Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عبدالقدیر خان

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جاسکتا،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر اور وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا بطور سائنسدان جتنا کریڈٹ بنتا ہے ، وہ ان کو دیا جاتا ہے لیکن وہ لیڈر نہیں ہیں۔

    نجی نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جاسکتا، ہیرو وہ ہے جس نے ایٹمی دھما کے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور اس کا اغاز سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا اے کیو خان کا بطور سائنسدان جتنا کریڈٹ بنتا ہے، وہ ان کو دیا جاتا ہے لیکن وہ لیڈر نہیں ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایٹم بم تو کئی ممالک نے بنا لیے لیکن ایٹمی دھماکے کرنے والے کم ہیں اور یہاں صرف حسد اوربغض میں کہا جاتا ہے کہ نواز شریف تو کرنا نہیں چاہتے تھے، او بھائی وزیر اعظم نواز شریف ہی تھے اور یہ دھماکے انہوں نے ہی کیے تھے۔

    بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    انہوں نے کہا کہ اسٹیبلمشنٹ کا مؤقف واضح ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بہت واضح سوچ سمجھ رکھتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی ہونے چاہییں اور وہ اس میں رکاوٹ بھی نہیں بلکہ انہوں نے کہا کہ ان کو ایسے مذاکرات پر خوشی ہوگی۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنےکی خواہش کے بجائے نوازشریف اور صدر آصف زرداری صاحب کو مذاکر ات کا پیغام دیں عمران خان ہر چیز کا ذمہ دار بھی ہمیں ٹھہراتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں آپ کے پاس اختیار نہیں، اختیار تو حکو مت ہی کا ہے اور سابق وزیر اعظم کو حکومت ہی سے بات کرنا ہوگی۔

    پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے بڑھ گئی

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کا فلسفہ سیاست یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر دوبارہ حکومت میں آئیں اور پھر سے وہی کہنا شروع کردیں کہ میں چھوڑوں گا نہیں عمران خان اب اپنے اس فلسفےکی وجہ سے کامیابی سے بہت دور جاچکے ہیں۔

  • 16 اکتوبر کو کشمیر یوتھ الائنس کی سید علی گیلانی اور ڈاکٹر اے کیو خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس ہوگی

    16 اکتوبر کو کشمیر یوتھ الائنس کی سید علی گیلانی اور ڈاکٹر اے کیو خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس ہوگی

    اسلام آباد :کشمیر یوتھ الائنس اسلام آباد ریجن کا محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور تحریک آزادی کشمیر کے سالار اعلیٰ سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کروانے کا اعلان, کشمیر یوتھ الائنس کے صدر مجاہد گیلانی کی صدارت میں اسلام آباد ریجن کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے کہا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور تحریک آزادی کشمیر کے سالار اعلیٰ سید علی گیلانی کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی, 16 اکتوبر کو کشمیر یوتھ الائنس کی سربراہی میں اپنے ان محسنوں کی یاد میں نیشنل پریس کلب میں دوپہر دو بجے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں اسلام آباد بھر کی یوتھ تنظیموں کے ذمہ داران شریک ہوں گے, اجلاس میں سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر, صدر اسلام آباد زون ڈاکٹر عامر زادہ, جنرل سیکرٹری اسلام آباد آصف سیف, سیکرٹری کوآرڈینیشن خنیس الرحمان اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید عمر ہمدانی شامل تھے.اجلاس کے بعد کشمیر یوتھ الائنس کے وفد نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر حاضری دی اور ان کے اعلیٰ درجات کے لئے دعا کی.

  • جب آسماں بھی رو پڑا۔۔! تحریر:خنیس الرحمن

    جب آسماں بھی رو پڑا۔۔! تحریر:خنیس الرحمن

    حیدر علی میسور کا حاکم تھا۔اس کی رحلت کے بعد سب اس کے جانشین سلطان فتح علی المعروف ٹیپوسلطان نے کمان سنبھال لی۔جب ٹیپو سلطان نے دیکھا کہ دشمن کے پاس وافر مقدار میں جدید اسلحہ ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔سلطان نے اپنے سپہ سالاروں کے ہمراہ اپنی ریاست کے چار بڑے شہروں میں تارا منڈل کے نام سے کارخانے لگائے جس میں اسلحہ سازی کا کام شروع ہوا۔سلطان نے ایک ایسا جدید راکٹ تیار کیا جس نے دشمن کی نیندیں حرام کردیں،دشمن بوکھلا گیا۔سلطان نے جدید قسم کے اسلحے بنائے۔سلطان کو تاریخ میں راکٹ کا موجد کہا جانے لگا۔۴ مئی 1799 ء میں سلطان کو انگریزوں نے شہید کردیا۔تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے ایک طرف شہر کا قاضی سلطان کی نماز جنازہ پڑھا رہا تھا آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھانے لگے،سلطان کی تدفین کے موقع پر آسمان پر گہرے بادل چھا گئے،یک دم بارش برسنے،بجلی کڑکنے لگی۔لگی یوں لگ رہا تھا کہ سلطان کی جدائی میں آسمان بھی رو پڑا۔آج اسی خطے میں پاکستان قائم ہو اتو پاکستان کا دشمن مضبوط تھا پاکستان سے اسلحہ سازی کے لیے کام کیا۔پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کی ٹھان لی کہ وہ ہر صورت دشمن کے مقابلے میں جدید اسلحہ بنائے۔اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بیرون ملک مقیم پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کو پاکستان واپس بلالیا۔جوہری پروگرام کا سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بنادیا گیا۔وہ طویل عرصے تک اس پروگرام پر کام کرتے رہے۔ان کی ٹیم نے 1998ء میں اپنے ملک کے سربراہان کو خوشخبری سنائی۔پاکستان ایٹمی دھماکے کردیے پوری دنیا میں شور مچ گیا۔پاکستان کے اس اقدام پر عرب ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں پاکستان پر سختیوں کا دور شروع ہوگیا۔ جس کاڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی شکار ہونا پڑا۔قوم نے محسن پاکستان کا خطاب دے دیا۔کل اتوار کے دن محسن پاکستان پچاسی برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔محسن پاکستان کی وفات کی خبر جیسے جیسے عوام تک پہنچی قوم اپنے محسن کو سپردخاک کرنے کے لیے گھروں سے روانہ ہوگئی۔ساڑھے تین کا وقت طے ہو ا۔دو بجے تک عوام کی کثیر تعداد فیصل مسجد پہنچ چکی تھی۔موسم اچانک بدلنے لگا۔میں خود وہاں موجود تھا۔محسن پاکستان کا جسد خاکی فیصل مسجد لایا گیا۔بارش میں بھی لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ڈاکٹر غزالی نے نماز جنازہ پڑھائی،اس دوران یک دم آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے،بجلی کڑکنے لگی۔لیکن عوام کی کثیر تعداد محسن پاکستان کے جسد خاکی کو رخصت کرنے لیے موجود تھی۔محسن پاکستان کی جدائی میں آسماں بھی رو رہا تھا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسد خاکی کو ایچ ایٹ قبرستان پہنچایا گیا جہاں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ڈاکٹر صاحب کو قوم کبھی نہیں بھلائے گی۔