Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عدنان خان نیازی

  • طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ ان کے جاننے والے کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنی بیوی کو چھ سات ماہ پہلے طلاق دے چکے تھے اور وہ عدت کے بعد میکے میں تھی۔ طلاق کے چھ ماہ سات ماہ بعد ان کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو پہلی مطلقہ (بیوی) پولیس لے کر پہنچ گئی کہ یہ میرا شوہر ہے اور مجھ سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کر رہا ہے۔

    اب چونکہ طلاق زبانی ہوئی تھی تو پولیس نے اسے گرفتار کر کے مقدمہ بنا دیا۔ شادی میں بھی بدمزگی پیدا ہوئی، اسے چند دن حوالات میں بھی رہنا پڑا ، پیسے بھی کافی لگے اور کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

    حالانکہ اس نے وہاں بھی کہا کہ میں اسے اتنے ماہ پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، وہاں ان کے سامنے بھی طلاق دی اور بعد میں کاغذات بنوا کر بھی عدالت میں پیش کیے۔ لیکن ابھی تک اس مطلقہ عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ طلاق اس نے مقدمے اور سزا سے بچنے کے لیے اب دی ہے۔

    مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں قانون کیا ہے اور اس کی جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، یہ تو کوئی وکیل ہی بتا سکتا ہے لیکن یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل کوئی بھی کام کریں تو اسے رجسٹر لازمی کروائیں۔

    چاہے نکاح ہو طلاق ہو ، کوئی کاروباری معاہدہ ہو، کسی گاڑی، مکان، زمین وغیرہ کی خرید و فروخت ہو۔ کیونکہ کب قریبی اور پیارے جان کے دشمن بن جائیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔

    دوسری بات یہ کہ طلاق کبھی بھی خوشی سے نہیں ہوتی ہے۔ جب بھی ہوتی ہے مجبوری، غصے یا نہ نبھ سکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو طلاق ہونے کے بعد انا اور ضد کو چھوڑ دیا کریں۔

    بس جو وقت گزرا اور جیسے بھی گزرا، اس کی لاج رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں ورنہ اس کا حساب یقیناً آخرت میں دینا ہو گا اور اس دنیا میں بھی اصول ہے کہ کسی کو بے سکون کر کے آپ کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ہیں۔

    اس میں اکثر کیسز میں دیکھا ہے کہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لیتے ہیں، انھیں کنواری لڑکیوں کا بھی رشتہ مل جاتا ہے، بچے ہوں تب بھی مل جاتا ہے لیکن عورتیں دوسری شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہیں اور اکثر دوسری شادی نہ کرنے کی وجہ سے پہلے والی شوہر میں ہی پھنسی رہتی ہیں اور اس کی خوشی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔

    اللہ ہمیں انا اور ضد سے بچائے۔

  • مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مردوں کا عالمی دن آیا اور گزر گیا پر ایک بات کہنا چاہوں گا جس مرد سے طلاق کے بعد اسکے بچے کی کفالت کے ہر ماہ پیسے لیتی ہو اس مرد سے اپنی اولاد کو ملنے کا جائز حق بھی نہ چھینا کرو۔ ہماری عدالتیں خرچ نہ دینے پر باپ کی جائیداد نیلام کرنے اسکی تنخواہ ضبط کرنے سے لیکر اسے جیل میں ڈالنے کا تو حق رکھتی ہیں۔ مگر جو اپنی مرضی سے خرچ دے رہا ہو اسے اسکی اولاد سے اسکے اپنے گھر ملنے کا حق دلانے میں ناکام ہیں۔ کسی غریب کا اپنے بچوں سے اسکے گھر ملاقات کا شیڈول بن بھی جائے تو اس پر بھی اس سے اوپر کی عدالت سٹے آرڈر دی دیتی ہے۔

    لڑکی اور اسکے گھر والے بچوں کو والد سے اس لیے نہیں ملنے دیتے کہ انکی غیرت گوارہ نہیں کرتی جس نے طلاق دی اس سے بچے ملیں۔ تو تم لوگوں کی غیرت اس سے ہر ماہ پیسے لینے پر کہاں چلی جاتی ہے؟ طلاق دینے کے بعد وہ کوئی حیوان تو نہیں بن جاتا انسان ہی رہتا ہے اور ان بچوں کا باپ بھی رہتا ہے۔ اور اسکی ذہنی صحت بھی ماں سے اکثریت کیسز میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچوں کو ماں سے بدگمان نہیں کرتا جیسے ماں بچوں کے باپ کو ولن وحشی اور نجانے کیا کچھ بنا دیتی ہے۔

    آج ایک وکیل دوست کے آفس میں ایک عورت رو رہی تھی کہ میرے بچے دو دن کے لیے اپنے باپ کے گھر جا رہے ہیں۔ وہ اسٹے آرڈر لینا چاہتی تھی۔ جس پر اس نے اسے کہا کہ بچوں کو والد سے ملنے دو میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ میں نے پوچھا وہ خرچ دیتا ہے تو کہتی ہاں بھائی دیتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کے بغیر دو دن کیسے رہوں گی۔ میں نے کہا جیسے وہ رہتا ہے۔ بولی اتنا انکا سگا ہوتا تو طلاق ہی نہیں دیتا۔ میں نے کہا پیسے کس حق سے لیتی ہو بہن؟ بولی میں تو اسے جیل بھیجنا چاہتی ہوں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کچھ بھی کر لوں گی۔ خرچ بڑھے گا نہیں دے سکے گا تو جیل جائے گا۔ میں بچوں کو پال لوں گی۔

    یعنی نفرت ہے اور انا ہے کہ اسے نیچا دکھانا۔ اور انہی چکروں میں اپنی جوانی اور ذہنی صحت تباہ کر لینی۔ طلاق کی وجہ جو بھی تھی اب اس کو بھلا کر آگے بڑھنے کی بجائے نفرت کی آگ میں اپنا سکون ضرور برباد کرنا ہے۔ دوسری طرف لڑکے کی شادی ہو چکی ہے۔ اسکے دو بچے ہیں وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اسکی خوشی دیکھی نہیں جا رہی۔ وہ ترلے لے رہا کہ بچے واپس کر دو اور تم بھی شادی کرو۔ مگر نہیں۔ اکثریت میں طلاق شدہ خواتین کی یہی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ طلاق شدہ سے کوئی شادی نہیں کرتے۔ انکی سوچ تو دیکھو وہ کتنی ظالم اور سفاک ہو چکی ہوتی ہیں۔ جو آج انصاف نہیں کر رہی وہ آگے کیا کرے گی۔

    اکثریت خواتین بچوں کا خرچ چھوڑ دیتی ہیں کہ والد بچوں سے ملاقات یا انکی حوالگی کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

    اسکے برعکس بہت سے مرد خرچ نہیں دیتے وہ بچوں سے کیوں ملیں گے۔ وہ آج مخاطب نہیں ہیں۔ ذلیل ہوتے ہیں جیل کاٹتے ہیں اور عدالتوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔

    جو لڑکیاں بچے انکے باپ کے پاس چھوڑ دیتی۔ اور طلاق کے فوراً بعد شادی کر لیتی ہیں وہ اس خود ساختہ اذیت سے نکل جاتی ہیں۔ ورنہ نفرت حسد اور بغض کی آگ میں جلنا اور کورٹ کچہریوں میں خوار ہونے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ بات طلاق شدہ خواتین کو بڑی دیر بعد سمجھ آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔

  • میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں ان کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش پر مبارک بعد کے لیے بیٹھا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے سامنے دنیا جہان کی چیزیں لا کر رکھ دیں۔ یہ میری ان دونوں سے دوسری ملاقات تھی جو اسی جگہ ان کے گھر ہوئی تھی۔ ان دونوں سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈرائنگ روم میں تقریباً اس ملاقات سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ لیکن وہ ملاقات بہت تلخ ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں میری تحاریر پڑھتے تھے اور مجھے جانتے تھے ۔

    میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ لڑکی کے والد سے میری شناسائی تھی اور ان کے کہنے پر ہی میں ان کے ساتھ ان دونوں سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اب اس پر کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ عورت جانے کے لیے ساری پیکنگ پہلے ہی کر چکی تھی اور طلاق کے کاغذات تیار کروا چکے تھے۔

    میں نے ان دونوں سے صرف ایک گزارش کی تھی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بے شک الگ ہو جائیں لیکن ابھی طلاق کے کاغذات پھاڑ دیں اور چھ ماہ کے بعد اگر ضرورت رہی تو یہ کاغذات میں خود آپ لوگوں کو تیار کروا دونگا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا، میرا اس میں کوئی مفاد نہیں تھا لیکن بس ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ان کا گھر بچ جائے۔

    تقریباً بیس منٹ رہنے والی اس تلخ ملاقات میں ان دونوں نے بمشکل میری یہ بات مان لی تھی، طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے تھے اور لڑکی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر اس گھر سے اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ چار ماہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ان کی بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور پھر اگلے ماہ وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔ یوں ان کا گھر بچ گیا تھا۔

    اب میری ملاقات ہوئی تو انھیں یوں خوش دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔ وہ بھی شکر گزار تھے کے اس دن جلد بازی میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیتے تو اب وہ بھی پتہ نہیں کس حال میں ہوتے اور بچے بھی رل جاتے۔

    میاں بیوی میں اختلافات ہو جانا ایک نارمل بات ہے لیکن کبھی بھی حالات آخری سٹیج تک نہ لے کر جائیں۔ اگر بہت زیادہ بگڑ جائیں تو پھر بغیر طلاق کے ہی کچھ وقت کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں تاکہ دونوں کو اندازہ ہو جائے کہ علیحدگی کے بعد کی زندگی کیسی ہے۔

    یاد رہے کہ جلد بازی میں دونوں کو لگ رہا ہوتا ہے کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں لیکن میاں بیوی میں قربت قدرتی ہے اور کچھ وقت الگ بتانے سے دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوتا ہے اور قربت کے لیے بھی دل کرتا ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نارمل حالات میں بھی تین چار ماہ بعد عورت کو میکے لازمی جانا چاہیے تاکہ میاں بیوی کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی کمی محسوس کر سکیں۔ اس سے پیار محبت بڑھتی ہے۔ میاں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ کیسے اس کے کام بہترین ہو رہے ہوتے ہیں اور چند دن بیوی کے نہ ہونے سے گھر کا نظام کیسے درہم برہم ہو جاتا ہے۔