Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھتیجاہیوسٹن میں فائرنگ سےقتل

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھتیجاہیوسٹن میں فائرنگ سےقتل

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے 18 سالہ بھتیجے عماد صدیقی کو ہیوسٹن میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا –

    پولیس کے مطابق واقعہ آلٹن میں پیش آیا جہاں کار جیکنگ کے دوران نامعلوم ملزمان نے عماد صدیقی کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گئے حملہ آور ایک کرسلر گاڑی میں سوار تھے قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ پاساندا پولیس ڈپارٹمنٹ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متحرک ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، عماد صدیقی کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر مسجد صابرین میں ادا کی جائے گی جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت قید ہیں، اور اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ریاستی ذمہ داری یا سوشل میڈیا تماشا؟ ایک قوم کا بڑا المیہ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکا میں گرفتار خواتین کا قاسم سلیمانی سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں،زینب سلیمانی

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ عدالت

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوالات کے جوابات طلب کر لیے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ کیا حکومتِ پاکستان امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق عدالتی معاونت کا جواب جمع کروائے گی؟حکومت عافیہ صدیقی کی اپنی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست میں بطور معاون عدالتی بیان جمع کرانے کے لیے تیار ہے تاکہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کیا جا سکے؟۔

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ امریکہ میں عدالتی معاونت پر رضا مندی ظاہر کرے، اس جواب میں حکومت نے عافیہ صدیقی کی دائر درخواست کے مندرجات کی حمایت یا تصدیق نہیں کرنی۔

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی نئی عسکری قیادت کے نام سامنے آ گئے

    وکیل عمران شفیق نے کہا کہ حکومت پاکستان سے محض اتنا مطالبہ ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی درخواست کے مندرجات سے قطع نظر محض مختصر سی استدعا کرے کہ عافیہ صدیقی کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اس معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟، پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان گزشتہ ایک پیشی پر اسی عدالت میں بیان دے چکے ہیں۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل پہلے کہہ چکے ہی کہ حکومت امریکہ میں عدالتی معاونت کی درخواست دائر کرے گی تو پھر اب کیا مسئلہ ہے؟، اگلی سماعت پر حکومتی موقف سے آگاہ کریں اور عدالت کو دلیل سے مطمئن کریں کہ اس میں حکومت کا نقصان کیا ہے؟۔

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ جب میاں صاحب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم کو خطوط لکھے کہ عافیہ کی رہائی کے لئے قانونی اقدامات کریں، عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کے بعد حالات میں ایسی کیا تبدیلی ہے کہ حکمرا ن جماعت کا موقف بدل گیا؟ ایسی نظیریں موجود ہیں کہ حکومت پاکستان ماضی میں ایسے معاون عدالتی بیان داخل کر چکی ہے،جب پہلے معاون عدالتی بیان داخل ہوتے تھے تو اب کیا قانونی پیچیدگی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ہدایات لےکر عدالت کو مطمئن کریں، کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔

  • ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو رحم کی درخواست(mercy petition) پر دس لاکھ سے زائد افراد نے آن لائن دستخط کردیئے ہیں جس میں ہرگھنٹے بعد ہزاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے رحم کی اپیل بھیجیں کیونکہ ہر سبکدوش ہونے والے امریکی صدر کو امریکی قانون کے مطابق قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دس لاکھ دستخطوں کا ہدف حاصل کرنے پر ڈاکٹر عافیہ کے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’ہم سب نے باہم مل کر عافیہ کی آزادی کے لیے دس لاکھ سے زیادہ دستخط حاصل کرلئے‘‘۔ میں عافیہ موومنٹ کے ان تمام سپورٹرز کی بے حد شکرگزار ہوں جنہوں نے عافیہ کی رہائی کے لیے دستخط کیے، لنک کو آگے شیئرکیا اور دل کی گہرائیوں سے دعائیں کی۔آپ کی غیر متزلزل حمایت نے مجھے اور اہلخانہ کوکوششیں جاری رکھنے کا عزم بخشا ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی مزید کہا کہ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ہمیں عافیہ کووطن واپس لانے کے لیے ابھی بھی آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے درخواست کی کہ وہ اس دستخط مہم کو 16 جنوری تک جاری رکھیں، لنک آگے شیئر کرتے رہیں اور ڈاکٹر عافیہ کی جلد رہائی کے لیے دعائیں بھی کرتے رہیں۔
    دعا کریں کہ آپ کی کوششیں رنگ لائیں اور ہم اس وحشیانہ ناانصافی کو ختم کرسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہماری درخواست صدر بائیڈن تک پہنچ جاتی ہے اوراگر کسی میں انسانیت، ہمدردی اور انصاف کاذرہ برابر بھی جذبہ موجود ہو تو وہ عافیہ کو نہیں روکے گا۔انہوں نے کہا کہ عافیہ کا کیس میرٹ کی بنیاد پر انتہائی مضبوط ہے، تاہم یہی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپیل کی کہ براہ کرم میری اور عافیہ موومنٹ کی آواز کو بلند کرتے رہیں جب تک ہماری پیاری ڈاکٹر عافیہ اپنے خاندان کے پاس واپس نہیں آجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیے، ہم مل کر دعا کریں کہ ہمارا رب ہماری مدد کرے، ہماری رہنمائی فرمائے اور ظالموں کے دلوں کو نرم کردے اور صدر بائیڈن کے دل میں صحیح کام کرنے کا جذبہ پیدا فرمادے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عافیہ صدیقی جلد رہا ہو کراپنے خاندان سے دوبارہ مل جائیں گی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھرڈاکٹر عافیہ کے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کراچھائی اور برائی کے درمیان فرق کو واضح کریں گی! ان شائ اللہ۔ آپ نے مجھے یہ فخر بخشا ہے کہ میں ظالموں کو بتاو ٴں کہ میں اکیلی نہیں ہوں بلکہ لاکھوں عظیم لوگ میرے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.

    شمالی وزیرستان میں9خارجی ہلاک،4 گرفتار، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    مریم نواز کی اپنی چھت،اپنا گھر پروگرام کیلئے 62 ارب روپے کی منظوری

    اے بی این ، اوصاف کے چیف رپورٹر جاوید شہزاد انتقال کر گئے

  • ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی  جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے گزشتہ روز ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے ایک اور بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ، جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی 14 سالوں سے قید ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عافیہ موومنٹ میڈیا سیل کو ڈیلاس، امریکہ سے موصول تصاویر اور ویڈیو ز کے مطابق مظاہرین نے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن سے ڈاکٹرعافیہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرسزا معاف کرکے رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عافیہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی ایک معصوم متاثرہ ہے اور اب اسے رہا کیا جانا چاہیے۔جبکہ پاکستان سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے جانے والے وفد کے ایک رکن سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ڈیلاس میں دی میڈیا لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کو ”وصلہ افزا“قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن ان کی بقایہ سزا معاف کر دیں گے۔کیونکہ امریکی روایت کے مطابق سبکدوش ہونے والا صدر قیدیوں کی سزائیں معاف کر تا ہے۔سینیٹر طلحہ نے میڈیا لائن کو بتایا کہ ” صدر بائیڈن کے پاس 60 سے زیادہ معافی کی درخواستیں موجود ہیں، جس میں ڈاکٹر عافیہ کی درخواست بھی شامل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عافیہ کی درخواست کو ترجیح دی جائے گی اور صدر اس پرہمدردی کے ساتھ غور کریں گے“۔انہوں نے مزید کہا کہ وفد نے امریکی سینیٹرز، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں اور مقامی کمیونٹی رہنماو¿ں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ہمارے ساتھ اسلامی سرکل آف نارتھ امریکہICNA نامی تنظیم نے اس معاملے میں اہم مدد فراہم کی ہے۔ واضح رہے کہ ICNA شمالی امریکہ میں مسلم کمیونٹی کی خدمت کے لیے وقف ہے۔سینیٹر طلحہ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے اپنی طویل قید اور اپنے خاندان کے طویل انتظار پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ڈاکٹر عافیہ امریکہ میں 16 سال قید کاٹ چکی ہیں، جو کہ امریکہ میں قتل کی کوشش کے الزام میں دی جانے والی 10 سالہ سزا سے بھی زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں، والدین اور رشتہ داروں کو یاد کر رہی ہے، اور ان کی شدید خواہش جیل سے رہا ہونا ہے ۔سینیٹر طلحہ محمود نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے عالمی سطح پر اور خاص طور پر مسلم امہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے اس امید کا اظہارکیا کہ ان شاءاللہ، ڈاکٹر عافیہ جلد رہا ہو جائیں گی اور اپنے بچوں کے ساتھ عزت اور احترام کی زندگی گزارنے کے لیے پاکستان واپس آئیں گی۔

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

  • سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

    ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت پیر کو ادارہ نور حق میں صوبائی کونسل کا اجلاس ہوا .

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں پارا چنار میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادات کی ایک گہری اور منظم سازش قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ملک دشمنوں کی جانب سے عوام کو تقسیم اور ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اجلاس میں حکومتی ناا ہلی و بے حسی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عوام کے تحفظ میں ناکامی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بھی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ سانحے کی تحقیقات کرائی جائے ، حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردارادا کریں ۔پاراچنار میں ہونے والی اموات کی ذمہ داری حکومت اور سیکوریٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے ، علاقے میں کانوائے کو حفاظتی تدابیر اور ضروری انتظامات کے بغیر روانہ کیا گیا اور بعد میں بھی شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے ۔اجلاس میں کہا گیا کہ جس طرح آج تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام باہمی روادری و اتحادِ امت کے اظہار کے لیے اجلاس میں موجود ہیں اسی طرح ملک بھر کے عوام اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے درمیان بھی کوئی شیعہ سنی کی تفریق موجود نہیں ، بعض ملک دشمن عناصر اور قوتیں پارا چنار کے واقعات کو مذہبی رنگ دے کر اس اتحاد ِ امت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔مسلمان ایک جسد ِ واحد ہیں ان میں تفریق اور تقسیم پیدا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ، اجلاس میں علماء کرام پر زور دیا گیا کہ وہ عوام کے درمیان مذہبی ہم آہنگی و رواداری کے فروغ اور اتحاد ِ امت کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور بالخصوص جمعہ کے خطبات میں اس سلسلے میں عوام میں آگاہی پیدا کریں کیونکہ ایک معصوم انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔اجلاس میں غزہ و لبنان میں اسرائیلی دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور او آئی سی وعالم اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت و دہشت گردی کے خلاف بزدلی اور کمزوری دکھانے کے بجائے جرأت مندانہ موقف اختیار کریں ، او آئی سی کے پلیٹ فارم کو بھی موثر طریقے سے استعمال کریں اور اسرائیل کو اہل غزہ و لبنان کے حق میں واضح پیغام دیں،57اسلامی ممالک کے حکمران بے حسی ترک کریں ، حکمران خواہ کوئی بھی موقف اختیار کریں عالم اسلام کے عوام کا ضمیر زندہ ہے اور عوام اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اہل غزہ و لبنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے ۔اجلاس میں سندھ کے پانی کے مسئلے کے حوالے سے ارسا معاہدے 1991ء پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس معاہدے کی پابندی کی جائے ۔ اجلاس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے علماء کرام پر زور دیا گیا کہ وہ جمعہ کے خطبات میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھی آواز بلند کریں جو طویل عرصے سے امریکہ قیدمیں ہے اور کسی بھی حکومت نے ان کی رہائی کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا ۔اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی ، سابق امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی ،مجلسِ وحدت المسلمین کے مختار احمد امامی ،ناصر حسینی ،مولانا محمد صادق جعفری ، ملک غلام عباس ،اصغر حسین شہیدی، رابطہ علماء و مشائخ پی ایم ایم ایل کے ثقلین اسحاق ، عبدالعظیم محمدی ، امام و خطیب جامع مسجد عیسیٰ علامہ عارف رشید مسعود ، اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم کے محمد عمر خان ، نائب امراء جماعت اسلامی کراچی برجیس احمد ،مسلم پرویز ،جماعت اسلامی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات مجاہد چناء ، جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی شامل ہیں ۔

    کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ

  • عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا  خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    گلوبل عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو خط لکھنے پروزیراعظم پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منصور اقبال ڈوگل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے اس معاملے میں تیزی سے عملدرآمد پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم پاکستان کا خط عافیہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔بعد ازاں اس مثبت پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدشہباز شریف کے خط کے بعد اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کے لیے حکومت کو مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر نے پر پوری قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور پاکستانی عوام کا اپنی حکومت اور سسٹم پر اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم کا خط پہلا قدم ہے،اب حکومت اگلے قدم اٹھانے کے لیے رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفود بھی امریکا بھیجے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری بھی رحم اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو خطوط لکھیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے خط لکھنے کے اقدام سے پاکستان کی حیثیت اقوام عالم میں مزید بہتر ہوگی۔ اگر حکومت ایسے ہی جراتمندانہ اقدامات کرتی رہی تو یہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے جال کو توڑ کر ملکی معیشت کی حالت بہتر بنا سکتی ہے۔عافیہ موومنٹ پاکستان کے بانی رہنما اورپاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک میں قید اپنے کسی شہری کے لیے واقعی کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بہادرانہ اقدام پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

  • امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    ایک امریکی جج نے امریکی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں سزا پانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر معافی کی درخواست کیلئے اچھی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ ایم برمن کی طرف سے جاری کردہ حکم میں عافیہ صدیقی کے وکلا کو 2009 سے تعلق رکھنے والے اہم مواد تک رسائی کی اجازت دی گئی۔عدالتی حکم کے مطابق وکلا کو انتہائی سخت شرائط کے تحت دستاویزات تک رسائی ہوگی کیونکہ ان میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جو عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم وکلا میں سے ایک اسٹافورڈ اسمتھ نے نئے مواد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بلیک سائٹ کے بارے میں زبردست نئے شواہد حاصل کیے ہیں جہاں عافیہ صدیقی کو بگرام آئسولیشن سیلز میں وقت کے بعد رکھا گیا تھا۔علاوہ ازیں عافیہ صدیقی کے وکیل اسمتھ نے 56,600 الفاظ پر مشتمل معافی کی درخواست دائر کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی کون ہیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔
    مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعوی کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔

    آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری”سینئر رہنما شیری رحمان

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

  • لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے مظاہرہ

    لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے مظاہرہ

    لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی 86 سال کی سزا کے خلاف اور ان کی رہائی کے لیے فرینڈز آف عافیہ صدیقی، کیج (Cage) اورجسٹس فار عافیہ کولیشن نے پرامن مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

    باغیٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریلی کے شرکاءنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعدادجن میں خواتین بھی شامل تھیں، انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر شرکاءنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے۔ امریکہ جو خود کو حقوق نسواں کا علمبردار کہتا ہے لیکن ایک معصوم اور بے گناہ ماں دو دہائیوں سے امریکی جیل میں جسمانی، جنسی اور ذہنی اذیت برداشت کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک بے گناہ متاثرہ خاتوں کو کئی دہائیوں تک جیلوں میں رکھنا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے بہت سارے لوگوں کو غیر قانونی طور پر اٹھا کر گوانتاناموبے میں ڈالا گیا لیکن بعد میں ان میں سے بہت سے لوگوں کو کسی بھی عدالت میں پیش کئے بغیر رہا کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عافیہ نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا مگر وہ پھر بھی ابتک جیل میں ہے اور یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ناانصافی کا نوٹس لیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    انہوں نے امریکی حکومت سے عافیہ کواس کے وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر صدیقی کی جلد رہائی کے لیے بھرپور اور جرا¿ت مندانہ کردار ادا کرے۔اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا اور غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کے نسل کشی اور دیگر جنگی جرائم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے غزہ کی نسل کشی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ٹیکساس جیل کے باہر مظاہرہ

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے علما، انسانی حقوق کے علمبردار اور کارکنوں نے ٹیکساس کی ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے پرامن واک اورمظاہرہ کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواتین سمیت کارکنان بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے جمع ہوکر ڈاکٹر عافیہ پر ہونے والے تشدد اور مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔مظاہرین کاکہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے، جو کہ پاکستانی شہری ہیں۔انہوں نے اپنی بہن کی رہائی کے لیے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی کئی دہائیوں کی انتھک جدوجہد کو سراہا۔ انہوں نے غزہ کے بہادر عوام کی جدوجہد کو بھی سراہا جو قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نسل کشی کا جراتمندی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔مظاہرین نے ایف ایم سی کارسویل میں ڈاکٹرعافیہ پر ہونے والے جنسی اور جسمانی تشدد کی کسی تیسرے غیرجانبدار فریق کے ذریعے تحقیقات اور مزید بدسلوکی کو روکنے کے لیے بامقصد اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

    کار ساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشہ بیمارپڑگئی

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیا جائے۔انہوں نے انتہائی دباو یا خوفناک واقعہ کی وجہ سے ہونے والے پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور صحت کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے کسی غیرجانب دار مسلم خاتون ڈاکٹر جوکہ بیورو آف پرزنز سے وابستہ نہ ہو سے طبی معائنہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔مظاہرین ڈاکٹرعافیہ کے ساتھ بدسلوکی کے ذمہ داروں کے خلاف انصاف اور احتساب کا مطالبہ کررہے تھے۔

  • حکومتی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا موخر کر رہے ہیں،عافیہ موومنٹ

    حکومتی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا موخر کر رہے ہیں،عافیہ موومنٹ

    عافیہ موومنٹ کے وفد نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی سربراہی میں نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم نے وفاقی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی موجودگی میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خط کے ذریعے امریکی حکومت سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ اس یقین دہانی کی بنیاد پر عافیہ موومنٹ 22 ستمبر کو ڈی چوک پر ہونے احتجاجی دھرنے کو موخر کر رہی ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ دریں اثنا عافیہ موومنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 23 ستمبر کو ڈاکٹر عافیہ کو 86 سالہ سزا سنائے جانے کے حوالے سے جو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جا چکی ہے اس میں تمام سیاسی و سماجی تنظیمیں بھرپور طریقے سے شرکت کریں اور ایسی موثر اواز بلند کریں کہ جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے۔

    مولانا بڑے کھلاڑی نکلے،آئینی ترامیم پر حکومتی دھوکہ سامنے لے آئے