Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس:دو ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس:دو ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں مرکزی ملزمان احمد شاہانی اور محبوب ساند کی درخواست ضمانت مسترد ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میرپورخاص نے گرفتار تینوں ملزمان کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے تینوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دو مرکزی گرفتار ملزمان احمد شاہانی اور محبوب ساند کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی جبکہ ایک ملزم نوید پنہور کی کم عمری کے باعث درخواست ضمانت منظور کرلی۔دو مرکزی ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد اور ایک ملزم کی کم عمری کے باعث درخواست ضمانت منظور کرلی گئی۔ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانے کے مقدمے کی سماعت پر تینوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں میں پیش کیا گیا۔مقدمے میں 18 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے ایک ملزم کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ 16 ملزمان گرفتار ہیں۔ ملزمان پر تدفین رکوانے اور لاش چھین کر جلانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے خلاف 18 ستمبر کو عمر کوٹ میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہوا تھا اور انہیں 19 ستمبر کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

    وزیراعظم کی فرانسی صدر سے اہم ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

    بلاول بھٹوسے چینی سفیر کی ملاقات ،دوطرفہ تعلقات پر بات چیت

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    پاکستان کو 20 سال بعد ورلڈ اسکواش ایونٹ کی میزبانی مل گئی

    کراچی کے صارفین کیلئے بجلی سستی ہو گئی

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل: آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات

    ڈاکٹر شاہنواز قتل: آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات سامنے آ گئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 115 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 24 افسران و اہلکاروں کے بیانات لیے گئے۔اس رپورٹ میں 10 سے زائد گواہان اور ورثا کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں اور رپورٹ وزیرِ داخلہ کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔رپورٹ 2 ڈی آئی جیز اور 2 ایس ایس پیز پر مشتمل 4 رکنی انکوائری کمیٹی نے تیار کی ہے۔انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گای ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کو عمر کوٹ پولیس نے کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کیا اور ایس ایس پی عمر کوٹ کی ہدایت پر میر پور خاص میں پولیس کے حوالے کیا۔رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی سے واضح ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کو ایس ایس پی میر پور خاص کی گاڑی میں منتقل کیا گیا، ان کی حوالگی میر پور خاص میں جمڑاو چیک پوسٹ پر کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کی حوالگی کے ڈیڑھ گھنٹے بعد سندھڑی میں انہیں قتل کر دیا گیا۔یاد رہے کہ 18ستمبر کو سندھڑی میں ڈاکٹرشاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

  • ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    میرپورخاص میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر شاہنواز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی 4 پسلیاں اور کندھے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جبکہ لاش کا اگلا حصہ، چہرہ اور سر کی جلد جلی ہوئی پائی گئی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جزوی طور پر جلے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو سندھ حکومت نے قبر کشائی کر کے ڈاکٹر شاہنواز کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن نے ڈائریکٹر جنرل صحت کو خط لکھا، جس کے بعد قبر کشائی کی گئی اور نمونے لیے گئے۔18 ستمبر 2024 کی رات، سندھڑی پولیس نے مبینہ مقابلے میں عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔بعد میں، ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ سندھڑی تھانے میں درج کیا گیا، جس میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی۔مقدمے میں ایس ایچ او اور اہلکاروں سمیت 15 افراد شامل ہیں، جبکہ سابق ڈی آئی جی جاوید جسکانی، سابق ایس ایس پی میرپور خاص اسد چوہدری، اور سابق ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا بلوچ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔26 ستمبر 2024 کو، سندھ کے وزیرداخلہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، چاہے مقتول کی فیملی ایف آئی آر نہ بھی کرائے۔27 ستمبر کو سندھ حکومت کی اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کی تصدیق ہونے پر ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی میرپورخاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ کو معطل کر دیا گیا۔11 اکتوبر کو سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے توہین مذہب کے الزام میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر ایک رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ میرپورخاص اور عمرکوٹ کے ایس ایس پیز اور ڈی آئی جی نے گرفتاری سے انکار کیا، لیکن بعد میں تصدیق کی کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے کے بعد ایف آئی اے سے تکنیکی معاونت نہیں لی گئی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ 2 روز تک فراہم نہیں کی گئی۔15 اکتوبر کو محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کی درخواست کی۔ 21 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ کے میرپورخاص سرکٹ بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم دیا، اور تحقیقات کی نگرانی کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو مقرر کیا۔

    سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان

  • ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    سندھ کی قوم پرست تنظیموں اور جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کی جانب سے کراچی میں رواداری مارچ پر ہونے والے تشدد، بچیوں کی تذلیل،گرفتاریوں، قومی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل پر 16 اکتوبر کو پورے سندھ میں یوم سیاہ منانے کا اعلان اس حوالے سے قوم پرست رہنمائوں ریاض چانڈیو اور ڈاکٹر نیاز کالانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ریاض چانڈیو نے بتایا کہ جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کا اجلاس سخی ستار دیو چولیانی ہاؤس حیدرآباد میں ہوا۔ اجلاس میں قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر نیاز کالانی، عبدالفتاح چنا، ڈاکٹر بدر چنا، قمر زمان راجپر، نواز شاہ بھدائی، غفار میرجت، ڈاکٹر خوشحال کالانی، پنہل جمالی، ایاز سولنگی، غفار مہر اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے لیے کراچی میںرواداری مارچ کیا گیا جس پر ریاست اور حکمرانوں نے وحشیانہ حملہ کیا اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔بلاول زرداری حکومت کی نازی ازم کی شدید مذمت کرتے ہیں جس نے قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں۔ ریاض چانڈیو نے کہا کہ کراچی میں جہاں ایک طرف ظلم ہوا وہیں سندھ کی بیٹیوں روماسہ جامی، عالیہ بخشل، سندھو نواز گھانگھرا، سورتھ سندھی اور سندھ کے اہل قلم جامی چانڈیو، بخشل تھلہو، راگی سمیت سمجھوکو لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب انہیں اور باڈی کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی کو حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا، ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا، . انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کی جمہوریت کی توہین اور پیپلز پارٹی کی طرف سے انصاف پر حملے کی بھیانک شکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سارے عمل کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو قرار دیتے ہیں، جن کے حکم پر سندھ پر یہ آمریت مسلط کی گئی، دنیا نے ان کا اصل چہرہ دیکھ لیا انہوںنے کہاکہ رواداری مارچ کے بعد بخشل تھلہو، پنہل ساریو اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کی۔
    جسقم کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نواز اور محب وطن جماعتوں کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالے، پیپلز پارٹی کے جلسے کو متاثر کرنے کے لیے ہم سڑکوں پر دھرنے بھی دے سکتے ہیں۔ سندھ اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ رواداری ریلی میں شریک لوگوں کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائے۔ ڈاکٹر بدرچنا نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک آئینی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور حاضر سروس جج اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گا۔

    سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    جمعیت فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، حماس رہنماء

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے رپورٹ حکومت کو پیش کردی

    ڈاکٹر شاہنواز قتل، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے رپورٹ حکومت کو پیش کردی

    سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے توہین مذہب کیالزام میں ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کے معاملے پر رپورٹ حکومت کو پیش کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق میرپورخاص، عمرکوٹ کے ایس ایس پیز اور ڈی آئی جی نے بھی ڈاکٹر کی گرفتاری سے انکار کیا، بعد میں تینوں افسران نے مانا کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا۔سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے بعد ایف آئی اے سے تکنیکی معاونت نہیں لی گئی۔مقتول کی پوسٹمارٹم رپورٹ 2 روز تک نہیں دی گئی، ایم او چھٹی پر چلا گیا۔رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز قتل پر ذمہ داروں کے تعین کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے۔خیال رہے کہ 18ستمبر کی رات سندھڑی پولیس نے مبینہ مقابلے میں عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹرشاہنواز کی ہلاکت کا دعوٰی کیا تھا۔

    چینی شہریوں کو ہرممکن فول پروف سیکیورٹی دی جائے گی، کراچی پولیس چیف

    کراچی، ایئر پورٹ دھماکے میں ہلاک 2 چینی انجینئرز کی میتیں بیجنگ روانہ

    پاکستان کی فضائی حدود سے اوورفلائنگ کرنے والی پروازوں میں اضافہ

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    میر پور خاص میں توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کیس میں گرفتار مزید 9 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔عدالت نے اس قتل کیس میں ملزمان کو 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میرپور خاص کے سندھڑی تھانے میں پولیس افسران کے خلاف درج قتل و دہشت گردی کی ایف آئی آر کی بھی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے مقدمے میں عمر کوٹ کے عمر جان سرہندی، احمدشاہانی، ریاض پنہور کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا، ان کی لاش پر صرف گولیوں کے ہی نہیں بلکہ کندھے، ہاتھ اور ٹانگوں پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔
    ورثاء کی 19 رکنی وکلاء کی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے ایکٹ کے مطابق پولیس حراست میں قتل کا معاملہ ایف آئی اے کے پاس جائے گا۔
    انہوں نے بتایا ہے کہ مقامی پولیس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے کہا کہ پولیس مقابلے کی ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑے تضادات ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ بنانے والے بھی انکوائری کی زد میں آئیں گے، قتل پر جشن منانے اور سوشل میڈیا پر اکسانے والے بھی جوابدہ ہوں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر شاہنواز کے برادر نسبتی کی مدعیت میں سندھڑی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی

    سندھ کے شہر عمرکوٹ میں توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت سے متعلق انکوائری رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انکوائری رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ پولیس نے 18 گریڈ کے ڈاکٹر شاہنواز کو کراچی سے گرفتار کیا اور انہیں میرپور خاص پولیس کے حوالے کیا۔رپورٹ کے مطابق میرپور خاص پولیس نے ڈاکٹر شاہنواز کو قتل کیا اور مقابلہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جس سے سندھ پولیس کا امیج خراب ہوا، میرپور خاص پولیس کے اہلکاروں نے مقتول کے قتل پر جشن بھی منایا۔انکوائری رپورٹ میں ڈی آئی جی، ایس ایس پی میرپور خاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ پر مقدمے کی سفارش کی گئی جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی مزید انکوائری سی ٹی ڈی سے کروائی جائے۔

    70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی