. رواه البخاري (بدء الخلق/2998) .

    ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ”. رواه البخاري.(النكاح/4795)

    ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا”. رواه مسلم. (النكاح/1736)

    ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

    "وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”. رواه الترمذي”. ( الرضاع/ 1080)

    ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)

    اوپر سے مغربی فیمنسٹس نے میریٹل ریپ کی جو اصطلاح نکالی ہے، وہ جلتی پر تیل ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو اور شوہر تشدد کے بغیر بھی ہمبستری کر لے ( مثلاً کوئی نشہ آور دوا دے کر) تو یہ بھی ریپ ہے اور بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے۔۔۔

    اسکے برعکس یہ دیکھیں کہ بیشمار تحقیقات کے مطابق خواتین میں سب سے زیادہ پائی جانے والی "فینٹسیز” میں سے ایک ریپ ہے۔۔۔۔!!! جی ہاں، بہت سی خواتین اپنے ساتھ زبردستی سیکس کے منظر کو تصور میں لا کر خود لذتی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ کئی سیکشوؤلوجسٹس کا کہنا ہے کہ عورت کی جنسی تسکین کا اصل محرک اسکا مرد سے تعلق یا محبت نہیں بلکہ اسکا راست تناسب مرد کے اندر اپنی خاطر "ہوس” کی مقدار کے ساتھ ہے۔ جی ہاں، اسے دوبارہ پڑھیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی گہری بات ہے۔

    البتہ یہ حقیقت فیمنسٹس کیلیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ نیو یارک میں ایک فیمنسٹ، یونیورسٹی پروفیسر، مارٹا مینا، کہتی ہیں کہ مجھے افسوس اور مایوسی کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے کہ جتنا لٹریچر عورت کی جنسیت کو اسکے جذبات اور محبت سے جوڑتا ہے، اسکے بالکل برعکس عورت کی جنسی تسکین کا (مرد کیلئے) اسکی محبت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسکی زنانہ "نرگسیت” کا ایک مظہر ہے۔ "چاہے جانا” ہی اسکا کلائمیکس ہے۔ "خود سے محبت” کے اپنے جذبے کی مرد کے ذریعے تصدیق اور مرد کے اندر اپنی خاطر جذبات کی آگ کو بھڑکتے دیکھنا ہی اسکی جنسیت کا نکتہ عروج ہے، خواہ اسکے دل میں اس مرد کی خاطر کوئی محبت ہو اور نہ اس سے کوئی تعلق ۔۔۔۔!!!

    ان سب باتوں کا مقصد کسی صورت میں بھی کسی غیر خاتون کے ساتھ جبری جنسی تعلق یا ریپ کو جسٹیفائی کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

    البتہ کوئی شوہر اگر اپنی تسکین کیلئے بیوی کو زبردستی مجبور کرتا ہے، اور کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچاتا تو مذہبی حکم سے قطع نظر، اسے تو اپنی فینٹسی پوری ہونے پر خوش ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر وہ موڈ نہ ہونا، سردی میں نہانا، کسی ناراضگی کی وجہ سے شوہر کو سزا دینا، جیسے بہانوں کی قربانی دے دے تو یہ تو گویا سونے پر سہاگہ ہے۔۔۔

    پر برا ہو اس موئے فیمن ازم کا جو نہ عورت کو زندگی کا لطف لینے دیتا ہے اور نہ اسکے شوہر کو۔۔۔۔

    (انتہائی اہم) نوٹ: اس تحریر میں وہ "مظلوم” شوہر مراد ہیں جو اپنی بیویوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں لیکن انکی کچھ عادات یا دوسرے (مالی/خاندانی) مسائل کی وجہ سے بیویاں ان سے نالاں رہتی ہیں اور قریب نہ پھٹکنے دے کر انتقام کا نشانہ بناتی ہیں اور ظاہر ہے دوسری شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ "بیچارہ” اپنی ضرورت وہاں سے پوری کر لے۔۔۔

    رہے وہ شوہر جو حقوق بھی پورے نہیں کرتے اور بات بہ بات ہتک اور تشدد پر اتر آتے ہیں، وہ میری طرف سے جائیں بھاڑ میں۔۔۔

  • لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، اس بارے میں سوچنا ہی بے معنی ہے، کیونکہ اس وقت نہ ٹائم کا کوئی وجود تھا اور نہ سپیس کا۔۔۔۔ اس پر ملحد واہ واہ کرتے ہیں۔

    یہی بات ہم جب خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عقل میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ ٹائم اور سپیس سے ماوراء ہے، بلکہ ان کا خالق ہے، تو ملحد مذاق اڑاتے ہیں۔

    ویسے ہاکنگ کی بات تو محض بہانہ ہے اس سوال سے جان چھڑانے کا کہ وہ سنگیولیرٹی، جس سے بگ بینگ ہوا، وہ کہاں سے آئی تھی؟
    اور کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے سے پوری کائنات وجود میں آ جائے؟ اور وہ بھی اتنے مربوط نظام کے ساتھ۔ اور پین روز نے تو اسکو بولٹز مین کے لاء آف اینٹروپی سے اخذ کر کے میتھمیٹکلی ثابت بھی کر دیا ہے کہ ایسے "اتفاق” کا امکان محض صفر ہے۔۔۔

    اللہ قرآن میں سورۃ فصلت میں فرماتا ہے کہ ہم انہیں آفاق اور انکے اپنے انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ یہ انکار نہیں کر پائیں گے۔ اور واقعتاً یہ اپنے دلوں میں ضرور خدا پر ایمان رکھتے ہوں گے لیکن محض تکبر کی وجہ سے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔۔
    (دلچسپ بات یہ ہے کہ "یلحدون” کا لفظ بھی اسی سورۃ کی آیت 40 میں موجود ہے)

    ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے مطابق اب یہ متفقہ نظریہ ہے کہ صرف فوٹان، یعنی روشنی ہی نہیں ہے جو بیک وقت ذرے اور ویو کی خصوصیات رکھتی ہو، بلکہ ہر سب اٹامک ذرہ دہری خصوصیات رکھتا ہے، یعنی کبھی ذرے کے طور پر "بی ہیو” کرتا ہے، اور کبھی ویو کے طور پر ۔۔۔ یعنی مادی اور غیر مادی دونوں قسم کی خصوصیات رکھتا ہے۔ تو پھر روح کو ماننا کیا مشکل ہے؟

    لیکن خدا کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسکا منطقی تقاضہ ہے کہ پھر خدا کو واحد و یکتا مانا جائے اور اسکے دئیے گئے احکامات یعنی مذہب و شریعت کو بھی مانا جائے۔ اور خالص توحید پر مبنی واحد مذہب جو آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے، وہ صرف اسلام ہے۔۔۔ لیکن مادر پدر آزادی اور ہوس پرستی پر جو پابندیاں اسلام لگاتا ہے، وہ کسی نفس پرست متکبر کو کیونکر قبول ہو سکتی ہیں؟!!!

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سلیمان علیہ السلام نے ھدھد کے ذریعے ملکۂ سبا کو خط بھیجا جو پیغام رسانی کے طریقوں سے بالکل ہٹ کر تھا۔

    اس کی آمد سے پہلے اسکا عظیم الشان تخت منگوا لیا۔۔۔

    اسے اپنے عظیم الشان محل کی سیر کروائی جہاں وہ شیشے کے فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔۔۔

    مقصد کیا تھا؟

    یہ بتانا کہ اگر تو ملکہ ہے اور تیرے پاس دنیاوی عیش و عشرت کا سامان ہے تو ہمیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ دے رکھا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ زندگی کا اصل مقصد نہیں اور اصل مقصد کے آگے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اصل تو توحید ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ جس نے یہ سب عطا کیا ہے، اسے پہچان لو اور اکیلے اس ایک ہی کی عبادت کرو۔۔۔۔

    یہ دعوت کا ایک اسلوب تھا کہ ظاہری جاہ و جلال کے متوالوں کو دکھایا جائے کہ یہ چیزیں ہمارے پاس تم سے زیادہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک انکی کوئی اہمیت نہیں۔ اور پھر اصل اہمیت کی حامل دولت، یعنی توحید کی طرف دعوت دی جائے۔

    ظاہر ہے کہ یہ ایک اسلوب ہے، پر واحد اسلوب نہیں۔ داعی اپنے دور کے تقاضوں اور اپنی استعداد کے مطابق حکمت کے ساتھ کوئی بھی اسلوب اختیار کر سکتا ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ یہ پیغام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامعین تک پہنچا دے گا۔

    اصحاب الاخدود والے واقعے میں اس لڑکے نے ظالم اور مشرک بادشاہ پر واضح کر دیا کہ وہ اسے نہیں مار سکتا۔ ہاں اگر اللہ کا نام لے کر تیر چلائے تو کامیاب ہو جائے گا۔ اور یوں اس نے حق کا پیغام ایسے پہنچایا کہ پوری قوم مسلمان ہو گئی۔۔۔۔ اور ایسا ایمان لائی کہ آگ کی خندقوں میں چھلانگ لگا دی پر ایمان سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔

    اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضاء کے معجزات خاص طور پر فرعون کو مرعوب کرنے کیلئے عطا فرمائے۔ موسی علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اپنے معجزے کے اظہار کا مطالبہ کیا تاکہ (اللہ کی عطا کردہ) اپنی اس طاقت سے پوری قوم کو متاثر کریں۔ جادو گروں پر ثابت کیا کہ میرے پاس تم سے بڑی طاقت ہے، پر یہ اصل چیز نہیں۔۔۔۔ اصل تو وہ ذات ہے جس نے یہ عطا کی اور اسکا پیغام ہے جو میں لایا ہوں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ مصلوب ہونا قبول کر لیا پر ایمان کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔

    ہمارے سطحی سوچ والے اس دور میں ہوتے تو کہتے کہ سلیمان علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور وہ مومن و موحد لڑکا محض شو مار رہے ہیں۔۔۔۔ (نعوذباللہ)….

    اگر کوئی یہ بتا رہا ہے کہ میرے پاس تم سے بہتر بائیک ہے اور تم سے بہتر سٹائل ہے، لیکن یہ اصل نہیں۔ اصل وہ ہے جو میں تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔۔

    لیکن:

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
    غیروں نے آ کے پھر بھی اسے تھام لیا ہے ۔۔۔!!!

    یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ آجکل کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان دن بدن مولوی سے متنفر ہوتا جا رہا ہے۔

    میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی، ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہی طریقہ اختیار کرے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ جس طریقے کو مؤثر سمجھتے ہیں اور جس میں مہارت سے ابلاغ کر سکتے ہیں، اسے اختیار کریں۔۔۔۔ لیکن خدارا، پورے سیناریو کو سمجھے بغیر بلاوجہ کی تنقید سے باز آ جائیں۔ اس سے آپ جدید ذہن کو مزید اپنے سے دور ہی کریں گے اور یہ دین کی کوئی خدمت نہیں۔۔۔!!!

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟

    Convention for Elimination of Discrimination Against Women

    یہ اقوام متحدہ کا، عورتوں کے حقوق سے متعلق چارٹر ہے جس پر پاکستان نے دسمبر، 1996 میں دستخط کر کے انہیں تسلیم کیا تھا۔
    اب یا تو ہمارے مقتدر حلقے اسلام سے بالکل جاہل ہیں، یا بیرونی سازشوں کے دست و پا۔۔۔۔ کیونکہ اسی کنوینشن کو جن بنیادوں پر سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر رد کر دیا تھا، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

    1۔۔ اس کنونشن میں کہا گیا ہے کہ عورت بھی مرد جیسی ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مرد عورت جیسا نہیں ہوتا۔

    2۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا جبکہ اسلام 4 شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے۔

    3۔۔ اس کنونشن کے مطابق بچوں کو انکی ماؤں کے نام سے پکارنا چاہیے (مثلاً نومولود بچے جنکا اپنا نام ابھی نہیں رکھا گیا ہوتا) جبکہ اسلام میں اولاد کو اسکے باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    4۔۔ اس کنونشن کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ جب چاہے نکاح کر لے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کو عدت کے دوران نکاح سے سختی سے روکتا ہے۔

    5۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد، عورت اور اپنی بالغ بیٹیوں کا سرپرست نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام نے مرد کو قوام اور خاندان کا سربراہ قرار دیا ہے۔

    6۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد اور عورت کی وراثت برابر ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں بہنوں کا حصہ بھائیوں سے آدھا ہے۔

    7۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو عورت سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ شریعت میں اسکا تصور بھی محال ہے۔

    8۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو اسقاط حمل کا حق ہونا چاہیے جو صریحاً غیر اسلامی ہے۔

    9۔۔ اس کنونشن کے مطابق کنواری عورت کے، باہمی رضامندی کے ساتھ منعقدہ جنسی تعلقات(زنا) پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں یہ قابل سزا جرم ہے۔

    10۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت بھی جب چاہے مرد کو طلاق دے سکتی ہے، جب چاہے کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے جو کہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔

    11۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت 18 سال سے پہلے شادی نہیں کر سکتی جبکہ اسلام میں بلوغت کے وقت نکاح کی اجازت ہے۔

    اب اس بات پر ذہن دوڑائیں کہ اسلام اور فیمن ازم کس طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

    یہ ناممکن کام کیسے ہو سکتا ہے؟

    چوکور مثلث کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

    "اسلامی فیمنسٹ” ۔۔۔۔ یہ اصطلاح محض oxymoron ہی نہیں، بلکہ یہ کہلوانے والے لوگ دنیا کے سب سے بڑے "مورون”( یعنی بیوقوف) ہیں۔۔۔۔!!!