Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

  • عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا  خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    گلوبل عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو خط لکھنے پروزیراعظم پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منصور اقبال ڈوگل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے اس معاملے میں تیزی سے عملدرآمد پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم پاکستان کا خط عافیہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔بعد ازاں اس مثبت پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدشہباز شریف کے خط کے بعد اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کے لیے حکومت کو مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر نے پر پوری قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور پاکستانی عوام کا اپنی حکومت اور سسٹم پر اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم کا خط پہلا قدم ہے،اب حکومت اگلے قدم اٹھانے کے لیے رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفود بھی امریکا بھیجے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری بھی رحم اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو خطوط لکھیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے خط لکھنے کے اقدام سے پاکستان کی حیثیت اقوام عالم میں مزید بہتر ہوگی۔ اگر حکومت ایسے ہی جراتمندانہ اقدامات کرتی رہی تو یہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے جال کو توڑ کر ملکی معیشت کی حالت بہتر بنا سکتی ہے۔عافیہ موومنٹ پاکستان کے بانی رہنما اورپاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک میں قید اپنے کسی شہری کے لیے واقعی کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بہادرانہ اقدام پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

  • امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    ایک امریکی جج نے امریکی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں سزا پانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر معافی کی درخواست کیلئے اچھی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ ایم برمن کی طرف سے جاری کردہ حکم میں عافیہ صدیقی کے وکلا کو 2009 سے تعلق رکھنے والے اہم مواد تک رسائی کی اجازت دی گئی۔عدالتی حکم کے مطابق وکلا کو انتہائی سخت شرائط کے تحت دستاویزات تک رسائی ہوگی کیونکہ ان میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جو عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم وکلا میں سے ایک اسٹافورڈ اسمتھ نے نئے مواد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بلیک سائٹ کے بارے میں زبردست نئے شواہد حاصل کیے ہیں جہاں عافیہ صدیقی کو بگرام آئسولیشن سیلز میں وقت کے بعد رکھا گیا تھا۔علاوہ ازیں عافیہ صدیقی کے وکیل اسمتھ نے 56,600 الفاظ پر مشتمل معافی کی درخواست دائر کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی کون ہیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔
    مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعوی کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔

    آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری”سینئر رہنما شیری رحمان

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

  • لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے مظاہرہ

    لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے مظاہرہ

    لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی 86 سال کی سزا کے خلاف اور ان کی رہائی کے لیے فرینڈز آف عافیہ صدیقی، کیج (Cage) اورجسٹس فار عافیہ کولیشن نے پرامن مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

    باغیٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریلی کے شرکاءنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعدادجن میں خواتین بھی شامل تھیں، انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر شرکاءنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے۔ امریکہ جو خود کو حقوق نسواں کا علمبردار کہتا ہے لیکن ایک معصوم اور بے گناہ ماں دو دہائیوں سے امریکی جیل میں جسمانی، جنسی اور ذہنی اذیت برداشت کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک بے گناہ متاثرہ خاتوں کو کئی دہائیوں تک جیلوں میں رکھنا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے بہت سارے لوگوں کو غیر قانونی طور پر اٹھا کر گوانتاناموبے میں ڈالا گیا لیکن بعد میں ان میں سے بہت سے لوگوں کو کسی بھی عدالت میں پیش کئے بغیر رہا کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عافیہ نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا مگر وہ پھر بھی ابتک جیل میں ہے اور یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ناانصافی کا نوٹس لیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    انہوں نے امریکی حکومت سے عافیہ کواس کے وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر صدیقی کی جلد رہائی کے لیے بھرپور اور جرا¿ت مندانہ کردار ادا کرے۔اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا اور غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کے نسل کشی اور دیگر جنگی جرائم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے غزہ کی نسل کشی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے علما، انسانی حقوق کے علمبردار اور کارکنوں نے ٹیکساس کی ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے پرامن واک اورمظاہرہ کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواتین سمیت کارکنان بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے جمع ہوکر ڈاکٹر عافیہ پر ہونے والے تشدد اور مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔مظاہرین کاکہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے، جو کہ پاکستانی شہری ہیں۔انہوں نے اپنی بہن کی رہائی کے لیے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی کئی دہائیوں کی انتھک جدوجہد کو سراہا۔ انہوں نے غزہ کے بہادر عوام کی جدوجہد کو بھی سراہا جو قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نسل کشی کا جراتمندی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔مظاہرین نے ایف ایم سی کارسویل میں ڈاکٹرعافیہ پر ہونے والے جنسی اور جسمانی تشدد کی کسی تیسرے غیرجانبدار فریق کے ذریعے تحقیقات اور مزید بدسلوکی کو روکنے کے لیے بامقصد اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

    کار ساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشہ بیمارپڑگئی

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیا جائے۔انہوں نے انتہائی دباو یا خوفناک واقعہ کی وجہ سے ہونے والے پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور صحت کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے کسی غیرجانب دار مسلم خاتون ڈاکٹر جوکہ بیورو آف پرزنز سے وابستہ نہ ہو سے طبی معائنہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔مظاہرین ڈاکٹرعافیہ کے ساتھ بدسلوکی کے ذمہ داروں کے خلاف انصاف اور احتساب کا مطالبہ کررہے تھے۔

  • حکومتی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا موخر کر رہے ہیں،عافیہ موومنٹ

    حکومتی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا موخر کر رہے ہیں،عافیہ موومنٹ

    عافیہ موومنٹ کے وفد نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی سربراہی میں نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم نے وفاقی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی موجودگی میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خط کے ذریعے امریکی حکومت سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ اس یقین دہانی کی بنیاد پر عافیہ موومنٹ 22 ستمبر کو ڈی چوک پر ہونے احتجاجی دھرنے کو موخر کر رہی ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ دریں اثنا عافیہ موومنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 23 ستمبر کو ڈاکٹر عافیہ کو 86 سالہ سزا سنائے جانے کے حوالے سے جو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جا چکی ہے اس میں تمام سیاسی و سماجی تنظیمیں بھرپور طریقے سے شرکت کریں اور ایسی موثر اواز بلند کریں کہ جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے۔

    مولانا بڑے کھلاڑی نکلے،آئینی ترامیم پر حکومتی دھوکہ سامنے لے آئے

  • پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست دائر کرئے گا

    پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست دائر کرئے گا

    وفاقی حکومت نے امریکا میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردانہ بنیادوں پر رہائی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے دورہ اقوام متحدہ میں بھی امریکی حکام کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردانہ بنیادوں پر رہائی کی اپیل پر کوئی اعتراض نہیں۔ حکومت کے پاس کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہائی کورٹ کی اپیل کے ساتھ نہ کھڑی ہو۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا۔

    سندھ حکومت کا متوسط طبقہ کیلئےسستی بستی منصوبہ

    حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق حکومت الگ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کےلیے رحم کی اپیل دائر کرے گی۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق یو این اجلاس کے موقع پر امریکی حکومت سے بات کی جائے گی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق امریکا سے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کام ہو رہا ہے۔حکمنامہ کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر 3 ہفتوں کا وقت درکار ہے۔عدالت نے کہا کہ کیس 18 اکتوبر 2024 کو دوبارہ سماعت کےلئے مقرر کیا جائے۔

    کراچی آئے مسافر میں منکی پاکس کی علامات کا شبہ

  • عافیہ صدیقی کی واپسی کیسے ہوگی ، شاہ محمود قریشی نے بتا دیا

    عافیہ صدیقی کی واپسی کیسے ہوگی ، شاہ محمود قریشی نے بتا دیا

    اسلام آباد: حکومت پاکستان ہر صورت عافیہ صد یقی کو وطن واپس لانا چاہتی ہے . دہشتگردی کے الزام میں امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی اقدامات کے معاملے پر وزیر برائے خارجہ امور شاہ محمود قریشی کا تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیاہے۔

    قومی اسمبلی میں جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے پوری طرح آگاہ ہےاور امریکی حکام کے سامنے ان کی پاکستان واپسی کا امکان سمیت اس کیس کو مسلسل پیش کیاگیاہے۔

    اپنے جواب میں وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیاہے کہ ہیوسٹن میں پاکستان کا قونصل جنرل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی خیر و عافیت معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ قونصلر دورے کرتا ہے۔ اگر کوئی پیغام ہو تو وہ پیغامات ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کو پہنچاتا ہے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی قونصلر جنرل نے آخری با 18 اپریل 2019 کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیو یارک عدالت میں طویل سماعت کے بعد 86 سال کی سزا سنائی گئی۔

    قومی اسمبلی ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی طرف سے ایوان زیریں کو آگاہ کیا گیاکہ وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن سے قبل عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ انہوں نے دفتر خارجہ میں بھی حکام سے ملاقا ت کی۔ عافیہ صدیقی کا معاملہ وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے دوران بھی اٹھایا گیا۔